“میں ڈوب رہا ہوں، ابھی ڈوبا تو نہیں ہوں”… یہ صرف ایک شاعر کی بے بسی نہیں بلکہ آج کے شہروں کا نوحہ ہے۔ ہمارے شہروں کی خوبصورتی کو صرف بے ہنگم آبادی نہیں، بلکہ بدترین ناقص منصوبہ بندی نے بھی تباہ کیا ہے۔ یہی حقیقت آج کراچی جیسے شہر کو موت کے دہانے تک لے آئی ہے۔
کہتے ہیں روم میں ایک ملاقات کے دوران مسولینی نے علامہ اقبال سے کہا:
“مجھے شہروں کی بڑھتی آبادی اور قدرتی حسن کے خاتمے کا خوف ہے۔”
اقبال نے جواب دیا:
“سر! جب شہروں کی آبادی بڑھنے لگے تو نئے شہر آباد کیا کرو۔”
یہ سن کر مسولینی چونک اٹھا، اس نے اپنی ہیٹ اتار کر اقبال کو دیکھا اور گویا اپنی سب سے بڑی الجھن کا حل پا لیا۔ مگر اقبال یہیں نہیں رکے۔ مسکراتے ہوئے کہا:
“یہ میرا ذاتی قول نہیں، بلکہ چودہ سو سال پہلے ہمارے نبی ﷺ نے ہمیں یہی شہری منصوبہ بندی سکھائی تھی۔”
یہ محض ایک حکیمانہ جملہ نہیں، بلکہ وہ بصیرت تھی جو آج بھی ہمارے لئے مشعلِ راہ ہے۔ مگر افسوس، ہم نے کبھی اس روشنی کو اپنانے کی زحمت نہیں کی۔
انیس اگست کی وہ شام آج بھی میری یادداشت میں نقش ہے۔ آرمی کالج سے واپسی پر آسمان نے یوں برسنا شروع کیا کہ کراچی دریا میں بدل گیا۔ شاہراہِ فیصل پر پانی کی لہریں دوڑ رہی تھیں، گاڑیاں تیر رہی تھیں، اور لوگ اپنی قیمتی موٹر سائیکلیں اور کاریں چھوڑ کر بچوں کو کندھوں پر اٹھائے جان بچانے کی فکر میں تھے۔ ہم نے بھی بائیک پانی میں اتاری اور کورنگی فلائی اوور تک پہنچنے کی کوشش کی، مگر فلائی اوور سے پہلے ہی بائیک ڈوب گئی۔
دو گھنٹے تک کبھی گرتے، کبھی اٹھتے، کبھی کسی بچے کو بچاتے، کبھی کسی خاتون کا ہاتھ تھامے آگے بڑھتے رہے۔ مغرب کی اذان ہو چکی تھی، کندھوں تک پانی میں ڈوبے سینکڑوں لوگ سردی سے کانپ رہے تھے۔ عورتیں، بچے اور بزرگ بے بسی کی تصویر بنے کھڑے تھے۔ جوتے، پرس، سامان سب پانی کی نذر ہو گئے۔ ڈھائی گھنٹے بعد ہم نے ایک نشیبی علاقے میں پناہ لی۔ اور اس دوران شہر کے حکمران میڈیا پر اعلان کرتے رہے کہ “حالات نارمل ہیں، کہیں پانی نہیں ہے، شاہراہ فیصل کھلی ہے۔”
یہ سن کر سوچتا رہا: کیا یہ شہر انہی ہاتھوں نے تباہ نہیں کیا جو آج اس کی بربادی پر جھوٹ کا پردہ ڈال رہے ہیں؟
کراچی کی آبادی بیس ملین سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے، مگر نکاسیِ آب کا نظام بمشکل 40 ملی میٹر بارش برداشت کر سکتا ہے۔ اور چند گھنٹوں کی 160 ملی میٹر بارش نے پورے شہر کو ڈبو دیا۔ یہ صرف بارش نہیں تھی، یہ ہماری مجرمانہ غفلت اور ناقص منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا۔
نالوں پر قبضے، ڈرینیج چینلز کی بندش، غیر قانونی تعمیرات اور بستیوں نے کراچی کا حسن نگل لیا ہے۔ ماحولیاتی توازن برباد ہو چکا ہے۔ وہ مینگروز کے جنگلات جو ساحلی طوفانوں اور سیلابوں سے کراچی کو بچاتے تھے، اب تقریباً غائب ہو چکے ہیں۔ سیاسی ادارے الزام تراشی میں مصروف ہیں مگر عملی اقدامات کا کہیں نشان نہیں۔ شہری منصوبہ بندی کاغذوں تک محدود ہے، اور اس کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں۔
یہ حقیقت یاد رکھنی ہوگی کہ کراچی صرف ایک شہر نہیں، بلکہ پورے ملک کا دل ہے۔ اگر یہ دل مفلوج ہو گیا تو پورے جسم کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔ نکاسیِ آب کے نظام کو ازسرِ نو ڈیزائن کرنا، اسٹورم واٹر چینلز کی تعمیر، غیر قانونی قبضوں کا خاتمہ اور سب سے بڑھ کر متبادل شہروں کی آبادکاری آج کے سب سے بڑے تقاضے ہیں۔
سیدنا فاروق اعظم کے الفاظ آج بھی ہمیں جھنجھوڑتے ہیں:
“جب آبادی بڑھنے لگے تو نئے شہر آباد کرو۔”
یہ محض تاریخی قول نہیں، بلکہ موجودہ دور کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ اگر ہم نے اس حقیقت کو نظرانداز کیا تو “میں ڈوب رہا ہوں، ابھی ڈوبا تو نہیں ہوں” کی صدا ایک دن ہمارے اجتماعی ڈوبنے کی خبر بن جائے گی۔
سوال یہ ہے:
ہم کب تک انکار کرتے رہیں گے؟
کب تک بارش کے چند قطروں سے کراچی کو ڈوبتے دیکھیں گے؟
کب تک حکمران جھوٹ بول کر ذمہ داریوں سے فرار حاصل کریں گے؟
اور کب ہم یہ مانیں گے کہ شہروں کی خوبصورتی صرف بلند عمارتوں سے نہیں، بلکہ منصوبہ بندی، نکاسیِ آب اور ماحولیاتی توازن سے آتی ہے؟
وقت کم ہے اور چیلنج بڑا۔ اگر اب بھی ہم نے کچھ نہ کیا تو ہماری تاریخ صرف بارش میں بہہ جانے والی سڑکوں اور بے بس عوام کی تصویروں سے بھری ہوگی۔ اور شاید آنے والی نسلیں ہم سے یہ سوال کریں:
“تم نے شہر کے لئے کیا کیا تھا؟”
کیا ہم اس سوال کا جواب دے پائیں گے؟
“میں ڈوب رہا ہوں، ابھی ڈوبا تو نہیں ہوں”… لیکن اگر ہم نے وقت کی قدر نہ کی تو یہ جملہ ہمیشہ کے لئے ہماری اجتماعی قبر پر لکھ دیا جائے گا۔