یہ درجہ سادسہ یعنی 2008 کا سال تھا۔ ہم جامعہ فاروقیہ میں درجہ سادسہ معہد (یعنی شعبہ عربی) کے طلاب تھے،سادسہ کے سال شعبہ عربی میں طلبہ کی تعداد کم ہوجاتی ہے کیونکہ ایک مقالہ بھی عربی زبان میں لکھنا ہوتا ہے۔ ہم صرف تیس کے قریب طلبہ تھے۔ استاد ولی خان المظفر حفظہ اللہ ہمیں تفسیر جلالین کا ایک حصہ پڑھایا کرتے تھے جبکہ دوسرا حصہ استاد نور البشر حفظہ اللہ پڑھاتے تھے۔ استاد ولی المظفر شعبہ معہد کے اکثر اساتذہ کے استاد بھی تھے اور شعبہ کے نگران اعلی بھی۔
جامعہ فاروقیہ میں استاد ولی خان المظفر سے زیادہ موٹیویشن اور طلبہ کی ہر حال میں حوصلہ افزائی کرنے والا شاید ہی کوئی اور ہو۔ وہ ہمہ وقت طلبہ کو آگے بڑھنے کی ترغیب دینے میں سب سے پیش پیش رہتے تھے۔ مجھ پر طلبہ و اساتذہ اکثر تنقید کیا کرتے، مگر استاد ولی خان کا اصول یہ تھا کہ "حقانی پر بس تحسین ہی کرنی ہے”۔
دینی مدارس کی ایک حسین روایت یہ ہے کہ طلبہ مغرب کے بعد یا فجر کے بعد اگلے دن کے اسباق کی ایڈوانس تیاری کرتے ہیں۔اس کو عام طور پر "مطالعہ‘” کہا جاتا ہے۔ایڈوانس سبق کی تیاری کا مطلب یہ ہے کہ استاد یا طالب علم اگلے دن کے سبق کو پہلے سے پڑھ کر اور سمجھ کر آئیں تاکہ کلاس میں پڑھائی آسان ہو جائے۔ اس کو تعلیم میں Advance Organizer یا Pre-Teaching کہا جاتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ طالب علم پہلے سے ذہنی طور پر تیار ہوتے ہیں، مشکل الفاظ یا نئے خیالات اجنبی نہیں لگتے اور سیکھنے کا عمل زیادہ بامعنی اور مؤثر بن جاتا ہے۔
آسان الفاظ میں، ایڈوانس سبق کی تیاری ایک ایسی حکمت عملی ہے جو طلبہ کو ذہنی طور پر سبق کے لیے تیار کرتی ہے اور ان کی سمجھ بوجھ کو مزید مؤثر بناتی ہے۔
ہم بھی ایک رات مطالعہ میں مصروف تھے۔ عموماً دورانِ مطالعہ میں سر سے ٹوپی اتار کر میز پر رکھ دیتا، آج کل تو قمیص بھی اتار کر پورے انہماک کے ساتھ پڑھنے اور لکھنے لگتا۔ ہمارے ایک دوست سعید شاہ ہنگو کے تھے، جو شعبہ نظامی یعنی اردو سیکشن سے عربی میں ہمارے پاس آگے تھے۔
اتفاقاً ایک رات استاد ولی خان المظفر عربی کلاسز کا دورہ کر رہے تھے۔ جب وہ ہماری کلاس کے دروازے پر رکے تو سعید شاہ، جنہیں استاد محبت سے ’’شاۃ‘‘ یعنی بکری کہا کرتے تھے، نے فوراً شکایتی و مزاحی انداز میں کہا
*”استاد جی! یہ حقانی ٹوپی اتار کر مطالعہ کرتے ہیں۔”*
مدارس کے ماحول میں چونکہ طلبہ کے اندر ایک خاص تقویٰ کا رنگ غالب رہتا ہے، اس لیے مطالعہ کے وقت بھی ٹوپی اتارنا بعض کے نزدیک ’’خلافِ تقویٰ‘‘ سمجھا جاتا تھا۔ استاد ولی خان نے سعید شاہ کی بات سنی، مسکرائے اور نہایت مزاحیہ انداز میں بولے
"بس حقانی شلوار اتار کر مطالعہ نہ کرے بے، باقی جو اتارے اتارنے دیں، لیکن مطالعہ کرے۔”
یہ جملہ سنتے ہی پوری کلاس زرد زعفران بن گئی۔ مطالعہ کی سنجیدگی ایک دم قہقہوں میں بدل گئی اور ٹوپی کے مسئلے نے اُس رات مطالعہ کو اور بھی یادگار بنا دیا۔