کھلی فساد اور حل

یہ ایک المیہ ہے اور بہت بڑا المیہ ہے کہ انسان جتنا خود کفیل ہوتا جا رہا ہے اتنا ہی خدا سے اپنے آپ کو بے نیاز تصور کر رہا ہے۔ اور وہ اپنے من میں یہ گہرا احساس رکھتا ہے کہ اب چونکہ میں خود کفیل ہو چکا ہوں تو بس میرے لیے کسی خدا کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ اس رویے پر ہم ذیل میں تبصرہ کرتے ہیں۔

مثال کے طور پر ہم بیالوجی میں چیزوں کی مادی اجسام اور ان کے فنکشنز کے لیے Cell کو بنیاد مانتے ہیں اور خالص مادی اجسام کے لیے ایٹم کو بنیاد مانتے ہیں۔ اب ہوا کچھ یوں ہے کہ Passive مادے کو ہم نے فعال مانا ہے اور اسے انسان کا امام بنایا ہے، حالانکہ اس میں تو اپنی طبیعت کی بنا پر جانوروں اور کیڑے مکوڑوں کی امامت کی بھی اہلیت نہیں۔ کیونکہ ان میں اپنی حیاتیاتی ساخت کی وجہ سے خودکار افعال تو ہوتے ہیں جیسے درد کا احساس، بھوک وغیرہ کا احساس۔ جبکہ غیر حیاتیاتی اجسام میں جو خصوصیات ہوتی ہیں انہیں ہم نے استعمال کرنا ہوتا ہے۔ دنیاوی زندگی میں ان کے کردار کو فعال بنانے کے لیے انسان نے کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ یعنی مادہ خود سے اپنی کسی خصوصیت کو کسی بیرونی عامل کے بغیر ظاہر نہیں کرسکتا اور بیرونی عامل انسان ہی ہے جس نے اسے فعال کرنا تھا۔

مگر ہمارے ہاں بات ایک سو اسی درجے پر چلی گئی ہے۔ وہ مادہ جسے ہم نے فعال کرنا تھا، استعمال کرنا تھا، وہ ہمیں استعمال کرنے لگا ہے۔ وہی ہمیں فعال بھی رکھتا ہے۔ جہاں مادے کا مطالبہ ہو ہم وہاں سروں پر کفن باندھ کر جاتے ہیں۔ اس نے امامت کے منصب پر بڑے آرام سے کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ جسے آگے ہونا چاہیے تھا وہ پیچھے چلا گیا ہے اور جس کی حیثیت مقتدی بننے کی بھی نہیں تھی، اسے سند یافتہ، متفقہ، غیر متنازعہ امام بنایا گیا ہے۔

دنیا میں معروضی حقائق کے برعکس جب اس قسم کی مصنوعی تبدیلی رونما ہوئی تو باقی ماندہ چیزیں بھی اپنی فطری پوزیشن سے ہٹ کر مصنوعی مقامات پر جلوہ افروز ہو گئیں۔ امامت کی تبدیلی نے ہر شے کو متاثر کیا اور مصنوعی امام نے ایسے چیزوں میں بھی تبدیلی کی جن کا اپنی فطرت پر ہونا انسانی زندگی کے لیے ناگزیر تھا۔

اس تبدیلی سے انسان کو جو سب سے بڑا صدمہ پہنچا وہ اخلاقیات کا خدا کے بجائے مادیت سے نتھی کرنا تھا۔ اس نئے امام نے مادیت کو اخلاقیات کا ماخذ قرار دیا۔ اس حیثیت کی وجہ سے اب مادے کو یہ اتھارٹی ملی کہ جس چیز کو تم حق کہو وہ حق ہوگی، جسے جھوٹ کہو وہ جھوٹ ہوگی۔ یعنی اخلاقیات کے سلسلے میں مادے کو معیارِ حق تسلیم کیا گیا۔

اس نئے امام نے اپنی بے حس فطرت کی بنا پر انسان کو اخلاقی لحاظ سے بے حس کر دیا۔ اب انسان کسی بھی حوالے سے حساس نہیں رہا اور انسان کی اس بے حسی نے ہر محاذ پر اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ اس کے نتیجے میں انسان رشتوں، دوستی، مذہب، ایمان، خدا، رسول الغرض ہر چیز کے حوالے سے بے حس ہوتا چلا گیا اور اس کے اس بے حس رویے کا بنیادی محرک وہ امام ہے جو اپنی طبیعت کے اعتبار سے جوہری طور پر بے حس ہے۔ اس امام نے اپنی بے حسی سے انسان کو خاطر خواہ حصہ عطا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ انسان حق کو باطل، باطل کو حق، سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ کہنے میں بے باک ہوا۔

اس بے باکی کو ہم حکمرانوں، عوام حتیٰ کہ اب تو جانوروں میں دیکھتے ہیں۔ وہ جانور جو کبھی آبادی کے قریب بھی نہیں آتے تھے اب گلیوں میں گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ انسان کو مادے نے اس کے جنس کے قریب کر دیا ہے اور اپنے جنس میں رہنا، گھومنا پھرنا ایک معمول کی بات ہوتی ہے۔

پہلے چونکہ اخلاقیات کا ماخذ خدائی تعلیمات تھیں اور خدا رحیم ہے، کریم ہے، وسعت ظرف والا ہے، اس لیے انسان کے رویے میں بھی رحم تھا، کرم تھا اور ظرف تھا۔ مگر جیسے ہی انسان نے اخلاقیات میں خدا کی تعلیمات کو خدا حافظ کہہ دیا تو فوری طور پر ان تمام صفات سے خالی ہوتا گیا جو کبھی انسان کا خاصہ ہوا کرتی تھیں۔

اللہ تعالیٰ تو سبحان ہے (پاکیزہ ہے)، عادل ہے اس لیے اس کے عطا کردہ اخلاقیات میں پاکیزگی تھی، حیا تھا، دوسروں کا خیال تھا، معقولیت کا وزن تھا، عدل کی بنیاد پر فیصلے تھے۔ اب جو ہمیں اپنے ماحول میں بے حیائی، بیہودگی، کم ظرفی، ظلم، ناانصافی وغیرہ جیسے اخلاقی امراض نظر آتے ہیں ان کی بنیادی وجہ اصل میں یہی اخلاقیات کے ماخذ کا تبدیل ہونا ہے۔

اب اگر ہمیں ایسی بے وقوفی نظر آتی ہے کہ ایک شخص بغیر کسی علم کے مذہب کے بارے میں لب کشائی کرتا ہے اور توجہ دلانے والے کو گالیاں دیتا ہے تو اس کی بنیاد اس کے اخلاقیات کا ماخذ ہی ہے۔ پہلے اگر کوئی بے دلیل بات کرتا تو کچھ شرم محسوس کرتا اور اسے اس کا ضمیر الارم دیتا یا کسی کے متوجہ کرنے پر معذرت کرتا، مگر اب معاملہ کچھ اور ہے۔ آپ کسی سے کہہ دیں کہ جی جو بات آپ کر رہے ہو اس کے لیے تو کوئی دلیل چاہیے تو وہ جواب میں یہی کہتا ہے کہ یہ میری اپنی مرضی ہے، جس شے کو ٹھیک کہو اور جس کو غلط کہو، اس میں دلیل کی کیا ضرورت ہے۔

اس قسم کے ماحول میں ایسے جملے بڑے بے باکی کے ساتھ زبانوں پر آنے لگے کہ "جب پیٹ کھاتا ہے تو آنکھیں شرماتی ہیں۔” یعنی مجھ سے کام نکلوانے کے لیے میرا پیٹ بھر دو، باقی تم جو بھی کہو ہو جائے گا۔ تم اس کی پرواہ نہ کرو کہ اس قسم کا ظالمانہ، غیر منصفانہ، نامعقول، بے حیا کام وغیرہ میں تمہارے لیے کیسے کروں گا۔ بس تم میرا پیٹ بھر دو پھر دیکھو میں کیا ہے نہیں کہ تمہارے لیے وہ نہ کروں۔

اسی طرح کہا جاتا ہے کہ "پیسہ پھینک، تماشا دیکھ۔” یعنی یہاں ہر چیز کا مرکز و محور پیسہ ہے۔ پیسہ لگاؤ تو تمہیں اپنے باپ، رشتہ دار، دوست، بھائی کو بھی قتل کرنے کے لیے لوگ مل جائیں گے۔ پیسہ لگاؤ تو تمہیں سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانے والے مل جائیں گے، یہاں تک کہ پیسے کی خاطر تمہیں مذہب اور اس کے مقدسات کو بھی گالیاں دینے والے مل جائیں گے (العیاذ باللہ)۔

ابھی تو خیر چیزیں فی الحال ایک سو اسی تک پہنچی نہیں ہیں جس طرح اس کے امام کو ایک سو اسی درجے پر انسان نے گھمایا ہے، کیونکہ مقتدی ہمیشہ امام کے پہنچنے کے بعد مطلوبہ جگہ تک پہنچتا ہے۔ مگر مقتدی اپنے امام سے کچھ زیادہ پیچھے بھی نہیں ہے۔ عنقریب وہ بھی ادھر ایک سو اسی پر پہنچنے والا ہے اور اس کے استقبال کے لیے Naturalism اور Deconstruction جیسے افکار پہلے سے میدانِ عمل میں موجود ہیں۔ ان افکار کے استقبال کے بعد اخلاقیات کی اصطلاح کو بھی پاؤں تلے روندا جائے گا اور دیکھتے دیکھتے خدا کی یہ خوبصورت زمین حقیقی معنوں میں جنگل بن جائے گی۔ اور ہم صرف تماشہ کرتے رہیں گے، بلکہ میرا تو خیال یہ ہے کہ مادے نے اپنے بے حس نیچر کی وجہ سے ہمیں اتنا مرعوب اور بے حس کر دیا ہے کہ ہم تالیاں بجا کر خوشی سے اس جنگل کا خود بھی استقبال کریں گے۔

یہ وہ اخلاقی طور پر بیمار اور دیوالیہ معاشرہ ہے جو اپنی اصلاح کے لیے کسی مسیحا کا محتاج ہے۔ مگر اس مریض کی حالت اتنی بگڑ چکی ہے کہ ہومیو پیتھک قسم کا علاج اس کے لیے بے معنی ہو چکا ہے۔ اس مریض کا علاج میجر سرجری کے بغیر ناممکن ہو چکا ہے۔

اس مرض نے نہ منبر و محراب کو بخشا ہے، نہ مسند پر بیٹھے استاد کو، نہ کرسی پر بیٹھے حکمران کو، نہ گرجے کو نہ خانقاہ کو بلکہ یہ مرض زندگی کے ہر شعبے اور اس کے تمام دائروں میں پورے آب و تاب کے ساتھ ایک مؤثر وجود کی شکل میں موجود ہے۔ اس مضمون کے آنے والے حصے میں ہم اس میجر سرجری یعنی علاج اور متعلقہ سرجن یعنی معالج کے بارے میں بات کریں گے جو اس مرض کی ضرورت ہیں۔

جاری ہے……….

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے