ڈیجیٹل انقلاب کے دور میں بے روزگاری کا چیلنج اور الخدمت فاؤنڈیشن کا بنو قابل پروگرام

لمحہ موجود کو ہم سب ڈیجیٹل انقلاب کے دور میں زندگی بسر کر رہے ہیں یہ دور کم از کم روزگار کے حوالے سے پریشان کن نہیں ہونا چاہیے لیکن ہمہ گیر غفلتوں اور لاپرواہیوں کے سبب اب بھی ہم بے روزگاروں کی فوج ظفر موج رکھتے ہیں اور بے روزگاری کے مسئلے سے نمٹنے میں بے تحاشا امکانات سامنے ہونے کے باوجود ناکام ہیں۔ آئیے ڈیجیٹل مہارتوں سے جڑے امکانات اور عالم گیر فلاحی تنظیم الخدمت فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام شروع ہونے والا پروگرام بنو قابل کی اہمیت پر مختصر روشنی ڈالتے ہیں۔ موجودہ دور میں ڈیجیٹل مہارتوں کی ترقی کے پروگرامز روزگار کے تناظر میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، جس کی چند کلیدی وجوہات مندرجہ ذیل ہیں:

روزگار کے نئے مواقع

‎ڈیجیٹل معیشت میں روزگار کے مواقعوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس طرح روایتی ملازمتوں کے مقابلے میں ڈیجیٹل شعبوں میں ماہرین کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت دنیا کا معاشی ڈھانچہ تیزی سے ڈیجیٹائز ہو رہا ہے۔

صنعتی تبدیلیوں کے تقاضے

‎اس وقت ملک اور دنیا کا ہر شعبہ کاروبار ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے۔ اس تبدیلی کے پیشِ نظر ملازمتیں پیدا کرنے والے اب ڈیجیٹل ہنر مندوں کو ترجیح دیتے ہیں۔

عالمی مسابقت

‎ڈیجیٹل ہنر رکھنے والے پروفیشنلز بین الاقوامی سطح پر کام کر سکتے ہیں۔ اب دنیا بھر میں فری لانسنگ اور ریموٹ ورک کے مواقع میں بے تحاشہ اضافہ ہو رہا ہے۔

معاشی استحکام

‎ڈیجیٹل مہارت معاشی ترقی اور ذاتی آمدنی میں اضافے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے نیز یہ معیشت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں مددگار بھی ہے۔ اس امکان نے واقعی دنیا کو ایک عالمی گاؤں میں بدل دیا ہے۔

‎ڈیجیٹل مہارتوں کے مختلف کورسز روزگار کے حوالے سے نہ صرف مفید بلکہ آج کے دور میں انتہائی ضروری ہیں۔ اس وقت پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے، جس میں ای-کامرس، فری لانسنگ، اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ جیسے اہم شعبے نمایاں ہیں۔ ذیل میں ایسے کورسز کی تفصیل پیش کی جا رہی ہے جو کہ روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرتے ہیں۔

‎1. ڈیجیٹل مارکیٹنگ (Digital Marketing)

‎ڈیجیٹل مارکیٹنگ کورسز روزگار کے حوالے سے سب سے زیادہ مفید ہیں۔ اس میں سوشل میڈیا مینجمنٹ، سرچ انجن آپٹیمائزیشن (SEO)، اور آن لائن اشتہارات جیسی مہارتیں شامل ہیں۔ اب پاکستان میں کاروباری ادارے ڈیجیٹل مارکیٹرز کی خدمات حاصل کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنے کاروبار کو بڑھا سکیں۔ اس شعبے میں نوجوانوں کی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے، اور تربیت یافتہ افراد نہ صرف ملازمت کر سکتے ہیں بلکہ آزادانہ طور پر خود بھی کام کر سکتے ہیں۔

‎2. ویب ڈویلپمنٹ (Web Development)

‎ویب ڈویلپمنٹ کورسز اس وقت بہت زیادہ طلب رکھتے ہیں۔ اس میں فرنٹ اینڈ اور بیک اینڈ ڈویلپمنٹ شامل ہیں۔ پاکستانی نوجوان ویب ڈویلپمنٹ سیکھ کر فری لانسنگ پلیٹ فارمز جیسے اَپ ورک اور فائیور پر کام کر سکتے ہیں، جو زرمبادلہ کمانے کا اہم ذریعہ ہے۔ 2025ء میں پاکستان نے فری لانسنگ سے 1.1 بلین ڈالر کی آمدنی حاصل کی، جو اس شعبے کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔

‎3. گرافک ڈیزائننگ (Graphic Designing)

‎گرافک ڈیزائننگ کورسز بھی روزگار کے حوالے سے بہت مفید ہیں۔ اس میں لوگو ڈیزائن، برانڈنگ، اور سوشل میڈیا پوسٹس ڈیزائن کرنا شامل ہے۔ پاکستان میں چھوٹے اور درمیانے کاروباری ادارے اپنی مصنوعات کی مارکیٹنگ کے لیے گرافک ڈیزائنرز کی خدمات حاصل کر رہے ہیں۔ یہ کورسز نوجوانوں کو خود روزگار پیدا کرنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔

‎4. ای-کامرس مینجمنٹ (E-commerce Management)

‎ای-کامرس مینجمنٹ کورسز بھی روزگار کے لیے بہت مفید ہیں۔ پاکستان کی ای-کامرس مارکیٹ 2025ء میں 301 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جس میں الیکٹرانکس، فیشن، اور گھریلو مصنوعات کی فروخت شامل ہے۔ ای-کامرس مینجمنٹ سیکھنے والے نوجوان آن لائن اسٹورز چلا سکتے ہیں یا ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے کام کر سکتے ہیں۔

‎5. فری لانسنگ (Freelancing)

‎فری لانسنگ کورسز نوجوانوں کو آن لائن کام کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ پاکستان میں فری لانسنگ کی آمدنی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور نوجوان اس شعبے سے وابستہ ہو کر زرمبادلہ کما رہے ہیں۔ فری لانسنگ کورسز میں ویب ڈویلپمنٹ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، اور گرافک ڈیزائننگ جیسی مہارتیں شامل کی جاتی ہیں۔

‎6. ڈیٹا اینالیٹکس (Data Analytics)

‎ڈیٹا اینالیٹکس کورسز بھی روزگار کے حوالے سے بے حد مفید ہیں۔ اس شعبے میں ڈیٹا کی مدد سے کاروباری فیصلے کرنا شامل ہے۔ پاکستان میں کاروباری ادارے ڈیٹا اینالیٹکس کے ماہرین کی خدمات حاصل کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنے کاروبار کو بہتر بنا سکیں۔ یہ کورسز ان لوگوں کے لیے موزوں ہیں جو تجزیاتی ذہن رکھتے ہیں۔

‎7. آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) اور مشین لرننگ (Machine Learning)

‎AI اور مشین لرننگ کے کورسز بھی روزگار کے لیے بہت مفید ہیں۔ یہ شعبے تیزی سے ترقی کر رہے ہیں، اور پاکستان میں بھی ان کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ AI کے ماہرین ہیلتھ کیئر، فنانس، اور ای-کامرس جیسے شعبوں میں کام کر سکتے ہیں۔ یہ کورسز اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے موزوں ہیں۔

‎8. سائبر سیکیورٹی (Cybersecurity)

‎سائبر سیکیورٹی کے کورسز بھی روزگار کے حوالے سے مفید ہیں۔ آن لائن کاروبار کے بڑھنے کے ساتھ ہی سائبر حملوں کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے، اور کاروباری ادارے اب سائبر سیکیورٹی کے ماہرین کی خدمات حاصل کر رہے ہیں۔ یہ کورسز ان نوجوانوں کے لیے موزوں ہیں جو ٹیکنالوجی میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔

‎9. کلاؤڈ کمپیوٹنگ (Cloud Computing)

‎کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے کورسز بھی روزگار کے لیے مفید ہیں۔ کاروباری ادارے اپنا ڈیٹا کلاؤڈ پر منتقل کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے ماہرین کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ یہ کورسز ان نوجوانوں کے لیے موزوں ہیں جو نیٹ ورکنگ اور ڈیٹا مینجمنٹ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

‎10. موبائل ایپ ڈویلپمنٹ (Mobile App Development)

‎موبائل ایپ ڈویلپمنٹ کے کورسز بھی روزگار کے حوالے سے مفید ہیں۔ موبائل فونز کے استعمال میں اضافے کی وجہ سے موبائل ایپس کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ پاکستانی نوجوان موبائل ایپ ڈویلپمنٹ سیکھ کر فری لانسنگ پلیٹ فارمز پر کام کر سکتے ہیں یا اپنی ایپس بنا سکتے ہیں۔

‎ڈیجیٹل مہارتوں کے یہ کورسز نہ صرف روزگار کے خاطر خواہ مواقع فراہم کرتے ہیں بلکہ پاکستان کی معیشت کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔ نوجوان ان کورسز کو آن لائن یا مقامی اداروں سے سیکھ سکتے ہیں۔ یہ امر باعث مسرت ہے کہ پاکستان میں معروف فلاحی ادارے الخدمت فاؤنڈیشن یہ کورسز بنو قابل کے نام سے مفت پیش کر رہا ہے، جو نوجوانوں کے لیے بہت زیادہ مفید ہیں۔ ان کورسز کو سیکھ کر نوجوان نہ صرف ملازمت حاصل کر سکتے ہیں بلکہ خود روزگار بھی پیدا کر سکتے ہیں۔

‎بنو قابل پروگرام الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کا ایک اہم تعلیمی اور آن لائن مہارتوں سے متعلق ملک گیر پروگرام ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور مہارتیں سکھا کر انہیں روزگار کے قابل بنانا ہے۔ یہ پروگرام ملک بھر میں مختلف شہروں میں متعدد کورسز کے ذریعے نوجوانوں کی تربیت کر رہا ہے۔ آئیے اس پروگرام کی اہم تفصیلات پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں۔

بنو قابل پروگرام کے چند اہم پہلو

‎1. پروگرام کا مقصد

بنو قابل پروگرام کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی کی مہارتیں سکھانا اور انہیں روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ اس کے ذریعے نوجوانوں کو فری لانسنگ، ویب ڈویلپمنٹ، ایپ ڈویلپمنٹ، گرافک ڈیزائن، اور دیگر کورسز میں تربیت دی جاتی ہے، تاکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکیں۔

‎2. کورسز کی اقسام

‎بنو قابل پروگرام کے تحت مختلف قسم کے کورسز پیش کیے جاتے ہیں، جن میں ایمیزون ڈیجیٹل مارکیٹنگ، فری لانسنگ، موبائل ایپ ڈویلپمنٹ، گرافک ڈیزائن، ڈیٹا سائنس، سائبر سیکیورٹی، ای کامرس، آفس آٹومیشن، اور دیگر جدید ترین مہارتیں شامل ہیں۔

‎3. ملک بھر میں توسیع

‎یہ پروگرام پاکستان کے مختلف شہروں جیسا کہ کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ، جعفرآباد، لورالائی، اور گوادر میں چل رہا ہے۔ کراچی میں پہلا انٹری ٹیسٹ منعقد کیا گیا تھا، جس میں ہزاروں نوجوانوں نے شرکت کی پھر اس پروگرام کو ملک بھر میں توسیع دی گئی۔ اب بلوچستان میں بھی اس پروگرام ا آغاز ہو گیا ہے۔ یہ پروگرام آزاد کشمیر سمیت ملک کے چاروں صوبوں تک پھیل گیا ہے۔ اب تک بنو قابل پروگرام سے ملک بھر میں ہزاروں نوجوان مستفید ہو چکے ہیں اور اس کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

‎4. بنو قابل پروگرام کے شرکاء 

‎بنو قابل پروگرام میں نوجوان طلبہ و طالبات شامل ہو سکتے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت طلباء کی تعلیمی استعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں مناسب کورسز منتخب کرنے میں مدد فراہم کی جاتی ہے۔

‎5. بنو قابل پروگرام کی مقبولیت

‎اس پروگرام کی روح رواں جماعت اسلامی پاکستان ہے لیکن اس کو ملک کے تمام سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر سراہا گیا، بعض سیاستدانوں نے وفاقی حکومت پر تنقید بھی کی ہے کہ وہ نوجوانوں کے لیے ایسے اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس پروگرام کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی انٹری ٹیسٹوں میں نوجوانوں کی تعداد اور جذبہ حیران کن حد تک زیادہ ہے۔

‎6. بنو قابل پروگرام کے زیر اہتمام مستقبل کے منصوبے 

‎الخدمت فاؤنڈیشن کے ذمہ داران کے مطابق، بنو قابل پروگرام کا دائرہ ملک کے تمام نوجوانوں تک بڑھایا جائے گا اور اس کے ذریعے سے نوجوانوں کو نہ صرف غربت سے نکالا جا سکے گا، بلکہ وہ ملک کے لیے زرمبادلہ کمانے کا ذریعہ بھی بنیں گے۔

‎بنو قابل پروگرام پاکستان کے نوجوانوں کو جدید مہارتیں سکھا کر انہیں معاشی طور پر خود کفیل بنانے کا ایک اہم قدم ہے جس سے ہزاروں نوجوان مستفید ہو رہے ہیں۔ یہ پروگرام نہ صرف نوجوانوں کی تربیت کر رہا ہے، بلکہ ملکی ترقی اور خوشحالی میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ جماعت اسلامی کے اس بڑے اور مفید منصوبے سے تمام سیاسی اور سماجی پارٹیوں کو سیکھنے کی ضرورت ہے کہ کس طرح قوم کے فلاح و بہبود کے عمل میں وہ معاون و مددگار ثابت ہو سکتی ہیں؟ اور یہ حقیقت بھی تسلیم کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ سیاسی عمل محض زندہ باد مردہ باد کہنے کا نام نہیں بلکہ عوام کی ٹھوس اور بروقت خدمت کا کام بھی ہے۔

‎تمام نوجوانوں کو نصیحت ہے کہ سمارٹ فون کے ذریعے اپنا وقت اور صلاحیت ضائع کرنے کی بجائے بنو قابل پروگرام میں شریک ہو کر ایسی مہارتیں سیکھیں جو کہ نہ صرف غربت اور بے روزگاری سے نکلنے میں مددگار ثابت ہو بلکہ ملکی ترقی اور خوشحالی میں بھی ممد و معاون بن جائیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے