پاکستان، جنت نظیر وادیوں، سرسبز کھیتوں اور معدنی وسائل سے مالا مال ایک ایسا ملک ہے جہاں قدرت نے بے پناہ نعمتیں عطا کی ہیں۔ لیکن ان وسائل کے صحیح استعمال اور منصفانہ تقسیم کے لیے ضروری ہے کہ آبادی اور وسائل کے درمیان توازن قائم رکھا جائے۔
پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے، جس کے اثرات معاشرتی، اقتصادی اور صحت کے شعبوں پر واضح نظر آتے ہیں۔ سالانہ گیارہ ہزار خواتین کی دورانِ زچگی موت کی ایک بڑی وجہ بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفے کا نہ ہونا ہے۔ یہ اعداد و شمار نہ صرف انفرادی خاندانوں کے لیے المناک ہیں، بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک بھیانک تنبیہہ بھی ہیں۔ اگر آبادی کے بے تحاشہ اضافے کو کنٹرول نہ کیا گیا، تو ملک کو مزید گمبھیر مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ان گمبھیر مسائل کی جڑیں معاشرتی روایات اور غلط تصورات میں پیوست ہیں، جو خاص طور پر دیہاتی علاقوں میں گہرائی تک سرایت کر چکے ہیں۔ آج میں نے جس موضوع پر قلم اٹھایا ہے، وہ شاید میرے گاؤں اور دیہاتی علاقوں کے مردوں کے لیے ناگوار ہو، لیکن سچ کو چھپانے سے حقائق بدل نہیں جاتے۔ پاکستان کے دیہاتوں میں فیملی پلاننگ کو صرف ایک گناہ ہی نہیں، بلکہ معاشرتی شرمندگی سمجھا جاتا ہے۔ یہاں ہر سال ایک نئے بچے کی پیدائش کو لازمی سمجھا جاتا ہے، چاہے ماں کی صحت داؤ پر لگ جائے یا وہ زندگی اور موت کی کشمکش سے گزر رہی ہو۔
یہ کشمکش میرے اپنے گھر کی کہانی بھی ہے۔ میری والدہ محترمہ نے پندرہ بچوں کو جنم دیا، جن میں سے چار پیدائش کے فوراً بعد ہی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ باقی ماشاءاللہ ہم گیارہ جوان ہیں، لیکن ہماری پرورش کے دوران والدہ کی صحت کبھی مستحکم نہیں رہی۔ جب میں ان سے پوچھتی ہوں کہ اتنی اولاد کی ضرورت ہی کیا تھی؟ تو ان کا جواب ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ خاندان والوں کا دباؤ تھا، اور علماء کے فتوے کہ خاندانی منصوبہ بندی کرنا حرام ہے۔ مسجدوں میں مردوں کو یہی سکھایا جاتا ہے کہ اولاد کی کثرت ہی ایمان کی علامت ہے، چاہے اس کے نتائج کتنے ہی اذیت ناک کیوں نہ ہوں۔
ان المناک نتائج کا شکار صرف میری والدہ ہی نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کی لاکھوں خواتین ہیں۔ جب میں نے خاندان کی دیگر خواتین سے یہی سوال کیا، تو سب کے جواب ایک جیسے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ حمل اور زچگی کے دوران وہ شدید صحت کے مسائل سے گزرتی ہیں، لیکن نہ تو انہیں مناسب علاج میسر ہوتا ہے، نہ ہی غذائیت سے بھرپور خوراک۔ نتیجتاً، نہ صرف وہ خود بیماریوں کا شکار ہوتی ہیں، بلکہ ان کے نوزائیدہ بچے بھی کمزوری اور امراض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ دست، پیٹ درد، نزلہ زکام، اور نیند کی کمی جیسی بیماریاں ان بچوں کا مقدر بن جاتی ہیں۔
یہ بیماریاں اور معاشی مشکلات ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ ایک اور المیہ یہ ہے کہ اگر کوئی عورت کسی وجہ سے زیادہ بچے پیدا نہ کر سکے، تو مرد فوراً دوسری، تیسری یا چوتھی شادی کر لیتا ہے۔ عورت کی صحت، جذبات، یا زندگی کی قیمت ان کے نزدیک کچھ بھی نہیں۔ دیہاتوں میں یہ تصور عام ہے کہ زیادہ بیٹے ہونے سے خاندان کی طاقت بڑھتی ہے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ جب بیٹے بڑے ہو جائیں گے، تو وہ گھر کی معاشی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے اور خاندان کا نام روشن کریں گے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ زیادہ تر بیٹے نہ تو تعلیم حاصل کر پاتے ہیں، نہ ہی روزگار۔ اور ایسی طرح گھر میں بیٹھے ہر بات پر لڑائی جھگڑا شروع ہو جاتی ہیں، جس سے خاندان ٹوٹ جاتے ہیں، خون خرابا، اور ناختم ہونے والے دشمنیاں جنم لیتی ہیں۔
یہ دشمنیاں اور خاندانی تنازعات معاشرے کو مزید تقسیم کر دیتے ہیں۔ سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جب یہ بچے بمشکل تیرہ یا چودہ سال کے ہوتے ہیں، تو ان کی شادی کر دی جاتی ہے۔ پھر یہی نوجوان لڑکے اور لڑکیاں کم عمری ہی میں مزید بچے پیدا کرنے کا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں۔ نہ بیٹے کی تعلیم کا خیال، نہ بیٹی کی تربیت، نہ جہیز کا انتظام، اور نہ ہی مستقبل کی کوئی سوچ۔ داماد بھی اکثر بے روزگار اور غیر تعلیم یافتہ ہوتا ہے، جو خود اپنے گھر کی کفالت کرنے سے قاصر ہوتا ہے۔
اس طرح ایک نہ ختم ہونے والا چکر شروع ہو جاتا ہے، جو نہ صرف خاندانوں بلکہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں جب کہ دیہاتوں میں غربت پہلے ہی انتہائی شدید ہے، بڑے خاندان کا بوجھ اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ لوگ مانتے ہیں کہ زیادہ بچے معاشی مشکلات کا سبب بنتے ہیں، لیکن پھر بھی وہ اسی روایت کو جاری رکھتے ہیں۔ جس خاندان کے پاس تھوڑی سی زمین ہوتی ہے، وہاں بیٹوں کے درمیان جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں۔ بیٹیوں کو تو ورثے سے محروم رکھا جاتا ہے، لیکن بیٹے بھی اپنے حق کے لیے ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں۔ نتیجتاً، خاندان بکھر جاتے ہیں، رشتے ٹوٹتے ہیں، اور معاشرہ ان سے بیزار ہو جاتا ہے۔
یہ بیزاری اور معاشی بدحالی ملک کے لیے ایک بڑے خطرے کی نشاندہی کرتی ہے۔ عزیز قارئین اب ملاحظہ فرمائیں! پاکستان کی پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کے مطابق ملک کی آبادی 24 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، جو اسے دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک بنا دیتی ہے۔ پاکستان پاپولیشن کونسل اور یو این ایف پی اے کے اعداد و شمار کے مطابق، آبادی میں تیزی سے اضافے کی بنیادی وجوہات میں خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں آگاہی کی کمی اور مانع حمل ادویات کے استعمال میں کمی شامل ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ صرف 34 فیصد خواتین اور محض 9 فیصد مرد ہی فیملی پلاننگ کرتے ہیں۔ یہ شرح دیگر ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں انتہائی کم ہے، جس کی وجہ سے آبادی کا تناسب وسائل سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
اس تیزی کے مضمرات کو سمجھنے کے لیے ہمسایہ ممالک کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ وسطی ایشیا اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ موازنہ کیا جائے، تو پاکستان میں شرح پیدائش انتہائی تشویشناک ہے۔ ڈائریکٹر کمیونیکیشن، پاپولیشن کونسل پاکستان کے مطابق، یہاں ایک خاتون اوسطاً ساڑھے تین بچے پیدا کرتی ہے، جبکہ ایران، بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور بھارت جیسے ممالک میں یہ شرح نمایاں طور پر کم ہے۔ اگر آبادی میں اسی رفتار سے اضافہ ہوتا رہا، تو 2040 تک ملک کو 104 ملین نئی نوکریوں اور 15.5 ملین گھروں کی ضرورت ہوگی۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ موجودہ وسائل اور ترقی کی رفتار آبادی کے دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔
اس ناکافی صورتحال کی وجہ صرف معاشی پہلو نہیں، بلکہ معاشرتی رویے بھی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، آبادی میں اضافے کی ایک بڑی وجہ معاشرتی رویے اور روایات بھی ہیں، جو خاندانی منصوبہ بندی کو ایک حساس موضوع بنا دیتی ہیں۔ بہت سے گھرانوں میں اس بارے میں بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے لوگ مناسب منصوبہ بندی نہیں کر پاتے۔ یہ رویے نہ صرف خاندانوں کے معیار زندگی کو متاثر کر رہے ہیں، بلکہ ملک کی مجموعی ترقی میں بھی رکاوٹ بن رہے ہیں۔ اگر آبادی کے مسئلے پر قابو نہ پایا گیا، تو دیگر معاشی و سماجی چیلنجز کو حل کرنا ناممکن ہو جائے گا۔
ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس صورتحال میں خاندانی منصوبہ بندی کو فروغ دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔ حکومتی اور غیر سرکاری اداروں کو مشترکہ طور پر عوامی آگاہی مہم چلانی چاہیے، تاکہ لوگوں کو چھوٹے خاندان کے فوائد اور بے جا آبادی کے نقصانات سے آگاہ کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ، مانع حمل ادویات تک رسائی کو آسان بنانے اور مردوں کی شمولیت کو یقینی بنانے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ صرف اسی طرح آبادی اور وسائل کے درمیان توازن قائم کیا جا سکتا ہے اور پاکستان کو مستحکم اور خوشحال مستقبل کی طرف گامزن کیا جا سکتا ہے۔