جب ہم نے برائی کو نام شیطان دیا

دنیا کی ہر تہذیب، ہر مذہب، اور ہر زمانے میں ایک ایسی ہستی کا تصور ملتا ہے جو برائی، وسوسے، گناہ، اور انسان کی گمراہی کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس ہستی کو ہم "شیطان” یا "ابلیس” کے نام سے جانتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے: کیا شیطان واقعی ایک موجود ہستی ہے، یا یہ انسان کی اپنی کمزوریوں کا ایک خیالی کردار ہے جسے ہم نے گناہوں کا الزام دینے کے لیے پیدا کیا ہے؟

اگر ہم مذہبی نقطہ نظر سے دیکھیں تو شیطان کو خدا کے مقابل ایک طاقتور مخلوق کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جو انسان کو راہِ حق سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر فلسفہ اور ادب کی دنیا میں اس تصور پر گہرے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ فریڈرک نطشے، جو 19ویں صدی کے ایک مشہور جرمن فلسفی تھے، "خدا کی موت” کے اعلان کے ساتھ ساتھ تمام روایتی اخلاقیات اور مذہبی تصورات پر سوال اٹھاتے ہیں۔ ان کے نزدیک انسان کو اپنی اندرونی قوت (Will to Power) کے ذریعے زندگی کے معنی خود تخلیق کرنے چاہییں۔ نطشے کے مطابق: "شیطان کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ ہم نے اپنی خواہشات کو بیرونی قوتوں پر تھوپ دیا۔” نطشے کے خیالات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ "شیطان” محض ایک علامت ہے — ایک ایسا تصور جس کے ذریعے ہم اپنے اندر کی برائیوں سے آنکھیں چراتے ہیں۔ ہم اپنے اعمال کی ذمہ داری خود لینے کے بجائے ایک "دوسری ہستی” پر ڈال دیتے ہیں۔

فرانز کافکا، جو بیسویں صدی کے ایک عظیم ادیب تھے، اپنے افسانوں اور ناولوں میں اکثر ایسی دنیا دکھاتے ہیں جو غیر واضح، پُراسرار، اور انسان کے خلاف کام کرتی ہے۔ ان کے ہاں "شیطان” کسی خارجی طاقت کی بجائے ایک داخلی اضطراب، جرم، اور ندامت کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ کافکا لکھتے ہیں: "ہم سب اپنے ہی شیطانوں کے قیدی ہیں، جنہیں ہم نے خود اپنے دل و دماغ میں جگہ دی ہے۔” کافکا کے مطابق، انسان اپنی ناکامیوں، پچھتاووں، اور خوف کو ایک خیالی دشمن کی شکل دے دیتا ہے — اور وہ دشمن "شیطان” بن جاتا ہے۔

نفسیات کی دنیا میں بھی اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ انسان اکثر اپنی غلطیوں کا الزام دوسروں پر ڈالنے کے لیے خارجی کردار تراشتا ہے۔ شیطان، اس تناظر میں، ہمارے نفس کی ایک توجیہ بن جاتا ہے۔ جب ہم کہتے ہیں "شیطان نے بہکایا” تو ہم دراصل اپنے عمل کی ذمہ داری لینے سے بچ رہے ہوتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے: کیا برائی واقعی کوئی بیرونی قوت ہے، یا ہم خود اس کے خالق ہیں؟

تاریخ میں جب بھی انسان نے اپنے آپ کو کمزور، بے بس یا مجرم محسوس کیا، اس نے اس کیفیت کی وضاحت کے لیے ایک کردار تخلیق کیا — شیطان۔ یہ کردار ہمیں ایک آسان راستہ دیتا ہے: ہم خود کو معصوم ظاہر کر سکتے ہیں، اور تمام برائیوں کی جڑ کو ایک الگ مخلوق میں سمو سکتے ہیں۔ لیکن نطشے، کافکا، اور دیگر مفکرین ہمیں یہی سکھاتے ہیں کہ اصل آزادی تب ملتی ہے جب ہم اپنے اعمال کی مکمل ذمہ داری لیتے ہیں — جب ہم مان لیتے ہیں کہ برائی ہم سے جنم لیتی ہے، نہ کہ باہر سے ہم پر حملہ کرتی ہے۔

شیطان ایک علامت ہے — ہمارے اندر کے وسوسوں، کمزوریوں، اور اخلاقی تضادات کی علامت۔ نطشے اور کافکا ہمیں یہی سکھاتے ہیں کہ اگر ہم واقعی آزاد انسان بننا چاہتے ہیں، تو ہمیں خود سے سچ بولنا ہوگا، اور اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرنا ہوگا۔ ہو سکتا ہے شیطان ایک خیالی وجود ہو — لیکن اس کے ذریعے ہم اپنے ضمیر سے بات کرتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ "شیطان ہے یا نہیں؟” سوال یہ ہے کہ "ہم اپنی برائیوں کی ذمہ داری لینے کے لیے کب تیار ہوں گے؟”

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے