گزشتہ سے پیوستہ: اس مضمون کے پہلے حصے میں ہم نے ثابت کیا تھا کہ موجودہ معاشرتی بگاڑ کی بنیادی وجہ بے جان اور بے حس مادے کی امامت ہے۔ مادہ بنیادی طور پر تو بے حس اور بے جان ہے مگر جب اسے امامت ملتی ہے تو یہی بے جان اور بے حس مادہ پھر جس طرح بگاڑ کو عروج تک پہنچاتا ہے وہ مادے ہی کا حصہ ہے اور اس حوالے سے بگاڑ پیدا کرنے میں اس کا کوئی ثانی نہیں۔ اس بات کو مزید واضح کرنے کے لیے کہ انسانوں نے مادے کو اپنا امام بنا دیا ہے، ایک مثال سے وضاحت کرتے ہیں۔
مثلاً زید اور بکر قریب قریب رہتے ہیں۔ ایک دن زید کے گھر یہ خبر آگئی کہ بکر نے اپنے والدین کو آج بڑے بے دردی سے مارا پیٹا ہے اور انہیں ہر قسم کی گالی بھی دی ہے۔ یہ خبر جب زید کے گھر پہنچی تو سب نے کہا کہ: "جی یہ تو بہت برا ہوا” اور پھر ہاتھ دھو کر کھانا کھانے بیٹھ گئے۔ جب رات ہوئی تو خراٹوں کی نیند کے مزے لے کر سو گئے۔
اب بالفرض اگر اس خبر کے بجائے زید کے گھر یہ اطلاع آتی کہ بکر نے آج پانچ کروڑ کا پلاٹ اسلام آباد میں خریدا ہے، پشاور میں ایک مارکیٹ کا افتتاح کیا ہے اور ساتھ ساتھ ان کے گھر کے دو طالب علموں کو امریکہ میں پڑھنے کے لیے اسکالرشپ ملا ہے تو زید کے گھر میں یہ خبر کیا کیفیات پیدا کرے گی، اس کا اندازہ قارئین خود لگائیں۔ حسد نہ بھی ہو، مگر زید کے اہل و عیال کے دلوں میں رشک ضرور پیدا ہوگا۔ میرے خیال میں ہم سب فرداً فرداً اس قسم کی صورتِ حال میں دل کے اندر پیدا ہونے والے حسد یا رشک کے جذبات کو اچھی طرح محسوس کر سکتے ہیں کیونکہ ہم سب ایک ہی ماحول کے متاثرین ہیں۔ البتہ کوئی متاثر ہونے کا اقرار کرتا ہے اور کوئی مصنوعیت سے بھرپور انکار کرتا ہے مگر ہمارے ماننے یا نہ ماننے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ حقیقت حقیقت ہی ہوتی ہے۔ اس کے وجود کے لیے زبان کا اقرار یا انکار بے معنی ہوتا ہے۔ البتہ جس چیز کی بنیاد پر اس حقیقت نے نشوونما پا کر اپنا ایک توانا وجود بنایا ہے، اگر وہی چیز اس کا انکار کرے تو وہ انکار معنی خیز ہوگا اور وہ انکار مادہ پرستانہ رویے کا ہوگا۔ یعنی عملی زندگی سے معلوم ہو جائے کہ اب فلاں نے مادہ پرستی کے رویے کو خیرباد کہا ہے۔
بہرحال بات دلوں میں مادے کی اہمیت کی ہو رہی ہے۔ مادے کی اسی اہمیت کی بنا پر زید کے گھر میں بکر کی مادی ترقی کی خبر اتنی شدید ہوگی کہ گھر کے اندر لوگ آپس میں لڑ پڑیں گے، ایک دوسرے کو نالائق کہیں گے کہ "وہ کہاں پہنچ گئے اور تم کہاں ہو۔” رات کو شاید ہی کسی کے دل کو کھانا لگے، سوتے وقت بکر جیسا بننے اور مال کمانے کے منصوبے میں معمول کے اذکار بھی بھول جائیں گے اور انہی پریشان خیالات کی وجہ سے کئی خواب بھی آئیں گے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہاں کس چیز کو اہم مانا جا رہا ہے، کس چیز کو اہمیت دی جا رہی ہے اور کس چیز کو ماحول سے بننے والے نفسیاتی عوامل زندگی کی ترجیحات میں اوّل رکھا جا رہا ہے۔ یہاں واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے کہ مادے کو فوقیت دی جا رہی ہے جبکہ جس واقعے کا تعلق اخلاقیات سے ہے اسے محض ڈسکشن کی حد تک لیا جاتا ہے۔ دیکھا جائے تو یہاں صاف دکھائی دیتا ہے کہ مادیت سے تعلق رکھنے والی خبر نے بے چینی اور اضطراب پیدا کیا، یعنی مادیت کو اخلاقیات پر فوقیت دی گئی۔ اور جس چیز کو اہمیت دی جاتی ہے تو ہم کہتے ہیں کہ اسے لوگ پہلی پوزیشن اور مقام پر کھڑا کرتے ہیں، باآلفاظِ دیگر اسے آگے کرنا کہتے ہیں اور آگے امام ہوتا ہے۔ پس مادہ امام بنا اور اخلاقیات اس کی تعبیر و تشریح کے محتاج بن گئے۔
اب آتے ہیں انقلاب کی طرف جس کا ذکر پہلے کیا گیا کہ ایسے معاشروں میں حالات بدلنے کے لیے انقلاب کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انقلاب کے لیے مطلوبہ صلاحیت ہمارے پاس کیا ہے تاکہ ہم اسے انقلاب کے لیے استعمال کر سکیں؟ ظاہر ہے کہ اقتدار اور وہ مطلوبہ طاقت تو ہمارے پاس نہیں ہے جس کے ذریعے انقلاب برپا کیا جا سکے۔ اس نکتے کو سمجھنے کے لیے ہم سیرتِ پاک کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
سیرتِ پاک کی روشنی میں ہمیں ایسے حالات دیکھنے ہوں گے جب مسلمانوں کے پاس اقتدار نہیں تھا جبکہ ان کے ماحول میں اردگرد درندگی پھیلی ہوئی تھی۔ اس قسم کے حالات ہمیں مکی دور میں ملتے ہیں۔ اب ہمیں ان رویوں اور کردار کو دیکھنا ہوگا جن کی بدولت مسلمانوں نے مکہ کے اندھیروں کو اجالے میں بدل دیا۔
ان رویوں پر اجمالی نظر ڈالنے سے جو چیز سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ مادہ پرستانہ ماحول میں تبدیلی لانے کے لیے ضروری ہے کہ خود مصلحین اس کے ساتھ ایسا رویہ رکھیں جو مادیت کے منفی اثرات سے بالکل پاک ہو۔ لوگوں نے مادیت کو جو غیر معمولی اہمیت دی ہو، ان کے مقابلے میں مصلحین مادے کی بے ثباتی کو اپنے کردار سے ثابت کریں۔ اس مکی دور میں مسلمان ظالم کا ہاتھ تو روک نہ سکے مگر اپنے ہاتھ قربان کر دیے۔ مروجہ تہذیب بدلنے کی پوزیشن میں تو نہ تھے مگر اپنی تہذیب اپنا کر لوگوں کے مذاق کو خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کیا۔ ظالموں کو تو فوری اقتدار سے بے دخل نہ کر سکے مگر اپنی آواز سے اس کا باطل ہونا لوگوں پر واضح کیا۔ اس وضاحت کے دوران مسلمانوں کو جانوں کی قربانی دینی پڑی۔ مادہ پرستانہ رویوں کا فوری قلع قمع کرنے سے تو قاصر رہے مگر خود انہوں نے مادیت کو ٹھکرا کر عملاً مادے کے اصل مقام کو لوگوں پر واضح کیا۔ مسلمان چال جیتنے کی پوزیشن میں تو نہ تھے کیونکہ وہ اس جیت کے لیے مطلوبہ وسائل سے محروم تھے مگر چال کو پلٹنے کے لیے جان کی بازی لگائی۔ وہ نامعقولیت اور جاہلیت کا فوری علاج کرنے سے تو قاصر تھے مگر اپنے پورے تحریکی دور میں مسلمانوں نے اپنی متانت اور سنجیدگی کو کسی بھی موقع پر کمپرومائز نہیں کیا۔
وحشت، ظلم، ضد، انا پرستی، قوم پرستی، خاندان پرستی، شہوت پرستی، جھوٹ، فریب اور پروپیگنڈا کی بنیاد پر بیانیے بنانے والے ماحول میں بھی انہوں نے دلیل سے بات کی، علم کا دامن پکڑے رکھا، حکمت، اخلاص اور بصیرت سے کام لیا۔ ان کا مقابلہ ضد، انا پرستی اور ذاتی اغراض و مقاصد کے لیے نہیں تھا اگرچہ اس ماحول میں ضد، انا پرستی، خود پسندی اور ردِ عمل کے رویوں کا عام رواج تھا۔ انہوں نے اپنے بدترین دشمن پر بھی جب غلبہ حاصل کیا تو اسے معاف کیا، اگرچہ اس دور کا سارا لٹریچر ہی انتقامی رویوں کے ہیجان سے بھرا پڑا تھا۔ کسی نے اگر صلح کا پیغام انہیں بھیجا تو انہوں نے آگے بڑھ کر اس کا خیر مقدم کیا۔ اس پوری تحریک میں مجموعی طور پر جہاں حکمت و بصیرت کی ضرورت تھی وہاں حکمت و بصیرت دکھائی۔ اگر کہیں ٹھنڈا رویہ حکمت کا تقاضا ہوتا تو اسی کا مظاہرہ کرتے، اگر کہیں حکمت کا تقاضا جذباتیت ہوتا تو اس میں بھی کبھی پیچھے نہ رہے۔ ان کے مقابلے میں لوگوں نے خفیہ سازشیں کیں مگر ان کی خفیہ مجالس انہی لوگوں کی خیر خواہی پر مبنی ہوتیں۔ زیادہ سے زیادہ اگر وہ مخالف سازشی کے خلاف کوئی بات کرتے بھی تو وہ ان کے شر کو دفع کرنے کے لیے ہوتی۔
ان کا تعلق اگرچہ خاندانوں اور قبیلوں میں منقسم معاشرے سے تھا مگر وہ کبھی تقسیم نہ ہوئے بلکہ منظم رہے۔ ایسے منظم رہے کہ بنیان مرصوص کا مصداق بن گئے۔ اس گروہ کے افراد نے کبھی کسی سنگین حالت میں بھی اپنی تحریک سے بے وفائی نہیں کی۔ ان میں جو فرد کسی کام کا اہل ہوتا اسے وہی کام سپرد کیا جاتا اور باقی لوگ اس کے معاون و مددگار بنتے۔ ان کی صفیں اتنی پاک اور منظم تھیں کہ اگر کوئی غیر کسی بدنیتی کے ساتھ ان میں شامل ہو بھی جاتا تو ان کی پاکیزگی، باہم محبت اور تنظیم کی قوت اسے اپنے دائرے سے باہر پھینک دیتی۔ سرداری اور چودھراہٹ کے خوگر معاشرے میں بھی انہوں نے ان چیزوں سے اپنے دامن کو بچائے رکھا۔
الغرض مکی دور میں مسلمانوں نے حضور پاک ﷺ کی رہنمائی میں جو انقلاب برپا کیا تھا اس کے خدوخال سے معلوم ہوتا ہے کہ انقلاب کے اس سفر میں انہوں نے ایثار، مروّت، باہمی محبت، بہادری، استقامت، حکمت و بصیرت، سرفروشی، اخلاص، معقولیت، سنجیدگی، اطاعت، نظم و ضبط، صبر، بے لوثی، علم، خدا پر توکل، وفاداری اور کردار کی پاکیزگی کا رویہ اپنایا ہوا تھا۔
انقلاب کے اس سفر پر اگر نگاہ ڈالی جائے اور اس وقت کے حالات کو مدنظر رکھ کر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آج کے دور کا بھی وہی منظر ہے، وہی منفی انسانی نفسیات ہیں، وہی ضد، انانیت، مفاد پرستی، پارٹی پرستی جو قبیلہ پرستی کا جدید نام ہے، وہی چند لوگوں کی چودھراہٹ ہے، انسانی جان اسی طرح بے قیمت ہے، وہی لاقانونیت ہے، وہی لاٹھی والے کے نام بھینس الاٹ کی جاتی ہے، اسی طرح بے گناہ خون بہایا جا رہا ہے۔ اگر کوئی فرق ہے بھی تو وہ ناجائز قتلوں کی تعداد میں آبادی کے اضافے کی وجہ سے ہے، نسبت میں شاید اتنا بڑا فرق نہ ہو۔ وہاں بھی جہالت تھی، لوگوں کو اہلِ علم (جیسے یہود و نصاریٰ) دھوکہ دیتے اور ان کی باتوں کو اندھا دھند مانا جاتا تھا، آج بھی وہی رویہ ہے۔ عام لوگوں کو مختلف گروہوں میں موجود ایلیٹ کلاس دھوکہ دے رہی ہے۔ ایلیٹ کلاس عام لوگوں کے سامنے شیخ چلی کا پلاؤ رکھتے ہیں اور لوگ اسی خیالی پلاؤ پر مر مٹتے ہیں۔ چونکہ ہمارے موجودہ حالات اور مکہ کے حالات میں تقریباً مماثلت ہے، اس لیے یہاں بھی انقلاب کے لیے اسی طریقۂ کار کو اپلائی کیا جائے گا جو مکہ میں اس قسم کے حالات میں نبی پاک ﷺ نے حالات کی تبدیلی کے لیے اپلائی کیا تھا۔ انقلاب کا یہ راستہ اگرچہ دشوار گزار اور صبر آزما ہے مگر نتائج کے اعتبار سے یقینی ہے۔
مگر اس کام کے لیے ہمارے موجودہ ضدی، ہٹ دھرم، نامعقول، انا پرست، خود غرض، نفس پرست، قوم پرست، خود پسند، سیاسی رہنما قطعی طور پر موزوں نہیں ہیں۔ یہ چونکہ ایک عظیم کام ہے اور عظیم کاموں کو سرانجام دینے کے لیے عظیم لوگ چاہییں ہوتے ہیں جبکہ ضد، انا پرستی، خود غرضی، خود پسندی اور غیر سنجیدگی جیسے اوصاف میں مبتلا لوگ عظیم نہیں ہو سکتے۔ اس لیے ہمیں قیادت کو بھی دیکھ کر منتخب اور اپنا بنانا ہوگا۔ درست قیادت کے انتخاب کے لیے ہمیں جذباتیت کے دلدل سے نکلنا ہوگا۔ ہمیں قیادت کے انتخاب میں لیڈر کا جائزہ علمی بنیادوں پر لینا ہوگا۔ ہمیں مزید محض تقریروں سے متاثر ہونا چھوڑنا ہوگا۔ مطلوبہ قیادت کے حوالے سے ان شاءاللہ کبھی تفصیلی بات کریں گے، یہاں اس حوالے سے مختصراً یہ عرض کرتا چلوں کہ موجودہ حالات ایک عظیم انقلاب کے متقاضی ہیں اور عظیم قیادت کے انتظار میں ہیں جبکہ ہمارے پاس میدان میں ان خصوصیات کی حامل قیادت کبھی ڈرائیونگ سیٹ پر نہیں رہی۔
قیادت کے حوالے سے ایک اور اہم رویہ ہمیں یہ اپنانا ہوگا کہ جب ہمیں علم، منطق، لاجک اور عملی میدان میں کسی لیڈر کا لیڈر ہونا معلوم ہو جائے اور اس کا ساتھ دینا شروع کریں تو اس کے بعد بھی اس کی کارکردگی اور رویے کا جائزہ لیتے رہنا ہوگا۔ اگر کبھی وہ غلط رخ اختیار کرے تو اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر ہماری کوشش کے باوجود وہ اپنی کارکردگی اور رویے پر نظرثانی نہیں کرتا اور اس کا وہ رویہ عام انسانوں کے لیے تکلیف کا ذریعہ بن رہا ہو تو اس وقت ہمیں شخصیت پرستی سے نکل کر خدا پرستی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور خدا پرستی کا تقاضا یہ ہے کہ ایسی قیادت کو مزید اپنی سپورٹ نہ دی جائے۔ اسی طرح اگر ہم میں سے کوئی کسی کی قیادت سے مطمئن ہو چکا ہو اور وہ اس کا ساتھ دے رہا ہو تو اس سفر کے دوران وہ اپنے لیڈر کے ناقدین اور تعریف کرنے والوں دونوں کو سنتا رہے اور اپنے لیڈر کے حوالے سے جو بات علمی اور منطقی لحاظ سے حق معلوم ہو اسے لے اور جس بات کا باطل ہونا علمی اور منطقی طور پر واضح ہو جائے اسے رد کرے۔
اب دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انقلاب کے لیے مطلوبہ افراد کہاں سے مل سکتے ہیں؟ کس طبقے سے ہو سکتے ہیں؟ وہ کون لوگ ہو سکتے ہیں جو اس کام کے لیے شعوری طور پر اپنے آپ کو پیش کر سکتے ہیں؟ وہ کون ہو سکتا ہے جو ایثار کے اس بلند ترین مقام تک سفر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو؟ وہ کون ہو سکتے ہیں جو پارٹی، شخصیت، ذات اور قوم وغیرہ سے بالاتر ہو کر خالص علمی بنیادوں پر قیادت کا انتخاب کر سکتے ہیں؟ وہ کون ہو سکتا ہے جو کسی کی قیادت کو قبول کرنے کے بعد بھی اسے اس کے غلط رویے پر چھوڑ سکتا ہے؟
اس حوالے سے سب سے پہلے اس غلط فہمی کا ذکر کرنا ضروری ہے جو عام لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ وہ غلط فہمی یہ ہے کہ جب اس قسم کی جدوجہد کے لیے درکار افراد کی بات کی جاتی ہے تو عموماً جس طبقے کی طرف نگاہ اٹھتی ہے وہ مروجہ مذہبی طبقہ ہے، مگر مجھے ایسا نہیں لگتا بلکہ میں اسے غلط فہمی یا خوش فہمی کہتا ہوں اور وہ اس بنیاد پر کہ ہمارے ہاں اکثریت اس طبقے کی وہ ہے جنہیں آج تک یہ معلوم نہ ہو سکا کہ کفر کیا ہے اور اسلام کیا ہے، کفر سے اختلاف اور دوسرے مسلک سے اختلاف میں کیا فرق ہے، کسی کے پیچھے نماز ہونے اور نہ ہونے کا معیار اسلامی تعلیمات ہیں یا اپنا مسلک، کسی کی طرف کفر کی نسبت کرنا کن بنیادوں پر درست ہوتا ہے۔ یہ جو کچھ عرض کیا جا رہا ہے، یہ معروضی حقائق کی بنیاد پر عرض کیا جا رہا ہے۔ ان دل خراش، غیر سنجیدہ، مسلک پرستی اور امت کو تقسیم کرنے والے رویوں کے ہم سب گواہ ہیں۔ اب دیکھیں کہ کیا اس قسم کے رویوں کے حاملین کسی انقلاب کے برپا کرنے کے اہل ہو سکتے ہیں؟
اس کے لیے ہم ان کے رویوں کی ممکنہ بنیادوں کو دیکھتے ہیں۔ ان کا یہ رویہ یا تو کم علمی پر مبنی ہے، یا تنگ نظری اور مسلک پرستی پر، یا پھر اپنی سماجی حیثیت کی وجہ سے انہوں نے یہ رویہ اختیار کیا ہے کہ اس مقام پر کوئی خراش نہ آئے، اپنے حلقے میں میرے مقام پر کوئی حرف نہ آئے۔ اگر ان رویوں کی وجہ کم علمی ہے تو یہ اس بات کا بین اور واضح ثبوت ہے کہ یہ بندہ غیر ذمہ دار ہے، کیونکہ جس بندے کو سالوں قرآن و سنت سے وابستگی کے باوجود اتنی بنیادی چیزوں کا علم نہ ہوسکا کہ کفر کیا ہے، اسلام کیا ہے، اختلاف کی اقسام کیا ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنے علمی سفر کے دوران بالکل وقت ضائع کیا ہے، غفلت برتی ہے۔ اور جو بندہ اپنے ذمہ کام کے حوالے سے غفلت برتا ہے اسے غیر ذمہ دار کہتے ہیں اور غیر ذمہ دار لوگ قطعی طور پر اس قسم کے انقلابات برپا کرنے کی صلاحیت سے عاری ہوتے ہیں۔
اور اگر دوسری وجہ ہو یعنی تنگ نظری کی وجہ سے اس نے یہ رویہ اختیار کیا ہو کہ کفر کو کفر اور حق کو حق نہیں کہتا تو ایسا شخص بدنیت ہے۔ وہ اسلام سے زیادہ انسان کا وفادار ہے جبکہ اس قسم کے کٹھن مراحل کو عبور کرنا بدنیت لوگوں کے بس کی بات نہیں، یہ کام محض خدا کے وفادار بندے ہی کر سکتے ہیں، یہ مخلصین کا کام ہے۔
اور اگر اس رویے کے پیچھے اپنا سماجی مقام برقرار رکھنا ہو تو اس رویے کے حاملین بھی اس قسم کے انقلاب کے لیے موزوں افراد نہیں بن سکتے، کیونکہ جو اپنی سماجی حیثیت کو کھونے کے ڈر سے حق بات نہیں کر سکتا، اس سے اتنی قربانی نہیں ہوتی! تو وہ جان، مال، اولاد، گھر وغیرہ جیسی چیزوں کی قربانی کے لیے کیسے آمادہ ہوسکتا ہے۔ لہٰذا جو لوگ یہ کام کرنا چاہتے ہوں وہ اپنے ساتھیوں کی تلاش میں کیمپوں کے ناموں سے غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔
لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اس مذہبی کیمپ میں کوئی بھی نہیں، اس کیمپ میں ہیرے موجود ہیں مگر ان کو تلاش کرنا ہوگا۔ وہ شاید کسی وجہ سے آنکھوں کے سامنے موجود نہ ہوں مگر تلاش سے مل سکتے ہیں۔ اور اگر اس کیمپ سے مطلوبہ کام اور انقلاب کے لیے کچھ لوگ مل جاتے ہیں تو وہ پھر ایک لوہار کی اور سو سنار کے مصداق ثابت ہوں گے۔ وہ پھر شاید اس کام کے اولین داعیوں کو بھی قربانیوں میں مات دے جائیں۔
اسی طرح دوسرے جگہوں سے بھی ایسے لوگ مل سکتے ہیں۔ البتہ یہ بات میں اپنے مشاہدے کی بنیاد پر کہتا ہوں کہ اس قسم کے انقلاب کے لیے مطلوبہ افراد سب سے زیادہ تعداد میں جس جگہ سے ملنے کی امید کی جا سکتی ہے وہ جماعت اسلامی ہے اور میرے نزدیک اس کام کا آغاز بھی انہیں کو کرنا چاہیے۔ یہ کام کرنا تو ویسے بھی ہے مگر وقت پر کیا جائے، ابھی بھی ہم بہت لیٹ ہو چکے ہیں۔
مگر اس غلط فہمی میں بھی نہیں رہنا چاہیے کہ جماعت کے سارے ارکان مطلوبہ کام کے معیار پر اترتے ہیں۔ نہیں، بلکہ اس قسم کی دشوار گزار تحریک کو شروع کرتے ہی ان میں سے بعض لوگ تو غزوۂ خندق کی طرح بالکل کھل کر جماعت کے پلیٹ فارم کو خیر باد کہہ دیں گے اور کچھ حالات کو دیکھ کر غزوۂ خندق کی طرح گھروں کی حفاظت کے بہانے عین میدان ہی سے واپس چلے جائیں گے۔
اس لیے میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ جماعت کو ایسے لوگوں کو اپنے ورکنگ فیلڈ سے باہر رکھنا چاہیے۔ اس قسم کے لوگوں کو محض جمہوری گنتی کی کیٹیگری میں رکھنا چاہیے۔ فیلڈ سے باہر رکھنے کے لیے میرے خیال میں یہی بنیاد ہونی چاہیے کہ اس کی عملی زندگی کیسی ہے؟ وہ حلال و حرام میں تمیز کرتا ہے یا نہیں، فرائض کی ادائیگی میں کس حد تک مستعد ہے، حقوق العباد کے حوالے سے کیسا ہے۔ اگر ان چیزوں میں کسی کی شخصیت میں کمزوری پائی جائے تو انہیں ورکنگ فیلڈ سے باہر رکھنا چاہیے۔
جماعت کے حوالے سے میری اس رائے کی بنیاد یہ دلیل ہے کہ جماعت کی اکثریت اس قسم کے انقلابات کے لیے مطلوبہ قربانیوں کے بارے میں نظریاتی طور پر یکسو ہے اور ہمیں عملی دنیا میں ان کے فکر سے وابستہ افراد کی قربانیاں بھی نظر آتی ہیں، مثلاً مصر، بنگلہ دیش، فلسطین۔ اسی ملک کے اندر بھی یہ لوگ اپنی ایک جاندار تاریخ رکھتے ہیں، انہیں اگر کوئی عہدہ ملا تو اسے ایمانداری سے پورا کیا۔ ان کا پورا لٹریچر اس قسم کے انقلابوں کے لیے مطلوبہ افراد کی تیاری سے بھرا ہوا ہے۔
اسی طرح اور جگہوں سے بھی مطلوبہ افراد کو تلاش کرنا ہوگا جیسے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے بلال کو حبشہ میں پایا، صہیب کو روم میں پایا اور اپنے گھر میں چچا ابو لہب کو مطلوبہ اہلیت نہ ہونے کی وجہ سے چھوڑ دیا۔ اس کام کی ابتداء کرنے والوں کے لیے لازم ہوگا کہ وہ اپنے کیمپ میں موجود چچا، ہم جماعت، پیر بھائی کو چھوڑ کر کسی دوسرے مسلک سے صہیب و بلال کا انتخاب کریں۔
یہاں تک تو انقلاب کے طریقہ کار اور اس کے لیے رجال کار کا ذکر تھا۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ جب یہ کام شروع کیا جائے تو ممکنہ طور پر کن کن آسانیوں کی امید کی جا سکتی ہے۔ اس میں پہلی بات تو یہ ہے کہ یہاں خاطر خواہ تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اندرونی لحاظ سے اس قسم کے جدوجہد کے لیے موزوں ہیں مگر ہمت نہ ہونے کی وجہ سے سکرین سے غائب ہیں۔ اس بات کی قوی امید ہے کہ جب انہیں معمولی سا حوصلہ اس قسم کی عملی جدوجہد کو دیکھ کر ملے گا تو وہ حوصلہ انہیں مہمیز کا کام دے گا اور وہ اس کام کا حصہ بننے میں دیر نہیں کریں گے بلکہ اس جدوجہد کی عملی قوت میں اپنا خاطر خواہ حصہ ڈالیں گے۔
اسی طرح تحریک کو آہستہ آہستہ افرادی قوت ملتی رہے گی اور تحریک مضبوط ہوتی چلی جائے گی۔ چونکہ ہم نے مکی طرز پر کام کرنا ہوگا اس لیے مشکلات اور ناگوار حالات کا سامنا بھی کرنا ہوگا، مگر امید ہے کہ یہ مصائب اس نوعیت کے نہیں ہوں گے اور نہ ہی ان میں اتنی شدت ہوگی جو مکہ میں تھے۔ کیونکہ جو لوگ اس انقلاب کے راستے میں سامنے آئیں گے ان میں بھی ایسے لوگ ضرور ہوں گے جو اس جدوجہد کو دل میں جگہ دیتے ہوں گے۔ وہ اگر عملاً ساتھ نہیں دے سکتے ہوں گے مگر اس جدوجہد کے کارکنوں پر صاحبِ اختیار لوگوں کے جبر کو قابل لحاظ حد تک کم کر سکتے ہیں اور کریں گے بھی۔
یہ میں اس لیے کہتا ہوں کیونکہ یہاں مسلمان رہتے ہیں، اقتدار میں ڈرائیونگ سیٹ پر نہ سہی مگر اقتدار کی گاڑی میں ڈرائیونگ سیٹ کے آس پاس اس جدوجہد کے لیے حمایتی مل جائیں گے۔ ڈرائیونگ سیٹ کے آس پاس کا طبقہ اگر کچھ بھی نہ کرے صرف اس رکاوٹی جبر میں کمی کا ذریعہ بنے جو صاحب اختیار لوگوں کی طرف سے ممکنہ طور پر انقلاب کے کارکنوں کے سامنے آ سکتی ہے تو یہ بھی بہت بڑی بات ہوگی۔
اس دوران ایک اور کام یہ کرنا ہوگا کہ تحریک نے ہم خیال اور قربانی کی صلاحیت رکھنے والے اور اس جدوجہد سے جڑنے کا ارادہ رکھنے والے اساتذہ کو فعال کرنا ہوگا اور یہی وہ بنیادی مرکز ثابت ہوگا جس نے اصل میں گیم چینجر کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ یہاں سے تسلسل کے ساتھ مطلوبہ کام کے لیے معیاری افراد تیار ہوتے رہیں گے اور اس کام کے لیے مطلوبہ افراد کے رویوں میں جس تبدیلی کی ضرورت ہوگی وہ ضرورت بھی یہیں سے پوری ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ کام کے دوران جو کمزوریاں سامنے آتی رہیں گی ان کا بھی یہیں سے ازالہ ہوتا رہے گا۔
میرے خیال میں یہی وہ پورا پروگرام ہے جس کے ذریعے موجودہ حالات میں کام کرکے حالات کا رخ بدلا جا سکتا ہے۔