مجھے دو احادیث ہمیشہ دہلا دیتی ہیں۔ ایک یہ کہ سب سے پہلے جن تین لوگوں کا فیصلہ قیامت کے دن ہوگا ان میں ایک عالم یا قاری ہوگا جسے ریاکاری کی وجہ سے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (صحیح مسلم، 1905a)۔
دوسری یہ کہ تین لوگ ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ بات کرے گا، نہ ان کی طرف نظر رحمت سے دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ ان میں ایک جھوٹا حکمران ہے۔ (ریاض الصالحین، 616 / سنن النسائی، 2575)۔
یہ دونوں احادیث “ڈرانے” کے لیے نہیں بلکہ نیت کی اصلاح اور منصب کی ذمہ داری یاد دلانے کے لیے ہیں۔ پہلی روایت صحیح مسلم میں ہے کہ سب سے پہلے حساب انہی تین کا ہوگا جنہیں دنیا میں سب سے بڑا نیک سمجھا جاتا ہے: مجاہد، قاری/عالم اور سخی۔ اللہ تعالیٰ ان سے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا، وہ مانیں گے، پھر کہیں گے ہم نے تیری راہ میں قربانی دی، جہاد کیا، علم سکھایا، قرآن پڑھایا، مال لٹایا۔ لیکن جواب ملے گا: کذبت! تم نے یہ سب اس لیے کیا کہ لوگ تمہیں بہادر، قاری یا سخی کہیں، اور دنیا نے تمہیں یہی کہہ بھی دیا۔ پھر حکم ہوگا کہ انہیں منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے۔ یعنی دین میں اصل چیز “اخلاص” ہے۔ ریاکاری اور دکھاوا سب سے بڑی بربادی ہے۔
یہ تنبیہ اس لیے بھی اہم ہے کہ جسے بھی اللہ نے دین کے کسی پہلو میں اثر یا آواز دی ہے، وہ اپنی نیت صاف رکھے۔ یہ حکم امام ہو یا مقرر، لکھاری ہو یا قاری، سب پر یکساں لاگو ہوتا ہے۔
دوسری حدیث میں جھوٹے حکمران کا ذکر ہے۔ حدیث کے الفاظ ہیں کہ جھوٹا حکمران، بوڑھا زانی اور متکبر فقیر قیامت کے دن ان لوگوں میں شامل ہوں گے جن سے اللہ نہ بات کرے گا نہ ہی ان پر رحمت کی نظر ڈالے گا۔ حکمران کے جھوٹ کی سنگینی یہ ہے کہ اس کا جھوٹ صرف ذاتی نہیں رہتا بلکہ قانون اور پالیسی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس کا فریب عوام کے مستقبل پر اثر انداز ہوتا ہے، اور اس کی بددیانتی پورے معاشرے کی تقدیر بدل دیتی ہے۔ اس لیے نبی ﷺ نے اقتدار کے طلب گاروں کو بھی منع فرمایا کہ یہ ذمہ داری ہے، انعام نہیں۔
یہ دونوں احادیث ہمیں دو بنیادی سبق دیتی ہیں۔ پہلا یہ کہ نیت کی اصلاح سب سے ضروری ہے۔ عبادت ہو یا علم، جہاد ہو یا صدقہ، اگر نیت میں دکھاوا ھے ریا ہے تو سب کچھ بیکار۔ اور دوسرا یہ کہ اقتدار کے منصب پر سچائی سب سے بڑی امانت ہے۔ جھوٹ صرف اخلاقی خرابی نہیں بلکہ اجتماعی خیانت ہے۔ اسی لیے جھوٹے حکمران کو ان تین بدقسمت لوگوں میں رکھا گیا ہے جن پر قیامت کے دن خاموش غضب نازل ہوگا۔
اگر اللہ سب سے بات کرے گا تو پھر ان تین سے نہ بات کرنے کا کیا مطلب ہے؟ شارحین نے وضاحت کی ہے کہ اس سے مراد کلامِ رضا اور کرامت نہیں ہوگا۔ یعنی اللہ تعالیٰ انہیں وہ عزت افزائی والا کلام نہیں کرے گا جو بخشش اور رحمت کی علامت ہو۔ یوں یہ بات تحقیر اور غضب کے مفہوم میں ہے۔
پہلی حدیث ہم پر واضح کرتی ہے کہ دین کوئی ڈسپلے نہیں ہے۔ دکھاوے کے لیے کی گئیں ریاکار نیکیاں سب سے پہلے انسان کو آگ میں دھکیلتی ہیں۔ اور دوسری حدیث بتاتی ہے کہ جب اقتدار سچائی سے خالی ہو جائے تو وہ محض طاقتِ شر رہ جاتی ہے۔ ہمارے لیے قول میں سچائی اور عمل میں اخلاص کے سوا کوئی راستہ نھیں ھے۔ جس کے پاس بھی علم، اثر یا اختیار ہے وہ خود کو روزانہ اسی ترازو میں تولے۔
اللہ ہمیں اخلاص اور سچائی نصیب فرمائے اور اس دن کے شر سے بچائے جب ریاکار کارنامے اور جھوٹی سیاست انسان کو منہ کے بل گھسیٹتی ہوئی جہنم کے دہانے تک لے جائیں گی۔ آمین
جھوٹے حکمران کے بارے میں یہ وعید پڑھ کر میرا دل شکرانے سے بھر جاتا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے ملک میں کبھی ایسا نہیں ہوا۔ یہاں اقتدار میں آنے والے، جانے والے اور موجودہ سب کے سب ہمیشہ سچائی کے ستون پر کھڑے رہے۔ انہوں نے کبھی کوئی ایسا وعدہ نہیں کیا جس کو بعد میں “جوشِ خطابت” یا “الیکشن مہم کا تقاضا” کہہ کر مکرنا پڑا ھو۔ جو بات زبان سے نکالی، اسے پتھر پر لکیر کی طرح پورا کر کے دکھایا۔ ان کے الفاظ اور عمل میں کبھی تضاد نہیں آیا۔ سچائی سے ان کا گہرا رشتہ اور جھوٹ سے ان کی نفرت اور بیزاری تو مجھ پر رقت طاری کردی ھے۔ ایسے سچے ایسے فرشتے حکمران فی زمانہ روئے زمین پر موجود ممالک میں ہمارے ملک کے لیے سب سے بڑے اعزازات میں سے ایک ہیں۔ سچائی ان کی شناخت ھے پہچان ھے ٹریڈ مارک ہے ۔