ریاست ہائے متحدہ امریکا: واحد سپر پاور کے بارے میں ایک دلچسپ اور جامع مطالعہ

امریکا اپنی حیثیت (سپر پاور)، سیاست، معیشت، تہذیب و ثقافت، زبان و ادب، تاریخ و مذہب، صنعت و حرفت، سائنس و ٹیکنالوجی میں ناقابلِ تصور ترقی، ڈالر کی مرکزیت، امن و جنگ کے معاملات میں بڑے پیمانے پر مداخلت اور عالمی و دفاعی عزائم کی بدولت دنیا بھر میں سب سے زیادہ زیر بحث اور زیر غور آنے والا ملک ہے۔ سیاست، صحافت، دفاع اور سائنس و ٹیکنالوجی سمیت بے شمار حوالوں سے بلاشبہ موجودہ دنیا میں آمریکا کا بول بالا ہے۔

ہر فرد زیادہ تر اپنے ملک کے بارے میں بولتا ہے یا پھر امریکا کے بارے میں۔ مجھے ضلع دیر کے ایک مقامی سیاستدان کی بات بڑی عجیب لگی موصوف نے بشمول امریکا بہت سارے ممالک کے دورے کیے ہیں انہوں نے ایک بار کہا تھا کہ "میری نظر میں آمریکا حقیقی دنیا ہے جبکہ دوسرے ممالک نقلی دنیا”۔ یہ ایک ایسا خیال ہے جس کو آپ محض کسی ایک فرد کی سوچ قرار دے کر رد نہیں کر سکتے۔ اس خیال کے پشت پر یقیناً بے شمار مشاہدات، تجربات اور احساسات کار فرما ہوں گے۔

بحر اوقیانوس ہمیشہ سے میرے لیے دلچسپی کا حامل رہا ہے کیونکہ اس کے دونوں اطراف دنیا کی خوشحال اور طاقتور اقوام آباد ہیں یعنی امریکی اور یورپی اقوام۔ میں نے ان ذرائع پر کافی غور و خوض کیا ہے جن ذرائع سے امریکا نے طاقت اور ترقی کشید کیا ہے۔ میں علی وجہ البصیرت کہتا ہوں کہ امریکی طاقت اور ترقی کی بنیادوں میں دراصل علم کار فرما ہے۔ پہلی چیز علم ہے باقی چیزیں بعد میں ہیں۔ معروف کالم نگار اور ٹی وی میزبان آفتاب اقبال جو حصول تعلیم کے سلسلے میں کچھ عرصہ امریکا میں مقیم رہا ہے نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ "میں نے تعلیم کے حصول میں واقعی مشقت امریکا جا کر کی ہے۔ تعلیمی عمل امریکا میں بے حد مشقت طلب کام ہے”۔ یہ حقیقت ہے آمریکا میں تعلیمی عمل محض "کتابی” نہیں بلکہ ہر طرح سے "تجرباتی” ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں تعلیم کا بیڑا دراصل "لکیر کے فقیر” اور "رٹہ سسٹم” نے غرق کر کے رکھ دیا ہے۔ لوگوں کو تعلیم سے زیادہ دلچسپی ڈگریوں کے حصول سے ہوتی ہے۔

آئیے امریکا کے جغرافیائی، سیاسی، سماجی، مذہبی تنوع اور بین الاقوامی اثرات سمیت کچھ چیزوں کا طائرانہ سا تذکرہ کرتے ہیں!

ریاست ہائے متحدہ امریکا، رقبے کے اعتبار سے شمالی آمریکا کا دوسرا اور دنیا بھر کا تیسرا بڑا ملک ہے۔ آمریکہ 96 لاکھ مربع کلومیٹر رقبے اور پینتیس کروڑ سے زائد نفوس کا احاطہ کرنے والا دنیا کا آہم ترین اور طاقتور ترین ملک ہے۔ نسلی، مذہبی اور ثقافتی تنوع میں بھی آمریکا کا مقابلہ مشکل ہے۔ نسلی طور پر چند برس قبل کے اعداد و شمار کے مطابق آمریکا میں پچھہتر فیصد آمریکی گورے، پندرہ فیصد افریقی، چھ فیصد ایشیائی اور باقی چار فیصد دیگر نسلوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

مذہبی اعتبار سے بات کریں تو تریہتر فیصد عیسائی، اٹھارہ فیصد ملحد، چار فیصد مخصوص مقامی عقائد والے، دو فیصد یہودی اور ایک فیصد مسلمان ہیں۔ امریکا دنیا کے ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں مذہبی تنوع سب سے زیادہ ہے۔ امریکا میں اگر چہ سب سے بڑا مذہب رومن کیتھولک ہے لیکن اکثر مذاہب کے پیروکار وہاں نہ صرف موجود ہیں بلکہ پوری آزادی سے اپنے مذہبی تعلیمات پر عمل بھی کر سکتے ہیں۔ مذہبی آزادی بنیادی امریکی اقدار میں شامل ہے یہی وجہ ہے کہ آمریکا خاص طور پر کسی ایک مذہب کی سرکاری سرپرستی نہیں کر رہا۔

قوموں کے عروج و زوال میں تاریخ کو خاص اہمیت حاصل ہے یہ وقت کی گردش ہی ہے جو قوموں کے ہاں اتار چڑھاؤ کے عمل کو تھامے ہوئے ہے لیکن خاص بات یہ ہے کہ اس عمل کے کچھ محرکات تو انسانوں کو سمجھ آتی ہیں لیکن کچھ نہیں بھی آتی کیونکہ یہ ایک نہایت پیچیدہ عمل ہے اسی تسلسل کے نتیجے میں آمریکا کے فوجی، معاشی، ثقافتی، سیاسی، دفاعی اور سائنسی اثر و رسوخ میں انیسویں اور بیسویں صدی کے دوران حیران کن اضافہ ہوا ہے۔ روس کے زوال کے بعد جب سرد جنگ اپنے اختتام کو پہنچی تو امریکا دنیا کی واحد عالمی طاقت کے طور پر نمایاں ہوا۔

امریکا پچاس ریاستوں کا مجموعہ ہے۔ اڑتالیس ریاستیں باہم جڑی ہوئی ہیں جبکہ دو الگ تھلگ ہیں۔ ایک الاسکا دوم ہوائی۔ الاسکا شمال مشرق کے آخری کونے پر واقع ہے اور ریاست ہوائی سمندر میں ایک جزیرے کی صورت میں موجود ہے۔ آمریکا کے شمال میں کینیڈا، مشرق میں بحر اوقیانوس، جنوب میں میکسیکو اور مغرب میں بحر الکاہل واقع ہے۔ قدرت نے فطری طور پر بھی آمریکا کو خوب نوازا ہے یہاں فطری حسن کے تمام عناصر بدرجہ اتم موجود ہیں۔ صحت مند اور خوبصورت انسان، ٹھنڈک مائل موسم، نوع بہ نوع جنگل، حجم بہ حجم پہاڑ اور رنگ بہ رنگ سمندر وغیرہ وغیرہ کبھی کبھی الفاظ میرے احساسات کا ساتھ دینے سے انکار کر دیتے ہیں اور یوں میں قلم کھینچ لیتا ہوں۔

زرعی اعتبار سے بھی آمریکا ایک نہایت آسودہ ملک ہے۔ مملکت کا تقریباً نصف رقبہ زراعت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تمباکو، کپاس، مکئی اور گندم کثرت سے پیدا ہونے والی فصلیں ہیں آمریکا دنیا کا سب سے بڑا گندم پیدا کرنے والا ملک ہے۔ معدنیات میں کاپر، میگنیشیم، قلعی، زنک اور سونے کے قابل ذکر ذخائر آمریکی سرزمین میں محفوظ ہیں۔ آمریکا تیل پیدا کرنے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ دیہاتی علاقوں میں لوگ مال مویشی پالتے ہیں جبکہ شمالی علاقے جنگلات سے خوب بھرے ہوئے ہیں۔

امریکی مقننہ دو ایوانوں پر مشتمل ہے۔ سینٹ اور ایوان نمائندگان۔ ایوان نمائندگان میں ہر ریاست کو اس کی آبادی کے مطابق نشستیں مل رہی ہیں۔ ایوان نمائندگان کا رکن منتخب ہونے کے لیے پچیس سال عمر، آمریکا میں پیدائش اور سات برس تک اقامت ضروری ہیں۔ ایوان نمائندگان کا انتخاب دو سال کے لیے ہوتا ہے۔ آمریکی سینٹ میں ہر ریاست کو دو نمائندے منتخب کرنے کا حق حاصل ہے۔ انتخاب کے لیے تیس سال عمر، ریاست کا پیدائشی ہونا اور نو سال سے آمریکا میں مقیم ہونا بنیادی شرائط ہیں۔ سماجی طور پر بات الگ ہے لیکن رنگ و نسل کے امتیازات کو انتخابی عمل میں قانونی اعتبار سے کوئی عمل دخل حاصل نہیں۔

امریکا کو اگر ایک گاڑی تصور کیا جائے تو جنگ اور معیشت اس کے دو پہیے قرار پائیں گے۔ دنیا میں ہر وہ منصوبہ، اقدام یا تبدیلی جو جنگی مداخلت یا معاشی مفادات کا متقاضی ہو ان کو ہمیشہ امریکی شراکت داری یا مزاحمت کاری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ طاقت جنگی احوال میں مداخلت پر آمادہ رکھتی ہے جبکہ قومی سطح پہ بلند معیار زندگی کے "تقاضے” معاشی مفادات کے حصول کے لیے عالمی سیاست میں طاقتور ممالک کو ہر دم بے چین اور متحرک رکھتے ہیں۔ میری مستقل دعاؤں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ "یا اللہ آمریکا کو جنگی سیاست سے تجارتی سیاست کی جانب مستقل موڑ دیں تاکہ دنیا میں امن، سکون اور ٹھہراؤ آجائیں”۔ بڑی طاقتوں کی پالیسیاں ہمیشہ پوری انسانی برادری پر اثرانداز ہوتی ہیں اور کوئی بھی ان سے بے نیاز ہو کر نہیں رہ سکتا۔

مجھے پانچ مغربی زعماء کچھ خوبیوں کی بدولت بے حد پسند ہیں ان میں سے ایک شخص سابق آمریکی صدر آئزن ہاور بھی شامل ہیں۔ موصوف کی شخصیت میں شجاعت اور بصیرت ایسی آفاقی خوبیاں بڑی مقدار میں جمع ہوگئی تھیں۔ انہوں نے جنگ عظیم دوئم میں اہم کردار ادا کیا تھا، نیٹو اتحاد کا سربراہ بھی رہے تھے، سیاست کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ "ملک اور سیاست کا ایک سیاستدان سے صرف ایک ہی توقع رہتی ہے اور وہ ہے ایمانداری، بصیرت اور اخلاقی ساکھ”۔ کچھ عرصہ وہ کولمبیا یونیورسٹی کے صدر بھی رہے تھے۔ ایمانداری، اقتدار اور بصیرت جب بھی کسی ایک لیڈر میں جمع ہوتے ہیں تو وہ دنیا کو بہتر انداز میں بدلنے کی خوبی پا لیتا ہے۔ خواہ اس کا تعلق دنیا کے مغرب سے ہو یا پھر مشرق سے۔ نہر سوئز کے تنازعے پر برطانیہ اور فرانس نے مل کر مصر پر حملہ کرنا چاہا تو آئزن ہاور نے فوراً مداخلت کر کے جنگ روک دیا۔

امریکا دو حوالوں سے مرکزی حیثیت رکھتا ہے ایک سرمایہ دارانہ نظام اور دوم جدید مغربی تہذیب کے حوالے سے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں سرمایہ گردش نہیں کر رہا بلکہ ہر آن ارتکاز کی جانب مائل رہتا ہے۔ دنیا کے چند دولت مند خاندان اور افراد ہی ہر سال اپنی دولت میں بے تحاشہ اضافہ کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں جبکہ باقی پوری دنیا میں متوسط طبقے کے معیار زندگی مائل بہ زوال ہے وہ اکثر و بیشتر اوقات معاشی دباؤ کا شکار رہتا ہے اس کے علاوہ غربت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور غربت کی وجہ سے پھر نوع بہ نوع مسائل اور جرائم میں بھی اضافہ ہوتا ہے جو کہ غربت سے نتھی ہیں۔ اس طرح جدید تہذیب کے بے شمار خصوصیات اور امتیازات ہیں اور ہر سوچنے سمجھنے والے فرد پر ان کا ظاہر ہونا بلکل یقینی ہے۔

میں صرف دو پہلوؤں کی جانب اشارہ کرنا چاہوں گا۔ مغربی تہذیب نے ذہن کو روایات سے آزاد کیا اب لوگ آزادانہ طور پر سوچتے ہیں اور جو نتائج اخذ کیے جاتے ہیں وہ بر ملا ظاہر کر دیئے جاتے ہیں اس عمل میں ان کے لیے کوئی چیز مانع نہیں ہوتی حتیٰ کہ مذہب اور مقدس شخصیات بھی۔ دوسری چیز جس سے انسانیت مغربی تہذیب کی وجہ سے متعارف ہوئی وہ ہے جسم کا پردے سے بے نیاز ہونا اس طرزِ فکر اور صورتحال نے ایک مکمل طرزِ زندگی کو رواج دیا ہے جس میں پردے کے لیے کوئی گنجائش نہیں یہ خرابیاں فطرت سے جنگ کے مترادف ہیں۔

شیخ زید اسلامک سنٹر پشاور یونیورسٹی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رشید احمد (میرے سرپرست اور عزیز) کو چند برس قبل آمریکا میں بطورِ وزٹنگ پروفیسر پڑھانے کا موقع میسر آیا تھا۔ واپسی پر ہم نے اسلام آباد ائیرپورٹ پر ان کا استقبال کیا، انہیں شاہ فیصل مسجد لے آئیں اور ان سے وہاں کے حال احوال پر تفصیل سے گپ شپ کی۔ میں نے ان سے پوچھا "لالا اپ کو چھ ماہ کے امریکی قیام میں سب سے زیادہ کس چیز نے اچھے انداز سے متاثر کیا یعنی آپ کو وہاں کی کون سی خوبی سب سے اچھی لگی؟ انہوں نے فوراً کہا نظم و ضبط۔ پوری امریکی قوم ہر جگہ قطاروں میں کھڑی نظر آئی گی۔ کوئی شور شرابہ، کوئی بد نظمی آپ کو کہی بھی نظر نہیں آئی گی یہ ہر وقت اور ہر جگہ کا معاملہ ہے کوئی عارضی یا وقتی نہیں”۔

امریکا دور حاضر میں سپر پاور کی کرسی پر براجمان ہوگیا ہے۔ طاقت ایک ایسی چیز ہے جو کہ فرد یا قوم دونوں کے ذہنی اور نفسیاتی توازن پر دور رس اثرات مرتب کرتی ہے۔ طاقت کے حامل ممالک سے ان کے کچھ خواہشات، کچھ مفادات اور کچھ تحفظات تقاضہ کرتے ہیں کہ وہ طاقت کو حرکت میں رکھے۔ یہ معاملہ صرف امریکا کے ساتھ مختص نہیں بلکہ طاقت کا ڈنڈا ہاتھ لگنے کے بعد کم و بیش سب افراد اور اقوام چند استثنائی مثالوں کے ساتھ ایسے ہی ہو جاتے ہیں الا ما شاہ اللہ۔ تاہم ایک حقیقت ایسے تمام افراد کو بھی اور اقوام بھی یاد رکھنی چاہئیں کہ قدرت کو ظلم کا ارتکاب اور اس پر اصرار دونوں ناقابل قبول ہیں وہ آزمائش کے طور پر کچھ مہلت اور مواقع تو ضرور دیتی ہے لیکن یہ بہر صورت نہیں دیکھنا چاہتی کہ ظلم کا ارتکاب اور اس پر اصرار جاری رہے۔

‎امریکی تعلیمی نظام اپنی تحقیق اور جدت پسندی کی بدولت دنیا بھر میں ممتاز مقام رکھتا ہے۔ یہاں کی یونیورسٹیاں ہر سال ہزاروں بین الاقوامی طلبہ کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں، جو امریکا کے علم اور ثقافت کے تبادلے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ تعلیمی مراکز نہ صرف علمی عمدگی کو فروغ دیتے ہیں بلکہ امریکی معیشت کو بھی تقویت پہنچاتے ہیں۔ امریکا میں تعلیم جیسا کہ اوپر بتایا گیا صرف ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ تنقیدی نظر اور عملی مہارتوں کو پروان چڑھانے کا ایک موثر پلیٹ فارم ہے۔

‎امریکا اس وقت ٹیکنالوجی اور اختراع کے میدان میں دنیا کی قیادت کرتا ہے۔ سلیکون ویلی جیسے عالمی مراکز نے دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کے انقلاب میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ امریکی کمپنیاں جیسا کہ ایپل، مائیکروسافٹ، اور گوگل نے نہ صرف معاشی ترقی میں حیران کن حصہ ڈالا ہے بلکہ دنیا بھر کے لوگوں کی روزمرہ زندگی کو بھی کافی سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ یہ اختراعات آمریکی معیشت کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں آمریکی ثقافت اور اثر و رسوخ کو پھیلانے کا ذریعہ بھی ہیں۔

‎امریکی ثقافت نے فلم، موسیقی، اور فیشن کے ذریعے دنیا بھر میں اپنا اثر چھوڑا ہے۔ ہالی وڈ کی فلمیں اور امریکی ٹی وی شوز دنیا بھر میں دیکھے جاتے ہیں اور امریکی طرز زندگی کو پروموٹ کرتے ہیں۔ امریکی فاسٹ فوڈ چین جیسے مک ڈونلڈز اور سٹاربکس دنیا بھر میں پائے جاتے ہیں اور امریکی ثقافت کے سیمبلز بن چکے ہیں۔ یہ ثقافتی اثرات نہ صرف امریکا کے نرم اثر و رسوخ کو مضبوط کرتا ہے بلکہ معاشی فوائد بھی پہنچاتا ہے۔

‎امریکی خارجہ پالیسی نے دنیا بھر کے ممالک کے حالات پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ کچھ معاملات میں امریکی مداخلت نے جمہوریت اور انسانی حقوق کے فروغ میں مدد دی ہے، جبکہ دوسری طرفہ بعض جنگوں اور معاشی پابندیوں نے مقامی آبادیوں کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں۔ اس وقت امریکا چین اور روس سے معاشی اور سیاسی کشمش میں لگا ہوا جو کہ دنیا کو نارمل نہیں ہونے دے رہی۔ اس طرح امریکا کے عالمی اداروں جیسا کہ اقوام متحدہ اور عالمی بینک میں غالب کردار نے بھی بین الاقوامی پالیسیوں پر اس کے اثر و رسوخ کو مزید مضبوط کیا ہے۔ گزشتہ دو برس سے اسرائیل نے غزہ کو مکمل طور پر تباہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ غزہ میں بدترین ریاستی تشدد اور بھوک کے سبب عام انسانی آبادی تیزی سے تباہ ہو رہی ہے لیکن اسرائیل کے خلاف عالمی جواب دہی اور دباؤ کی ہر کوشش کو امریکا پوری ڈھٹائی سے ناکام بنا رہا ہے۔ یہ حقیقت ہے امریکا کی خارجہ پالیسی اکثر و بیشتر اس کے قومی مفادات کے گرد گھومتی ہے جبکہ وسیع انسانی بہتری کے تقاضوں کو بری طرح نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس پر بے شمار حلقوں کی طرف سے تنقید کی جاتی ہے۔

امریکا نے مختلف اوقات میں دنیا کے مختلف حصوں میں جنگی محاذ گرم کر کے انسانی تحفظ اور مفاد کو شدید خطرات سے دو چار کیا ہے۔ یہ پالیسی نہ صرف پوری دنیا کی سیاسی، معاشی اور سماجی مستقبل کے لیے بے انتہا خطرناک ہے بلکہ یہ خود آمریکی ساکھ اور مفاد کے لیے بھی اچھی نہیں۔ ہماری دعا ہے کہ امریکا طاقت، جدت اور دولت کے وسائل کو کام میں لاتے ہوئے انسانی فلاح و بہبود کی جانب پیش رفت جاری رکھے اور اس دائرے میں اپنا مثبت اور تعمیری کردار ادا کرے کہ یہ خود آمریکا اور پوری انسانیت کے لیے یکساں طور پر بہتر ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے