اگست 2021 میں جب طالبان نے افغانستان پر دوبارہ قبضہ کیا تو یہ ایک ایسا لمحہ تھا جس نے خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا۔ پاکستان اور چین، جو افغانستان کے پڑوسی ممالک ہیں، نے اس تبدیلی کو ایک موقع کے طور پر دیکھا۔ پاکستان، جو تاریخی طور پر طالبان کے ساتھ قریبی روابط رکھتا ہے، نے امید کی تھی کہ نئی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کا ساتھ دے گی اور سرحدی مسائل کو حل کرے گی۔ اسی طرح چین، جو اپنے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) کے ذریعے علاقائی کنیکٹیویٹی کو فروغ دے رہا ہے، نے افغانستان کو اپنے اقتصادی منصوبوں میں شامل کرنے کی کوششیں شروع کیں۔ تاہم، چار سال گزرنے کے باوجود، یہ تعلقات پیچیدگیوں اور تنازعات سے بھرے رہے ہیں۔ ایک طرف سفارتی سطح پر ملاقاتیں اور معاہدے ہو رہے ہیں، تو دوسری طرف الزامات ہیں کہ افغان طالبان مختلف گروپوں کی مدد سے پاکستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ پاکستان اور چین کی طالبان حکومت کے ساتھ سفارتی تعلقات اور خاص طور پر دہشت گرد عناصر کی پشت پناہی جو خطے کی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
طالبان کی واپسی کے بعد، پاکستان نے ابتدائی طور پر طالبان کی حمایت کی اور انہیں بین الاقوامی سطح پر تسلیم کرانے کی کوششیں کیں۔ پاکستان کا موقف تھا کہ طالبان کی حکومت کو الگ تھلگ کرنے سے مسائل مزید بڑھیں گے۔ 2025 تک، پاکستان نے اپنے سفارتی تعلقات کو اپ گریڈ کرتے ہوئے افغانستان میں سفیر کی سطح پر نمائندگی قائم کی، جو 2021 کے بعد پہلی بار تھا۔ اسی طرح چین نے بھی طالبان کے ساتھ روابط بڑھائے اور 2023 میں طالبان کے نامزد سفیر کو قبول کیا، جو دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے ایسا کیا۔ یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں ممالک نے اقتصادی اور سیکورٹی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے طالبان کے ساتھ تعاون کو ترجیح دی۔ تاہم، یہ تعلقات سطحی رہے اور گہرے مسائل جیسے دہشت گردی کی پشت پناہی نے انہیں کمزور کیا۔
پاکستان اور چین کے طالبان حکومت کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بنیاد علاقائی استحکام اور اقتصادی ترقی پر رکھی گئی ہے۔ پاکستان کے لیے افغانستان ایک اہم پڑوسی ہے، جہاں سے سرحدی مسائل، مہاجرین اور تجارت جیسے امور جڑے ہوئے ہیں۔ 2021 کے بعد، پاکستان نے متعدد بار افغان قیادت سے ملاقاتیں کیں اور دہشت گردی کے خلاف تعاون کی اپیل کی۔ مئی 2025 میں، پاکستان نے افغانستان کے ساتھ سفارتی تعلقات کو سفیر کی سطح تک اپ گریڈ کیا، جو تناؤ کے باوجود ایک مثبت قدم تھا۔ اسی ماہ بیجنگ میں تین ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا، جہاں اقتصادی تعاون اور سیکورٹی پر بات چیت کی گئی۔
چین کی دلچسپی زیادہ تر اقتصادی ہے۔ چین افغانستان کو اپنے چین پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) میں شامل کرنا چاہتا ہے، جو بی آر آئی کا حصہ ہے۔ اگست 2025 میں کابل میں ہونے والے چھٹے تین ملکی اجلاس میں، چین اور پاکستان نے سی پیک کو افغانستان تک توسیع دینے کی تجویز پیش کی۔ اس اجلاس میں تجارت، کنیکٹیویٹی اور سیکورٹی پر زور دیا گیا۔ چین نے افغانستان کے ساتھ کان کنی اور دیگر اقتصادی شعبوں میں تعاون بڑھانے کا وعدہ کیا۔ تاہم، یہ سفارتی کوششیں دہشت گردی کے سائے تلے رہیں۔ پاکستان نے بار بار شکایت کی کہ افغان طالبان تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جیسے گروپوں کو پناہ دے رہے ہیں، جو پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔
مبصرین اس موضوع پر بحث کرتے ہوۓ کہتے ہیں یہ اجلاس پاکستان کی دہشت گردی کی شکایات کو حل کرنے کے لیے تھا، لیکن نتائج مایوس کن رہے۔ پاکستان اور چین نے طالبان سے دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا، لیکن طالبان نے کوئی ٹھوس وعدہ نہیں کیا۔
سب سے بڑا تنازعہ افغان طالبان کی جانب سے دہشت گرد گروپوں کی پشت پناہی ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان طالبان مختلف گروپوں جیسے ٹی ٹی پی، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور دیگر کی مدد سے پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں۔ 2025 میں، ٹی ٹی پی نے افغانستان سے پاکستان میں متعدد حملے کیے، جن میں سیکورٹی فورسز اور شہری شہید ہوئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، ٹی ٹی پی افغانستان میں کئی تربیتی کیمپ چلا رہی ہے، جو افغان طالبان کی حمایت سے ممکن ہے۔ پاکستان نے ان الزامات کی بنیاد پر افغانستان میں فضائی حملے بھی کیے، جو طالبان حکومت کو ناراض کرتے ہیں۔
ٹی ٹی پی، جو 2007 میں قائم ہوئی، پاکستان کی حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کر رہی ہے اور اسے افغان طالبان کا اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹوں میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ ٹی ٹی پی کے تقریباً 6,000 جنگجو افغانستان میں موجود ہیں اور وہ افغان طالبان کے ساتھ روابط رکھتے ہیں۔ یہ پشت پناہی نہ صرف پاکستان کی سلامتی کو خطرے میں ڈالتی ہے بلکہ چین کے مفادات کو بھی متاثر کرتی ہے، کیونکہ چین کو ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) جیسے گروپوں سے خطرہ ہے، جو افغانستان میں فعال ہیں۔
افغان طالبان کی مختلف علاقائی گروپس، جیسے ہرات، قندھار اور خوست میں مقیم گروپ، ٹی ٹی پی کو لاجسٹک سپورٹ، ہتھیار اور پناہ فراہم کرتے ہیں۔ ایک مثال جنوری 2025 کی ہے، جب پاکستان کی سیکورٹی فورسز نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک آپریشن میں افغان طالبان کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے بیٹے کو ہلاک کیا، جو ٹی ٹی پی کے ساتھ ملوث تھا۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ افغان طالبان کی پشت پناہی براہ راست ہے۔ ایکس پر بھی اس کی تصدیق ہوئی، جہاں ایک پوسٹ میں کہا گیا کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کو ہتھیار اور تربیت دے رہے ہیں۔
چین بھی اس سے متاثر ہے۔ چین نے طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ای ٹی آئی ایم جیسے گروپوں کو کنٹرول کریں، جو سنکیانگ میں علیحدگی کی تحریک چلا رہے ہیں۔ تاہم، طالبان کی عدم کارروائی نے چین کو بھی مایوس کیا ہے۔
اگست 2025 میں کابل کا مشترکہ دورہ پاکستان اور چین کے وزرائے خارجہ کا ایک اہم قدم تھا۔ یہ دورہ حتمی اسیسمنٹ کے لیے تھا کہ آیا افغانستان سے بہتر رویہ کی امید رکھی جا سکتی ہے یا نہیں۔ اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف تعاون، سی پیک کی توسیع اور تجارت پر بات چیت ہوئی۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے وزراء مایوس لوٹے۔ پاکستان نے واضح طور پر ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا، لیکن طالبان نے کوئی ٹھوس یقین دہانی نہیں کرائی۔
ماہرین جیسے کہ کونسل آن فارن ریلیشنز اور دیگر تھنک ٹینکس کا تجزیہ ہے کہ افغان طالبان دہشت گردوں کے مکمل سہولت کار ہیں۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ طالبان ٹی ٹی پی کو الگ کرنے کے بجائے ان کی حمایت کر رہے ہیں، جو پاکستان کے لیے خطرناک ہے۔ بعض ماہرین کا یہ بھی تاثر ہے کہ یہ دورہ پاکستان کی ناکامی ہے، کیونکہ طالبان نے دہشت گردی کے خلاف کوئی وعدہ نہیں کیا۔ اب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افغان حکومت کو دشمن سمجھ کر لڑا جائے گا، جیسا کہ پاکستان کی فضائی کارروائیوں سے ظاہر ہے۔
چین کا کردار بھی اہم ہے۔ چین اقتصادی انوسٹمنٹس کا لالچ دے کر تناؤ کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن دہشت گردی کے مسائل حل نہ ہونے سے اس کی کوششیں ناکام ہو رہی ہیں۔
پاکستان اور چین کی طالبان حکومت کے ساتھ سفارتی تعلقات ایک پیچیدہ پہیلی ہیں، جہاں اقتصادی مواقع اور سیکورٹی خدشات ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں۔ ایک طرف سی پیک کی توسیع اور تجارت کی امیدیں ہیں، تو دوسری طرف دہشت گردی کی پشت پناہی نے اعتماد کو ختم کر دیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر افغان طالبان ٹی ٹی پی اور دیگر گروپوں کی حمایت بند نہ کریں تو یہ تعلقات مزید خراب ہوں گے اور خطہ عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔ پاکستان اور چین کو مل کر دباؤ بڑھانا چاہیے، جبکہ طالبان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ دہشت گردی کی حمایت ان کی اپنی بقا کے لیے خطرناک ہے۔ صرف باہمی احترام اور تعاون سے ہی خطے میں امن ممکن ہے۔