کھر صاحبہ، کیا پاکستانیوں کی تقدیر بھی ایک بھولی بسری یاد ہے؟

میں ذاتی طور پر حنا ربّانی کھر کی محنت، ذہانت اور کرشمۂ شخصیت کی معترف ہوں۔ ان کا تعلق اشرافیہ سے ہے۔ کم عمری میں وہ صدر جنرل پرویز مشرف صاحب کی طرف سے ممبرانِ اسمبلی کے لیے کم از کم بی اے پاس ہونے کی شرط کے نتیجے میں، اپنی برادری کے تعلیم یافتہ مرد نہ ہونے کے سبب، نہ صرف قومی اسمبلی کا حصّہ بنیں بلکہ وزیرِ خارجہ کا قلم دان بھی ان کے حصّے میں آیا۔ وہ ایک باوقار سفارت کار ہیں اور عالمی سطح پر پاکستان کی اچھی نمائندگی کرتی رہی ہیں۔ ان کا ذاتی سحر بھی ان کے مدّاحین کی تعداد کو بڑھا دیتا ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ مشرقی پاکستان کا سانحہ اُن کی براہِ راست یادداشت کا حصّہ نہیں۔ ہمارا نصاب، ہمارا میڈیا اور حتیٰ کہ دفترِ خارجہ بھی اس باب کو کبھی پوری سچائی سے بیان نہیں کرتے۔ اسی لیے ان کا انحصار زیادہ تر رسمی بریفنگز اور کاغذی مؤقف پر رہتا ہے۔ لیکن یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ سفارت کاری کا مطلب دھوکہ نہیں، بلکہ سچائی کو حکمت اور دیانت کے ساتھ پیش کرنا ہے۔

حال ہی میں انہیں جیو ٹی وی چینل پر آج خانزادہ کے ساتھ شو میں دیکھا، جس میں ان سے بھارت اور بنگلہ دیش کے حوالے سے سوالات کیے گئے۔ نومبر ۲۰۱۲ء میں حنا ربّانی کھر نے ڈھاکا کا دورہ کیا تھا اور وزیرِاعظم شیخ حسینہ کو اسلام آباد میں ہونے والی ڈی۔آٹھ سربراہ اجلاس میں شرکت کی دعوت دی۔ یہ ایک اہم لمحہ تھا، کیونکہ برسوں سے دونوں ممالک کے تعلقات کشیدگی کا شکار تھے۔ اس کے بعد ایک طویل وقفہ آیا اور اب تیرہ برس بعد، اگست ۲۰۲۵ء میں پاکستان کے نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ڈھاکا کا دورہ کیا۔ یہ اعلیٰ سطحی رابطہ ایک نئی شروعات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس نے طویل تعطل کو ختم کیا۔

حنا ربّانی کھر صاحبہ نے شیخ حسینہ واجد کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، جس کا مفہوم یہی تھا کہ ان کا بنگلہ دیش ماضی میں اٹکا ہوا تھا۔ آگے دیکھنا چاہیے، خطّے کی بہتری کی خاطر۔ مگر نہ تو میزبان اور نہ ہی مہمان نے ایک بار بھی پاکستان کی محبت میں عبرت کا نشان بنا دیے جانے والی ان بہاری اور غیر بنگالی پاکستانیوں کا ذکر کیا جو بنگلہ دیش کے تیرہ شہروں میں قائم تقریباً ستر کیمپ نما اذیت خانوں میں تین سے پانچ لاکھ کی آبادی کی شکل میں نصف صدی سے کسمپرسی کا شکار ہیں۔

اسی تناظر میں میرا سوال ان سے، دیگر سیاست دانوں، حکومتی اراکین، وزارتِ خارجہ، میڈیا اور ہم سب سے ہے:
کیا پاکستانیوں کی تقدیر بھی آپ کے نزدیک ایک بھولی بسری یاد ہے؟

شیخ حسینہ عوامی نفرت کی بنا پر برطرف ہو چکیں مگر پاکستان کے حوالے سے بنگلہ دیش کا بیانیہ باقی ہے۔ ڈھاکا نے ایک بار پھر وہی تین مطالبات دہرائے جو اس کی قومی پالیسی کا حصہ بن چکے ہیں:
۱۔ سنہ ۱۹۷۱ء کی جنگی زیادتیوں پر پاکستان کی باضابطہ معافی۔
۲۔ سنہ ۱۹۷۰ء کے سمندری طوفان کے فنڈز اور مشترکہ اثاثوں کی تقسیم۔
۳۔مشرقی پاکستان میں پھنسے ہوئے افراد کی باعزت واپسی۔

پاکستانی وزیرِ خارجہ نے یہ مؤقف اپنایا کہ یہ معاملات سنہ ۱۹۷۴ء اور ۲۰۰۲ء میں طے ہو چکے ہیں، لیکن بنگلہ دیش نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ یہ مسائل بدستور زندہ ہیں۔ سوال تو شاید یہ بھی ہے کہ کیا صرف حسینہ ہی ماضی میں الجھی رہیں یا ہم سب بھی اپنی سہل پسند یادداشت کے اسیر ہیں؟ ہم وہ قوم ہیں جو تاریخ کے آسان اور خوشگوار حصّے یاد رکھتی ہے مگر تلخ ابواب پر پردہ ڈال دیتی ہے۔ یہی ہماری اجتماعی بیماری ہے — منتخب بھول (Selective Amnesia)۔

تجارتی معاہدے، ثقافتی روابط، ویزا میں نرمی — یہ سب خوش گمانیوں کے بیج ہیں، لیکن زمین کی جڑیں وہی پرانی ہیں جن پر ماضی کا بوجھ آج بھی قائم ہے۔

ڈھاکا کا مؤقف واضح ہے اور برسوں سے وہی ہے: ۱۹۷۱ء کے سانحے پر پاکستان کی باضابطہ معافی، مشترکہ اثاثوں اور بھولا طوفان کے فنڈز کی تقسیم، اور اُن پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی باعزت واپسی جو نصف صدی سے کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ پاکستان کہتا رہا ہے کہ یہ سب طے ہو چکا، مگر بنگلہ دیش ہر دور میں یاد دہانی کرواتا ہے کہ وقت کی گرد ان زخموں کو ڈھانپ نہیں سکی۔

ہمیں اس بات کو سمجھنا ہو گا کہ شیخ حسینہ آج اقتدار میں نہیں ہیں مگر ان کا بیانیہ زندہ ہے۔ شخصیت بدل گئی ہے، پالیسی وہی ہے۔ حسینہ نے ماضی کو قومی پالیسی کا متن بنا دیا، اور یہی پاکستان کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں وقت سب بھلا دیتا ہے، مگر بنگلہ دیش نے وقت کو یادداشت کی دیوار پر کندہ کر دیا ہے۔

اس سارے منظرنامے میں سب سے بڑا المیہ وہ لوگ ہیں جنہیں ہم نے اپنی گفتگو اور نصاب دونوں سے غائب کر دیا۔ "پھنسے ہوئے پاکستانی” — یہ اصطلاح جتنی بے رحم ہے، اتنی ہی کڑوی حقیقت کو سمیٹے ہوئے ہے۔ نصف صدی سے ڈھاکا کے کیمپوں میں لاکھوں پاکستانی نسل در نسل کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ انہیں پاکستان کی سیاست میں جگہ ملی، نہ میڈیا میں آواز۔ افسوس کہ حنا ربّانی کھر اور شاہ زیب خانزادہ کی حالیہ گفتگو میں بھی ان کا ذکر تک نہ ہوا۔ یہ خاموشی ہماری بے حسی اور اجتماعی لاپرواہی کا ثبوت ہے۔

سولہ دسمبر ۱۹۷۱ء کا دن ہمارے لیے ایک تاریخ کا صفحہ ہے، مگر ہم جیسے لوگوں کے لیے جنہوں نے ہجرت در ہجرت کی، سقوطِ ڈھاکا آج بھی کھلا زخم ہے۔ پاکستان میں یہ دن کیلنڈر کی ایک تاریخ بن گیا ہے، جسے اشرافیہ رسمی بیانات سے کبھی کبھار یاد کرتی ہے۔ ایسے افراد جن کی سیاست اور اقتدار محض خاندانی نام اور طاقت ور پس منظر کے مرہونِ منت ہو، اُن سے یہ توقع کیسے رکھی جائے کہ وہ اس سانحے کی تلخی کو محسوس کر سکیں جسے عام لوگوں نے اپنے لہو اور زندگیوں سے جھیلا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے اشرافیہ (جن میں نہ صرف رولنگ ایلیٹ بلکہ فکری و علمی اشرافیہ بھی شامل ہے) کے لیے سقوطِ ڈھاکا کوئی ذاتی المیہ نہیں۔

ڈھاکا نے تو ایک بار پھر شیخ حسینہ کا بیانیہ زندہ کر دیا ہے، مگر ہم کب جاگیں گے؟ ماضی سے نکلنے کے لیے ماضی کو تلف نہیں بلکہ اپنانا ہو گا اور ان پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو پاکستانی ماننا ہو گا۔ پاکستان واپس لانا ہو گا۔ رہی بات پیسوں کے لین دین کی تو ہمیں مکالمے میں شامل کریں۔ ہم ان سے قصاص اور دیت کا مطالبہ کریں گے، اپنے کاروبار اور "دشمن کی ضبط شدہ جائیداد” کی بات کریں گے۔ پاکستان کے لیے پھر قربانی دیں گے اور حساب برابر ہو گا۔ مگر ایسا تب ہی ممکن ہے جب مشرقی پاکستان کے بہاریوں اور دیگر پاکستان سے محبت کرنے والی برادریوں کو، ان کی قربانیوں کو مانا جائے، ان سے عزت اور احترام کے ساتھ بات کی جائے اور ایک گرینڈ مکالمے کا آغاز کیا جائے — تاکہ یہ بھی طے ہو سکے کہ پاکستان پاکستانیوں کا ہے یا تعصبات اور صوبائیت میں بٹی ہوئی قومیتوں کا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے