اندر کا سکوت

کبھی کبھی زندگی کے ایک خاص موڑ پر مجھ پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ یہ کیفیت نہ خوشی کی ہے، نہ غم کی۔ یہ کسی جذبے کی شدت نہیں بلکہ ایک ایسا سکون ہے جو میری روح کو اپنی آغوش میں لے لیتا ہے۔ ایسا سکون جس میں دنیا کی ساری چیزیں اپنی چمک اور اپنی وقعت کھو بیٹھتی ہیں۔ نہ خواہش باقی رہتی ہے، نہ حسرت۔ نہ تمنا رہتی ہے، نہ طلب۔ میں یوں محسوس کرتا ہوں جیسے میں ہر شے سے آزاد ہو گیا ہوں۔

اس کیفیت میں میں گفتگو کرسکتا ہوں—مگر انسانوں سے نہیں، بلکہ ان فضاؤں سے جو ہمیشہ خاموش رہتی ہیں۔ ان ہواؤں سے جو صدیوں سے چل رہی ہیں اور کسی کان کو اپنی کہانی سنانے کے لیے تیار نہیں۔ ان درختوں سے جو ہر موسم میں کھڑے ہیں، جن پر خزاں بھی اترتی ہے اور بہار بھی، مگر وہ اپنی جڑوں سے وابستہ رہتے ہیں۔ ان کھیتوں سے جن پر دن نکلتا ہے، سورج ڈوبتا ہے، بارش برستی ہے، کسان بیج بوتا ہے، مگر کھیت خاموش رہتے ہیں، جیسے انہیں صدیوں کی زبان آچکی ہو۔ ان کھیتوں میں اٹھلاتی ہوا سے بھی بات کی جا سکتی ہے۔

یہ عجیب مکالمہ ہے، یہ عجیب ہم کلامی ہے۔ اس میں نہ سوال ہوتے ہیں، نہ جواب۔ نہ کوئی دلیل چاہیے، نہ کوئی وضاحت۔ بس ایک تعلق قائم ہو جاتا ہے۔ ایک ایسا تعلق جسے نہ بیوی سمجھ سکتی ہے، نہ بچے۔ نہ دوست، نہ شناسا۔ یہ کیفیت اتنی ذاتی ہے کہ اسے کوئی دوسرا چھو بھی نہیں سکتا۔

یہ وہ لمحہ ہے جب مجھے کسی کی ضرورت نہیں رہتی۔ جب میں اپنے اندر اتنا بھر جاتا ہوں کہ باہر کی دنیا بوجھ لگنے لگتی ہے۔ یہاں الفاظ اپنی اہمیت کھو بیٹھتے ہیں۔ گفتگو غیر ضروری ہو جاتی ہے۔ زبان خاموش رہتی ہے اور دل کی دھڑکن خود ایک کائنات کی زبان بن جاتی ہے۔

یوں لگتا ہے جیسے وقت رک گیا ہو۔ لمحے ساکت ہو گئے ہوں۔ میں اپنے گرد کی آوازوں کو سنتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہوا بھی گنگنا رہی ہے، پرندے بھی اپنی زبان میں بات کر رہے ہیں، پانی بھی بہتے بہتے کوئی سرگوشی کر رہا ہے۔ مگر ان سب کے درمیان ایک ایسی خاموشی ہے جو کسی بھی شور سے زیادہ گہری ہے۔ یہی خاموشی سکون ہے۔

اس کیفیت میں میں اپنی زندگی پر نگاہ ڈالتا ہوں۔ وہ لمحے یاد آتے ہیں جب خواہشیں مجھے دوڑاتی رہیں، جب رشتے مجھ سے توقعات باندھتے رہے، جب معاشرہ اپنے تقاضوں کے ساتھ میرے کندھوں پر بوجھ رکھتا رہا۔ مگر اب، اس وقت، یہ سب غیر ضروری لگتا ہے۔ نہ شہرت کی خواہش، نہ دولت کا لالچ، نہ تعریف کی تمنا۔ بس ایک گہری بے نیازی ہے جو دل پر چھا جاتی ہے۔

یہ کیفیت مجھے کہاں پہنچا دیتی ہے؟ کوئی نہیں جانتا۔ یہ راستہ کسی اور نے طے نہیں کیا۔ یہ منزل کسی اور نے نہیں دیکھی۔ یہ صرف میرا اپنا سفر ہے۔ میری تنہائی کا راز ہے۔ میری روح کا سکوت ہے۔ اور یہی سکوت اصل میں آزادی ہے۔ وہ آزادی جو نہ ملکوں کے جھنڈوں میں ملتی ہے نہ نعروں میں۔ وہ آزادی جو اندر کے قفس کو توڑنے سے ملتی ہے۔

یوں لگتا ہے جیسے میں اپنی اصل کی طرف لوٹ آیا ہوں۔ جیسے میں اپنے آغاز سے جڑ گیا ہوں۔ جیسے کائنات کے سارے راز میرے سامنے کھلنے لگے ہوں۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ان رازوں کو بیان کرنے کی ضرورت بھی نہیں رہتی۔ وہ خود ہی اتنے مکمل ہیں کہ لفظ ان کے قریب بھی نہیں جا سکتے۔

زندگی کے اس موڑ پر مجھے احساس ہوتا ہے کہ اصل سکون کسی اور کے ساتھ نہیں، بلکہ اپنے ساتھ ہے۔ کہ اصل ہم کلامی الفاظ میں نہیں، بلکہ خاموشی میں ہے۔ کہ اصل قربت لوگوں سے نہیں، بلکہ اس فضا سے ہے جو مجھے اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔

یہ کیفیت عارضی بھی ہو سکتی ہے اور دائمی بھی۔ عارضی ہو تو میں پل بھر کے لیے اس سکون کو محسوس کرتا ہوں اور پھر دنیاوی بھاگ دوڑ میں کھو جاتا ہوں۔ لیکن اگر یہ دائمی ہو جائے تو میں ایک نئی کائنات میں داخل ہو جاتا ہوں۔ وہ کائنات جہاں خواہشیں مٹ جاتی ہیں، جہاں تمنائیں دم توڑ دیتی ہیں، جہاں صرف ایک سچ باقی رہ جاتا ہے—سکون۔

شاید یہی سکون اصل میں میرا مقدر ہے۔ شاید یہی وہ لمحہ ہے جب میں اپنی ذات اور کائنات کے درمیان وہ رشتہ ڈھونڈ لیتا ہوں جو صدیوں سے مجھ سے اوجھل تھا۔ یہ کیفیت لفظوں کی نہیں، احساس کی ہے۔ اور یہی احساس ہے جس کے سامنے ادب بھی محتاج ہو جاتا ہے۔

اور پھر، جب میں قبرستان کے سناٹے میں داخل ہوتا ہوں تو یہ کیفیت اور بھی گہری ہو جاتی ہے۔ ماں کی قبر کے پاس بیٹھنا ایسا لگتا ہے جیسے پھر سے ماں کی گود میں بیٹھا ہوں۔ وہی گود جس میں بچپن کے سارے خوف ختم ہو جاتے تھے، جہاں بھوک، پیاس، تھکن سب بھلا دی جاتی تھی۔ قبر پر بیٹھ کر بھی وہی احساس گھیر لیتا ہے کہ ماں اب بھی اپنی خاموش محبت سے لپیٹے ہوئے ہے۔

اور باپ کی قبر کے پاس بیٹھنا؟ یہ ایسے ہے جیسے پھر سے اس باپ کے پاس مشورہ لینے جا بیٹھا ہوں جو زندگی کے ہر موڑ پر رہنمائی کرتا تھا۔ جیسے وہی مضبوط ہاتھ اب بھی کاندھے پر رکھا ہوا ہے اور وہی گہری نگاہیں اب بھی ہمت بندھا رہی ہیں۔ باپ کی قبر پر بیٹھ کر ایسا لگتا ہے کہ وقت پلٹ گیا ہے اور زندگی کے سب فیصلے ایک بار پھر اس کے سامنے رکھے جا سکتے ہیں۔

یوں قبریں بھی ہم کلام ہو جاتی ہیں۔ ماں کی قبر سکون دیتی ہے، باپ کی قبر اعتماد۔ ایک گود میں سکون ہے، دوسرے کے مشورے میں رہنمائی۔ اور یہی دونوں احساسات مل کر مجھے مکمل کر دیتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے