پاکستان آج ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں جمہوری اقدار کے بجائے خوف، گھٹن اور سیاسی انتقام کا راج دکھائی دیتا ہے۔ گرفتاریوں اور ریمانڈ کا ایسا سلسلہ شروع ہوچکا ہے جسے دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے ملک میں کوئی "لوٹ مار سیل” لگی ہوئی ہو۔ جسے چاہا اٹھا لیا، جیسے چاہا ریمانڈ پر بھیج دیا۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ معاشرتی بگاڑ کا بیج بھی بو رہا ہے۔
سیاسی کارکن وہ لوگ ہیں جو معاشرے کے اندر زندگی اور حرارت کی علامت ہوتے ہیں۔ ان کے بغیر معاشرتی و سیاسی سرگرمی ایک ویران صحرا کے سوا کچھ نہیں۔
لیکن افسوس کہ آج سیاسی کارکن خصوصاً ایک سیاسی پارٹی کے حامیوں کو سب سے زیادہ مشکلات اور جبر کا سامنا ہے۔ 8 فروری 2024 کے عام انتخابات میں عوام کی ایک بھاری اکثریت نے واضح طور پر اپنا فیصلہ سنایا۔ آزاد حمایت یافتہ امیدواروں کو ملنے والے ووٹ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ عوام کا اعتماد اور رجحان کس جانب ہے۔ لیکن دوسری طرف انہی عوام کے ووٹ کی طاقت کو نظرانداز کر کے انہیں سزا دینا، جیلوں میں ڈالنا، اور بار بار ریمانڈ پر بھیجنا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ خطرناک بھی ہے۔
سیاست ایک صحت مند سرگرمی ہے۔ یہ معاشرے کو متحرک رکھنے، نئے خیالات کو جنم دینے اور عوامی رائے کو سامنے لانے کا ذریعہ ہے۔ لیکن جب سیاست کو جرم بنا دیا جائے، جب کارکنوں کو محض رائے دینے اور ووٹ ڈالنے کی سزا دی جائے، تو پھر معاشرہ ایک بند گلی میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ اگر جیلوں میں ڈالے گئے یہ لوگ کل باہر نکلیں گے تو وہ کس طرح ان عدالتوں، اس نظام اور اس حکومت کے بارے میں مثبت سوچ رکھ سکیں گے؟ یہ سوال آج ہر اہلِ دانش اور ہر محبِ وطن پاکستانی کے دل میں کچوکے لگا رہا ہے۔
حکومت کو سوچنا ہوگا کہ کیا گرفتاریوں اور ریمانڈ کے ذریعے ایک پائیدار سیاسی نظام قائم کیا جاسکتا ہے؟ کیا اس انداز سے عوام کے دل جیتے جا سکتے ہیں؟ اور کیا حکومت اس طریقے سے اپنے شہریوں سے وفاداری کی توقع کر سکتی ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ جب حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد ٹوٹ جائے تو پھر قومیں بکھر جایا کرتی ہیں۔
پاکستان کو ضرورت ہے انصاف کی بالادستی، آئین کی حقیقی حکمرانی اور عوامی مینڈیٹ کے احترام کی۔ ورنہ یہ گھٹن زدہ فضا کسی بڑے سیاسی اور معاشرتی طوفان کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔