حمد حسین: کتب بینی کو تحریک بنانے والا شخص

جناب احمد حسین علم اور مطالعے کے اعتبار سے ایک بالکل بنجر دور، رجحان اور مقام پر مشیت ایزدی سے نمودار ایک ایسے فرد ہیں جو محض ایک فرد نہیں بلکہ معاشرے کو کتاب سے جوڑنے کے لیے تن من دھن سے برپا ایک مکمل اور فعال تحریک کا نام ہے۔ آپ جنون کی حد کتب بینی کو رواج دینے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ جس میں محترم احمد حسین کتب بینی کے حوالے سے کسی نئی منزل کا رخ نہیں کرتے۔ دن ہو یا رات، گرمی ہو یا سردی، شہر ہو یا دیہات، انفرادی طلب ہو یا پھر ادارہ جاتی ضرورت آپ ہر دم ہر آن کتب بینی کے فروغ میں استطاعت سے کہی زیادہ سرگرم عمل رہتے ہیں۔ پورے خیبر پختونخوا کو آپ نے کتب بینی کے حوالے سے نشانے پر لیا ہوا ہے۔ "بکس آن وہیلز” نامی بین الاقوامی اشاعتی ادارے کے منیجنگ ڈائریکٹر ہیں جنہوں نے فرد فرد اور گھر گھر کتاب پہنچانے کو اپنا مقصد بنایا ہے۔

احمد حسین کے بارے میں معروف سکالر پروفیسر ڈاکٹر فخر الاسلام کہتے ہیں کہ "ہمارے جیسے کتاب نا آشنا معاشرے میں ایسی سہولت کہ آپ ایک ایس ایم ایس کر کے اپنے گھر یا دفتر میں مطلوبہ کتاب بغیر کسی اضافی چارجز کے حاصل کریں، خوشگوار حیرت کا باعث ہے۔ یہ کام ”بُکس آن وہیلز“ کے رُوحِ رواں احمد حسین جذبہ خیر سگالی سے کر رہے ہیں۔ میں نے شاہ ولی اللہ کی ایک کتاب (اختلافی مسائل میں اعتدال کی راہ اور مسٗلہ ملکیتِ زمین) مانگی اور دوسرے ہی دِن احمد حُسین مطلوبہ کتب میرے دفتر لے آئیں۔ اُن کا شکریہ اور اللہ کریم سے اُن کے لیے اجر کے دُعا گو بھی ہوں۔ آپ سب سے درخواست ہے کہ اس بے مثال سہولت سے فائدہ اٹھائیں”۔

مطالعہ تعلیم و تربیت اور معاشرتی ترقی کی بنیاد ہے۔ یہ افراد کو معلومات تک رسائی، مؤثر طریقے سے بات چیت کرنے اور جدید دنیا کی تشکیل و تعمیر میں اپنا متوقع حصہ ڈالنے کا موقع دیتا ہے۔ حد درجہ سعادت مند ہیں وہ لوگ جو سماج میں مطالعے کو فروغ دینے والے، علمی سطح بلند ہونے کے لیے تعاون کرنے والے اور علم و جہالت کے درمیان خلیج کو ختم کرنے نیز اس سلسلے میں نت نئے مواقع پیدا کرنے والے اور سماجی ہم آہنگی کو کتب بینی کے ذریعے فروغ دینے والے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ معاشرے کو سنوارنے میں ایسے لوگوں کا اہم ترین کردار ہوتا ہے۔

احمد حسین جیسے لوگوں کی سب سے اہم شراکت علم کی وسعت ہے۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں معلومات وافر مقدار میں تو ہیں لیکن مساوی طور پر تقسیم نہیں، ایسے میں مذکورہ افراد اس بات کو یقینی بنانے کے لیے انتھک محنت کرتے ہیں کہ ہر کسی کو، چاہے ان کے سماجی اور اقتصادی پس منظر جیسا بھی ہو، انہیں کتب تک ہمہ وقت رسائی حاصل ہو۔ وہ لائبریریاں، مطالعے کے پروگرامز اور تعلیمی اقدامات اٹھاتے ہیں جو پسماندہ یا طلب گار حلقوں کے لیے علم کا راستہ کھولتے ہیں۔ سیکھنے سکھانے تک رسائی نہ صرف انفرادی زندگیوں کو تقویت بخشتی ہے بلکہ معاشرے کے تانے بانے بھی مضبوط کرتی ہے۔

مطالعے کو فروغ دینے والے غربت اور جہالت کے منحوس چکر کو توڑنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جہالت بے شمار مسائل کی جڑ ہے جو نوع بہ نوع مسائل کو برقرار بھی رکھتی ہے کیونکہ یہ عیب مواقع تک رسائی کو محدود کرتا ہے مزید برآں ایک صحت مند سوچ کو پروان چڑھنے نہیں دے رہے، لیکن لوگوں کو مطالعے کے وسائل سے آراستہ کر کے ان کے شعور میں اضافہ کرنا اور طرزِ زندگی کو بہتر طور پر بدلا جا سکتا ہے۔

احمد حسین جیسے لوگ ایک ایسی روشن شمع ہیں جو علم کی تاریک راہوں میں منزل کا کام دے رہی ہیں۔ ان کی کوششیں نہ صرف کتابوں کی تقسیم تک محدود ہیں بلکہ وہ معاشرے میں علمی سوچ کو پروان چڑھانے کے لیے ایک منظم تحریک کی حیثیت رکھتی ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ محض کتاب پہنچانا ہی کافی نہیں، بلکہ اسے پڑھنے اور سمجھنے کا شوق پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ اسی لیے وہ نوجوان نسل میں مطالعہ کی عادت کو رواج دینے کے لیے تعلیمی اداروں میں سیمینارز، کتب میلے اور علمی مباحثوں کا اہتمام بھی کرتے ہیں، تاکہ کتاب محض ایک شے نہ بن کر رہ جائے بلکہ باقاعدہ ذہنوں کی غذا بن سکے۔

احمد حسین کی انقلابی کاوشوں نے نہ صرف شہری علاقوں بلکہ دور دراز دیہاتوں تک میں علم کی کرنیں پہنچائی ہیں۔ جہاں کتابیں ایک عیاشی کی شے سمجھی جاتی تھیں، آج وہاں احمد حسین کی "بکس آن وہیلز” ایک امید کی کرن بن کر پہنچتی ہے۔ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ اگر عزم راسخ ہو تو وسائل کی کمی بھی راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ ان کا ادارہ "بکس آن وہیلز” نہ صرف کتابیں فراہم کرتا ہے بلکہ ان علاقوں میں علم دوستی کی ایک ایسی تحریک چلا رہا ہے جس کی بنیاد پر ان شاءاللہ آنے والی نسلیں باشعور بن کر روشن معاشرے کی تعمیر کر سکیں گی۔

ایک اور پہلو جو احمد حسین کے کام کو نمایاں کرتا ہے، وہ ان کا جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانا ہے۔ وہ سوشل میڈیا اور جدید مواصلاتی ذرائع کو برت کر عوام تک براہ راست رسائی حاصل کرتے ہیں۔ ایک ایس ایم ایس یا ایک کلک پر کتاب کی ڈیلیوری کا نظام نہ صرف جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہے بلکہ اس نے نوجوانوں میں کتابوں کے حوالے سے پیدا ہونے والی بے رغبتی کو بھی کم کیا ہے۔ یہ طریقہ کار نہ صرف تیز اور موثر ہے بلکہ اس نے کتابوں تک رسائی کو ایک جدید اور دلچسپ تجربہ بنا دیا ہے۔

احمد حسین کی شخصیت محض ایک کتاب فروش یا منتظم کی نہیں، بلکہ ایک معاشرتی مصلح کی ہے۔ وہ جہالت کے خلاف ایک خاموش مگر مضبوط جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان کا یہ مشن کسی ادارے یا تنظیم تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک اجتماعی آگہی کی تحریک ہے جس کا مقصد پورے صوبے اور پھر پورے ملک میں علم کی بیٹھک کو ہر گھر تک لے جانا ہے۔ ان کی کاوشیں اس بات کی غماز ہیں کہ اگر ہم چاہیں تو اپنے محدود وسائل کے باوجود بھی معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔

احمد حسین ان لوگوں میں سے ایک ہیں جو جہالت اور علم، غربت اور خوشحالی اور تقسیم و اتحاد کے درمیان پل کا کام کرتے ہیں۔ اپنی کوششوں کے ذریعے، وہ زندگیوں کو سنوارتے ہیں، افراد کو با شعور بناتے ہیں اور معاشروں کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔ تیزی سے ترقی کرتی ہوئی جدید دنیا میں سنجیدہ اور بامقصد مطالعے کو فروغ دینے والوں کا کام ناگزیر ہے کیونکہ وہ معاشرے کو سیکھنے سکھانے سے جوڑتے رہتے ہیں اور ہاں سب کے لیے ایک روشن، خوشگوار اور ایک زیادہ بامعنی مستقبل کو فروغ دیتے ہیں۔ یا اللہ محترم احمد حسین جیسے لوگوں کی عمر، صحت اور خوشیوں میں بے تحاشہ برکتیں شامل فرمائے۔

دو ڈھائی برس قبل کی بات ہے میں اور احمد حسین رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد میں منعقد ایک علمی اور ادبی پروگرام میں شریک تھے۔ ہم نے اس موقع پر دو دن ساتھ گزاریں اور مذکورہ پروگرام سے مستفید ہونے کی بھرپور کوشش کی۔ اس دوران مجھ پر احمد حسین کی خوبصورت شخصیت ظاہر ہوئی۔ صحت مند جسامت، بلند قد و قامت، سرخ و سفید رنگت، خندہ رو چہرہ، شگفتہ مزاجی، دوستانہ تعلقات بنانے کا جذبہ اور ہر دم مائل بہ حرکت طبیعت اور خوش گفتاری نے میرا دل موہ لیا۔ چند ملاقاتوں سے مجھے محسوس ہوا کہ گویا ہم دیرینہ دوست ہیں۔ احمد حسین محض ایک کتابی بندہ نہیں بلکہ زندگی سے بھرپور ایک نفیس اور ذہین انسان ہیں۔

کوئی ادراک کرے یا نہ کرے لیکن احمد حسین جیسے لوگ کسی بھی معاشرے کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں۔ وہ نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک مستحکم بنیاد رکھ رہے ہیں۔ ان کا یہ مشن محض چند کتابیں بانٹنے تک محدود نہیں، بلکہ یہ معاشرے کی سوچ کو بدلنے، اسے جہالت کے اندھیروں سے نکالنے اور ایک تابناک ذہن کی طرف لے جانے والا عظیم کام ہے۔ اللہ کرے کہ ان کی یہ کوششیں رنگ لائیں اور ہمارا معاشرہ علم و آگہی کی روشن راہوں پر چل نکلے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے