استاد ہیں مگر مربی نہیں:ایک المیہ

انسان جب دنیا میں آتا ہے تو اپنا نصیب بھی ساتھ لے کر آتا ہے۔ اسی نصیب میں اس کے لیے سب کچھ لکھا ہوتا ہے: اس نے کس کے گھر پیدا ہونا ہے، کس سے پڑھنا ہے، کون اس کی کفالت کرے گا، اس کے ہاں کون پیدا ہوگا، یہ کس کی کفالت کرے گا، اور کس کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری اس پر عائد ہوگی۔ الغرض ہر کسی کو اس کا کردار تفویض کیا گیا ہے اور ہم جہاں، جس پوزیشن میں ہیں، یہ کوئی حادثاتی واقعہ نہیں بلکہ پہلے سے بنائے گئے منصوبے کے تحت ہے۔ اس پورے منصوبے کے مطابق ہر کسی نے اپنی ذمہ داری نبھانی ہے اور یہی انسان کے امتحان کا مطلب ہے۔

اس کے مطابق دیکھا جائے تو کسی کا استاد ہونا بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ایک شاگرد جب کسی استاد کے سامنے بیٹھتا ہے تو دراصل یہ اس شاگرد کی تقدیر کا حصہ ہوتا ہے کہ تمہارے لیے فلاں کو بطور استاد منتخب کیا گیا ہے۔ اب یہ استاد پر منحصر ہوتا ہے کہ اس شاگرد کے حوالے سے اس پر جو ذمہ داری زندگی کے منصوبے کے تحت عائد ہوتی ہے، وہ اسے کس طرح نبھاتا ہے۔ اسی طرح استاد کی اس ذمہ داری کے نتائج کا معاشرے پر مرتب ہونا بھی ایک بدیہی امر ہے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ استاد ہی کے رویے پر منحصر ہوگا کہ اس کے شاگرد کا مستقبل میں کیا کردار ہوگا۔ استاد اگر اس سوچ کے ساتھ اپنا رویہ نہ بنائے کہ میرے سامنے جو تلامذہ بیٹھے ہیں، ان کی تعلیم و تربیت کے لیے قدرت نے میرا ہی انتخاب کیا ہے—اگر میں نے اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی اور غفلت کا مظاہرہ کیا تو اس کا مطلب یہی ہوگا کہ ان تلامذہ کے ضائع ہونے کا ذمہ دار میں ہوں گا، کیونکہ ان کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری میرے سوا اور کسی پر نہیں—اگر میں نے یہ ذمہ داری پوری نہ کی تو میرے طلبہ ادھورے رہ جائیں گے۔

مگر افسوس اس بات کا ہے کہ طلبہ کے حوالے سے اساتذہ کی اصل ذمہ داری یہ بنتی ہے کہ وہ ان کی شخصیتوں کو پروان چڑھانے میں ایسا کردار ادا کریں کہ وہ اپنی مثبت اور معقول روایات کے محافظ بنیں۔ اساتذہ انہیں ایسا تیار کرنے میں معاونت کریں کہ وہ بحیثیت اچھے انسان زندگی گزارنے کے لیے آمادہ ہوں اور معاشی لحاظ سے امانت و دیانت کے ساتھ اپنی اور اپنے متعلقین کی ضروریات پوری کرنے کے قابل بنیں۔ اور والدین بھی اسی سوچ کے ساتھ اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کی فکر کریں۔ ہمارے ہاں اس کے برعکس صورت حال یہ ہے کہ والدین کی یہ تمنا اور مقصد ہوتا ہے کہ ہمارے بچے زیادہ سے زیادہ نمبرز حاصل کریں اور وہ ڈاکٹر، سی ایس ایس اور ملٹری آفیسر بنیں۔ اور ہمارے ہاں کے کامیاب اساتذہ بھی وہی لوگ شمار ہوتے ہیں جو عین والدین کی تمناؤں کے مطابق ان کے بچوں کو زیادہ سے زیادہ نمبروں سے کامیاب کروائیں، خواہ وہ کسی بھی طریقے سے ہو: نقل سے ہو، سفارش سے ہو یا بورڈ میں مارکنگ میں کسی اور طریقے سے ہو۔

جب نتائج آتے ہیں تو والدین بھی خوش ہوتے ہیں اور اساتذہ بھی کہ ہم نے بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ مگر اس بات کی والدین اور اساتذہ کو قطعی طور پر کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ بچے تعلیمی اداروں میں آتے کیوں ہیں؟ ان کے آنے کا مقصد کیا تھا اور ہم نے اس مقصد سے انہیں ہٹا کر کس قسم کے غیر متعلقہ کام میں لگا دیا۔

والدین اور اساتذہ نے تعلیم کے جن مقاصد کو عملاً متعین کیا ہے، ان کی نامعقولیت کو ایک مثال سے دیکھیں۔ مثلاً میرے ساتھ میرا بیٹا کسی ہوٹل میں کھانے جاتا ہے۔ مجھے دال پسند ہے۔ دال کا کھانا مجھے لذیذ محسوس ہوتا ہے، مگر میں اپنے بیٹے سے یہ نہیں کہتا کہ تم بھی دال کھاؤ، بلکہ اس سے پوچھتا ہوں کہ تمہیں جو چیز پسند ہے، وہ آرڈر کرو۔ میں یہ اس لیے کرتا ہوں کہ میرا ذوق الگ ہے، میرے بیٹے کا ذوق الگ ہے۔ میں بیمار ہونے کی وجہ سے چاول نہیں کھا سکتا، جبکہ میرا بیٹا صحت مند ہے اور اسے چاول اچھے بھی لگتے ہیں۔ اگر ہوٹل میں، میں اپنے بیٹے کے لیے کچھ پسند کروں اور اس کے انتخاب کو نظر انداز کر دوں تو سب لوگ میرے اس فعل کو نامعقولیت سے تعبیر کریں گے۔ اس ضمن میں میری اتنی ذمہ داری بنتی ہے کہ میں ہوٹل میں بچے کے کھانے کا بل بھروں، صاف ہوٹل میں اسے لے جاؤں، اسے ایسے ہوٹل میں لے جاؤں جہاں حلال اور جائز چیزیں ملتی ہوں۔ اس کے بعد وہ دال کھاتا ہے یا مچھلی، یہ اس کی اپنی مرضی پر چھوڑ دو۔ بالکل اسی طرح والدین اور اساتذہ کی بھی صرف اتنی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بچے کو اچھا ماحول مہیا کریں جس میں وہ پڑھ سکے، اپنی تربیت کر سکے، اور یہاں سے نکل کر وہ بحیثیت اچھا شہری زندگی بسر کر سکے اور اپنے لیے حلال طریقے سے معاش کمانے کے قابل بن سکے۔ بچے میں اگر ڈاکٹر بننے کی صلاحیت ہے، تو اسے ڈاکٹر بننے دیا جائے؛ اگر اس میں دکاندار بننے کی اہلیت ہے، تو دکاندار بنے، مگر عملی زندگی میں مومن رہے اور کسب معاش میں دیانت دار رہے۔

یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ والدین اور اساتذہ کما حقہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے بعد سارے بچے راہ راست پر رہیں گے۔ نہیں، بلکہ ایسا بالکل ممکن ہے کہ اساتذہ اور والدین اپنی ذمہ داری کما حقہ پوری بھی کریں، مگر پھر بھی بچے بگڑ جائیں۔ ایسی صورت حال میں اساتذہ اور والدین کو مایوس نہیں ہونا چاہیے، بلکہ انہیں شکر کرنا چاہیے کہ ہمارے ذمے جو کام تھا، وہ ہم نے پورا کیا، اور بچے کے بگاڑ کی ذمہ داری ہمارے اوپر عائد نہیں ہوتی، بلکہ یہ خود بدبخت تھے کہ انہوں نے ہماری ذمہ داری سے استفادہ نہیں کیا۔ البتہ اگر کہیں کوئی کمزوری واقع ہوئی ہو تو اس کی اصلاح کرنی چاہیے۔

فی الحال ہمارے نظام تعلیم میں استاد طالب علم کو محض پیسہ کمانے کا فن سکھا رہا ہے اور اپنا پورا زور اس بات پر صرف کر رہا ہے کہ مستقبل میں یہ طالب علم اپنے فن کی بنا پر معاشرے میں بڑا نظر آئے، اگرچہ اس بڑے پن کی اور کوئی وجہ نہ ہو، بلکہ صرف پیسہ کمانے کا فن ہو، اور جس کرسی پر وہ بیٹھا ہو، فقط وہی کرسی ہو، اس کے علاوہ اس غریب کے پاس کچھ بھی نہ ہو: نہ اس کے پاس انسانی ہمدردی ہو، نہ دیانت ہو، نہ خدا کا خوف ہو، نہ معاشرے کے لیے اجتماعی سوچ ہو، نہ اس کی زندگی کا کوئی نصب العین ہو۔
ہاں، اگر کہیں وہ اخلاق حمیدہ کا کوئی مظاہرہ کرتا بھی ہو تو اس کے پیش نظر یہی ہوتا ہے کہ میں معاشرے میں بڑا نظر آ سکوں۔

ہمارے ہاں جو اساتذہ اس قسم کے فنکاروں اور بڑے بننے کے خواہشمندوں کو تیار کرتے ہیں، انہیں استاد مانا جاتا ہے اور سمجھا جاتا ہے۔

اس کی مثال بالکل ایسی ہے کہ لوہار کا کام لوہے کو گرم کرنا ہے، مگر وہ اپنی پوری صلاحیت اس میں لگائے کہ لوہا صرف سرخ نظر آئے، باقی اس بات سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو کہ جس مقصد کے لیے یہ پیشہ میں نے اپنایا ہے، وہ پورا بھی ہو رہا ہے یا نہیں۔

حکومتی سطح پر استاد کے پیشے کو کتنی اہمیت دی جاتی ہے، ذرا اس کے حال کو بھی ملاحظہ فرمائیں۔ حکومت دفتر چلانے کے لیے جن لوگوں کو لیتی ہے، انہیں سی ایس ایس کے کٹھن امتحان سے گزارا جاتا ہے، پھر اس کے بعد تقریباً دو سال کی انہیں تربیت کرائی جاتی ہے، حالانکہ انہوں نے دفتر کی مینجمنٹ کرنی ہوتی ہے یا کوئی اور مینجمنٹ کرنی ہوتی ہے۔

استاد، جو کہ انسان کی صلاحیتوں، خوبیوں اور خامیوں کی مینجمنٹ کرنے پر مامور ہوتا ہے، اس کو لینے کا طریقہ ایم سی کیوز ٹائپ کے ٹیسٹ اور ہلکی سی انٹرویو ہوتی ہے، جس میں اکثر کاغذات ہی کو دیکھا جاتا ہے۔ تدریس کے پیشے کو حکومتی سطح پر اتنا گرایا گیا ہے کہ اگر آپ ہزار طلبہ سے سوال کریں کہ مستقبل میں کیا بنو گے، تو ان میں شاید ایک ہی طالب علم آپ کو ملے جو یہ کہے کہ میں استاد بننا چاہتا ہوں۔
اساتذہ کی تربیت کا حکومتی سطح پر کیا بندوبست ہے، اس کا اندازہ قارئین اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ وہ ادارے جو ماڈل ادارے ہیں، ان میں اسے ایک غیر ضروری سرگرمی کے طور پر لیا جاتا ہے، اور اس سرگرمی میں خرچ کو عملاً ایک بیوقوفانہ فعل قرار دیا جاتا ہے۔

ہمارے ملک میں زیادہ تر طلبہ ان اساتذہ سے پڑھتے ہیں جن کی تنخواہ آج بھی محض چند ہزار ہے، خواہ وہ عصری ادارے ہوں یا دینی ادارے۔ کیونکہ پرائیویٹ سیکٹر میں جو اساتذہ پڑھاتے ہیں، ان کی تنخواہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

ہم نے سنا تھا کہ شوہر اور بیوی کے مابین اولاد کے سامنے جھگڑے، بحث و تکرار نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ یہ بچوں کی نفسیات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ مگر ہمارے تعلیمی اداروں میں جب اے سی یا ڈی سی آتے ہیں، تو اساتذہ کو چاپلوسی جیسا رویہ رکھنے کی ہدایت ملتی ہے، جبکہ اساتذہ کا یہ رویہ ان کے طلبہ براہ راست دیکھتے ہیں، جو کہ ان کی نفسیات پر برے طرح اثر انداز ہوتا ہے۔ اس قسم کے رویے اساتذہ کے عزت نفس اور خود اعتمادی کو مجروح کرتے ہیں، جبکہ یہ تو ہم سب کا مشاہدہ ہے کہ جن لوگوں میں خود اعتمادی نہیں ہوتی، وہ کبھی تخلیقی (creative) نہیں بن سکتے۔ اور جو خود تخلیقی نہ ہو، وہ مقلد ہی ہوگا، اور جو اس کا شاگرد ہوگا، وہ بھی مقلد ہی ہوگا، کیونکہ وہ اپنے استاد کو بحیثیت مقلد ہی دیکھتا چلا آیا ہوگا۔ سوچا جائے، جس قوم کے معمار کا یہ حال ہو کہ وہ مقلد ہو، تو اس پوری قوم کو کوئی مقلد کیوں نہ کہے؟

نظام تعلیم میں ان بنیادی مسائل سے ہمارے ہاں کے استاد اور والدین بھی بری الذمہ نہیں ہو سکتے، مگر ان کمزوریوں کی جڑ سرکار ہی ہے۔ الغرض، جو جتنا بڑا ہے، وہ اتنا بڑا مجرم ہے۔

ہم نے اگر اپنی قوم کو بنانا ہے تو ہمیں ایسے اساتذہ تیار کرنے ہوں گے جو واقعی قوم کے معمار بننے کے لائق ہوں۔ حکومت کو اساتذہ کے لیے ایسا ماحول مہیا کرنا ہوگا جو ان میں خود اعتمادی پیدا کرے، ان کے ظرف میں وسعت پیدا کرے، ان کے احساس محرومی اور احساس کمتری کا ازالہ کرے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے