سیلابی صورتحال اور پانی کا ضیاع

پاکستان اس وقت شدید موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا شکار ہے، جو بارشوں، سیلابوں اور قدرتی آفات کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔ رواں سال 2025 کے مون سون سیزن میں، خاص طور پر اگست کے مہینے میں، خیبر پختونخواہ اور پنجاب کے متعدد علاقے شدید بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف انسانی جانوں اور املاک کے ضیاع کا باعث بن رہی ہے بلکہ پانی کے وسائل کے غلط استعمال اور ضیاع کو بھی اجاگر کر رہی ہے۔ ایک طرف سیلابی پانی کی وجہ سے دیہات اور شہر زیر آب آ رہے ہیں، تو دوسری طرف لاکھوں ایکڑ فٹ پانی سمندر میں ضائع ہو رہا ہے۔

2025 کا مون سون سیزن پاکستان کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہا ہے۔ جون کے آخر سے اب تک، ملک بھر میں شدید بارشوں اور فلیش فلڈز کی وجہ سے کم از کم 739 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔ پنجاب، خیبر پختونخوا (کے پی)، سب سے زیادہ متاثر صوبے ہیں۔ خاص طور پر پنجاب میں، دریائے راوی، چناب اور ستلج میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو گئی ہے، جس کی ایک وجہ بھارت کی جانب سے اپنے ڈیموں سے اضافی پانی چھوڑنا ہے۔ 26 اگست 2025 کو، بھارت نے کشمیر کے علاقے میں اپنے ڈیموں کے تمام گیٹ کھول دیے، جس سے پاکستان کے شمال مشرقی پنجاب میں سیلاب کا خطرہ مزید بڑھ گیا۔

پنجاب کے اضلاع قصور، بہاولنگر، اوکاڑہ، بہاولپور، وہاڑی اور پاکپتن شدید متاثر ہیں۔ ریسکیو ٹیموں نے قصور سے 14,000 اور بہاولنگر سے 89,000 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے۔ سیالکوٹ میں 24 گھنٹوں میں 405 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو 11 سالہ ریکارڈ توڑ چکی ہے، جس سے شہر کی سڑکیں، گلیاں اور ریلوے ٹریک زیر آب آ گئے۔ بجلی کی سپلائی معطل ہونے سے شہر میں اندھیرا چھا گیا اور کاروباری زندگی مفلوج ہو گئی۔ شکرگڑھ اور نارووال کے علاقوں میں درجنوں دیہات سیلابی پانی میں گھر گئے، جبکہ ہزاروں ایکڑ فصلیں تباہ ہو چکی ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ گلیشیئرز کے پھٹنے سے مزید تباہی ہو سکتی ہے، اور 24 سے 28 اگست تک مزید بارشوں اور شہری سیلاب کا خطرہ ہے۔

یہ سیلاب موسمیاتی تبدیلی کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ورلڈ ویدر ایٹری بیوشن کی رپورٹ کے مطابق، 2025 کی شدید مون سون بارشیں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے مزید شدید ہوئی ہیں، جو خاص طور پر پنجاب اور شمالی علاقوں میں شہری سیلاب کو بڑھا رہی ہیں۔ اس بحران سے لاکھوں افراد کو بے گھر ہوسکتے ہیں، اور امدادی کام جاری ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے این ڈی ایم اے کو پنجاب کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی سے رابطے میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔

موجودہ سیلاب میں پانی کی مقدار کا اندازہ لگانا مشکل ہے، لیکن دریاؤں میں پانی کی سطح سے اندازہ ہوتا ہے کہ لاکھوں کیوسک پانی کا بہاؤ ہے۔

یکم اپریل 2025 سے اب تک، تقریباً 1 کروڑ 18 لاکھ ایکڑ فٹ (11.8 ملین ایکڑ فٹ) پانی سمندر میں بہہ چکا ہے، (یہ اعداد وشمار سیلابی صورتحال سے پہلے کے ہیں)جو ذخیرہ کی گنجائش سے زائد ہے۔ یہ اعداد و شمار پانی کے ضیاع کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔ پاکستان کے دریائے سندھ کے ڈیلٹا میں تازہ پانی کی مقدار 80 فیصد کم ہو چکی ہے، اور زرعی اور ماہی گیری کی کمیونٹیز تباہ ہو رہی ہیں۔ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (آئی آر ایس اے) کے مطابق، 2025 میں پانی کی متوقع کھپت 338 بلین کیوبک میٹر ہے، جس میں 100 بلین کیوبک میٹر کا شارٹ فال ہے۔ اس ضیاع کی وجہ ناکافی ذخیرہ، ناقص نہری نظام اور سیاسی اختلافات ہیں، جس سے زرعی پانی کا 60 فیصد ضائع ہو جاتا ہے۔

یہ سیلابی پانی کو نئی نہروں کے ذریعے استعمال میں لانا چاہیے، خاص طور پر چولستان جیسے صحرائی علاقوں کو سیراب کرنے کے لیے۔ چولستان کینال پروجیکٹ، جو گرین پاکستان انیشی ایٹو کا حصہ ہے، اسی مقصد کے لیے تجویز کیا گیا ہے۔ یہ پروجیکٹ 3.3 بلین ڈالر کا ہے اور دریائے سندھ سے 6 نہریں نکال کر چولستان کو سیراب کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس سے پنجاب کے صحرائی علاقوں میں زراعت کو فروغ مل سکتا ہے اور پانی کا ضیاع کم ہو سکتا ہے۔

تاہم، یہ پروجیکٹ شدید تنازعہ کا شکار ہے۔ سندھ کی پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی قیادت والی حکومت اور قوم پرست جماعتوں نے اسے "انا کا مسئلہ” بنا لیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ نہریں سندھ کے پانی کے حصے کو کم کریں گی، جو پہلے ہی پانی کی کمی کا شکار ہے۔ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت کو دھمکی دی کہ اگر پروجیکٹ واپس نہ لیا گیا تو پی پی پی اتحادی حکومت سے الگ ہو جائے گی۔ سندھ میں قوم پرست جماعتوں نے احتجاج کیا اور پی پی پی پر الزام لگایا کہ وہ پنجاب کی مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مل کر سندھ کے حقوق کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ پروجیکٹ سندھ کے پانی کے حصے کو متاثر نہیں کرے گا اور مشاورت کی جائے گی۔ تاہم، تنازعہ کی وجہ سے پروجیکٹ روک دیا گیا ہے۔ یہ پانی چولستان کی طرف موڑا جا سکتا تھا، لیکن پی پی پی اور قوم پرستوں نے اسے انا کا مسئلہ بنا کر ضائع ہونے دیا۔

یہ بحران سیاسی تقسیم اور ناقص منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔ ایک طرف سیلاب سے تباہی، دوسری طرف پانی کا سمندر میں ضیاع، جو پاکستان کی پانی کی کمی کو مزید شدید کر رہا ہے۔ 2025 تک فی کس پانی کی دستیابی 500 کیوبک میٹر سالانہ سے کم ہو جائے گی، جو پائیدار حد سے بہت کم ہے۔ چولستان نہریں ایک اچھا حل ہو سکتی ہیں، لیکن صوبائی حقوق کا احترام ضروری ہے۔ سندھ کا خدشہ جائز ہے، کیونکہ انڈس ڈیلٹا پہلے ہی سمندری مداخلت کا شکار ہے۔

آئی آر ایس اے اور این ڈی ایم اے کو پانی کی تقسیم اور ذخیرہ کے لیے مشترکہ منصوبہ بنانا چاہیے۔نئی نہریں بنانے سے پہلے تمام صوبوں کی مشاورت یقینی بنائی جائے۔موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ڈیمز اور نہری نظام کی اپ گریڈیشن ضروری ہے۔سیاسی جماعتوں کو قومی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے، نہ کہ صوبائی انا کو۔ پاکستان کو اس بحران سے نکلنے کے لیے متحد ہونا ہو گا، ورنہ پانی کی کمی اور سیلاب دونوں ملک کو مزید کمزور کریں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے