سنگاپور ایک چھوٹا سا ملک ہے۔ اس کا رقبہ ساڑھے سات سو مربع کلو میٹر ہے۔ سیدھی بات کریں تو سنگاپور کی لمبائی 50 کلو میٹر اور چوڑائی 27 کلو میٹر ہے۔ ھمارے اسلام آباد کا رقبہ سنگاپور سے کچھ بڑا ہے، یعنی نو سو مربع کلو میٹر۔ اس کی لمبائی 38 کلو میٹر اور چوڑائی 55 کلو میٹر ہے۔ اب ذرا کراچی کو ناپتے ہیں۔ کراچی کا رقبہ ساڑھے تین ہزار مربع کلو میٹر ہے۔ آسان لفظوں میں یوں سمجھیں کہ اگر سنگاپور کو کراچی کے اندر رکھا جائے تو تقریباً پانچ سنگاپور کراچی میں سما جائیں گے۔ اور اگر ھم پورے پاکستان کو دیکھیں تو پاکستان کی لمبائی شمال سے جنوب تک 1,600 کلومیٹر ہے۔ چوڑائی مشرق سے مغرب تک اوسطاً 885 کلومیٹر ہے۔ اور کل رقبہ 8,81,000 مربع کلومیٹر ھے۔ اس کا مطلب ھے پاکستان کے اندر بارہ سو سنگاپور رکھے جا سکتے ہیں۔
اب آپ بخوبی اندازہ کرسکتے ھیں سنگاپور کتنا چھوٹا سا ملک ہے۔ یہ چھوٹا ترین ملک اپنے صفائی اور نظم و ضبط میں دنیا کے بڑے بڑے ملکوں کو پیچھے چھوڑتا ہے۔ وہاں صفائی محض ایک بلدیاتی کام نہیں بلکہ قومی مزاج کا حصہ ہے۔ روزانہ لگ بھگ دو ہزار کے قریب بڑے ٹرک گھروں، دفاتر اور بازاروں سے کچرا جمع کرتے ہیں۔ یہ منظر عام شہروں کی طرح کسی بدبودار ڈمپنگ گراؤنڈ پر ختم نہیں ہوتا بلکہ یہ کہانی ایک نئے جنم کی طرف بڑھتی ہے۔ یہ سارا کچرا سیدھا ویسٹ ٹو انرجی پلانٹس تک لے جایا جاتا ہے۔ بڑے بڑے ریفوز بنکر ان گاڑیوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ وہاں بنکر کے اندر ہوا کا دباؤ باہر سے کم رکھا جاتا ہے تاکہ کچرے کی بو فضا میں نہ پھیلے۔ کچرے کے پہاڑ پھر آگ کے سپرد کیے جاتے ہیں۔ آتشیں دہانے اُنہیں 850 سے 1000 ڈگری سینٹی گریڈ کی گرمی میں جلا ڈالتے ہیں۔ اور یوں وہ کچرا جو شہروں میں جگہ گھیرتا ہے، اپنی جسامت کھو کر صرف دس فیصد راکھ میں بدل جاتا ہے۔
مگر اصل کرشمہ یہیں ہوتا ہے۔ جلنے سے جو بے پناہ گرمی پیدا ہوتی ہے، وہ پانی کو بھاپ میں بدل دیتی ہے۔ وہ بھاپ بڑے بڑے ٹربائنوں کو گھماتی ہے اور یوں بجلی کے چشمے پھوٹتے ہیں۔ صرف ایک پلانٹ، TuasOne، روزانہ 3600 ٹن کچرا کھاتا ہے اور 120 میگاواٹ بجلی پیدا کرتا ہے۔
دوسرا پلانٹ، Tuas South، تقریباً 3000 ٹن روزانہ جلا کر 80 میگاواٹ توانائی دیتا ہے۔ Senoko پلانٹ روزانہ 2310 ٹن پر عمل کرتا ہے اور 56 میگاواٹ بجلی پیدا کرتا ہے۔ ان سب کی مشترکہ کوششیں سنگاپور کی تین فیصد بجلی کی ضرورت پوری کر دیتی ہیں۔ یعنی وہ توانائی جو کوڑا کرکٹ میں گل سڑ کر زہر بن سکتی تھی، وہاں روشنی میں ڈھل جاتی ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنا کچرا جلے تو دھواں کہاں جائے؟ سنگاپور نے اس کا بھی کیا نفیس حل نکالا ہے۔ جدید فلٹرز، الیکٹروسٹیٹک پریسیپیٹیٹرز اور چونا ملے اسپرے گیسوں کو صاف کرتے ہیں۔ زہریلی گیسیں، کاربن کے ذرات اور آلودگی بیگ فلٹرز میں تھم جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ماہرین کہتے ہیں کہ ان پلانٹس سے نکلنے والا دھواں کسی عام بیک یارڈ باربی کیو سے بھی کم مضر ہے۔ جلنے کے بعد جو راکھ باقی رہتی ہے، اسے بھی فضول نہیں سمجھا جاتا۔ اس کا بڑا حصہ سمندر کے بیچوں بیچ ایک منفرد لینڈ فل، Pulau Semakau پر لے جایا جاتا ہے۔ یہ لینڈ فل دنیا کا واحد ایسا ذخیرہ ہے جو ماحولیاتی حسن کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
وہاں جنگلی حیات بھی ہے، سیاحتی دلچسپی بھی، اور صفائی کا سلیقہ بھی۔ راکھ میں چھپی ہوئی قیمتی دھاتیں — لوہا اور ایلومینیم — REMEX جیسی کمپنیاں نکال کر دوبارہ صنعتوں کو لوٹا دیتی ہیں۔ باقی معدنی اجزا تعمیراتی صنعت کو دے دیے جاتے ہیں تاکہ وہ سڑکوں اور عمارتوں میں استعمال ہو سکیں۔ کچھ محققین نے تو راکھ سے اینٹیں بنانے کے تجربات بھی کیے ہیں۔ یہ اینٹیں مستقبل کے سنگاپور کی عمارتوں میں لگیں تو عین ممکن ہے کہ کسی اسکائی اسکریپر کی بنیاد بھی پرانے کچرے کے سہارے کھڑی ہو۔
ہمارے سنگاپور سے 1200 گنا بڑے ملک میں جتنے بھی حکمران رہے، ان کا وژن کبھی بھی اس طرح کا نہیں رہا جیسا سنگاپور کے حکمرانوں اور انتظامیہ کا رہا ہے۔ بھٹو مرحوم بھی کوریا سے سیکھ کر آئے تو صرف اتنا کہ بڑے بڑے اسکولوں اور کالجوں کے بچوں کو اکٹھا کر کے ایک ساتھ بڑی کتابیں کھول کر حکمرانوں کا استقبال کیسے کیا جاتا ہے۔ جو منظر انہوں نے 1975-76 میں شاہ خالد کے استقبال پر دہرا دیا۔ پھر ان کی صاحبزادی حکمران رہیں، مگر اصلاحات کے بجائے سیاست کا محور اقتدار کے ایوان رہے۔ اس کے بعد نواز خاندان نے حکمرانی کے ریکارڈ توڑے اور زندگی کا بیشتر حصہ اپنے گھروں کے بجائے وزیراعظم ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس میں گزار دیا۔ عمران خان صاحب تشریف لائے تو سوائے انتقام کے اور کوئی سمت اختیار نہ کر سکے۔
ہمارے کسی رہنما نے، کسی سیاستدان نے اس حوالے سے ملک کے بارے میں کبھی نہیں سوچا کہ صفائی اور ویسٹ مینجمنٹ جیسے بنیادی مگر اہم ترین شعبے کو کس طرح قومی وقار اور ترقی کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔ میرے ملک کے ہر شہر، ہر قصبے اور ہر گاؤں میں کوڑے کے جو ماؤنٹ ایورسٹ کھڑے ہیں۔ اگر انہیں بھی سنگاپور جیسے نظام میں استعمال کیا جائے تو شاید ہمیں پورے ملک کے لیے بجلی وہیں سے مل جائے۔ لیکن ہمارے پاس نہ ایسا وژن ہے اور نہ ہی وہ نیت جو کچرے کو توانائی میں ڈھال سکے۔ جبکہ سنگاپور نے ایک ایسا نظام بنا لیا ہے جس میں کچرے کا لفظ ہی گویا بے معنی ہو گیا ہے۔ وہ ہر تھیلا، ہر ٹرک، ہر ٹن کچرے کو ایک نئے مقصد میں ڈھالتے ہیں۔ یہ محض صفائی نہیں، یہ ایک تہذیبی بیانیہ ہے کہ قومیں اپنے کوڑے کے ساتھ بھی باوقار زندگی گزار سکتی ہیں۔ ہمارے ہاں اکثر کوڑا کرکٹ ایک مستقل اذیت کی طرح گلیوں میں بکھرا رہتا ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ ایک چھوٹا سا ملک اپنے کچرے کو بجلی، لوہے اور اینٹوں میں بدل سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں؟
سنگاپور کی کہانی صرف صفائی کی نہیں، خودداری اور مستقبل بینی کی بھی ہے۔ وہاں کا ہر ٹرک ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اگر نیت ہو اور سلیقہ ہو تو کچرا بھی روشنی بن سکتا ہے۔ سنگاپور کے لوگ اپنے کچرے سے روشنی نکالتے ہیں، اور ہم اپنے شہروں کو اندھیروں میں ڈبو کر یہ سمجھتے ہیں کہ قصور صرف بجلی کا ہے۔ اصل اندھیرا تو ہمارے رویوں میں ہے، جو اگر بدل جائے تو شاید کوڑا بھی چراغ بن جائے۔
شہباز شریف صاحب ! قومیں ایسے بنتی ھیں
اُوں اُوں کی آوازیں نکالنے سے نھیں بنتیں