پاکستان کی ابھرتی ہوئی سفارت کاری، سہ فریقی اجلاس اور پاک چین رفاقت

پاکستان اور چین کی رفاقت دنیا بھر میں ایک مثال کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔ اس تعلق کو بیان کرنے کے لیے اکثر کہا جاتا ہے کہ یہ دوستی ہمالیہ کی چوٹیوں سے بھی بلند، شہد کی مٹھاس سے زیادہ شیریں اور سمندر کی گہرائیوں سے کہیں وسیع ہے۔ اس تعلق کی اصل بنیاد صرف حکومتی معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ عوام کے دلوں میں جمی ہوئی ہے۔ وقت کے ساتھ حکومتیں اور ان کی پالیسیاں بدلتی رہتی ہیں، لیکن عوامی محبت اور باہمی اعتماد ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ یہی وہ عنصر ہے جو پاکستان اور چین کے رشتے کو ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید مضبوط اور اٹوٹ ہوتا جاتا ہے۔

پاک چین تعلقات کی گہرائی اور اس کی پائیدار بنیادیں جہاں معاشی تعاون اور ثقافتی ہم آہنگی سے جڑی ہوئی ہیں، وہیں اس دوستی کا ایک نہایت اہم پہلو سکیورٹی اور خطے کے استحکام سے بھی مربوط ہے۔ چین اس حقیقت کو بخوبی سمجھتا ہے کہ اگر خطہ امن سے محروم ہوگا تو ترقی اور باہمی تعاون کے تمام خواب ادھورے رہ جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ بیجنگ نہ صرف اسلام آباد بلکہ کابل کے ساتھ بھی اپنے روابط کو مزید وسعت دینے پر زور دیتا ہے۔ پڑوسی ملک افغانستان، جو گزشتہ کئی دہائیوں سے داخلی انتشار اور بیرونی مداخلت کا شکار رہا ہے، آج خطے کے امن و سکون اور علاقائی تجارت کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ کابل کے ساتھ تعلقات میں توازن اور اعتماد اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ دہشت گرد عناصر کے لیے کوئی جگہ باقی نہ رہے۔

چینی وزیر خارجہ وانگ ژی کے حالیہ دورۂ کابل اور سہ فریقی اجلاس میں اس حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ اس اجلاس میں افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے اپنے چار سالہ دورِ اقتدار کا خلاصہ کرتے ہوئے کہا کہ طالبان حکومت نے اپنی خارجہ پالیسی کا مرکز معیشت اور تجارت کو بنایا ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ خطے کے بڑے کھلاڑیوں نے افغانستان کو یہ باور کرایا کہ اقتصادی ترقی کے خواب اس وقت تک محض سراب ہی رہیں گے جب تک سیکیورٹی اور سلامتی کے بنیادی مسائل حل نہیں کر لیے جاتے۔ گویا کابل کی حکمتِ عملی پر یہ سوال کھڑا کیا گیا کہ ’’اکیلے اکیلے کدھر جا رہے ہو، پہلے امن و استحکام کی دیوار کھڑی کرو۔‘‘

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ افغانستان کو روس کے علاوہ دنیا نے تاحال باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔ جس کی وجہ سے عالمی سطح پر معاہدوں اور بینکنگ نظام، فنڈنگ ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ طالبان حکومت اب پاکستان اور چین جیسے قریبی ممالک سے یہ توقع وابستہ کیے بیٹھی ہے کہ وہ عالمی سطح پر کابل کو جائز حیثیت دلوانے میں کردار ادا کریں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں مسلح گروہوں کی ہر قسم موجود ہے۔ ان کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی متعدد توجیہات افغان حکومت کے پاس ضرور ہیں، لیکن عالمی برادری انہیں ماننے کو تیار نہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جو چین، پاکستان، امریکہ اور ایران سب کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ پاکستان اور چین کا مطالبہ ہے کہ کابل تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) (بی ایل اے) اور چینی عسکریت پسندوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرے، جبکہ ایران اور امریکہ کی توجہ داعش کے خطرات پر مرکوز ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وسطی ایشیائی شدت پسند گروہوں کے اثرات بھی خطے میں عدم استحکام کو بڑھا رہے ہیں۔

خطے کے وسیع تر منظرنامے میں سی پیک کا ذکر ناگزیر ہے۔ یہ منصوبہ پاکستان اور چین کی مشترکہ شناخت ہے اور ’’بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو‘‘ کا فلیگ شپ تصور کیا جاتا ہے۔ ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے، سی پیک کو افغانستان تک توسیع دینے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ لیکن یہ شمولیت پاکستان کے فیصلہ کن کردار کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ عسکریت پسندی کے خلاف تعاون کے معاملے پر امریکہ اور چین اپنی اپنی وجوہات کی بنا پر پاکستان کو تیار دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن پاکستان بھی تب ہی فیصلہ کن کارروائی کر سکتا ہے جب کابل انٹیلی جنس شیئرنگ میں مخلص تعاون کرے۔ اگر ایسا ہوا تو خطے میں امن کی راہیں کھل سکتی ہیں، ورنہ یہ تمام منصوبے محض کاغذوں میں ہی دبے رہ جائیں گے۔

افغانستان میں سہ فریقی اجلاس کے بعد چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی اسلام آباد پہنچے، جہاں وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ کے مابین اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے چھٹے دور کا انعقاد ہوا جس میں پاک چین تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تفصیل سے غور کیا گیا۔ ملاقات میں سی پیک کے دوسرے مرحلے، تجارتی و اقتصادی تعاون، کثیرالجہتی روابط اور عوامی سطح کے تعلقات کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔ اس موقع پر پاکستان اور چین کے رہنماؤں نے ایک بار پھر اس امر کو اجاگر کیا کہ ’’آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ‘‘ ایک حقیقت ہے، جو نہ صرف دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ضروری ہے بلکہ خطے کے امن و استحکام کی ضمانت بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد اور بیجنگ نے طے کیا کہ دوطرفہ اور کثیر جہتی فورمز پر قریبی رابطہ کاری اور مربوط حکمت عملی کو جاری رکھا جائے گا۔

پاکستان کے لیے پورے خطے کی صورتحال اور عالمی سطح پر سیاسی ماحول نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ ایک جانب وہ چین کے ساتھ اپنی لازوال رفاقت کو مزید تقویت دینے کا خواہاں ہے، جو ہمالیہ سے بلند اور سمندر سے گہری سمجھی جاتی ہے، دوسری جانب وہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کو نئے دور میں داخل کر چکا ہے جبکہ روس، جاپان ، جرمنی اور تمام مغربی ممالک کے ساتھ بھی حالیہ اجلاسوں میں اہم پیش رفت ہو چکی ہے۔ یہ بات اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پاکستان کی سفارتی پوزیشن عالمی سطح پر پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکی ہے۔

البتہ باقی رہ جانے والا بڑا کھلاڑی بھارت ہے، جس کے لیے ضروری ہے کہ وہ بھی یہ حقیقت تسلیم کرے کہ خطے میں امن و استحکام پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بحال کرنے اور تمام معاملات پر باہمی اتفاق رائے اور مذاکرات کرنے سے ہی ممکن ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ چین اس حوالے سے بھارت پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے گا۔ مگر افسوس کہ بھارت میں انتہا پسند سوچ رکھنے والی ہندو تنظیمیں، اور بی جے پی کی سیاست نے وزیراعظم نریندر مودی کو روزانہ کی بنیاد پر جنگی جنون میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ایسے میں پاکستان نے ہمیشہ صبر اور حکمت سے معاملات کو سلجھانے کی کوشش کی ہے، اور جب بھی ضرورت پیش آئی تو بھرپور جواب دے کر دشمن کو سُبکی کا سامنا کرایا ہے۔ اسی تناظر میں یہ امر بھی ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان، چین اور بھارت کوئی راستہ نکالیں، تاکہ مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کا خاتمہ ہو اور خطے میں حقیقی امن قائم ہو۔

ان تمام چیلنجز کے باوجود پاکستان نہ صرف اپنی سرزمین پر دہشت گردی کے مسائل کا مقابلہ کر رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک باوقار اور طاقتور ریاست کے طور پر ابھر رہا ہے۔ فلسطین کے معاملے پر بروقت آواز بلند کرنا ہو یا دنیا کے مظلوموں کے حق میں کھڑا ہونا، پاکستان نے ہمیشہ اپنی ذمے داری نبھائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قراقرم کی برف پوش وادیوں سے لے کر گلگت بلتستان کے سنگلاخ پہاڑوں تک کی یہ جغرافیائی حقیقت صرف ایک خطہ نہیں بلکہ ایک ایسا پاکستان ہے جو آج عالمی طاقتوں کا مرکزِ نگاہ بن چکا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے