ماں

ماں وہ عظیم ہستی ہے جس کی محبت کو رب کائنات نے مخلوق کے ساتھ اپنی بے پناہ محبت کو سمجھانے کے لیے بطور مثال پیش فرمایا ہے۔ ماں کی محبت اتنی خالص ہے کہ اس میں مادّے کا گزر تک نہیں، اگرچہ مادّے کو انسانوں نے پرستش کے لائق قرار دیا ہے۔ ماں وہ ہستی ہے جسے ادیبوں نے اپنے ادب کی خوبصورتی کا واسطہ بنایا۔

کسی کی بات پر انتہائی ناراضگی کے اظہار کے لیے لفظ "ماں” کا انتخاب کیا جاتا ہے، جیسے "تمہاری ماں تم پر روئے”۔

ماں کو خدا نے اتنی عظمت دی ہے کہ سارے جہاں میں اگر باہمی رحمت ختم ہو جائے، ہر کوئی درندہ صفت بن جائے، مگر ماں کی محبت ویسی کی ویسی رہے گی، اس میں کمی نہیں آ سکتی۔ کیونکہ والدین کے لیے رحمت کی دعا مانگنے میں خدا نے فرمایا:

وَاخۡفِضۡ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحۡمَةِ وَقُلْ رَّبِّ ارۡحَمۡهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِىۡ صَغِيۡرًا ۞
ترجمہ:”اور نرمی اور رحم کے ساتھ ان کے سامنے جھک کر رہو اور دعا کرو، اے پروردگار، ان پر رحم فرما جس طرح انہوں نے رحمت و شفقت کے ساتھ مجھے بچپن میں پالا تھا۔”

چونکہ خدا کی رحمت لازوال ہے، اس لیے اس کے مانگنے کا وسیلہ بھی لازوال ہے۔ اور یہاں اس نے اپنی رحمت کے مانگنے کے وسیلے کے طور پر بچوں پر والدین کی رحمت و شفقت کو قرار دیا، جس میں ماں بھی شامل ہے۔ اس لیے جب تک دنیا ہے، اس دنیا میں انسان کو رحمت خداوندی کے وسیلے کی ضرورت ہے، اس وقت تک ماں کی رحمت و شفقت بھی قائم رہے گی۔

جس ہستی کے بارے میں خدا نے ہمیں حکم دیا کہ اس سے اپنی جانوں سے بھی زیادہ محبت رکھو، اس کے ساتھ محبت کے اظہار کے لیے صحابہ کرام ماں، باپ ہی کے الفاظ استعمال کرتے تھے: "فداک اُمی و ابی یا رسول اللہ”۔

ماں عظمت کا وہ مینار ہے جس کے قدموں کو بھی خدا نے مقدس بنایا اور اپنی وہ جنت، جس کے حصول کے لیے اس نے انسانوں پر اپنی بندگی کو لازم کیا، اسے اسی ہستی کے قدموں کے نیچے رکھا۔

ماں کائنات کی وہ منفرد تحفہ خداوندی ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام نے اپنے بھائی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے لفظ "ماں” ہی کا استعمال کیا، حالانکہ اس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کی بیہودہ مشرکانہ حرکت پر سخت نالاں تھے:

وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰٓى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا ۙ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِىۡ مِنۡۢ بَعۡدِىۡ ۚ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ ۚ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ۚ قَالَ ابۡنَ اُمَّ اِنَّ الۡـقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِىۡ وَكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِىۡ ۖ فَلَا تُشۡمِتۡ بِىَ الۡاَعۡدَآءَ وَ لَا تَجۡعَلۡنِىۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ۞
ترجمہ: "ادھر سے موسیٰ (علیہ السلام) غصے اور رنج میں بھرا ہوا اپنی قوم کی طرف پلٹا۔ آتے ہی اس نے کہا: بہت بری جانشینی کی تم لوگوں نے میرے بعد! کیا تم سے اتنا صبر نہ ہوا کہ اپنے رب کے حکم کا انتظار کر لیتے؟ اور (یہ کہہ کر) تختیاں پھینک دیں اور اپنے بھائی (ہارون) کے سر کے بال پکڑ کر اسے کھینچا۔ ہارون نے کہا: اے میری ماں کے بیٹے، ان لوگوں نے مجھے دبا لیا اور قریب تھا کہ مجھے مار ڈالتے۔ پس تو دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دے اور اس ظالم گروہ کے ساتھ مجھے نہ شامل کر۔”

ماں اپنی اولاد پر ایسی مہربان ہستی ہے کہ ابھی وہ پیدا بھی نہیں ہو چکا ہوتا، بلکہ رحم میں ہی ہوتا ہے تو اس کی زبان پر یہ دعا ہوتی ہے:

فَلَمَّا تَغَشّٰٮهَا حَمَلَتۡ حَمۡلًا خَفِيۡفًا فَمَرَّتۡ بِهٖ ۚ فَلَمَّاۤ اَثۡقَلَتۡ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَئِنۡ اٰتَيۡتَـنَا صَالِحًا لَّـنَكُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيۡنَ ۞
ترجمہ: "پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا، جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تو نے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے۔”

اولاد کے لیے خدا نے ماں کو اتنا محترم بنایا کہ اگر وہ ظلم عظیم یعنی شرک میں بھی مبتلا ہو تو اس کے باوجود خدا نے اولاد کو اس کے ساتھ بھلائی کا حکم دیا اور فرمایا:

وَاِنۡ جَاهَدٰكَ عَلٰٓى اَنۡ تُشۡرِكَ بِىۡ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهٖ عِلۡمٌ ۙ فَلَا تُطِعۡهُمَا ۚ وَصَاحِبۡهُمَا فِى الدُّنۡيَا مَعۡرُوۡفًا ۖ
ترجمہ: "لیکن اگر وہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ میرے ساتھ تو کسی ایسے کو شریک کرے جسے تو نہیں جانتا تو ان کی بات ہرگز نہ مان۔ دنیا میں ان کے ساتھ نیک برتاؤ کرتا رہو۔”

غور کریں، والدین (جس میں ماں بھی شامل ہے) نہ صرف خود شرک کریں بلکہ اولاد پر بھی شرک کے لیے دباؤ ڈالیں، اس کے باوجود بھی ان کے ساتھ دنیا میں بھلائی کرنے کی تعلیم دی جا رہی ہے۔

ماں کی عظمت کا اعتراف خدا نے انسان سے اسی دنیا میں سرعام سارے لوگوں کے سامنے کرایا، جب وہ گہوارے میں تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ماں پر جب لوگوں نے تہمت لگائی:

يٰۤـاُخۡتَ هٰرُوۡنَ مَا كَانَ اَ بُوۡكِ امۡرَاَ سَوۡءٍ وَّمَا كَانَتۡ اُمُّكِ بَغِيًّا ۞
ترجمہ: "اے ہارون کی بہن، نہ تیرا باپ کوئی برا آدمی تھا اور نہ ہی تیری ماں کوئی بدکار عورت تھی۔”

اس کے جواب میں مریم علیہا السلام نے اپنے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام کی طرف اشارہ کیا جو اب تک گہوارے میں تھا، جس پر معترضین نے تعجب کا اظہار کیا کہ یہ تو ابھی گہوارے میں پڑا ہوا چند دنوں کا بچہ ہے، یہ ہمیں اپنی ماں کی کیا صفائی دے سکتا ہے؟ جس پر وہی بچہ اپنی ماں کی صفائی میں گویا ہوا:

قَالَ اِنِّىۡ عَبۡدُ اللّٰهِ ؕ اٰتٰٮنِىَ الۡكِتٰبَ وَجَعَلَنِىۡ نَبِيًّا ۞
ترجمہ:”بچہ بول اٹھا: میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب دی اور نبی بنایا۔”

ماں وہ عظیم ہستی ہے کہ خدا کے پیغمبر صلى الله عليه وسلم نے اس کی عظمت اور حق کے بارے میں ایک صحابی سے فرمایا کہ اگر تو اپنی ماں کو کندھوں پر اٹھا کر طواف کرائے تو بھی تو نے اس کے ایک سانس کا حق ادا نہیں کیا۔

ماں وہ عظیم ہستی ہے کہ اس کے سامنے "اُف” تک کہنے پر خدا نے پابندی عائد فرمائی اور اپنے کلام میں دوٹوک انداز میں فرمایا:

وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِيَّاهُ وَبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا ۚ اِمَّا يَـبۡلُغَنَّ عِنۡدَكَ الۡكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوۡ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّلَا تَنۡهَرۡهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوۡلًا كَرِيۡمًا ۞
ترجمہ: "تیرے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم لوگ کسی کی عبادت نہ کرو مگر صرف اس کی، اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ اگر تمہارے پاس ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بوڑھے ہو کر رہیں تو انہیں ‘اُف’ تک نہ کہو، نہ انہیں جھڑک کر جواب دو، بلکہ ان سے احترام کے ساتھ بات کرو۔”

اس آیت میں ایک لفظ "اِحْسَان” آیا ہے جس کے مختلف معنی ہیں، جن میں ایک معنی یہ بھی ہے کہ کسی کے ساتھ ایسی نیکی کرنا جو اس کے آپ کے ساتھ کی ہوئی نیکی سے بڑھ کر ہو۔ اس سے پہلے ماں کے حق کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کا اشارہ کیا گیا، جس میں آپ نے حج کے دوران ماں کو کندھوں پر اٹھا کر طواف کرانے کا ذکر فرمایا، جس کا مطلب یہ ہے کہ ماں کا حق ادا کرنا ناممکن ہے۔ تو پھر یہاں "اِحْسَان” کا معنی اس تناظر میں اور کیا ہو سکتا ہے کہ والدین (جس میں ماں بھی شامل ہے) کے سامنے اپنے آپ کو خاک کر دو۔ یہاں اس بات سے بھی منع کیا گیا ہے کہ والدین سے بات کرتے وقت احترام کا دامن تھامے رکھو، ان کے سامنے جب گفتگو کرو تو عاجزی اور نرمی سے کرو، ان کے سامنے ایسے رویے کا اظہار کرتے رہو جس میں کرم اور نرمی ہو، عاجزی ہو۔

اسلام میں ماں کے کردار کو اتنا عظیم بنایا کہ خاندانی نظام کو اسی کا مرہون منت ٹھہرایا۔ اور یہ جو اسلامی تہذیب میں خاندانی نظام کو اتنی اہمیت دی گئی ہے، اس میں خاص طور پر ماں کا کردار نہایت اہم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ماں ہی کی ہستی ہے جس کے گود میں بچے کی تربیت ہوتی ہے اور اسی تربیت کے نتیجے میں بچہ بحیثیت مسلمان زندگی گزارنے کے قابل بنتا ہے۔ اور یہ ماں ہی کے تربیت کا نتیجہ ہوتا ہے کہ معاشرے کو ایسے افراد مہیا ہوتے رہتے ہیں جن سے معاشرہ مسلسل مستفید ہوتا رہتا پے ۔

ماں کی عظمت اتنی بلند ہے کہ اس کی شان پر جتنا بھی سوچا جائے، کم ہے۔ اس ہستی کی عظمت کے شایانِ شان بیان کرنے کے لیے خدا کے کلام کے علاوہ کوئی ماخذ نہیں ملتا۔ اس لیے ماں کی عظمت کے بیان کے لیے اس تحریر میں خدا کے کلام ہی کا سہارا لیا گیا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے