شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس چین میں ہورہا ہے

2025 کا شنگھائی تعاون تنظیم سربراہ اجلاس 31 اگست سے یکم ستمبر تک چین کے شہر تھیان جن میں منعقد ہوگا ۔ یہ پانچویں مرتبہ ہے کہ چین شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہےاور موجودہ اجلاس شنگھائی تعاون تنظیم کے قیام کے بعد سے اب تک سب سے بڑا سربراہی اجلاس ہوگا۔ اس موقع پر چینی صدر شی جن پھنگ 20 سے زائد غیر ملکی رہنماؤں اور 10 بین الاقوامی اداروں کے سربراہان کے ساتھ تھیان جن میں اکٹھے ہوں گے۔ اس اجلاس کی ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ اگلے 10 سال کے لئے ایس سی او کی ترقیاتی حکمت عملی بھی جاری کی جائے گی۔

شنگھائی تعاون تنظیم کی حالیہ صدارت سنبھالنے کے بعد سے چین نے توانائی، موسمیاتی تبدیلی، غذائی تحفظ اور غربت میں کمی کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے تبادلے اور صحت عامہ جیسے بہت سے اہم شعبوں میں بہترین کارکردگی دکھائی ہے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے ساتھ ساتھ ایس سی او کونسل اور ایس سی او + کے اجلاس بھی ہوں گے جن کی صدارت چینی صدر شی جن پھنگ کریں گے۔ چین میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کی تمام تر تیاریاں مکمل کر لی گئیں ہیں۔ تھیان جن شہر کو سجا دیا گیا ہے۔

چین نے 1996ء میں قازقستان، کرغزستان، روس اور تاجکستان کے ساتھ مل کر شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی بنیاد ’شنگھائی فائیو‘ کے نام سے رکھی تھی، بعد ازاں جون 2001ء میں ان پانچوں ممالک کے رہنماؤں نے شنگھائی میں ازبکستان کے رہنماؤں کے ساتھ ایک ملاقات کی اور اس ملاقات کے دوران یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور عسکری تعاون کے عزم کے ساتھ ’’شنگھائی فائیو‘ کو ’شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او)میں تبدیل کرنے کا اعلان کر دیا۔

اس نئی تنظیم نے ابتدائی طور پر سرحدی تنازعات کو حل کرنے اور فوجی معاملات میں باہمی اعتماد کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کی لیکن جلد ہی یہ علاقائی تعاون کیلئے ایک وسیع پلیٹ فارم کی شکل اختیار کر گیا، تنظیم کے مینڈیٹ میں سکیورٹی، اقتصادی اور ثقافتی تعاون کا احاطہ کیا گیا، جو خطے کے پیچیدہ جغرافیائی سیاسی ماحول میں باہمی انحصار کی عکاسی کرتا ہے۔

2001 میں ازبکستان بھی باقاعدہ طور پر اِس تنظیم کا حصہ بن گیا جِس کے بعد اِسے شنگھائی تعاون تنظیم کا نام دے دیا گیا۔2002 میں اِس تنظیم کا چارٹر مکمل کیا گیا، 2001 سے 2008 تک شنگھائی تعاون تنظیم نے تیزی سے ترقی کی اور اقتصادی و دفاعی امور سے نمٹنے کے لیے مختلف مستقل ادارے قائم کیے۔

2005 میں پاکستان اور بھارت کے نمائندوں نے پہلی مرتبہ قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کی جِس میں قازقستان کے صدر نزار بائیوف نے شریک ممالک کے لیے تاریخی الفاظ استعمال کیے،اُنہوں نے کہا اس کانفرنس میں ” آدھی انسانیت کی ترجمانی ہو رہی ہے”۔ واضح رہے اس اجلاس میں ایران اور منگولیا کے نمائندے بھی پہلی مرتبہ شریک ہوئے تھے۔

2017 میں پاکستان اور بھارت نے پہلی مرتبہ بطور مستقل رکن ممالک اِس کانفرنس کے اجلاس میں شرکت کی۔ اِس تنظیم کا مقصد رکن ممالک کے درمیان دفاعی، سیاسی، سماجی،اور معاشی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ علاقائی تنظیموں کے لحاظ سے یہ دُنیا کی سب سے بڑی تنظیم ہے جو دُنیا کے 24 فیصد رقبے اور 42 فیصد آبادی کو اپنے اندر ضم کیے ہوئے ہے۔اگر اِس کے رکن ممالک کا مجموعی جی ڈی پی نکالا جائے تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں شنگھائی تعاون تنظیم دُنیا کا 36فیصد جی ڈی پی نکال رہی ہے۔

گزشتہ سال 2024 میں شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں منعقد ہوا تھا۔ یہ پہلی مرتبہ تھا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کی پاکستان نے میزبانی کی تھی۔ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے 14 ستمبر 2001ء سے لے کر اب تک 23 سربراہی اجلاس ہو چکے ہیں اور 24 واں سربراہی اجلاس 31 اگست اور یکم ستمبر کو چین کے شہر تھیان جن میں ہونے جا رہا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے