فطرت سے محبت: ایک صحت مندانہ طرزِ زندگی کا راز

2017 کو جنگ سنڈے میگزین میں کینسر پر خصوصی رپورٹس، مضامین اور انٹرویوز کا مطالعہ کر رہا تھا، ایک خاتون ڈاکٹر سے صحافی نے پوچھا "کینسر کی روک تھام کیسے ممکن ہے” ؟ ڈاکٹر نے بلا توقف جواب دیا "فطرت کے قریب تر رہنے سے”، مزید کہا "جتنا ہم فطرت سے قریب رہیں گے اتنا ہی بیماریوں سے دور رہیں گے اور جتنا فطرت سے دور رہیں گے اتنا ہی بیماریوں سے قریب ہوں گے”۔

میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے اپنے دل کو فطرت کی محبت سے بھرا پایا ہے۔ فطرت انسانیت کی آغوش ہے اور اس کی قربت سکون کا باعث اور حفاظت ایک بہت بڑا انسانی فریضہ ہے۔ ہماری صحت و سلامتی اور سکون و اطمینان میں فطرت کے عمل دخل کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ فطرت کے خزانوں سے استفادے کا حق ہمیں حاصل ہے لیکن یہ حق کسی صورت حاصل نہیں کہ ہم اپنی نامناسب خواہشات کی تکمیل کے لیے قدرتی ماحول کو نقصان پہنچانا شروع کر دیں۔

‎فطرت سے قربت محض جسمانی بیماریوں سے نجات کا ذریعہ نہیں، بلکہ یہ ہماری ذہنی اور جذباتی صحت کا بھی سنگ بنیاد ہے۔ جدید زندگی کے تیزرفتار اور پرتشدد دور میں تناؤ، بے چینی اور ڈپریشن ایسے عوارض ہیں جو ہمارے معاشروں کو اندر سے کھوکھلا کر رہے ہیں۔ ایسے میں فطرت کا پرسکون اور شفاف ماحول ایک قدرتی علاج کی حیثیت رکھتا ہے۔ کسی پر سکون جنگل میں سیر، پرندوں کی چہچہاہٹ سننا، یا کسی شفاف ندی کے کنارے بیٹھ کر لمبی سانسیں لینا، یہ سب ایسی طبی مشقیں ہیں جو ہمارے اندر چھپے ہوئے نفسیاتی دباؤ کو خارج کرتی ہیں اور ہمیں ازسرِنو توانائی اور امید سے بھر دیتی ہیں۔ قدرت کے اس علاج گاہ سے استفادہ کرنا ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔

‎فطرت سے محبت دراصل انسان کی اپنی بقا سے محبت ہے۔ ہماری زمین کا ماحولیاتی نظام ایک نازک اور پیچیدہ تاروں کا بنا ہوا جال ہے، جہاں ہر عنصر دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ درختوں کی بے دریغ کٹائی، دریاؤں اور فضا کو آلودہ کرنا، اور زمین کے وسائل کا غیرمنصفانہ استعمال درحقیقت اس جال کو تار تار کرنے کے مترادف ہے۔ جب ہم ماحول کو نقصان پہنچاتے ہیں تو یہ نقصان ایک دن ہمارے ہی اوپر لوٹتا ہے، جو آلودہ پانی، مضر صحت ہوا اور موسمیاتی تبدیلیوں کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ فطرت کی حفاظت کوئی رومانوی خیال نہیں بلکہ ایک انتہائی عملی، ضروری اور فوری توجہ کا مستحق اقدام ہے، جس پر ہم سب کی اجتماعی فلاح و بہبود کا انحصار ہے۔

‎فطرت کے سامنے کھڑے ہو کر انسان اپنے وجود کی حقیقی عظمت اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی بے بسی دونوں کا ادراک کرتا ہے۔ ایک طرف پہاڑوں کی عظمت، سمندروں کی وسعت اور آسمان کی بے کراں بلندیاں انسان کو اس کائنات میں اپنے مقام کا احساس دلاتی ہیں، تو دوسری طرف ایک چھوٹا سا پھول، شبنم کا قطرہ یا پرندوں کی ماہرانہ پرواز اسے زندگی کی نزاکت اور خوبصورتی سکھاتی ہے۔ یہ مشاہدہ انسان کے اندر عجز، انکسار اور شکرگزاری کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ یہی وہ جذبات ہیں جو اسے اپنے خالق کی جانب راغب کرتے ہیں اور اخلاقیات کے اعلیٰ معیارات پر چلنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ فطرت، درحقیقت، روحانی تسکین اور اخلاقی تربیت کی سب سے بڑی استاد ہے۔

‎یہ خوش آئند بات ہے کہ جدید سائنس اب اس قدیم حکمت کی تصدیق کر رہی ہے جسے ہمارے آباؤ اجداد ہزاروں سال سے جانتے ہیں۔ تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ شہری آبادیوں کے مقابلے میں فطری ماحول میں وقت گزارنے والے افراد میں تناؤ کے ہارمونز کی سطح نمایاں طور پر کم ہو جاتی ہے، بلڈ پریشر بہتر ہوتا ہے اور قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہی نہیں، بلکہ ڈاکٹر اب مریضوں کو باقاعدہ باغبانی تھراپی جیسے نسخے تجویز کر رہے ہیں۔ ان حقائق کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی انفرادی زندگیوں میں تو فطرت کے ساتھ تعلق استوار کر رہے ہیں لیکن اجتماعی سطح پر شہروں کے منصوبہ بندی میں بھی پارکوں، سبزہ زاروں اور جنگلات کے تحفظ و توسیع کو لازمی قرار دیں۔ اس طرح ہم ایک ایسی صحت مند نسل پروان چڑھا سکتے ہیں جو کہ نہ صرف جسمانی طور پر توانا ہوگی بلکہ ذہنی اور روحانی طور پر بھی مضبوط ہوگی۔

انسان کی صحت اور سلامتی کا تقاضا ہے کہ وہ فطرت سے قربت اور محبت بڑھائیں اور ان تمام رویوں اور سرگرمیوں سے اجتناب برتیں جو فطرت کے دائروں میں بگاڑ کا موجب بنتا ہوں۔ دنیا میں رہتے ہوئے ہمیں یہ بات قطعاً نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ یہاں ہم سب کو، اپنی دیرپا سلامتی کے پیشِ نظر نہایت احتیاط، ادراک، توازن اور احساس کے ساتھ رہنا ہوگا بصورت دیگر کئی سنگین خطرات ہماری سلامتی کو غیر یقینی بنا دیں گے۔

فطرت سے محبت ایک گہرا اندرونی احساس ہے، جس کی جڑیں خود انسانی فطرت میں پیوست ہیں۔ فطرت کے منظر نامے پر پھیلے مناظر کی حیرت انگیز خوبصورتی، جنگلات کا پرسکون گرد و پیش اور سمندروں کا لہروں پر مبنی رقص یہ سب ایک حیرت اور مسرت کا احساس پیدا کرتے ہیں جو ہمارے اندر گونجتا ہے۔ فطرت سے یہ قربت ہمارے فلاح و بہبود کے قدرتی تقاضوں کی پرورش کر رہی ہے، جو کہ ایک تیز رفتار دنیا میں سکون کا باعث ہے۔ غروب آفتاب کے پرسکون لمحات ہو یا پتوں کی ہلکی پھلکی موسیقی یہ سب ہماری روحوں کو تازہ کرتی ہے اور جدید طرز زندگی کے کچھ نامطلوب اثرات سے ٹھیک ٹھاک تحفظ فراہم کرتی ہے۔

زمین کے درینہ باشندوں کے طور پر، انسانوں کے اوپر فطرت کی حفاظت ایک اہم ذمہ داری کے طور پر عائد ہوتی ہے۔ ہمارے غیر محتاط اعمال نازک ماحولیاتی نظام اور خود زندگی کے توازن کو متاثر کرتے ہیں۔ جنگلات کی کٹائی، آلودگی پھیلانے اور وسائل کے زیادہ یا غیر منصفانہ استعمال کے ذریعے، ہم اس ہم آہنگی میں خلل ڈالتے ہیں جو قدرت نے فطرت اور انسان کے درمیان برقرار رکھی ہے۔ فطرت کی حفاظت کے لیے، ہمیں اپنے کردار کو تسلط پسندوں کے بجائے ذمہ داروں کے طور پر تسلیم کرانا ہوگا۔ اس میں ترقی کے پائیدار طریقے، تحفظ کے لیے درکار کوششیں اور ہمارے کاربن فوٹ پرنٹ کو کم کرنے کے لیے اجتماعی عزم شامل ہے۔

فطرت کے لیے ایک خاص طرح کی محبت کو اپنانے اور متوازن طرزِ زندگی کو فروغ دینے سے، ہم انسانیت اور ماحول کے درمیان ایک باہم ہم آہنگ تعلقات کو فروغ دے سکتے ہیں۔ ہم مانے یا نہ مانے لیکن ترقی اور تحفظ کے درمیان ایک ذہنی توازن کی اشد ضرورت ہے۔ زمین کے حقیقی ورثاء کے طور پر، ہمارے پاس ایک ایسے مستقبل کی تشکیل کرنے کا موقع ہے جہاں فطرت ہمارے ساتھ ساتھ پروان چڑھے، جو کرہ ارض اور آنے والی نسلوں دونوں کی بھلائی کو یقینی بناتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے