شنگھائی تعاون تنظیم بطور ایک اہم تنظیم حالیہ برسوں میں عالمی اور علاقائی سیاست و معیشت میں اپنی بڑھتی ہوئی اہمیت اور افادیت کے حوالے سے خاص توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ آئیے اس کی اہمیت، افادیت اور مستقبل کے امکانات پر مختصر روشنی ڈالتے ہیں۔
تعارف اور تاریخی پس منظر
شنگھائی تعاون تنظیم کی بنیاد دو ہزار ایک میں چین، روس، قازقستان، کرغیزستان، تاجکستان اور ازبکستان کے رہنماؤں نے شنگھائی میں رکھی تھی، جو اس سے قبل "شنگھائی فائیو” کے نام سے موجود تھی جس کا آغاز انیس سو چھیانوے میں ہوا تھا۔ دو ہزار سترہ میں پاکستان اور بھارت کو مکمل رکنیت دی گئی، دو ہزار تئیس میں ایران کو بھی شامل کیا گیا جبکہ دو ہزار چوبیس میں بیلا روس اس کا حصہ بنا۔ اس طرح شنگھائی تعاون تنظیم دنیا کی کل آبادی کے چالیس فیصد اور زمین کے بھی چالیس فیصد رقبے پر محیط ایک اہم بین الاقوامی تنظیم بن گئی ہے۔ اس کا صدر دفتر بیجنگ میں ہے اور اس کی دفتری زبانیں دو یعنی چینی اور روسی ہیں۔
موجودہ اہمیت اور افادیت
1. علاقائی سلامتی اور استحکام
شنگھائی تعاون تنظیم کا بنیادی مقصد علاقائی سلامتی اور استحکام کو فروغ دینا ہے۔ یہ تنظیم دہشت گردی، انتہا پسندی، منشیات کی سمگلنگ اور بنیاد پرستی جیسے مشترکہ مسائل سے نمٹنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ اس حوالے سے شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر مختلف مشترکہ فوجی مشقیں اور سیکیورٹی اقدامات بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔
2. معاشی تعاون اور ترقی
شنگھائی تعاون تنظیم معاشی تعاون کو فروغ دینے کے لیے بھی کوششیں کر رہی ہے۔ رکن ممالک کے درمیان تجارت، توانائی، نقل و حمل اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں تعاون کو بڑھانے پر خاص زور دیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر چین کی "بیلٹ اینڈ روڈ” منصوبے کے تحت خطے میں معاشی اور صنعتی تعاون کے نئے دروازے کھلے ہیں۔
3. بین الاقوامی تعلقات اور متوازن طاقت
شنگھائی تعاون تنظیم کو مغربی ممالک کے اتحادوں (جیسا کہ نیٹو) کے برابر حیثیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہ تنظیم ایک کثیر القطبی عالمی نظام کی عکاسی کر رہی ہے جہاں چین اور روس جیسی بڑی طاقتیں امریکی اثر و رسوخ کے متوازی حیثیت میں ابھر رہی ہیں۔ ترکیہ جیسے نیٹو رکن ممالک بھی شنگھائی تعاون تنظیم کے ساتھ تعاون کو فروغ دے رہے ہیں، جو اس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ عنقریب ترکیہ بھی اس کا باقاعدہ رکن بن جائے گا۔
4. ثقافتی اور سماجی تبادلہ
شنگھائی تعاون تنظیم ثقافتی اور سماجی تبادلے کو بھی فروغ دے رہی ہے۔ رکن ممالک کے درمیان تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی پروگراموں کے ذریعے باہمی افہام و تفہیم کو بڑھانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
مستقبل کے امکانات
1. رکنیت میں مزید توسیع
ترکیہ نے شنگھائی تعاون تنظیم میں مکمل رکنیت کے خواہش کا اظہار کیا ہے، جو کہ تنظیم کے مزید وسعت کی نشاندہی کرتا ہے۔ ترکیہ کے علاوہ دیگر ممالک بھی اس میں شمولیت کے خواہشمند ہیں۔
2. معاشی تعاون میں اضافہ
مستقبل میں شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان معاشی تعاون میں اضافے کی توقع ہے۔ خاص طور پر توانائی، انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل معیشت کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں پر توجہ دی جا سکتی ہے۔
3. سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنا
علاقائی سلامتی کے چیلنجز، خاص طور پر افغانستان کی صورت حال اور پاک بھارت تعلقات میں تناؤ کی کیفیت، دہشت گردی اور انتہا پسندی، شنگھائی تعاون تنظیم کے لیے اہم مسائل ہیں۔ مستقبل میں ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کی جا سکتی ہے۔
4. بین الاقوامی کردار میں اضافہ
شنگھائی تعاون تنظیم اقوام متحدہ جیسی بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ تعاون بڑھانے کی خواہش مند ہے۔ گذشتہ برسوں میں شنگھائی تعاون تنظیم اور اقوام متحدہ کے درمیان تعاون کے مختلف معاہدے ہوئے ہیں، جو اس کے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی کردار کی عکاسی کرتے ہیں۔
5. پاکستان اور بھارت کے تعلقات
شنگھائی تعاون تنظیم پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کر سکتی ہے۔ دونوں ممالک کی رکنیت کے باوجود ان کے درمیان تناؤ کی کیفیت موجود ہے، لیکن شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاسوں میں ان کے رہنماؤں کی ملاقاتیں مثبت پیش رفت کی امید پیدا کر رہی ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم عالمی اور علاقائی سیاست و معیشت میں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اس کی افادیت کو مزید بڑھانے کے لیے درج ذیل تجاویز پر عمل کیا جا سکتا ہے:
1. رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو مضبوط بنایا جائے، خاص طور پر پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم کو موثر طریقے سے استعمال کیا جائے۔
2. معاشی تعاون کے منصوبوں کو تیز اور وسیع کیا جائے، خاص طور پر توانائی، نقل و حمل اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے شعبوں میں۔
3. علاقائی سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کی جائے، جس میں دہشت گردی، انتہا پسندی اور منشیات کی سمگلنگ جیسے مسائل شامل ہیں۔
4. ثقافتی اور سماجی تبادلے کے پروگراموں کو توسیع دی جائے تاکہ رکن ممالک کے عوام کے درمیان باہمی افہام و تفہیم اور قربت کو فروغ دیا جا سکے۔ آسان سفری سہولیات کو فروغ دینا بہت اہمیت کا حامل ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم سے منسلک ممالک کو چاہیے کہ یورپی یونین طرز کی قربتوں کو بڑھائیں۔
5. شنگھائی تعاون تنظیم کے بین الاقوامی کردار کو مضبوط بنایا جائے، خاص طور پر اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ تعاون بڑھایا جائے۔
6. فلسطین کا مسئلہ جو کہ گزشتہ دو برس میں ایک سنگین انسانی سانحے کی شکل اختیار کر چکا ہے اس کو حل کرنے کے لیے تنظیم اپنا اثرورسوخ استعمال کریں اس سے نہ ایک بدترین انسانی سانحہ ختم ہو جائے گا بلکہ تنظیم کی عزت اور وقار میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔
چین کے شہر تیانجن میں 31 اگست سے یکم ستمبر 2025 تک شنگھائی تعاون تنظیم کا پچیسواں واں سربراہی اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں بیس سے زائد ممالک کے سربراہان اور دس بین الاقوامی تنظیموں (بشمول اقوام متحدہ) کے رہنما شریک ہوئے۔ آئیے اس اجلاس کے اہم پہلووں، سرگرمیاں اور چیدہ چیدہ نکات کے بارے میں جانتے ہیں۔
یہ اجلاس اکتیس اگست سے یکم ستمبر دو ہزار پچیس کو چین کے شہر تیانجن میں چینی صدر کے زیر صدارت منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں تقریباً بیس ممالک کے سربراہان اور دس تنظیموں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ یہ اجلاس اپنی شراکت، وقت اور اقدامات کے پیش نظر خاص اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔
اہم شرکا اور ممالک
چین: صدر شی جن پنگ (میزبان)
پاکستان: وزیر اعظم شہباز شریف
روس: صدر ولادیمیر پیوٹن
بھارت: وزیر اعظم نریندر مودی
ترکی: صدر رجب طیب ایردوان (مہمان خصوصی)
ملائشیا : وزیراعظم انوار ابراہیم
ایران: صدر مسعود پزشکیان
دیگر اراکین: قازقستان، کرغیزستان، تاجکستان، ازبکستان اور بیلاروس کے رہنما بھی شریک ہوئے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بھی شریک رہے۔
اجلاس کے اہم نکات اور موضوعات
1. افتتاحی تقاریب اور خیر مقدم
چینی صدر شی جن پنگ نے تمام مہمان رہنماؤں کا والہانہ استقبال کیا۔ اس طرح تمام رکن ممالک کے سربراہان نے اجتماعی تصویر بھی بنوائی اور چینی صدر نے رہنماؤں کے اعزاز میں عشائیہ دیا، جس کے بعد رنگارنگ ثقافتی پروگرام بھی پیش کیا گیا۔
2. اجلاس کے مقاصد اور اہمیت
علاقائی امن و استحکام: اجلاس کے موقع پر چینی صدر نے زور دیا کہ "شنگھائی تعاون تنظیم پر علاقائی امن و استحکام کے تحفظ اور تمام رکن ممالک کی ترقی و خوشحالی کو فروغ دینے کی بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے”۔
مشترکہ تعاون: اجلاس کا ایک اہم مقصد تمام فریقین کے درمیان اتفاق رائے قائم کرنا ہے، تعاون کی رفتار کو مزید تیزی دینا اور ترقی کی راہ کا واضح نقشہ تیار کرنا بھی اہم ترجیح ہے۔
گلوبل ساؤتھ کی نمائندہ بیٹھک: یہ اجلاس گلوبل ساؤتھ کے اتحاد کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
3. اہم تقاریر اور بیانات
اجلاس کے موقع پر صدر شی جن پنگ نے کہا کہ "شنگھائی تعاون تنظیم بین الاقوامی تعلقات کی ایک نئی قسم اور انسانیت کے لیے مشترکہ مستقبل کی حامل کمیونٹی بنانے میں ایک اہم قوت بن چکی ہے”۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے خطے اور دنیا کو درپیش اہم مسائل پر پاکستان کا مؤقف واضح انداز میں پیش کیا اور زور دیا کہ "تنظیم خطے میں تعاون، استحکام اور پائیدار ترقی کے فروغ میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرے”۔
4. دو طرفہ ملاقاتیں اور مذاکرات
پاکستان اور ترکی: اس موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف اور صدر ایردوان نے فلسطین کی صورت حال، دو طرفہ تعلقات اور اقتصادی و دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔
روس اور بھارت: روس کے صدر پیوٹن اور بھارتی وزیر اعظم مودی کی ملاقات ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے باہمی تعاون اور مشترکہ مفادات پر زور دیا۔
پاکستان اور چین: وزیر اعظم شہباز شریف نے چینی صدر سے ملاقات کی اور دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔
5. ثقافتی اور تعلیمی تعاون
وزیر اعظم شہباز شریف نے تیانجن یونیورسٹی کی فیکلٹی اور طلباء سے خطاب میں کہا کہ "چین نے غربت کے خاتمے کے لیے جو ماڈل پیش کیا ہے وہ پوری دنیا کے لیے مثال ہے”۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ "تقریباً تیس ہزار پاکستانی طلباء چین میں زیر تعلیم ہیں”۔
6. معاشی تعاون اور سرمایہ کاری
وزیر اعظم شہباز شریف 4 ستمبر کو بیجنگ میں پاک چین سرمایہ کاری کانفرنس کی صدارت کریں گے اور ممتاز کاروباری اداروں کے سربراہوں سے بھی ملیں گے۔
اجلاس کے چیدہ چیدہ نکات
1. تاریخی اجلاس: یہ شنگھائی تعاون تنظیم کی تاریخ کا سب سے بڑا سالانہ اجلاس تھا، جس میں 20 ممالک کے سربراہان نے شرکت کی۔
2. مستقبل کی حکمت عملی: اجلاس میں شنگھائی تعاون تنظیم کی آئندہ دہائی کی ترقیاتی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔
3. امریکی مفادات کے لیے چیلنج: اس اجلاس کو امریکی قیادت کے لیے ایک ممکنہ چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
4. پاک چین تعلقات: وزیر اعظم شہباز شریف نے چین کے ساتھ پاکستان کی ہمہ موسمی اسٹریٹجی شراکت داری کو باہمی اعتماد پر مبنی قرار دیا۔
5. ثقافتی تبادلہ: اجلاس کے دوران ثقافتی پروگراموں کا اہتمام کیا گیا، جو رکن ممالک کے درمیان باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینے کے لیے اہم تھا۔
اجلاس کے نتائج اور مستقبل کے اقدامات
مشترکہ اعلامیہ: رکن ممالک نے اہم دستاویزات پر اتفاق کیا، جن میں تنظیم کی آئندہ دہائی کی ترقیاتی حکمت عملی بھی شامل ہے۔
علاقائی تعاون: رکن ممالک نے دہشت گردی، انتہا پسندی، منشیات کی سمگلنگ اور بنیاد پرستی جیسے مشترکہ مسائل پر مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا۔
معاشی تعاون: رکن ممالک کے درمیان معاشی تعاون اور باہمی روابط کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔
شنگھائی تعاون تنظیم نے اپنے قیام کے بعد سے علاقائی اور عالمی سطح پر اپنی اہمیت و افادیت میں مسلسل اضافہ کیا ہے۔ یہ تنظیم نہ صرف سلامتی اور معاشی تعاون کے میدان میں بہت اہم کردار ادا کر رہی ہے، بلکہ یہ ایک متوازن عالمی نظام کی تشکیل میں بھی معاون ثابت ہو رہی ہے۔ مستقبل میں اس کے کردار کے مزید وسعت کے امکانات ہیں، بشرطیکہ رکن ممالک باہمی تعاون اور اعتماد کو فروغ دیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر موجود امکانات سے سے اندازہ ہوتا ہے کہ تنظیم کا مستقبل روشن ہے، اور یہ عالمی برادری کے لیے ایک اہم ستون بن سکتا ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کا پچیسواں واں سربراہی اجلاس ایک تاریخی اور کامیاب اجلاس ثابت ہوا، جس میں رکن ممالک نے علاقائی امن و استحکام، معاشی تعاون اور باہمی روابط کو مزید فروغ دینے کے لیے اہم اقدامات پر اتفاق کیا۔ اس اجلاس نے گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے درمیان متحدہ منظر نامہ پیش کیا اور مستقبل میں باہمی تعاون کے نئے دروازے کھولے ہیں۔