اسلام آباد کی کشادہ سڑکوں، چمکتے شاپنگ مالز اور بلند و بالا عمارتوں کے درمیان جب کوئی کمسن بچی یا عمر رسیدہ خاتون ہاتھ پھیلائے کھڑی نظر آتی ہے، تو یہ منظر محض غربت کی علامت نہیں بلکہ ایک پوری ریاستی و معاشرتی ناکامی کا نوحہ بن کر سامنے آتا ہے۔ حالیہ دنوں میں دارالحکومت کی مصروف شاہراہوں پر صرف چند منٹ کے اندر درجنوں خواتین کو بھیک مانگتے دیکھنا کوئی انہونی بات نہیں رہی۔ یہ المیہ جس تیزی سے پھیل رہا ہے، وہ نہ صرف ہماری معیشت بلکہ ہمارے اخلاقی اور اجتماعی ڈھانچے پر بھی ایک گہرا سوال چھوڑ رہا ہے۔
اس بڑھتی ہوئی صورتحال کے پیچھے سب سے نمایاں عنصر معاشی بدحالی ہے۔ غربت، مہنگائی اور روزگار کے فقدان نے لوگوں کو دیہی علاقوں سے شہروں کی جانب ہجرت پر مجبور کر دیا ہے، لیکن شہروں کی چمک دمک کے پیچھے بھی کوئی سہارے کا ہاتھ انہیں نہیں ملتا۔ یہ خواتین نہ تعلیم یافتہ ہوتی ہیں نہ کسی ہنر سے آراستہ، نتیجتاً وہ غیر رسمی معیشت کا حصہ بننے پر مجبور ہو جاتی ہیں جہاں بھیک مانگنا بظاہر ایک آسان اور فائدہ مند راستہ دکھائی دیتا ہے۔ بدترین صورتحال تب جنم لیتی ہے جب یہ خواتین کسی منظم گداگر نیٹ ورک میں شامل ہو کر اپنے بچوں تک کو اس گھناونے پیشے کا حصہ بنا لیتی ہیں۔ ریاستی سطح پر غربت کے خاتمے کے پروگرام اگرچہ موجود ہیں، مگر ان کی افادیت یا تو محض کاغذوں میں بند رہتی ہے یا اشرافیہ کے مفادات میں کہیں گم ہو جاتی ہے۔
سماجی و ثقافتی حوالوں سے دیکھا جائے تو صورتحال اور بھی پیچیدہ ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں عورت کو اب بھی ثانوی حیثیت حاصل ہے، وہاں کسی مرد کی غیر موجودگی میں عورت کا وجود بے سہارا ہو جاتا ہے۔ اکثر دیہی خواتین کو تعلیم، وراثت اور خود مختاری جیسے بنیادی حقوق حاصل نہیں ہوتے۔ خاندان کے مرد حضرات اگر کمانے سے قاصر ہوں یا دنیا سے رخصت ہو جائیں تو یہ عورتیں گھر سے باہر نکلنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ لیکن چونکہ انہیں ملازمت کے مواقع بھی حاصل نہیں، اس لیے وہ یا تو گھریلو ملازمہ بن جاتی ہیں یا گداگری کی راہ اختیار کر لیتی ہیں۔ بعض اوقات خاندان خود ان خواتین کو شہروں میں بھیج کر ان سے بھیک منگواتا ہے، ایک ایسی حقیقت جسے بیان کرنا بھی انسانیت کی توہین محسوس ہوتا ہے۔
اسی طرح خواتین بھکاریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پس پردہ ایک انتہائی تاریک اور تشویشناک پہلو یہ بھی ہے کہ بھیک مانگنے کا یہ عمل محض ایک ڈھال بن چکا ہے، جس کے پیچھے جسم فروشی جیسے قبیح اور غیر قانونی پیشے کو چھپایا جاتا ہے۔ یہ المناک سرگرمی عوامی نظروں سے اوجھل مختلف مقامات پر بے دریغ جاری ہے، جس میں ٹرانسپورٹ اڈوں، رات کی مصروف مارکیٹوں، ہاسٹلوں اور دیگر عوامی مقامات کا غیر اخلاقی استعمال شامل ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بظاہر معصوم نظر آنے والے رویے، جیسے گاڑی کے شیشے پر دستک دینا، دکانوں پر اصرار کرنا یا لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرنا، درحقیقت اس سیاہ کاروبار کے لیے گاہک تلاش کرنے کے مؤثر ذرائع ثابت ہو رہے ہیں۔ اس عمل نے نہ صرف معاشرتی اقدار کو داغدار کیا ہے بلکہ تاجر برادری کے لیے بھی شدید مشکلات پیدا کر دی ہیں، کیونکہ ان کے روزمرہ کے کاروباری معمولات مسلسل ان خراب اور ناگوار واقعات کی نذر ہو رہے ہیں، جس سے معاشی سرگرمیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
حکومتی اور انتظامی سطح پر اس مسئلے کا جو ردعمل ہے، وہ نہ صرف ناکافی ہے بلکہ بعض اوقات المیے کو مزید بڑھاوا دینے کا باعث بنتا ہے۔ قوانین تو موجود ہیں، مگر ان پر عملدرآمد نامکمل یا سرے سے موجود ہی نہیں۔ پولیس کی کارروائیاں عموماً نمائشی ہوتی ہیں، جیسے چند دن کے لیے بھکاریوں کو بیٹھا دینا یا انہیں ایک علاقے سے دوسرے علاقے منتقل کر دینا۔ مسئلے کی جڑ تک پہنچنے کی کوشش کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ سوشل ویلفیئر، چائلڈ پروٹیکشن بیورو اور پولیس جیسے ادارے باہم مربوط حکمت عملی بنانے کے بجائے انفرادی دائرہ کار میں الجھے رہتے ہیں۔ بھکاریوں کے نیٹ ورکس کے خلاف سنجیدہ کارروائی کا فقدان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کہیں نہ کہیں ان جرائم کو سیاسی سرپرستی بھی حاصل ہے۔
اس گہری خستہ حالی کے پیچھے نفسیاتی پہلو بھی کچھ کم نہیں۔ جب کوئی عورت مستقل طور پر بھیک مانگتی ہے، تو وقت کے ساتھ وہ اس حالت کو اپنی پہچان بنا لیتی ہے۔ رفتہ رفتہ یہ کیفیت اس کی شخصیت پر حاوی ہو جاتی ہے اور وہ اس حالت سے نکلنے کی نہ خواہش رکھتی ہے نہ کوشش۔ معاشرتی ہمدردی، خیرات کی آسانی اور عوام کا نرم رویہ بھی اس کیفیت کو مزید جڑ پکڑنے میں مدد دیتا ہے۔ بدقسمتی سے اس طرزِ زندگی میں پیدا ہونے والے بچے بھی اسی ڈگر پر چل پڑتے ہیں، اور یوں یہ ایک نسل در نسل چلنے والا دائرہ بن جاتا ہے جسے توڑنے کے لیے صرف مالی امداد کافی نہیں، بلکہ ذہنی بحالی اور نفسیاتی مشاورت کی بھی شدید ضرورت ہے۔
مسئلے کا مستقل اور دیرپا حل وقتی کارروائیوں یا عارضی پناہ گاہوں میں نہیں، بلکہ ایسے حکمت عملی پر مبنی اقدامات میں پوشیدہ ہے جو خواتین کو خود مختار بنائیں۔ اگر حکومت مائیکرو فنانس اسکیمز کے ذریعے خواتین کو بلا ضمانت قرض فراہم کرے، اگر ہنر سکھانے والے ادارے گاؤں گاؤں، محلے محلے تک پہنچیں، اگر روزگار کے ایسے مواقع پیدا کیے جائیں جو تعلیم سے محروم خواتین بھی حاصل کر سکیں، تو ہم اس تباہ کن راستے پر چلنے والی ہزاروں زندگیاں واپس لوٹا سکتے ہیں۔ اسی طرح سوشل پروٹیکشن کا نظام مضبوط بنایا جائے، اور شیلٹر ہومز، ووکیشنل سینٹرز اور فنی تربیت کے ادارے حقیقی معنوں میں فعال ہوں۔
یہ مسئلہ صرف ایک شعبے کا دردِ سر نہیں، بلکہ ایک بین الشعبہ جاتی چیلنج ہے۔ جب تک معیشت، سماج، نفسیات، قانون اور انتظامیہ ایک ساتھ بیٹھ کر اس معاملے پر ہم آہنگ حکمت عملی نہیں بناتے، اس کا حل ممکن نہیں۔ اگر سوشل ویلفیئر ادارے، مقامی حکومتیں، پولیس، ہیلتھ ڈیپارٹمنٹس اور تعلیمی ادارے مل کر کام کریں، تو ایک ایسا جامع نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے جو نہ صرف امدادی ہو بلکہ اصلاحی بھی ہو۔ نجی شعبے کی شراکت داری، کارپوریٹ سوشل رسپانسیبیلیٹی کے تحت بھی خواتین کی بحالی اور تربیت ممکن ہے۔ این جی اوز اور مقامی کمیونٹی لیڈرز بھی حکومت کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر تبدیلی کے عمل کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔
اس ضمن میں دنیا بھر کے مختلف ممالک کے تجربات ہمارے لیے مشعلِ راہ بن سکتے ہیں۔ بھارت کی "سوانسی” اسکیم ہو یا برازیل کے فلاحی ہاسٹلز، ان ماڈلز نے ثابت کیا ہے کہ اگر عزم ہو تو حالات بدلے جا سکتے ہیں۔ یورپ میں خواتین بھکاریوں کو سوشل ویلفیئر سسٹمز میں ضم کر کے ان کی زندگیوں میں انقلابی تبدیلی لائی گئی۔ اسکینڈینیوین ممالک میں نفسیاتی صحت کو پالیسی کا جزوِ لازم بنا کر اس مسئلے کو جڑ سے پکڑا گیا۔ اسی طرح ایران، ترکی اور انڈونیشیا میں مذہبی و ثقافتی حساسیت کو مدنظر رکھ کر حل نکالے گئے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں مذہبی، خاندانی اور ثقافتی روایات کی مضبوط جڑیں ہیں، ان عناصر کو مثبت انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
مگر تمام تر منصوبہ بندی اور اقدامات اسی وقت مؤثر ہوں گے جب ان کی بنیاد ٹھوس اعداد و شمار پر رکھی جائے۔ اگر ہمارے پاس خواتین بھکاریوں کی درست تعداد، ان کی عمر، تعلیمی پس منظر، صحت کی صورتحال اور خاندانی حالات کا جامع ڈیٹا موجود ہو، تو مداخلت کے مقامات درست طور پر پہچانے جا سکتے ہیں۔ مختلف تحقیقاتی ادارے اور سروے رپورٹس بتاتی ہیں کہ بڑے شہروں میں خواتین بھکاریوں کا تناسب 30 سے 40 فیصد تک جا پہنچا ہے، جو ایک انتہائی تشویشناک صورتِ حال ہے۔ رمضان، عید اور دیگر مذہبی مواقع پر ان کی تعداد میں اضافہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ مسئلہ صرف اقتصادی نہیں بلکہ سماجی و مذہبی رویوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔
ڈیجیٹل رجسٹریشن، بائیومیٹرک نظام اور موبائل ایپس کے ذریعے ان خواتین کی شناخت، ضروریات اور بحالی کے مراحل کو بہتر انداز میں ترتیب دیا جا سکتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں وقتی اور نمائشی اقدامات سے نکال کر مستقل اور پائیدار حل کی طرف لے جا سکتا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ خواتین بھکاریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد محض ایک سماجی یا انتظامی خرابی نہیں، بلکہ یہ ایک قوم کے اجتماعی ضمیر پر ایک کڑا سوال ہے۔ ہم کس سمت جا رہے ہیں؟ کیا ہم ایک ایسا معاشرہ بن رہے ہیں جہاں ماں اپنی بیٹی کا ہاتھ تھام کر بھیک مانگنے پر مجبور ہو؟ یہ سوال ہر شہری، ہر ادارے اور ہر پالیسی ساز کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ تبدیلی صرف تب ممکن ہے جب ہم سب اس چیلنج کو اپنی ذمہ داری سمجھیں، اور صرف ہمدردی نہیں، بلکہ عمل کے ساتھ اس کا سامنا کریں۔