ہر انسان میں اللہ تعالی نے بے شمار صلاحیتیں بھر دیا ہے۔ ہر انسان اپنی منفرد شخصیت، خوبیوں، جذبوں، ارادوں، اداؤں اور تمناؤں کے اعتبار سے ایک پورا جہاں ہوتا ہے۔ میرا خیال ہے ہے کہ یہ دنیا خانہ بہ خانہ ہے اور ہر انسان نے گویا کوئی نہ کوئی خانہ بھر دیا ہے اور جب تک وہ زندہ ہے کوئی دوسرا وہ خانہ بھر نہیں سکتا۔
صلاحیت، ذہانت، خدمت، نرمی، لچک، امید، حوصلہ اور توانائی وہ پیمانے ہیں کہ جن سے کسی بھی انسان کی قدر و قیمت متعین ہوتی ہے۔ جتنا زیادہ ایک بندہ ان حوالوں سے نمایاں ہوگا اتنا ہی وہ مخلوق خدا میں ممتاز ٹھہرے گا۔
آج میں ایک ایسے نوجوان کا تعارف کرنے جا رہا ہوں جو مذکورہ بالا حسنات کے اعتبار سے محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک "پورا جہاں” ہے۔ مہتاب الرحمن (نادرا ہیڈکوارٹرز، جنہیں میں پیار سے مہتاب گل کہتا ہوں) بظاہر ایک دبلا پتلا اور شوخ و شنگ سا نوجوان لیکن حقیقت میں اللہ تعالیٰ نے اسے گونا گوں صلاحیتوں، خوش مزاجی، توانائی اور خدمت گذاری کے اعتبار سے ایک سمندر بنایا ہے۔ بور ہوتا ہے نہ بور ہونے دیتا ہے۔
خوبصورت، شرارتی، ذہین و فطین، کارامد اور بے باک اتنا کہ ہر عمر، جنس اور احوال کے لوگوں کو اپنے سحر کے دام میں بہت آسانی سے گرفتار کرنا، اس کے لیے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ بس چند لمحے، چند کلمے، چند نظارے اور ایک دو مسکراہٹوں کی دیر ہوتی ہے اور پھر سامنے والا یا والی اس کے مٹھی میں بند ہوتا یا ہوتی ہے۔ اس کا ذہن، جسم اور روح ہمہ وقتی حرکت میں رہتے ہیں اس نے اپنے اچھے اخلاق، خدمت اور صلاحیت کے جواہر سے کام لے کر اپنے آپ کو ہر ایک کی ضرورت بنا دیا ہے۔
وہ سراپا ایک اسلام آبادی نوجوان ہے، وہ حافظ قرآن ہے، وہ پریسٹن یونیورسٹی اسلام آباد سے ماسٹر ڈگری ہولڈر ہے، وہ نادرا میں آنے سے قبل وزارت دفاع میں برس ہا برس خدمات انجام دیا ہے، وہ جرمنی سے ہو آیا ہے، (وہ انگریزی اور جرمن زبانوں پر عبور رکھتا ہے) وہ اسمارٹ اور خوبصورت ہے، وہ دوستوں کا دوست اور یاروں کا یار ہے، وہ گپ شپ میں آئے تو محفل کو زعفران زار بنا دیں اور سنجیدہ ہو جائے تو مخاطب کے ماتھے کو پسینے سے چمکا دیں، وہ بولنے پہ آئے تو کسی کو نمبر نہ دیں، وہ مشورہ دیں تو مخلصانہ، دانشمندانہ اور بر محل دیں۔
دوستوں اور متعلقین کا اس پہ انحصار کس قدر زیادہ ہے اس بات کا اندازہ آپ اس سے کر لیں کہ جب بھی وہ موجود ہوتا ہے تو ہر طرف سے یہی نعرہ اٹھتا ہے! مہتاب ادھر آؤ، مہتاب ادھر جاؤ۔ مہتاب یہ کروں، مہتاب وہ کروں، مہتاب یہ کیسے ہوگا؟ مہتاب وہ کیسے ہوگا؟ اور مہتاب پلک جھپکنے میں متعلقہ سیٹ پہ جا کر مسئلہ حل کر کے واپس فاتحانہ انداز میں لوٹتا ہے۔ کیا ذات کی باتیں، کیا راز کی باتیں، کیا احوال کی باتیں، کیا سیاست کی باتیں، کیا دین کی باتیں، کیا تاریخ کی باتیں غرض ہر بات میں ہر بندہ مہتاب کو شریک کرنا ضروری سمجھتا ہے۔ اور میں حیران ہوں کہ اس کے اوقات اور حوصلے میں اللہ تعالیٰ نے یہ کیسی برکت رکھی ہے کہ وہ ہر ایک تک پہنچتا ہے ہر ایک کے سنتا ہے اور ہر ایک سے متعلق حال معاملہ کر دیتا ہے۔ آٹھ برس کی رفاقت میں ایک بار بھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی نے مہتاب گل کو کسی مسئلے میں پوچھا ہو اور اس نے وہ حل کر کے نہ دیا ہو۔
وہ اتنا موڈی اور تیز و طرار ہے کہ وہ گالیاں دے گا، بے عزت کرے گا، آزادانہ ہاتھ پیر چلائے گا (گپ شپ میں) لیکن مخاطب بس سنے گا، سہے گا اور ہنسے گا۔ بعض لوگوں پر حیرت زدہ ہوتا ہوں کہ وہ انتی تیزی، چالاکی اور خوش مزاجی آخر کہاں سے لاتے ہیں کہ جن سے اس کا پورا گرد و پیش چمک اٹھے دراصل یہ اللہ تعالیٰ کی خاص عطا ہے وہ بعض لوگوں کو خاص پیمانوں سے نوازتے ہیں کہ جن سے وہ ایسے کام آسانی سے کر گزرتے ہیں جن کو عام لوگ مشکل سے بھی انجام نہیں دے پاتے۔
خدمت، محبت، محنت اور صلاحیت کے حامل لوگ بلاشبہ معاشروں کی طاقت ہوتی ہیں اور یہ جو رونق، چہل پہل، جوش وجذبہ اور ہر دم آگے بڑھتی زندگی کے عنوانات ہم روز دیکھتے ہیں یہ سارے ایسے ہی لوگوں کے طفیل ممکن ہوتا ہے۔ مہتاب گل کے بارے میں اس کا ہر جاننے والا یہ سمجھتا ہے کہ مہتاب گل اس کا سب سے قریب ہے لیکن یہ اس کا کمال ہے کہ وہ ہر کسی کے قریب ہے۔ میرے ساتھ اس کا تعلق احترام اور اختلاف کی آمیزش سے پروان چڑھا ہے۔ ہم دین کے معاملے میں متفق اور سیاست کے بارے میں مختلف نقطہ ہائے نظر رکھتے ہیں۔ وہ پکا عمرانی اور خاکسار بے آمیز جماعتی۔ ہم بے شمار مباحثوں میں شریک رہے ہیں، زور اور شور دونوں سے کام لیا ہے لیکن احترام کے تقاضوں کو کبھی پامال نہیں ہونے دیا میں اعتراف کرتا ہوں اس بات کا زیادہ تر کریڈٹ مہتاب گل کو جاتا ہے۔
انسان میں ایمان ہو، اخلاق ہو، خلوص ہو، جذبہ ہو، حوصلہ ہو تو اللہ تعالی ایسے لوگوں کی اوقات، صلاحیتوں، حوصلوں اور ہمہ گیر محبوبیت میں ٹنوں کے حساب سے برکتیں شامل فرماتا ہے ایسے لوگ ہر جگہ شمع محفل بنتے ہیں اور لوگوں کے دل ان کی انگلیوں میں آجاتے ہیں۔ تسلی کے لیے لوگ ہمیشہ ایسے ہی لوگوں کو دیکھتے ہیں۔
مہتاب گل لوگوں کے اس قبیل میں شامل ہے جو سب کا دوست ہے، جو سب کا محبوب ہے، جو سب کی رسائی میں ہے، جو سب کی اچھائی میں ہے اور یہ کہ جو سب کی بہتری میں ہے۔
مہتاب گل ایک راسخ العقیدہ مسلمان ہے۔ میں نے آٹھ سالہ رفاقت میں اس کے منہ سے کوئی ایک بات ایسی نہیں سنی جو عقیدے کے ضعف کو ظاہر کر رہی ہو۔ اسلامی عقائد، اسلامی اخلاقیات اور اسلامی اصولوں پر اسے مکمل اعتماد ہے اور اس حوالے سے وہ کسی کمزوری کا شکار بالکل نہیں۔ مولانا فضل الرحمن کو چھوڑ کر باقی سارے علماء کرام کا دل سے احترام کرتا ہے اور موقع و مناسبت کے اعتبار سے ان کا ذکر خیر بھی کرتا رہتا ہے۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ کے علمی مقام اور اسلامی خدمات کا اس نے متعدد مرتبہ کھلے دل سے اعتراف کیا ہے۔
گپ شپ، ہنسی مزاح اور دوستوں کے ساتھ محفلوں کا جمانا اپنی جگہ لیکن مہتاب گل غیر سنجیدہ انسان قطعاً نہیں وہ ایک سنجیدہ، منظم اور بااصول نوجوان ہے۔ اسے کس وقت کیا کرنا چاہیے یہ اس کو بتانے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ اپنے اوقات اور وسائل کا استعمال وہ جس سمجھداری سے کر رہا ہے اس کی مثالیں میں نے بہت ہی کم دیکھے ہیں۔ ایک ایک لمحے کی قدر کرتے ہوئے وہ شاہراہِ حیات پر پوری دلجمعی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ صحت اتنی اچھی رکھی ہے کہ اپنی عمر سے پورا آدھا کم دکھائی دے رہا ہے۔
مہتاب گل کھانے پینے، لباس پوشاک اور تفریح سے متعلق اعلیٰ ترین ذوق کا حامل ہے۔ اس سلسلے میں "گزارا حال” چیزوں کو دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا۔ وہ ہر اعتبار سے ایک نفیس انسان ہے۔ ہر وقت صاف ستھرا، تر و تازہ اور ہشاش بشاش نظر آتا ہے۔ تھکاوٹ، بے زاری اور ذہنی انتشار جیسی عتلوں کو وہ کسی بھی قیمت پر قریب نہیں آنے دیتا۔
مہتاب گل نے زندگی بھر خدمت بہت کی، محنت بہت کی، محبت بہت کی، لوگوں کو خوش رکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، کسی کو دکھ نہیں دیا، کسی کا برا نہیں سوچا، کسی کے راستے کا روڑا نہیں بنا، فی زمانہ انسانوں میں اس سے بڑھ کر کوئی کوالٹی نہیں ہو سکتی۔ مہتاب گل کا حال یہ ہے کہ کوئی اسے سنے تو خوش ہو، کوئی اسے دیکھے تو زیادہ خوش ہو اور کوئی اسے اپنے قریب پائے تو سب سے زیادہ خوش ہو۔
مہتاب گل کا صبح صبح دفتر میں مخصوص انداز سے داخل ہونا ہم سب کے لیے خوشی کا موجب ہوتا اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا کوئی بارات آئی ہے، دس دس سلام، ڈسکو ڈانس، قومی ترانہ بجانا اور حاجی صاحب (ایک صوفی منش کولیگ) کا جداگانہ انداز میں آؤ بھگت نہایت ہی خوشگوار لمحے ہوتے ہیں جس سے صبح صبح ہم دوست بخوبی محظوظ ہوتے ہیں۔ مخلوق کے واسطے خالق نے مہتاب گل میں خوشی کا جذبہ، توانائی کا ذخیرہ، صلاحیت کی طاقت اور امید کی روشنی اچھی طرح بھر کر رکھا ہے۔ وہ حقیقی معنوں میں مخلوق خدا کے لیے خوشی، سہولت اور تسلی و اطمینان کا سامان ہے۔
جب سے میں نے مہتاب گل کو دیکھا ہے میرا صلاحیت، اخلاق اور خدمت کی ایک بہت بڑی طاقت ہونے پر یقین بڑھا ہے۔ میں ان سب لوگوں کو اطمینان دلاتا ہوں کہ اگر آپ میں مذکورہ بالا خوبیاں پائی جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائیں اور خوش رہیں کہ آپ ایک بہت بڑی طاقت کے مالک ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ایسے لوگوں کا خالق کائنات ہر دم حامی و ناصر ہوتا ہے ایسے لوگوں کے مقاصد اللہ تعالی کی خاص مدد سے پورے ہوتے ہیں۔ لوگ نہ جانے کیا کیا چیزیں اپنی طاقت تصور کرتے ہیں لیکن مہتاب گل کی طاقت اس کی صلاحیت، خوش مزاجی، اخلاق اور خدمت کا جذبہ ہے۔
دکھوں، مایوسیوں اور پریشانیوں سے بھرے اس دور میں مہتاب گل جیسے لوگ سماج کے لیے نعمت غیر مترقبہ ہے۔ ان کے وجود سے معاشرے کے رگوں میں مسرت کی لہریں گردش کر رہی ہیں۔ مہتاب گل ایک مخلص، پرجوش، ساتھ دینے والا اور ایک خوبصورت انسان ہے ایسے لوگوں کے موجودگی سے معاشرہ حقیقی معنوں میں معاشرہ کہلانے کے لائق ہے ورنہ جنگل تو پھر دو قدم پر ہے۔
میں بھی خوش، تو بھی خوش
یہ بھی خوش وہ بھی خوش
اپنے بھی خوش پرائے بھی خوش
یہاں بھی خوش وہاں بھی خوش
بس یہی مہتاب گل کا معنوی تعارف ہے۔
مہتاب گل ایک فطری لیڈر ہے، وہ کسی بھی محفل، کسی بھی دفتری کام یا کسی بھی دوستانہ گپ شپ میں داخل ہوتا ہے تو فضا میں ایک برقی کیفیت دوڑ جاتی ہے۔ اس کی موجودگی محض ایک اضافہ نہیں ہوتی بلکہ مرکز بن جاتی ہے۔ وہ سنتا سب کی ہے لیکن فیصلہ وہی کرتا ہے اور ایسا کرتا ہے کہ سب اس کے فیصلے کو اپنا سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں۔ مشکل ترین معاملات میں جہاں سب کے ذہن تھک کر سوچنا چھوڑ دیتے ہیں، مہتاب گل ایک نئی راہ نکال لاتا ہے۔ اس کی یہ صلاحیت اس کے وسیع مطالعہ، متنوع تجربات اور لوگوں کے دلوں کی دھڑکن سمجھنے کی غیر معمولی صلاحیت سے پھوٹتی ہے۔ وہ کمانڈ نہیں کرتا، بلکہ اعتماد پیدا کرتا ہے اور پھر سب اس کے پیچھے خود بخود کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہی اس کی سب سے بڑی قائدانہ خوبی ہے۔
مہتاب گل کی شخصیت کا ایک اور روشن پہلو اس کی ثقافتی و ادبی گہرائی ہے۔ وہ محض ایک ہنس مکھ اور کام کرنے والا روبوٹ نہیں، بلکہ اس کے اندر ایک شاعر بھی آباد ہے۔ اردو زبان و ادب اور عالمی کلاسکس پر اس کی گرفت حیرت انگیز ہے۔ کبھی کبھار باتوں باتوں میں وہ فیض، اقبال یا غالب کا کوئی ایسا شعر سنا دیتا ہے جو بات کو چار چاند لگا دیتا ہے۔ یہ ادبی و ثقافتی ذوق ہی ہے جو اس کی شخصیت کو نرمی، بردباری اور وسعت عطا کرتا ہے۔ وہ ہر بحث کو جذباتیت کی نذر ہونے سے بچا لیتا ہے کیونکہ اس کے پاس الفاظ اور خیالات کا وہ خزینہ ہے جو اس کے جذبات کو کنٹرول کرتا ہے نہ کہ جذبات اس کے الفاظ کو۔ یہ خوبی اسے عام لوگوں سے ممتاز اور خاص بناتی ہے۔
مہتاب گل سے میرا اکثر و بیشتر سیاسی اختلاف پر نوک جھونک رہتا ہے۔ میں اس سے عمران خان دور کے پونے چار برسوں کے نتائج اور ثمرات طلب کرتا ہوں اور وہ مجھے خالی امید دلاتا ہے "آئندہ برسوں میں بہت کچھ بہتر ہوگا” اور جب پوچھتا ہوں وہ کیسے؟ تو میرے کیسے کا اس نے کبھی تسلی بخش جواب نہیں دیا اس کے پاس ہر دم "دم توڑتی” امید ہی ہوتی ہے جس پر آج کل پاگل بھی یقین کرنے کو تیار نہیں۔ میرا اصرار ہوتا ہے مجھے نتائج چاہیے امید نہیں، اقتدار میں آکر صرف امید دلانا نہیں ہوتا کام کرنا پڑتا ہے۔ عمران خان تقریر میں سپر ہے اور تدبیر میں صفر ایسے میں بہتری کی امید لگانا احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔ میری ان باتوں کے جواب میں ان کے صرف ایک ہی پٹی ہوتی ہے "اس لیے تو لوگ آپ کو ووٹ نہیں دیتے آپ مشکل سے چند سیٹ ہی جیت لیتے ہوں آپ کبھی حکومت میں نہیں آسکیں گے”۔ میں اسے کہتا ہوں کہ "ہم اقتدار کے بغیر بھی بہت سارے کام کرتے ہیں اور آپ اقتدار کے باوجود بھی کچھ نہیں کر پاتے، اللہ کے بندے”۔
ایک نہایت اچھی، سچی، کھری اور میٹھی شخصیت رکھنے کے باوجود میں نے مہتاب گل میں کچھ "فالٹ” بھی دیکھے ہیں آئیے ان کا تذکرہ بھی کرتے ہیں ممکن ہے اس سے کچھ اپنے حال احوال اور خیالات پر نظر ثانی کا موقع اسے (یا اس جیسے دوسرے نوجوانوں کو) میسر آ جائے۔
زندگی کے پینتالیس (یہ الگ بات ہے کہ وہ بیس پچیس سال کا نظر آتا ہے) سال گزارنے کے باوجود ابھی تک اس نے شادی نہیں کی۔ ہم دوستوں نے اس کو بے شمار مرتبہ راغب اور متوجہ کیا لیکن ہماری ہر ترغیبی مہم کے آخر میں وہ صرف ایک ہی بات کرتا ہے "میرے کمر میں درد ہے” دنیا میں ہر مرض کا علاج ہو سکتا ہے لیکن نہ جانے کیوں اس کا اختیار کردہ ہر علاج ناکام ہوتا ہے۔ سردست ہم کچھ کہنے کے پوزیشن میں ہرگز نہیں لیکن یہ دعا ضرور کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالی اس کا گھر بسائے تاکہ اسے وہ سکون میسر آئے جو تنہائی کی زندگی میں قطعاً ممکن نہیں۔
عمران خان کی نااہلی نے کروڑوں لوگوں کی آنکھیں کھول دیئے ہیں لیکن عمران خان کے بارے میں مہتاب گل کی آنکھوں پر ابھی تک پردہ پڑا ہے۔ وہ آج بھی عمران خان کے سحر میں بری طرح گرفتار ہے اور یہ توقع لے کر بیٹھا ہے کہ آگے ان شاءاللہ بہتری ہوگی۔ جنہوں نے چار برسوں (کے پی کے بارہ برسوں) میں کچھ نہیں کیا وہ آئندہ کیا تارے توڑ لائے گا؟ ایک ایسا فرد جو نہایت ذہین و فطین واقع ہوا ہے اس معاملے میں ایسا غبی بنا ہے جس سے ٹھیک ٹھاک تکلیف ہوتی ہے۔
مہتاب گل میں زبردست ٹیلنٹ موجود ہے۔ اس میں آگے بڑھنے کے لیے تمام ضروری صلاحیتیں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں لیکن حیرت ہے کہ وہ جہاں ہونا چاہیے اس سے بہت پیچھے ہے۔ اب یہ ادارے کا مسئلہ ہے یا خود اس کا مسئلہ کہ وہ جائز ترقی سے محروم ہے (اب اس نے پروموشن ٹیسٹ کے ذریعے ڈپٹی اسیسٹنٹ ڈائریکٹر بن کر ترقی پائی ہے جو کہ خوش آئیند امر ہے)۔ دعا ہے کہ وہ بہت آگے جائے کیونکہ یہ انصاف کا تقاضا بھی ہے اور صلاحیت کے قدردانی کا بھی۔ ہم من حیث القوم عجیب لوگ ہیں ہم انسانوں کو نظر انداز کر کے اشیاء سے دل بہلاتے ہیں، ہم انسانوں سے ان کی صلاحیتوں کے مطابق کام لینے میں ناکام ہیں، ہم نے ٹیلنٹ کی قدر نہیں کی، ہم وقت گزاری کرتے ہیں، ہم ٹھوس پالیسیوں اور ثمربار اقدامات سے جی چراتے ہیں، ہم ایمانداری سے کام کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حال احوال پر ہمہ جہت رحم کرے۔