موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے خیبر پختونخوا حکومت کا بڑا اقدام

پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے خودمختار کلائمیٹ ایکشن بورڈ کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بورڈ 8 انتظامی سیکرٹریوں اور 4 نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل ہوگا۔ بورڈ کا مینڈیٹ موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے پالیسی تیار کرنا، تحقیق کرنا، بین الاقوامی اداروں سے رابطہ رکھنا، گرین ہاؤس گیسز کی فہرست تیار کرنا اور مختلف محکموں کے درمیان روابط کو یقینی بنانا ہوگا۔

خیبرپختونخوا گزشتہ کئی عرصے سے موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں ہے، جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ 15 اگست کو ملاکنڈ ڈویژن کے اضلاع میں سیلاب، بارش اور کلاؤڈ برسٹ کے باعث سینکڑوں افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے۔ اس آفت سے سڑکیں، رابطہ پل، بجلی، زراعت اور لائیو اسٹاک کو شدید نقصان پہنچا۔ ان نقصانات کی مستقبل میں روک تھام کے لیے صوبائی حکومت نے الگ ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو "کلائمیٹ ایکشن بورڈ” کے نام سے کام کرے گا۔

پشاور پوسٹ کے پاس موجود مسودے کے مطابق، کلائمیٹ ایکشن بورڈ کے لیے قانونی مسودہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ اسمبلی سے منظوری کے بعد ادارہ قائم ہوجائے گا۔ مسودے میں کہا گیا ہے کہ صوبائی سطح پر ایکشن بورڈ کو مکمل آزادی اور خودمختاری حاصل ہوگی۔ بورڈ موسمیاتی تبدیلیوں پر پالیسی سازی، مختلف محکموں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے اور تحقیق کے ساتھ بین الاقوامی اداروں سے روابط قائم کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔

بورڈ کاربن کریڈٹ کے حصول اور نئی موسمیاتی پالیسیوں کی تیاری پر بھی کام کرے گا۔ چار ماہ کے دوران کم از کم ایک بار کلائمیٹ ایکشن بورڈ کا اجلاس منعقد ہوگا۔ یہ ادارہ گرین ہاؤس گیسز کی فہرست تیار کرنے کے ساتھ ساتھ کم کاربن معیشت کو فروغ دے گا۔

مسودے کے مطابق، صوبے کو درپیش موسمیاتی خطرات کے ازالے، فیصلہ سازی کے عمل کو ہموار کرنے اور مختلف شعبہ جات کی کوششوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے منصوبہ بندی، نگرانی اور عمل درآمد بورڈ کے مینڈیٹ میں شامل ہوگا۔ اس کے علاوہ، تخفیف، موافقت اور ماحولیاتی مالیات پر تحقیق کا انعقاد، فروغ اور نگرانی کرنا بھی بورڈ کی ذمہ داری ہوگی۔

کلائمیٹ ایکشن بورڈ محکموں میں موسمیاتی کارروائی کی سرگرمیوں کو مربوط کرنے کے ساتھ سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کی اسکیموں کو ماحولیاتی اہداف سے ہم آہنگ کرے گا۔ یہ ادارہ مالی وسائل اکٹھے کرنے کے لیے "کلائمیٹ ایکشن بورڈ فنڈ” قائم کرے گا، جو بین الاقوامی موسمیاتی مالیاتی اداروں جیسے گرین کلائمیٹ فنڈ، کلائمیٹ انویسٹمنٹ فنڈ اور گلوبل انوائرنمنٹ فیسلٹی وغیرہ کے لیے صوبائی منصوبوں کو پیش کرے گا۔

مزید برآں، ادارہ کاربن مارکیٹس میں شرکت کو آسان بنائے گا، کاربن کریڈٹس کی تخلیق اور کاربن قیمت گذاری کے نظام کے نفاذ میں معاونت کرے گا۔ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق عوامی آگاہی مہم چلانا اور ماحولیاتی پائیداری کو فروغ دینا بھی کلائمیٹ ایکشن بورڈ کے فرائض میں شامل ہوگا۔

یہ مسودہ صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا اور پاس ہونے کے بعد باضابطہ طور پر ادارہ قائم ہوجائے گا۔

موسمیاتی تبدیلی پر کام کرنے والے صحافی داؤد خان نے کہا کہ صوبے میں اس نوعیت کے ادارے کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے اور حکومت کا یہ اقدام خوش آئند ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ایک حقیقت بن چکی ہے اور اس سے مقابلے کے لیے حکومتی سطح پر عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کلائمیٹ ایکشن بورڈ کے قیام سے تحقیق کے ساتھ دیگر عملی اقدامات بھی کیے جائیں گے۔ یہ ادارہ موسمیاتی تبدیلی کی تدارک کے لیے غور و خوض اور دیگر اہم امور انجام دے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے