آزاد کشمیر میں بسنے والے لوگوں کی حالات زندگی پر اگر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ عوام اپنی بنیادی ضروریات کے لئے تگ و دو میں لگے ہوئے نظر آئیں گے جبکہ سیاسی جماعتیں اپنے اقتدار و مفادات کے حصول کی اور تحفظ میں دلچسپی لیتے ہوئے نظر آئیں گی ۔
آئیے تھوڑی نظر دستیاب معلومات پر ڈالتے ہیں آزاد کشمیر کی کل آباد تقریباً 48 لاکھ ہے آزاد کشمیر کا کل رقبہ 13297 مربع کلومیٹر ہے۔ جس پر حکومت کرنے کے لئے ممبران اسمبلی کی تعداد 53 ہے جن میں سے تقریباً موجودہ حکومت میں 33 کہ قریب وزارتوں پر براجمان ہیں بلکہ کچھ وزارتیں تو ایسی ہیں کہ ان پر بھی وزیر لگا ہوا ہے کسی لطیفے سے کم نہیں ہے۔
پچھلے چند سالوں میں عوام کو شعور آنا شروع ہوگیاہے جسکہ نتیجے میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی مععض وجود میں آئی اور اپنے مطالبات مختلف شہادتوں احتجاجوں کہ بعد حکومت سے منوا لیے جن میں سے سب سے اہم سستی بجلی اور سبسڈی والا آٹا ان کامیابیوں کہ بعد جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر لوگوں کا اعتبار اور بڑھ گیا ہے کیونکہ اسمبلی میٹ بیٹھے ممبران جو عوامی نمائندے ہیں انہوں نے تو عوام کو نہ سستی بجلی اور سستے آٹے کے لئے آوازاٹھائی نہ سہولت دلوائی عوام نے خود تمبر کہ ڈنڈے کہ زور پر اپن حق چھینا اس سب کہ بعد عوامی شعور جاگ چکا ہے جس سے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کچھ نئے مطالبات سامنے آئے ہیں جو عوم کو اسر اپنے ساتھ ملا ے میں کامیاب ہو رہے ہیں ۔جیسے کہ کچھ یہ ہیں پاکستان میں مقیم مہاجرین کی بارہ سیٹیں اسمبلی سے ختم کرنا طلباء یوننیز کی بحالی اشرافیہ کی مراعات ختم کرنا۔کشمیر بینک کو شیڈول بنک کا درجہ ائیر پورٹ کا قیام وغیرہ جو ہر طرح سے عوامی خواہشات اور جزبات ہیں ۔
دوسری جانب سیاسی جماعتوں کا رویہ یہ ہے کہ وہ اپنے مفادات کہ تحفظات میں لگی ہوئی ہیں جیسا کہ پہلے پی ٹی آئی کہ صدر قیوم نیازی صاحب نے مخالفت کی تھی مگر اب کہیں کہیں وہ کہہ رہے ہیں ٹھیک مطالبات ہیں مسلم لیگ ن کہ صدر جو پہلے پہل مہاجرین کی سیٹ پر آیا کرتے تھے پھر اپنے لیے نیلم میں حلقہ بنوا کہ اپنی جگہ پکی کر لی وہ تو زروع دن سے عوامی مطالبات کہ خلاف ہیں اسی طرح سابق وزیراعظم سردار فاروق حیدر بھی کھل کر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کہ مطالبات کیخلاف ہیں پیپلز پارٹی کہ صدر چوہدری یاسین صاحب پہلے پہل سے لے کہ حالیہ دورے برطانیہ تک جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کہ مطالبات کہ حق میں تھے اور ان کو جائز سمجھتے رہے ہیں مگر ابھی 2 دن پہلے انہوں نے بھی اپنے کارکنان کو اس سے دور رہنےاور مخالفت کرنا شروع کر دیا ہے ۔
ان تمام چیزوں کا جائزہ لیا جائے تو دیکھیں کیسے یہ سیاستدان اپنے مفادات کے لئے ایک زبان ہو چکے ہیں تقریباً آدھ ممبران اسمبلی نےے اپنی اگلی نسل کو بھی ممبر اسمبلی بنوا لیا مطلب مورثیت اقتدار و مراعات کو اپنے گھر کی لونڈی بنائے رکھنا ہے اور دوسری جانب عوام کہ پاس جب ایک پلیٹ فارم آ چکا ہے آپنے مطالبات منوانے کا تو سیاسی جماعتوں کا رویہ انکو مسلسل غیر اہم کرتا جا رہا ہے ۔ان تمام مسائل اور مطالبات کا پر امن اورر سیاسی جماعتوں کی بقا صرف عوامی مطالبات اور حقوق کیساتھ ممکن ہے وبرنہ آئندہ انتخابات میں کئی بڑے بڑے چہرے اپنی سیاست کو اپنے ہاتھو ختم کر کہ بیٹھے ہونگے سیاست پڑھنے سمجھنے کا ام ہے نہ کہ کسی ایک بندہ کہ حکم کی تعمیل کا نام ہے اگر ان سیاستدانوں کو اپنی اولاد کو بھی سرکاری مراعات کی عیاشی کروانی ہے تو عوامی مفادات کہ حامی بن کر ہی ممکن ہے وگرنہ حالات سازگار نہیں لگ رہے۔