شنگھائی تعاون تنظیم کاسربراہ اجلاس اور چینی عوام کی مزاحمتی جنگ میں فتح کی یادگاری تقریب

2025 کا شنگھائی تعاون تنظیم سربراہ اجلاس 31 اگست سے یکم ستمبر تک چین کے شہر تھیان جن  میں منعقد  ہوا ۔ یہ   پانچویں مرتبہ تھا کہ چین نے  شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کی میزبانی کی ہے ۔موجودہ اجلاس شنگھائی تعاون تنظیم کے قیام کے بعد سے اب تک سب سے بڑا سربراہی اجلاس ثابت ہوا۔ اس موقع پر چینی صدر شی جن پھنگ  20 سے زائد غیر ملکی رہنماؤں اور 10 بین الاقوامی اداروں کے سربراہان کے ساتھ  تھیان جن میں اکٹھے ہوئے۔ اس اجلاس کی ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ 8 نکات پر مشتمل اگلے 10 سال کے لئے  ایس سی او  کی حکمت عملی بھی جاری کی گئی۔

شی جن پھنگ نے چینی حکومت اور چینی عوام کی جانب سے  شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے چین آنے والے بین الاقوامی مہمانوں کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس وقت عالمی صورتحال میں بڑی تبدیلیاں نظر آرہی ہیں اور عدم استحکام، غیر یقینی اور غیر متوقع عوامل میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ تمام فریقوں کی مشترکہ کوششوں سے موجودہ سربراہ اجلاس مکمل طور پر کامیاب ہوگا اور شنگھائی تعاون تنظیم یقینی طور پر زیادہ کامیابیوں کے ساتھ مزید ترقی کرے گی۔ تھیان جن میں اس سربراہی اجلاس کے انعقاد سے یقیناً شنگھائی تعاون تنظیم کی پائیدار ترقی کو نئی قوت محرکہ ملےگی۔

شنگھائی تعاون تنظیم سربراہ اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی شرکت کی انھوں نے  کہا کہ  کثیر القطبی دنیا کی تعمیر کے لئے شنگھائی تعاون تنظیم انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔انہوں نے کہا کہ  ہمیں ایک کثیر القطبی دنیا کی تعمیر کرنا ہو گی اور  ایک ایسی دنیا کی تعمیر کی ضرورت ہے جہاں تمام خطے، تمام ثقافتیں، تمام مذاہب اور تمام تہذیبیں مل کر کام کرسکیں۔ کثیر القطبی دنیا کی تعمیر کے عمل میں شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

شنگھائی تعاون تنظیم کا وجود ایک حقیقی کثیر القطبی دنیا کی جانب ہمارے سفر کی بنیادی شرائط میں سے ایک ہے۔ تاحال، یہ مقصد پایہ تکمیل کو نہیں پہنچا  اور ہم  مسلسل کوشش کرتے رہیں گے۔

وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے کہا کہ وسطی ایشیاء اور جنوبی ایشیاء سمیت خطے کے ممالک کے مابین تعاون کی مضبوطی سے یوریشیاء کے باہمی روابط کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔اس کے ساتھ ہی ، حالیہ سربراہی اجلاس شنگھائی اسپرٹ کو مزید روشن بنائے گا۔

انہوں نے کہا کہ صدر شی جن پھنگ ایک بہت ہی دور اندیش رہنما  ہیں، انہوں نے  نہ صرف چین کے معاشی منظر نامے کو تبدیل کیا ہے بلکہ وہ  ترقی کے ثمرات سے دوسرے ممالک کو فائدہ پہنچانے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے  میں شامل کرنے کے لئے بھی پرعزم ہیں۔

جاپانی جارحیت کیخلاف چینی عوام کی مزاحمتی جنگ کی فتح کی یاد میں تقریب

شنگھائی تعاون تنظیم سربراہ اجلاس کے بعد جاپانی جارحیت کے خلاف چینی عوام کی مزاحمتی جنگ اور عالمی فسطائیت مخالف جنگ کی فتح کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر شاندار تقریب اور فوجی پریڈ کا انعقاد کیا گیا ۔ یہ تقریب 3 ستمبر کو بیجنگ کے تیان آن من اسکوائر پر منعقد ہوئی۔ جس میں چینی صدر شی جن پھنگ شریک ہوئے ۔

صدر شی جن پھنگ  کے ہمراہ 26 ممالک کے رہنماوں نے بھی شرکت کی ۔ وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف ، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور کوریا کے صدر نمایاں طور پر چینی صدر کے ہمراہ  نظر آئے۔ چینی صدر نے تقریب سے مرکزی خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی، قومی عوامی کانگریس، ریاستی کونسل، چین کی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کی قومی کمیٹی، مرکزی فوجی کمیشن کی جانب سے ان تمام سپاہیوں، بزرگ ساتھیوں، محب وطن شخصیات اور کمانڈروں کو ،جنہوں نے مزاحمتی جنگ میں حصہ لیا تھا اور ان تمام ملکی اور سمندر پار چینیوں کو جنہوں نے اس جنگ کی عظیم فتح کے لئے اہم خدمات سرانجام دی تھیں کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا۔ صدر شی نے کہا کہ تاریخ ہمیں  متنبہ کرتی ہے کہ بنی نوع انسان کا مستقبل ایک دوسرے سے منسلک ہے۔مختلف ممالک اور اقوام صرف مساوات، پرامن بقائے باہمی اور باہمی تعاون کے ذریعے ہی مشترکہ سلامتی کا تحفظ کرسکتے ہیں، جنگ کی بنیادی وجوہات کا خاتمہ کر سکتے ہیں اور تاریخ کا المیہ دہرانےسے بچ سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ان غیرملکی حکومتوں اور بین الاقوامی دوستوں کا،  جنہوں نے اس جنگ میں چینی عوام کو مدد فراہم کی تھی، دلی شکریہ ادا کرتے ہیں اور آج کی  تقریب میں شریک متعدد ممالک  کے مہمانوں کا گرمجوشی سے خیرمقدم کرتے ہیں۔صدر شی جن پھنگ نے مسلح افواج کے دستوں کا معائنہ بھی کیا۔

 مسلح افواج کے تمام دستے فوجی پریڈ میں شامل تھے۔ فلائی پاسٹ کا مظاہرہ بھی کیا گیا ۔ سائبر اسپیس کا دستہ بھی پریڈ میں پہلی بار شامل ہوا۔  چین کی جانب سے جنگی ہتھیاروں کو بھی عوام کے سامنے پیش کیا گیا ۔ جس میں جدید ڈرونز ، ٹینکس ، جدید آلات سے لیس دیگر اسلحہ بھی شامل تھا۔ زمین سے زمین پر، زمین سے فضاء اور بحری حملوں کیلئے استعمال ہونے والے جدید ترین میزائل کے علاوہ ایٹمی میزائل بھی عوام کے سامنے لائے گئے۔ اس پریڈ میں جدید خود کار ہتھیار  اور دفاعی نظام بھی عوامی سطح پر دکھایا گیا۔تقریب میں مزاحمتی جنگ میں شامل ہونے والے سپاہی بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ عوام کی بڑی تعداد شریک تھی جو چینی جھنڈے تھامے ہوئے تھے۔ تقریب کے اختتا م پر  امن کی علامت کے طور پر 80 ہزار کبوتراُڑائے گئے۔۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے