یہ تصویر جس میں چین کے صدر شی جن پنگ، روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور دیگر عالمی رہنما ایک ساتھ چہل قدمی کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں، محض ایک اتفاقی منظر نہیں بلکہ عالمی تاریخ کے ایک نئے موڑ کی نمایاں علامت ہے۔ یہ منظر چین کے شہر تیانجن میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے دوران کھینچا گیا، جہاں بیس سے زائد سربراہان مملکت اور دس بین الاقوامی اداروں کے رہنما مشترکہ مستقبل کے خوابوں کو پروان چڑھانے کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔ یہ تصویر اس بات کی غماز ہے کہ عالمی سیاست کا محور اب مغرب کی جانب جھکاؤ کی بجائے مشرق کی جانب رخ کر رہا ہے، جہاں پر امن بقائے باہمی اور باہمی تعاون کے ذریعے عالمی سیاست میں امن، ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔
اس تصویر کے نمایاں ترین فرد چینی صدر شی جن پنگ کے مطابق، شنگھائی تعاون تنظیم اب صرف علاقائی امن و استحکام کے تحفظ تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس کی ذمہ داری اب رکن ممالک کی ترقی و خوشحالی کو فروغ دینے تک وسیع ہو چکی ہے۔ یہ تنظیم بین الاقوامی تعلقات کی ایک نئی قسم اور انسانیت کے لیے مشترکہ مستقبل کی حامل کمیونٹی بنانے میں ایک اہم قوت بن چکی ہے۔
یہ تصویر اپنے اندر گہری جمالیاتی اور علامتی اہمیت رکھتی ہے۔ اس میں نظر آنے والے رہنما نہ صرف اپنے اپنے ممالک کی نمائندگی کر رہے ہیں، بلکہ وہ ایک مشترکہ انسانی مستقبل کے علمبردار بھی ہیں۔ حالیہ اجلاس کے دوران ان کی باہمی گرمجوشی، مسکراہٹیں، چہروں پر رونق، اور رابطوں کا مضبوط عزم اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ دنیا اب تنازعات اور تصادم کے بجائے مکالمہ اور تعاون کی طرف بڑھ رہی ہے۔
یہ تصویر اس بات کی یاددہانی ہے کہ انسانی تعلقات کی بنیاد باہمی احترام اور افہام و تفہیم پر ہونی چاہیے وحشت اور درندگی پر قطعاً نہیں۔ جس طرح یہ رہنما ایک ساتھ چہل قدمی کر رہے ہیں، اسی طرح دنیا کے تمام ممالک کو بھی مشترکہ مسائل کے حل کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ یہ تصویر انسانی ہم آہنگی، اتحاد اور بین الاقوامی تعاون کی ایک زندہ و تابندہ مثال ہے۔
یہ تصویر عالمی سیاست میں ایک نئے توازن کی علامت ہے۔ جہاں ماضی میں عالمی طاقت کا مرکز مغرب میں تھا، اب مشرق میں ایک نئی طاقت ابھر رہی ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم جیسی تنظیمیں اس نئے توازن کی واضح علامت ہیں، جہاں چین، روس، بھارت، پاکستان اور دیگر ممالک مل کر ایک نئے عالمی نظام کی تشکیل کر رہے ہیں۔
اس تصویر میں نظر آنے والے رہنما دراصل انسانی تاریخ کے ایک نئے باب کے مصنف ہیں۔ وہ ایک ایسی دنیا کی تعمیر کر رہے ہیں جہاں پر اقوام باہمی احترام اور تعاون کی بنیاد پر اپنے عوام کے لیے بہتر مستقبل تعمیر کر سکیں۔ یہ کوئی خواب نہیں، بلکہ ایک حقیقت ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے تشکیل پارہی ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم دراصل ایک ایسا فورم ہے جس کا مقصد خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینا اور رکن ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو بڑھانا ہے۔ اس تنظیم کی بنیاد دو ہزار ایک میں رکھی گئی تھی، اور اب اس میں دس مکمل رکن شامل ہیں، جن میں چین، روس، بھارت، پاکستان، ایران، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ازبکستان اور بیلاروس شامل ہیں جبکہ ترکیہ اور مصر کو مبصرین کا درجہ حاصل ہے۔ اس تنظیم کا بنیادی مقصد علاقائی سلامتی، اقتصادی تعاون، اور دہشت گردی کے خلاف جنگ جیسے اہم امور پر کام کرنا ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس اور اس کی یہ تاریخی تصویر ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ انسانی سلامتی اور قوموں کی خودمختاری دراصل ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ بغیر خودمختاری کے انسانی سلامتی ممکن نہیں، اور بغیر انسانی سلامتی کے خودمختاری بے معنی ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس اور اس کی یہ تاریخی تصویر نہ صرف موجودہ وقت کا ایک اہم واقعہ ہے، بلکہ یہ مستقبل کے لیے ایک راہنما اصول بھی ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ عالمی سیاست کا توازن اب بدل رہا ہے، اور ایک نئی کثیر قطبی دنیا تشکیل پارہی ہے، جہاں پر مشرق اور مغرب دونوں اپنا اپنا کردار برابری کی سطح پر ادا کریں گے۔
انسانی سلامتی اور قوموں کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے یہ ضروری ہے کہ تمام ممالک باہمی احترام اور اشتراک کی بنیاد پر کام کریں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس اس سمت میں ایک اہم قدم ہے، اور یہ تصویر اس قدم کی ایک تاریخی یادگار بن چکی ہے۔
جیسا کہ چینی صدر شی جن پنگ نے کہا، شنگھائی تعاون تنظیم”بین الاقوامی تعلقات کی ایک نئی قسم اور انسانیت کے لیے مشترکہ مستقبل کی حامل کمیونٹی بنانے میں ایک اہم قوت” بن چکی ہے ۔ یہ تصویر اسی مشترکہ مستقبل کی جانب پہلا قدم ہے، جو تاریخ کے دھارے کو موڑنے کا باعث بنے گی۔
دنیا کے اہم رہنماؤں کی اس باوقار چہل قدمی سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ دنیا اپنا رخ تبدیل کر دے گی۔ کیا بعید کہ اس تبدیلی سے اقوام عالم کو امن، سکون، احترام، تعاون اور خوشحالی کے ساتھ رہنے کا موقع میسر آئے کیونکہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے کہ ایک طرف دنیا برق رفتاری سے ترقی کر رہی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ انسانی برادری کا بہت بڑا حصہ طرح طرح کے مسائل اور چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔
موجودہ دور میں جاری عالمی کشمکش اور رنگ بہ رنگ کشیدگیوں سے یہ حقیقت عیاں ہے کہ انسانی سلامتی کا تصور روایتی قومی سلامتی کے تصور سے کہیں زیادہ وسیع اور اہم ہے۔ یہ تصور صرف فوجی تحفظ تک محدود ہے، بلکہ اس میں معاشی استحکام، ماحولیاتی تحفظ، سماجی انصاف، اور انسانی حقوق کی ضمانت بھی شامل ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں ان تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی، اور رکن ممالک نے مشترکہ طور پر ان چیلنجوں سے نمٹنے کا عہد کیا۔
چینی صدر شی جن پنگ نے اس بات پر زور دیا کہ "شنگھائی تعاون تنظیم کو اب "علاقائی امن و استحکام کے تحفظ” کے ساتھ ساتھ رکن ممالک کی ترقی اور خوشحالی کو فروغ دینے کی بڑی ذمہ داری بھی اٹھانی ہے”۔ یہ انسانی سلامتی کے جامع تصور ہی کی عکاسی ہے، جہاں صرف پرامن حالات پیدا کرنا ہی کافی نہیں، بلکہ عوام کی معاشی خوشحالی اور سماجی ترقی کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔
قومی خودمختاری کا تصور بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر قوم کو اپنے داخلی معاملات میں خود مختارانہ فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے، اور دوسری قومیں اس حق کا احترام کریں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں اس اصول کو واضح طور پر تسلیم کیا گیا، اور تمام رکن ممالک نے باہمی احترام اور خودمختاری پر کماحقہ زور دیا۔ شنگھائی تعاون تنظیم کا بنیادی فلسفہ بھی یہی ہے کہ رکن ممالک اپنی خودمختاری برقرار رکھتے ہوئے مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے مل کر کام کریں۔ یہی وہ مضبوط بنیاد ہے جس پر ایک مستحکم اور پرامن بین الاقوامی نظام تعمیر کیا جا سکتا ہے۔
ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان کے شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں بطورِ مہمان خصوصی شرکت اور ان کے بیانات سے ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی ہوتی ہے۔ ترکیہ، جو نیٹو کا رکن ہے، اب شنگھائی تعاون تنظیم کے ساتھ اشتراک کر رہا ہے، جو اس بات کی نشاندہی ہے کہ عالمی طاقت کے مراکز تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ رجب طیب ایردوان نے اجلاس میں واضح کیا کہ "ترکیہ شنگھائی تعاون تنظیم کو "مغرب کے زیر تسلط بین الاقوامی نظام کے متبادل” کے طور پر دیکھتا ہے”۔
شنگھائی تعاون تنظیم کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اس نے پاکستان اور بھارت جیسے حریف ممالک کو بھی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا ہے۔ دونوں ممالک کے سربراہان چینی صدر کے زیر صدارت اجلاس میں موجود تھے، اور انہوں نے دیگر رہنماؤں کے ساتھ بھی بات چیت کی۔ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان تنازعات موجود ہیں، لیکن شنگھائی تعاون تنظیم کا فورم انہیں مشترکہ مفادات پر جمع کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات کو بہتر بنانے پر زور دیا۔ یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے دونوں ممالک کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔
موجودہ عالمی سیاست سخت نامطلوب بن گئی ہے، اس میں انسانی سلامتی اور قوموں کی خودمختاری شدید خطرات اور ناقابلِ تلافی نقصان سے دو چار ہے۔ طاقت کی سیاست، یکطرفہ کارروائیاں، اقتصادی پابندیاں اور پراکسی جنگوں نے بین الاقوامی تعلقات کو شدید عدم استحکام کا شکار بنا دیا ہے۔ چھوٹے ممالک کی خودمختاری ہر وقت خطرے میں ہے اور بین الاقوامی قانون کی عملداری دن بہ دن کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ عالمی سیاست میں بڑے پیمانے پر بہتری آ جائے۔ عالمی اداروں میں اصلاحات، بین الاقوامی قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانا، اور طاقت کے متوازن استعمال کی ضرورت ہے۔ دنیا کو ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں تمام ممالک کو یکساں مواقع میسر ہوں اور چھوٹے بڑے کا غیر منصفانہ امتیاز ختم ہو۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے حالیہ اجلاس کو ایشیائی اقوام اسی امید سے دیکھ رہی ہیں۔ یہ تنظیم خطے میں امن اور استحکام کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہو سکتی ہے۔ اقتصادی تعاون، سلامتی کے چیلنجز سے مشترکہ طور پر نمٹنا، اور ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کے ذریعے یہ تنظیم ایشیائی ممالک کے درمیان گہری ہم آہنگی اور ٹھوس بنیادوں پر تعاون استوار کر سکتی ہے۔
عالمی رہنماؤں کے درمیان ہونے والے یہ بیٹھک اور چہل قدمیاں محض رسمی تقاریب نہیں ہیں۔ یہ درحقیقت ایک بہتر مستقبل کی تعمیر کے لیے بنیادی اینٹیں ہیں۔ اگر ان ملاقاتوں میں تعاون، باہمی احترام اور مشترکہ مفاد کو فوقیت دی جائے تو یقیناً دنیا موجودہ بحرانوں سے نکل سکتی ہے اور ایک پرامن اور خوشحال مستقبل کی طرف سفر کر سکتی ہے۔ ہمیں اس بات پر یقین رکھنا چاہیے کہ انسانی عزم اور اجتماعی کوششوں سے وہ دن دور نہیں جب دنیا امن اور خوشحالی کی نئی بلندیوں کو چھوئے گی۔ اس سفر میں ہر قوم، ہر فرد کا کردار اہم ہے، اور ہم سب کو مل کر ایک بہتر دنیا کی تعمیر کے لیے کوشاں رہنا چاہیے۔
ہماری دعا ہے کہ ہمارے پڑوس میں منعقد اس اہم اجلاس میں وہ بہترین فیصلے ہوں جو خطے اور دنیا میں استحکام کی بنیاد بنیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اس اجلاس میں ایسے ٹھوس اقدامات پر اتفاق رائے ہوگا جو نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر امن اور خوشحالی کو فروغ دیں گے۔