گزشتہ رات سکھر ملتان موٹر وے پر کشمور کے قریب ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جب ضلع میانوالی کے تھانہ چکڑالہ کی ایک ٹریلر گاڑی پر فائرنگ کی گئی۔ یہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ لمحہ فکریہ ہے، کیونکہ اس گاڑی کا تعلق ایسے علاقے سے ہے جو گڈز ٹرانسپورٹ کے لحاظ سے پورے پاکستان میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
چکڑالہ اور اس کے گرد و نواح کے علاقے برسوں سے مال برداری کے شعبے میں اپنی پہچان رکھتے ہیں۔ یہاں سے چلنے والی گاڑیاں کراچی سے لے کر خیبر تک زندگی کے ہر شعبے کو رواں رکھنے والی اشیاء پہنچاتی ہیں۔ اگر یہی ٹرانسپورٹ صرف تین گھنٹے کے لیے سڑک پر کھڑی کر دی جائے تو پورے پاکستان کی ٹریفک مفلوج ہو جاتی ہے اور معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس حقیقت کو نظر انداز کرنا قومی مفاد سے کھیلنے کے مترادف ہے۔
واقعے کی سنگینی مزید اس لیے بڑھ جاتی ہے کہ گڈز ٹرانسپورٹ کے صدر کا تعلق بھی تھانہ چکڑالہ سے ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت چاہیے کہ یہ واقعہ کسی ایک فرد یا ایک گاڑی کا نقصان نہیں، بلکہ ایک پوری برادری اور بالواسطہ طور پر پورے ملک کا مسئلہ ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اور ہمارے ادارے اس وقت تک متحرک نہیں ہوتے جب تک ان پر براہِ راست کوئی آفت نہ آ پڑے۔ ہر کوئی اپنی باری کا انتظار کرتا ہے، جیسے یہ سمجھ لیا ہو کہ جب تک آگ ہمارے گھر کو نہیں لگتی تب تک خاموش رہنا ہی بہتر ہے۔
یہ طرزِ عمل ہمیں اجتماعی بے حسی کی اس نہج پر لے آیا ہے جہاں مسائل کا فوری حل ڈھونڈنے کے بجائے ہم وقت ضائع کرتے ہیں۔ اگر ایسے واقعات پر بروقت ردعمل نہ دیا گیا تو یہ معمول بنتے دیر نہیں لگے گی، اور پھر کسی کے لیے بھی شاہراہ پر محفوظ سفر ممکن نہیں رہے گا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے موٹر وے اور ہائی ویز پر ٹرانسپورٹروں کی حفاظت کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ گڈز ٹرانسپورٹ کی قیادت کو بھی اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کر کے حکومت پر دباؤ ڈالنا ہوگا تاکہ آئندہ کسی گاڑی، کسی ڈرائیور یا کسی قافلے کو یوں نشانہ نہ بنایا جا سکے۔
آخر میں یہ بات یاد رکھنا چاہیے کہ اگر ٹرانسپورٹ رُک جائے تو معیشت بھی رک جاتی ہے۔ اور معیشت کا رک جانا دراصل پورے ملک کی زندگی کو مفلوج کر دینے کے مترادف ہے۔ اس لیے یہ وقت ہے کہ ہم اپنی آنکھیں کھولیں اور ایسے سانحات کو صرف خبر کا حصہ بنانے کے بجائے ان کے مستقل حل کی طرف بڑھیں۔