خوف اور خوشی دو سب سے طاقتور ایسے محرکات ہیں جن کے زیرِ اثر اکر انسان ہمیشہ سے دوڑ دھوپ کے دائروں میں سرگرداں رہتا ہے۔ میں نے ان احوال کا نہایت گہرا مشاہدہ کیا ہے کہ جہاں لوگ بے اختیار خوف یا خوشی کے لپیٹ میں ایسے چلے جاتے ہیں کہ انہیں کسی اور چیز کا ہوش بالکل نہیں رہتا۔ زلزلے کے وقت خوف لوگوں کے چہروں، لہجوں، ہاتھوں اور قدموں پر پوری طرح حاوی ہوتا ہے۔ زلزلہ ان واقعات میں سے ایک ہے جس کے ہونے پر انسان بے اختیار خوف اور وحشت کی گہری کیفیت میں مبتلا ہوتا ہے، زلزلے کو محسوس کرتے ہوئے ہر بندہ غیر ارادی طور پر اپنے بچاؤ کی خاطر ادھر ادھر دوڑنے لگ جاتا ہے اور بیک وقت اس کا ذہن ماضی، حال اور مستقبل کے خدشوں اور امیدوں میں بری طرح تقسیم ہو کر رہ جاتا ہے۔
بادی النظر میں محسوس یہ ہو رہا ہے کہ امکانی طور پر زلزلہ نظام ہستی کے ہموار انداز میں چلنے کا کوئی فطری تقاضا ہے، یہ بھی ممکن ہے کہ کائنات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تھک جاتی ہو اور اس کی تھکن کو دور کرنے کا یہ ایک تکنیکی طریقہ ہو۔ ممکن ہے قدرت کو مستقبل کے کائناتی ڈھانچے میں کوئی اہم رد و بدل مطلوب ہو اور اس کے خاطر زمین کو "ہلانا” ضروری ہو، ممکن ہے انسان کی سوچ اور عمل میں اس کے ذریعے سے کوئی جوہری تبدیلی لانا پیش نظر ہو، یہ بھی دل کو لگنے والی بات ہے کہ خالق کائنات انسان کی حدوں سے نکلنے والی سرکشی کو کسی حد تک لگام ڈالتا ہو اور یہ بھی زیادہ قرین قیاس اور ممکن ہے کہ اس کے ذریعے سے کائنات اپنے انجام تک بڑھنے کا کوئی لازمی مرحلہ طے کر رہی ہو، یہ سارے امکانات اگر ٹوٹلی سچ نہیں تو ٹوٹلی بے بنیاد بھی نہیں۔
سٹیفن ہاکنگ حالیہ تاریخ کا ایک مایہ ناز خلائی سائنسدان ہے (موت 14 مارچ 2018) ان کا کہنا ہے کہ "کائنات کے پیچھے بہت بڑی منصوبہ بندی کارفرماں ہے”۔ سنگل سٹیرنگ تھیوری ان کا مشہور نظریہ ہے۔ اس نظریے میں انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ کائنات کے ڈرائیونگ سیٹ پر ایک ہی ہستی براجماں ہے کیونکہ کائنات کے چپے چپے سے باہم گہرا ربط و ضبط عیاں ہے”۔ یہ خیال کائنات سے متعلق ان بنیادی سچائیوں کے بارے میں سے ایک کا برملا اعتراف ہے جن کے بظاہر عالمبردار تو مذہب اور پیغمبر ہیں لیکن حقیقت میں یہ عین مطابق انسانی فطرت ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ "انسان اپنے آغاز سے لے کر اب تک کائنات کے بارے میں جو سب سے بڑی توجیہہ تک پہنچا ہے وہ ہے خدا”۔ اکثر لوگ ان کو خدا کا انکاری سمجھتے ہیں لیکن اس نے خود کو ہمیشہ خدا کا متلاشی اور اقراری قرار دیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ "کائناتی ڈھانچے کے تشکیل میں انسان کی حفاظت کا قابلِ اطمینان انتظام کیا گیا ہے۔ اسے اپنے تحفظ کے لیے قطعاً پریشان نہیں ہونا چاہیے”۔
زلزلہ نظام کائنات کے اندر ایک تکوینی اظہاریہ ہے اور اس کے اسباب اور محرکات تک ابھی انسان کا ذہن نہیں پہنچا۔ زلزلہ کیوں آتا ہے؟ کب آتا ہے؟ کیسے آتا ہے؟ اور اس کے اسباب اور محرکات کیا ہیں؟ مادی ہیں یا پھر معنوی؟ اس بارے میں انسانی برادری کا نقطہ نظر یکساں بالکل نہیں۔ کوئی مذہبی توضیح کرتا ہے تو کوئی سائنسی، کوئی خالص قدرتی عمل قرار دیتا ہے تو کوئی زمین کے اندر رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں کا ردعمل۔ قطع نظر اس سے کہ زلزلے کے اسباب قدرتی ہیں یا سائنسی مجھے ذاتی طور پر یہ معاملہ بھی "ففٹی ففٹی” کی حد میں لگ رہا ہے۔ میرے نزدیک یہ ایک طرف قدرت کے تکوینی نظام میں اٹھایا جانے والا کوئی اہم انتظامی اقدام، تقاضا یا مظاہرہ ہے تو دوسری طرف انسان کے فطرت کے ساتھ چیڑ خانی کا "نقد” ردعمل بھی محسوس ہو رہا ہے۔ بچشمِ سر نظر آرہا ہے کہ آج کے انسان نے فطرت سے ہم آہنگ ہو کر چلنے کی بجائے اس سے لڑنے کی مجموعی روش اپنا رکھا ہے۔ اس نے خواہشات کی تکمیل اور اعمال و اخلاق کے ایسے ایسے طریقے ایجاد کیے رکھے ہیں کہ جو فطرت کے نظام کو درہم برہم کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ روز انسانوں کے ہاتھوں کائنات میں کتنی آلودگی و گرمی، حدت و شدت اور انصاف و اعتدال کی خلاف ورزیاں شامل ہو رہی ہیں سچ تو یہ ہے کہ اس کا کوئی اندازہ نہیں۔
یہ امر غور طلب ہے کہ انسان نے زمین کی گہرائیوں میں ایٹمی تجربات کر کے اپنے ہی استحکام کو خطرے میں ڈالا ہے،سمندر کی تہہ میں تیل کے ذخائر نکال نکال کر زمین کی بیرونی قشر کو کمزور کیا ہے، اور پہاڑوں کو کاٹ کر بلند و بالا عمارات تعمیر کر کے فطرت کے توازن میں مداخلت کی ہے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ زمین کی داخلی پرتیں انہی بے ہنگم مداخلتوں سے بیزار ہو کر ایک دوسرے سے ٹکرا جاتی ہوں اور اس تصادم کا نتیجہ ہی زلزلے کی صورت میں برآمد ہوتا ہو؟ گویا انسان اپنے ہاتھوں سے اپنے عذاب کا سامان پیدا کر رہا ہے۔ زمین کا یہ ہلانا درحقیقت اس کی چیخ و پکار ہے، ایک ایسا احتجاج ہے جو اس کے صبر کے آخری کنارے کو پار کرنے کی علامت ہے۔
مذہبی تعبیر کے مطابق زلزلہ قدرت کا وہ ہولناک پیغام ہے جس کے ذریعے انسان کو اس کی حقیقت اور اس کے خالق کی عظمت کا احساس دلایا جاتا ہے۔ یہ ایک تنبیہ ہے، ایک للکار ہے جو انسان کی انا پرستی اور تکبر کو چکنا چور کر دیتی ہے۔ جب انسان زمین پر اپنی چھوٹی سی حیثیت بھول کر خود کو خدا سمجھنے لگتا ہے، تو قدرت اپنی طاقت کا ایک چھوٹا سا مظاہرہ کر کے اسے بتا دیتی ہے کہ اس کی حیثیت محض ایک ذرہ ہے۔ زلزلے کے بعد کی خاموشی درحقیقت اس بات کا انتظار ہوتی ہے کہ انسان اپنی غلطیوں پر شرمسار ہو اور توبہ و استغفار کی راہ پر گامزن ہو۔ یہ خاموشی سوال بھی ہے اور جواب کی متقاضی بھی۔
سائنس دان زلزلے کی پیشین گوئی کے لیے جدید ترین آلات ایجاد کرنے میں مصروف ہیں مگر شاید یہ قدرت کا قانون ہے کہ وہ اپنے بعض راز انسان پر ہرگز مکمل طور پر عیاں نہیں ہونے دے گی۔ زلزلہ اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ انسان کی عقل اور اس کے آلات کی باوجود ایک حد ہے۔ وہ حد جہاں سے آگے صرف اور صرف ایک ہی قادر مطلق کی حکمرانی ہے۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جہاں پر سائنس اور مذہب کے دائرے باہم ملتے ہیں۔ دونوں ہی اپنی اپنی حدود کا اعتراف کرتے ہوئے ایک عظیم تر حقیقت کے سامنے سر تسلیم خم کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا زلزلے کا مقصد محض تباہی نہیں بلکہ انسان کو اس کی حدوں کا احساس دلانا اور اسے تواضع و عاجزی سکھانا بھی ہے۔
کوئی مانے یا نہ مانے آج کا انسان فطرت کے معاملے میں جس قدر بے باک اور ضرر رساں بنا بیھٹا ہے وہ تصور سے بھی ماورا ہے اور اس طرزِ عمل کا نتیجہ اب یہ نکلا ہے کہ آج انسان بظاہر جتنا پرسہولت، ترقی یافتہ اور آزاد ہے حقیقت میں اس سے کہیں زیادہ پر خطر، غیر محفوظ، پریشان حال اور ناآسودہ ہے۔ گلوبل وارمنگ، موسمیاتی تغیرات، ماحولیاتی توازن کا بگاڑ، اندھا دھند ترقی کے ہوس سے پھیلنے والی آلودگی اور باہم مفاداتی کشمکش کے لیے روا رکھنے والے تنازعات سے برآمد ہونے والی "آگ” جس نے اشرف المخلوقات کے مزاج میں قدرتی طور پر موجود اس ٹھنڈک، تحمل اور خیر کو جلا کر راکھ کر دیا ہے جنہوں نے انسان کو اپنی آغوش عافیت میں اچھی طرح تھام رکھا تھا۔ یہ سب کچھ ہر معقول فرد کو بچشمِ سر نظر آرہا ہے۔
اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والوں کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے محض انسان کے بسانے کے طور پر یہ کائنات، زمین اور زندگی پیدا نہیں کئے ہیں بلکہ اسے نظام ہستی میں اپنی منشاء کا عملی اظہار بھی مطلوب ہے۔ انسان کا سانحہ یہ ہے کہ وہ کبھی بھی اپنے خالق و مالک کی منشاء کو ماننے پر یکسو نہیں ہوا۔ اس نے وہ تمام اخلاق و اعمال اپنا رکھے ہیں کہ جو خدا کی منشاء کے عین مخالف ہیں اور جو اس کے ناراضگی کا باعث بنتے ہیں اور جو نظام کائنات کے ہموار انداز میں آگے بڑھنے میں رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں۔
انسان کو چاہیے کہ وہ ایمان، انصاف، اخلاص، اخلاق، استحقاق اور اعتدال کے ان خدائی اقدار کی جانب مراجعت کریں جو اللہ کی خوشنودی اور انسانی سلامتی کا معتبر ضمانت ہے۔ مشہور روایت ہے کہ "خلیفہ دوم اور مراد رسول حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں ایک بار شدّت کا زلزلہ آیا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے زمین پر زور سے اپنا عصا مارا اور جلال سے کہا کہ "کیا تجھ پر انصاف نہیں ہو رہا اور یہ کہنا ہی تھا کہ فوراً زلزلہ رک گیا”۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ ہم سب پر مہربان ہو اور ہمیں درست طرزِ زندگی اپنانے کی توفیق بخشیں۔