جسٹس اطہر من اللہ بنام ہائبرڈ نظام

سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ نے کراچی بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے وہ بات کہہ دی جو برسوں سے پاکستان کے سیاسی اور صحافتی حلقے دہراتے آئے ہیں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ’’ہائبرڈ نظام‘‘ دراصل آمریت کا دوسرا نام ہے اور آئینی حکمرانی کی عدم موجودگی ہی پاکستان کے مسائل کی جڑ ہے۔ یہ اعتراف محض ایک بیان نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی المیے کا نوحہ ہے۔

پاکستان میں ہمیشہ ایک پردے کے پیچھے طاقت کا کھیل چلتا رہا ہے۔ کبھی براہِ راست مارشل لا، کبھی نیم سول حکومتیں اور کبھی نام نہاد ’’ہائبرڈ نظام‘‘۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ عوامی مینڈیٹ کو بار بار کچلا گیا، آئین کو محض ایک کتاب سمجھا گیا اور آئین کی بالادستی کے بجائے طاقتور اداروں کی بالادستی کو اصل قانون بنا دیا گیا۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے چند ماہ پہلے ہائبرڈ رجیم کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملائے اور اسے ایک کارگر ماڈل کے طور پر پیش کیا۔ یہ وہی رویہ ہے جو اس نظام کو مضبوط کرتا ہے، کیونکہ جب حکمران خود غیر آئینی بندوبست کو جواز فراہم کریں تو پھر بندوبست کے نظام کو کوئی رکاوٹ نہیں رہتی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان 78 برس بعد بھی اپنے اصل سبق نہیں سیکھ سکا؟ کیا ہم اب بھی آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو خواب ہی سمجھتے رہیں گے؟

جسٹس اطہر من اللہ کا یہ کہنا کہ اگر آزادیِ اظہار پر قدغن نہ لگائی جاتی تو پاکستان کبھی نہ ٹوٹتا، ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی عوامی رائے کو دبایا گیا، میڈیا پر تالے لگے اور سیاسی جماعتوں کو کچلا گیا تو ملک میں انتشار اور ٹوٹ پھوٹ نے جنم لیا۔ آج بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ بنیادی حقوق بے معنی ہو چکے ہیں، اظہار کی آزادی محدود ہے اور سیاسی خیالات جرم قرار دیے جا رہے ہیں۔

ملک کی ایک مقبول جماعت کا بیانیہ بھی یہی ہے کہ اس ملک کو صرف اور صرف آئین اور عوامی مینڈیٹ کی بالادستی ہی بچا سکتی ہے۔ کوئی ہائبرڈ نظام، کوئی بندوبست یا کوئی ڈیل اس ملک کو آگے نہیں لے جا سکتی۔ تبدیلی کا اصل ذریعہ نوجوان نسل ہے جو اپنے خوابوں اور جدوجہد سے پاکستان کو ایک حقیقی جمہوری ریاست بنانے کے لیے تیار ہے۔

خواجہ آصف نے جسٹس من اللہ پر ردعمل دیتے ہوئے انہیں مشرف دور میں ان کے صوبائی عہدے کی یاد دہانی کرائی اور انتہائی غیر مناسب اور توہین آمیز الفاظ پبلک ڈومین پلیٹ فارم پہ استعمال کئے جو ایک وفاقی وزیر دفاع کو ملک کی سب سے بڑی عدالت کے ایک موجودہ آزاد جج کے خلاف استعمال نہیں کرنے چاہئیں، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وزیر دفاع کس معیار پر ایک جج کی توہین کر سکتے ہیں؟ ایک جج کو بے شرم کہنا، ان پر الزام تراشی کرنا اور ان کی ساکھ کو زیر سوال لانا نہ صرف غیر مہذب ہے بلکہ آئین اور عدلیہ کی حرمت کے خلاف ہے۔ یاد رکھیں، آپ خود اس وقت ہائبرڈ نظام کے تابع کام کر رہے ہیں وہی نظام جسے آپ قبول کرتے ہیں اور جس کے تحت آئینی حکمرانی غیر فعال ہے۔

اس کے برعکس، جسٹس اطہر من اللہ نے اگر کبھی آمریت کے دور میں کسی عہدے کا حصہ رہے ہوں تو آج انہوں نے اپنی پوزیشن اور آئینی ذمہ داریوں کے مطابق خود کو درست کر لیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آپ کب اپنے آپ کو درست کریں گے اور آئین اور عوامی مینڈیٹ کی بالادستی کا احترام کریں گے؟

یہاں ایک اور اہم سوال بھی سامنے آتا ہے: کیا جسٹس اطہر من اللہ کی طرح دیگر آزاد ججز بھی اپنی آواز بلند کریں گے؟ کیا وہ اپنے آئینی فرائض اور عدلیہ کے وقار کی حفاظت کے لیے اسی جرأت کا مظاہرہ کریں گے؟ یہ جاننا ضروری ہے کہ عدالتیں صرف قوانین کی تشریح کے لیے نہیں بلکہ آئین کے تحفظ اور عوام کے حقوق کے لیے بھی کھڑی رہیں۔ آئین کی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لیے ہر جج کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے کردار کو فعال کرے اور اداروں کی بحالی میں حصہ ڈالے۔

پاکستان کو آگے بڑھنے کے لیے سب سے پہلے آئین اور اس کی بنیادی روح کو بلا شرط اور بلا تاویل ماننا ہوگا۔ جج، وکیل، سیاستدان، صحافی اور ہر شہری سب کو یہ سمجھنا ہوگا کہ حق حکمرانی صرف عوام کے منتخب نمائندوں کا ہے۔ اگر ہم نے اب بھی یہ سبق نہ سیکھا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے