حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم جب معراج کے موقع پر خدا کے دربار میں حاضر ہوئے تو بزبان حال یہی عرض کر رہے تھے کہ اپنی حیات کا پورا سرمایہ لے کر آیا ہوں، اپنی مکمل متاع اپنے ساتھ لایا ہوں۔ زمین سے آتے ہوئے اپنا کچھ بھی وہاں نہیں چھوڑا، جو کچھ میرا تھا، وہ سب کچھ لے آیا ہوں۔ اے اللہ! عاجزی لے آیا ہوں، فقیری لے آیا ہوں، ملنگوں کا کشکول لے آیا ہوں، اطاعت لے آیا ہوں، بندگی و غلامی لے آیا ہوں۔
حضورِ پاک بزبانِ حال ربِّ ذوالجلال سے یہ عرض کر رہے تھے کہ اے خالقِ کون و مکاں، مالک و مختارِ کل! میں بحیثیت انسان لا ہی کیا سکتا ہوں؟ آپ نے تو خود مجھے اپنے کلام میں "عبد” کہہ کر پکارا ہے۔ آپ نے مجھے جو بنایا ہے، ویسا ہی ہوں۔ مجھے اپنے بارے میں لمحہ بھر بھی کبھی یہ غلط فہمی نہیں ہوئی کہ میں آپ کے عطا کردہ نام کے علاوہ کچھ اور ہوں۔ آپ کا یہ عنوان اتنا بے کنار اور جامعیت سے بھرپور ہے کہ میں اس سے باہر نکلنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ کسی اور کو شاید اپنے بارے میں کچھ اور سمجھنے کی جہالت یا نسیان لاحق ہو سکتی ہے، مگر مجھے تو آپ نے براہِ راست "عبد” کا مفہوم سمجھایا ہے اور میرے دل و دماغ میں آپ نے خود اس مفہوم کو ہر بیرونی اثر سے محفوظ رکھا ہے۔
مجھے اپنے "عبد” ہونے پر محکم رکھنے کے لیے آپ نے خود انتظام فرمایا ہے۔ آپ کی حفاظت کے حصار کے ہوتے ہوئے میں کیسے بھول سکتا ہوں کہ میں عبد ہوں؟ آپ نے تو دوسرے انسانوں کی نفسیات میں بھی عبد کے مفہوم کو ایسا پیوست کر دیا ہے کہ وہ اپنی حقیقت کو بھولانے کی لاکھ کوشش کریں، پھر بھی وقتاً فوقتاً انہیں اپنے عبد ہونے کا احساس ہوتا رہتا ہے۔ اے خالقِ کون و مکاں! جب انسان کسی شے کو کوئی نام دیتا ہے تو وہ اس کی حیثیت، ساخت، شخصیت اور خصوصیات کے مطابق ہوتا ہے، پھر آپ کے عطا کردہ نام کے علاوہ ہم اور کیا ہو سکتے ہیں؟
آپ کے دیے ہوئے نام "عبد” نے ہمارے ظاہر و باطن، حال، ماضی، مستقبل، سوچ و فکر، ہاتھ و پاؤں، دل و دماغ، اختیار و بے بسی، احساسات و ضروریات، موجود و معدوم— سب کو بدرجہ اتم اپنے حصار میں لے رکھا ہے۔ آپ کے عطا کردہ اس نام کو کامل، جامع اور مانع تسلیم کرنا میری فطرت کی آواز ہے، اس کائنات کے ہر ذرّے، ہر چرند و پرند کی آواز ہے، میرے ماحول کے ہر در و دیوار کی آواز ہے، میرے دائیں اور بائیں، میرے آگے اور پیچھے، میرے اوپر اور نیچے، ہر آن، ہر گھڑی، ہر سمت یہی صدائیں آتی ہیں کہ تیرا عطا کردہ نام "عبد” کامل ہے، جامع ہے، مانع ہے، عقلی ہے، منطقی ہے، سائنسی ہے، وجدانی ہے، حسی ہے، عملی ہے۔
پھر بھلا ان حقائق کے ہوتے ہوئے تیرا یہ بندہ اپنے نام "عبد” کے مفہوم کو سمجھنے میں کیسے غلطی کر سکتا ہے؟ ہاں، جہالت حائل ہونا الگ بات ہے، مگر آپ نے تو خود مجھے اندھیروں کا چراغ بنایا، سورج کہہ کر پکارا، علم کہہ کر پکارا، اپنے بندوں کا نمائندہ کہہ کر پکارا، مجھے غیر مشروط مطاع کہہ کر پکارا، اپنی حفاظت کے حصار میں محفوظ رکھا ہوا بندہ قرار دیا۔ پھر بھلا وہ جہالت مجھے چھو ہی کیسے سکتی ہے، جس سے آپ نے میری حفاظت خود فرمائی ہے؟
آپ نے تو خود اپنے بندوں کو میرے بارے میں اطمینان دلایا ہے کہ مجھے کبھی جہالت لاحق نہیں ہو سکتی۔ آپ نے تو مجھے ہر جہالت سے پاک قرار دیا، پھر بھلا جہالت کی مجال ہی کیا کہ مجھے مس تک کرے اور میں اپنے نام "عبد” کا مفہوم بھول جاؤں؟
اے مالکِ کون و مکاں! میں تو عبد کے مفہوم کو تیرے بندوں تک پہنچانے کے لیے تیرا منتخب کردہ ہوں، پھر بھلا سبحان کے انتخاب کو اپنے "عبد” ہونے کی سمجھنے اور یاد رکھنے میں کیسے غلطی ہو سکتی ہے؟
اے مالکِ ارض و سما!
آپ نے تو اپنے انتخاب کو اتنا مقدس بنایا، اور اتنا باعزت قرار دیا کہ اس کی معمولی بے ادبی کو بھی بغاوت ٹھہرایا، آپ نے محمد(صلی اللہ علیہ و سلم) کی صورت میں اپنے اس انتخاب کے دامن کو اتنا پاکیزہ رکھا کہ پوری زندگی میں اس کے دامن پر گرد کا نہ نظر آنے والا ذرہ بھی پڑنے نہ دیا۔
اے صاحبِ جاہ و جلال!
آپ نے تو خود اپنے انتخاب کو خشکی و تری، زمین و آسمان، انسان و جن، چرند و پرند، نباتات و جمادات، پہاڑ و میدان، سب کے لیے رحمت بنایا۔ اسے رحمت للعالمین کہہ کر مخاطب فرمایا۔ پھر بھلا آپ کی رحمت کا انتخاب، اپنی رحمت ہونے کی حیثیت سے ایک لمحے کے لیے بھی کیسے غافل ہو سکتا ہے؟
اے خالقِ دل و دماغ!
آپ نے تو اپنے انتخاب کی حفاظت کے لیے خواب میں بھی اس کے دل کو بے راہ ہونے سے بچایا تاکہ وہ آپ کا انتخاب ہی رہے، اس کی رضا آپ ہی کی رضا رہے، اس کی نافرمانی آپ ہی کی نافرمانی شمار ہو، اس کی محبت آپ ہی کی محبت رہے، اس کی ناراضگی آپ ہی کی ناراضگی بنے، اس کی بات آپ ہی کی بات رہے، اس کی حکمت آپ ہی کی عطا رہے، اس کی بصیرت آپ ہی کی بصیرت قرار پاۓ، اس کا کلام آپ ہی کا کلام رہے، اس کا حکم آپ ہی کا حکم مانا جاۓ، اس کی مدد آپ ہی کی مدد قرار پائے، اس کے ساتھ جنگ آپ ہی سے جنگ سمجھی جائے، اس کی دوستی آپ ہی کی دوستی ہو، اس کی اطاعت آپ ہی کی اطاعت ہو، اس کا علم آپ ہی کی طرف منسوب ہو، اس کا وعدہ آپ ہی کا وعدہ ٹہرے، اس کی خوشی آپ ہی کی خوشی ہو، اس کی چاہت آپ ہی کی چاہت ہو،اس کا سب کچھ آپ ہی کا رہے مگر پھر بھی وہ عبد ہی رہے، کیونکہ آپ نے خود اسے عبد کہہ کر پکارا ہے۔ جب عبد کا نام اس کے لیے آپ ہی نے چنا ہے، تو وہ عبد کے سوا اور کچھ ہو ہی کیسے سکتا ہے؟ پھر آپ کی حفاظت کے ان فولادی حصاروں میں ہوتے ہوئے، اسے اپنی عبدیت کے مفہوم میں کوئی بھول کیسے ہو سکتی ہے؟
اے مدبرِ ارض و سما!
آپ ہی تو دن کو رات میں، رات کو دن میں، ذلت کو عزت میں، عزت کو ذلت میں، موت کو زندگی میں، زندگی کو موت میں، اندھیروں کو اجالوں میں، اجالوں کو اندھیروں میں، نفرت کو محبت میں، محبت کو نفرت میں، جوانی کو بڑھاپے میں، بچپن کو جوانی میں، فنا کو بقا میں، بقا کو فنا میں، نیند کو بیداری میں، بیداری کو نیند میں، عدم کو وجود میں، وجود کو عدم میں اور پھر دوبارہ عدم کو وجود میں بدلنے والے ہیں۔ آپ ہی قطرے کو سمندر میں، سمندر کو قطرے میں، غم کو خوشی میں، خوشی کو غم میں، مصیبت کو راحت میں، راحت کو مصیبت میں، بیماری کو صحت میں، صحت کو بیماری میں بدلنے والے ہیں۔
اے قادرِ مطلق، مالکِ ماضی و حال، خالقِ مستقبل! آپ کی عظمت، کبریائی اور اقتدار کے ہوتے ہوئے، آپ کے انتخاب پر نسیان کا غلبہ ممکن ہی کیسے ہو سکتا ہے؟
اے رحمتِ عام و خاص کے مالک!
زمین و آسمان کے رازوں کے عالم! معمولی چھوٹے سے حیوان میں حیات جیسی پیچیدہ صفت پیدا کرنے والے! بے زبان جانوروں کی گویائی کو سمجھنے والے! پتھر کے اندر رہنے والے کیڑے کی ضرورت کو جاننے اور پوری کرنے والے! دلوں کی دھڑکنوں میں مانگی گئی دعاؤں کو سننے اور قبول کرنے والے! بے سہاروں کے سہارے! اپنے باغیوں کو ان کی بغاوت کے باوجود مہلت دینے والے! اے خشکی اور تری میں فساد کے اسباب کو باریک بینی سے دیکھنے اور سمجھنے والے! اے ہواؤں، جانوروں، زمینوں ،فضاؤں ، نباتات، جمادات، کشتیوں، جہازوں، ہاتھیوں اور اونٹوں کو اپنے بندوں کے لیے مسخر کرنے والے!
اے عرش و فرش کے مالک!
اے جمال میں جلال،جلال میں جمال تخلیق کرنے والے!
اے جلال و جمال میں خوبصورتی بھرنے والے!
ماں کے دل میں محبت پیدا کرنے والے! پرندوں، درندوں، چرندوں اور بے زبان جانوروں کو بھی اپنے بچوں کی محبت اور پرورش کا شعور عطا کرنے والے! ہر صفت میں بے مثال، لازوال، بے آغاز، بے انجام، کامل، قائم، دائم ہستی کے مالک! پانی کے حقیر قطرے میں کان، آنکھ، دل و دماغ، سماعت و بصارت،حکمت و بصیرت ،تدبر و تفکر، شعور و احساس، سرور و شگفتگی،جلال و جمال، عشق و محبت،احساس و ادراک، گوشت و پوست، سوچ و بچار، عقل و فہم، کمال و زوال، حیات اور موت، وفا و جفا، اخلاص و بے لوثی، ہمدردی و غمگساری، نرمی و سختی، کرم و لطف، شیر خواری و بچپن، لڑکپن و جوانی، پختہ سالی و بڑھاپا، شوق و ذوق، ذائقہ و لذت، بینائی و دانائی ،گویائی و کلام ،خواہش و تمنا،انتخاب و چناو، رد و قبول، اتفاق و اختلاف، تائید و تنقید، تمییز و تفریق، ایثار و قربانی، تخیل و تعقل، علم و دانش، شاعری و ادب، تحقیق و تخلیق، شرافت و ظرافت، صبر و شجاعت، حزن و ملال، سستی و کاہلی، چین و اضطراب، اعتراف و انکار، جود و سخا، سعادت و شقاوت، اطاعت و بغاوت، سنجیدگی و متانت، حلم و بردباری ، صبر و استقامت،بہادری و شجاعت،توازن و تناسب ،بیان و اظہار پیدا کرنے والے!
اے وہ ذات جو انسان کے تحت الشعور میں پیوست کردہ عہدِ اَلَست کو خود انسان کی جہالت سے محفوظ رکھنے والی ہے!
اے قادرِ مطلق، جو تخلیقِ آدم سے پہلے لیے گئے وعدے کو انسان کی پیچیدہ نفسیات میں بقا عطا فرماتا ہے!
اے خالقِ عجائب و غرائب، جو اپنے وجود کے احساس کو انسان کی فطرت کی آواز بناتا ہے!
اے مختارِ کُل، جو اپنی ذات کے اقرار کو بنی آدم کی فطرت میں بساتا ہے!
اے خالقِ کمال و جمال!
تو ہی وہ ہے جو انسانی نفسیات کی پیچیدگی کا آغاز، اس کے جسم کی بےپناہ پیچیدگی کے نقطۂ انجام سے فرماتا ہے!
اے وہ رب، جو عقلوں کو حیرت زدہ کر دیتا ہے!
اے فعالٌ لما یرید!
تو ہی وہ ہے جو رات کے اندھیروں کو روشنی کے دھاروں سے چیر کر رکھ دیتا ہے!
اور تو ہی وہ عظیم قدرتوں والا رب ہے جو دن کی روشنیوں کو رات کی ظلمت میں چھپا دیتا ہے!
آپ کا اپنے انتخاب کو عطا کیا ہوا واحد سرمایۂ حیات عبدیت ہے، غلامی و اطاعت ہے، عبادت و محتاجی ہے،اس سے آپ کی اس عطا کے پہچان میں کبھی غلطی نہیں ہو سکتی، کیونکہ آپ نے تو خود اسے اپنی اسی عطا کے اظہار کا مظہر بنا کر اس کے تفہیم پر مامور فرمایا ہے، وہ اپنے اس وصف کو کیسے بھول سکتا ہے، جس کے اظہار کے معیار کو آپ نے خود حساب و کتاب کے لیے مقرر فرمایا ہے؟ اور اس کے اظہار کے معیار کو جزا و سزا کا پیمانہ قرار دیا ہے۔
اے تقدیر بنانے والے!
آپ کے انتخاب کو کامل یقین ہے کہ آپ حساب لینے میں عادل ہیں، غفار ہیں،ستار ہیں بے مثال ہیں!
اے کائنات کو بخشے ہوۓ توازن سے انسانی عقل کو حیرت زدہ کرنے والے، ہستی!
تیرے انتخاب کو یہ عین الیقین حاصل ہے کہ تو حساب لینے میں بے انتہا باریک بین ہے، رحیم ہے، شدید ہے، قدیر ہے، اور سریع ہے۔ اس لیے اگر اس کے حسیب، لطیف، قدردان، حلیم، ودود، رؤوف، رب نے اسے عبدیت کے سوا کچھ اور عطا کیا ہوتا، تو تیری غفاری، ستاری، رحمت، لطف و کرم کی بنا پر، اگر محض مواخذہ نہ کرنے کے لیے نظر انداز فرما بھی دیتا، تب بھی تیری قدردانی، مہربانی اور عدل کی بنا پر، عبدیت کے سوا کسی بھی چیز کے اظہار کو، جزا کے مقصد سے، عبدیت کے حساب میں ضرور شامل فرماتا۔
اے خالقِ کون و مکاں، مالکِ جاہ و جلال!
تیرے انتخاب کو اس بات پر مکمل یکسوئی حاصل ہے کہ عبدیت کے سوا کسی اور چیز کو شامل نہ کرنے کی صرف ایک ہی وجہ ہو سکتی ہے—اور وہ یہ کہ انسان کے پاس عبدیت کے سوا کچھ ہے ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تیرے دربار میں، انسانوں کی طرف سے، تیرے ہی مقرر کردہ نمائندے کی حیثیت سے، میں وہی کچھ لایا ہوں جو بحیثیت انسان میرے پاس ہے—اور وہ عبدیت، عاجزی، فقیری، اطاعت اور غلامی ہے۔
اے مالکِ کون و مکاں، صاحبِ جاہ و جلال!
عرض یہ ہے کہ میں اپنا پورا سرمایۂ حیات تیری خدمت میں لے آیا ہوں۔ فقیری کی جھولی، بندگی، محتاجی اور غلامی کا اظہار اپنے ساتھ لایا ہوں۔ تیرے فضل و رحمت کے خیرات کے لیے سوالی کی طرح، خالی دامن پھیلائے آیا ہوں۔ اور یہ جو میں نے تیری خدمت میں، اپنی حیثیت کے مطابق اپنا تعارف کرایا، یہ بھی تو نے ہی سکھایا، تو نے ہی بتایا،تو نے ہی سمجھایا،تو نے ہی میرے سینے میں محفوظ کرایا۔
اے پھولوں میں رنگ بھرنے والے ،صاحب جود و سخا!
بھلا جسے تو اپنا حبیب کہہ دے، اپنا رفیق کہہ دے، اپنا محبوب کہہ دے، جس کی شخصیت کو تو اپنے تعارف کی پہچان کہہ دے، جسے اپنا سفیر کہہ دے، اپنا رازدان کہہ دے—وہ تیرے دربار میں عاجز، عابد اور غلام کی حیثیت کے علاوہ کسی دوسری حیثیت سے حاضر ہی کیسے ہو سکتا ہے۔وہ تیرے دربار میں اپنی پوری متاعِ حیات، ایک محتاج سوالی کی طرح، خالی دامن لیے، تیری رحمت کو سمیٹنے کے لیے پھیلائے آیا ہے۔
اے ماضی، حال اور مستقبل کے جاننے والے! اپنے علم سے ہر شے کا کامل احاطہ کرنے والے! انبیاء کرام اور فرشتوں کی شفاعت کو بھی اپنی اجازت سے مشروط کرنے والے! اپنے بندوں کے فکر، سوچ، ارادے، عمل، استطاعت، اضطرار، صلاحیت، اظہار، ظاہر و باطن اور نیتوں سے کامل باخبر اور خوب جاننے والے!
آپ نے اپنے اس منتخب بندے کو اپنی ان صفات سے کاملیت کے ساتھ آگاہ فرمایا ہے جو آپ کے حساب و کتاب کے تمام معیارات اور متعلقات کا احاطہ کرتی ہیں۔
جو انسانوں کا حساب لینے کے لیے آپ ہی کے پیدا کردہ اور مقرر کردہ ہیں۔ آپ نے اپنے اس پورے منصوبے کو اپنے اس منتخب بندے کو سکھایا، سمجھایا، یاد کرایا اور پھر اپنے بندوں کے سامنے اپنا یہ تیار کردہ منصوبہ پیش کرنے کے لیے اپنے اسی منتخب بندے کو مامور فرمایا۔ اور اسے حکم دیا کہ میرے اس منصوبے میں ذرہ برابر کمی یا بیشی نہ کرنا۔
اسی غرض کے لیے آپ نے اپنے اس منتخب بندے کو ہر قسم کی کمی اور زیادتی سے پاک رکھا۔ اس کے علم اور سیرت کی پاکیزگی کے لیے اس کے دل و دماغ اور سیرت کے گرد اپنی حفاظت کا ایک مضبوط حصار بنایا۔
یہ تمام حقائق گواہ ہیں کہ آپ نے اپنے اس منتخب بندے کو یہی حکم دیا کہ میرے بندوں کو ان کا مقام بتاؤ، کہ تمہارے خالق نے تمہیں ایک ہی وصف سے نوازا ہے، اور وہ ہے عاجزی، اطاعت اور بندگی۔ اور تم سے میرا مطالبہ اسی بندگی کے اظہار کا ہے۔ میں قیامت کے دن تم سے اپنی عطا کردہ اس صلاحیت کے اظہار کے بارے میں سوال کروں گا۔
آپ نے اپنے اسی منتخب بندے کو اپنے مطلوبہ اظہار کے معیار کو انسانوں کے سامنے بطور نمونہ و میزان کے پیش کیا۔ آپ ہی کے طفیل آپ کا یہ منتخب بندہ اس معیار پر پورا اترا جو آپ نے اس کے لیے مقرر فرمایا تھا، اور وہ بندگی و عاجزی کا معیاری اظہار تھا۔
اے الٰہ واحد لا شریک، معبود برحق! آپ نے مجھے طٰہٰ کہا، یٰسین کہا، خلق عظیم کہا، معیاری حسین و جمیل اسوہ کہا، رؤوف کہا، احمد کہا، محمد کہا،نذیر کہا،بشیر کہا،شاھد کہا،مدثر کہا،مزمل کہا، الرسول کہا،النبی کہا ،انسانوں کا زمین پر یکتا مرجع کہا۔
اے اللہ! آپ کے عطا کردہ ان تمام صفات و اوصاف کی بنیاد میری عبدیت کا وہ معیاری اظہار رہا، جسے آپ ہی نے بے عیب و بے نقص بنایا۔
اے خالق دو جہاں! آپ نے مجھے اپنا عبد کہہ کر پکارا، اور میں عبد ہی رہا، عبد ہی رہوں گا، کیونکہ اگر عبد نہ رہوں تو کچھ بھی نہ رہوں۔
اے الٰہ وحدہ لا شریک! آپ کا یہ بندہ فرش کی مٹی پر اپنا ماتھا رگڑ کر بندگی کا اظہار کرتا رہا، اور اب عرش پر آپ کے سامنے مؤدب کھڑے ہو کر عاجزی، فقیری، درویشی، بندگی، غلامی اور سوالی کی صورت میں اسی بندگی اور غلامی کا اظہار کر رہا ہے، جس کے طفیل آپ نے اسے اس مقام پر آنے کی اجازت دی، جہاں آج تک کسی کو آنے کی اجازت نہ ملی۔
اے معبود برحق، معبودِ کائنات، مسجودِ اشجار، مسجودِ لیل و نہار، مطاعِ جاندار و بے جان! یہی پیغام زمین پر تیرے بندوں کو دے کر تیرے دربار میں حاضر ہوا ہوں کہ بندگی عظمت ہے، بلندی ہے، کمال ہے، جمال ہے، حسن ہے، خوبصورتی ہے، بقا ہے، فلاح ہے، دوام ہے، آزادی ہے، خوشحالی ہے، ہریالی ہے، سکون ہے، راحت ہے، خودداری ہے، لطف ہے، کرم ہے، فکر کی آزادی ہے، فطرت ہے، دل ہے، دماغ ہے، سمجھ ہے، دانش ہے، حقیقت ہے، عقل ہے، فہم ہے، بے نیازی ہے، معقولیت ہے، دانشمندی ہے، عقلمندی ہے، دور اندیشی ہے، روشنی ہے، اجالا ہے، خلاصی ہے، کامیابی ہے—الغرض سب کچھ ہے اور اس کے سوا کچھ بھی نہیں، کیونکہ یہ انتخاب تمہارے خالق کا ہے، مالک کا ہے، معبود و مسجود کا ہے، حاکم کا ہے، رازق کا ہے، ربِّ ذوالجلال کا ہے، اللہ رب العالمین کا ہے۔
وہی مصور ہے، مدبر ہے، عادل ہے، داتا ہے، مقدس ہے، سبحان ہے، رحیم ہے، شفیق ہے، کریم ہے، قائم ہے، دائم ہے، حی ہے، قیوم ہے، ستار ہے، غفار ہے، سلام ہے، مہیمن ہے، حسیب ہے، قدیر ہے، بصیر ہے، سمیع ہے، بدیع ہے، لطیف ہے، رؤوف ہے، علیم ہے، خبیر ہے، قوی ہے، صاحبِ اقتدار ہے، غفور ہے، مجید ہے، حمید ہے، محمود ہے، باری ہے، حکیم ہے، حلیم ہے، ودود ہے، صمد ہے، احد ہے، شکور ہے، سلام ہے، مومن ہے، کامل ہے، اکمل ہے، ولی ہے، نصیر ہے، بصیر ہے، قہار ہے، جبار ہے، منتقم ہے، ذوالجلال ہے، ذوالقوہ ہے، متین ہے، حکیم ہے، صبور ہے، ربِّ مرسلین ہے، ظاہر ہے، باطن ہے، غنی ہے، سخی ہے، واجد ہے، ماجد ہے، مجید ہے۔
اے مجھے مبعوث فرمانے والی، ہر صفت سے متصف اور ہر عیب سے پاک ہستی! میں تیرے بندوں کو یہی کہتا رہا، بتاتا رہا، اپنی قول و فعل سے سمجھاتا رہا، اور یہی میرا وظیفہ رہا کہ آپ ہی ان کے مطلوب و مقصود ہیں۔
اے عرش و فرش کے مالک!
انہیں اپنے مقصود و مطلوب کے حصول کا یہی طریقہ سمجھاتا رہا کہ اس مقصود و مطلوب تک رسائی کا تمہارے پاس ایک ہی وسیلہ ہے، اور وہ اظہارِ بندگی ہے۔ تم اپنے مقصود و مطلوب کے اتنے ہی قریب ہوگے جتنا تمہارا اظہارِ بندگی کا معیار بلند ہوگا۔
آپ کے سکھائے ہوئے اسی سبق کو تیرا یہ منتخب بندہ تیرے بندوں کے سامنے دن رات دہراتا رہا اور خود بھی اس معیاری بندگی کا قولا و فعلا اظہار کرتا رہا، جس کے لیے آپ نے اسے پیدا فرمایا تھا، یعنی عبدیت۔ اور وہ آج بھی آپ کے فضل و کرم سے عبد ہے، کل بھی تھا اور آئندہ بھی قائم رہے گا، اور اپنی ذات کے لیے آپ ہی کے عطا کردہ نام "عبد” کو استعمال کرتا رہے گا۔
اے محمد ﷺ کو اندھیروں میں چراغ بنانے والے رب!
تیرے اس محمد ﷺ نے تیری ہی مدد، نصرت اور فضل سے بندگی کے معیاری اظہار میں لمحہ بھر کے لیے بھی کبھی کوتاہی نہیں کی۔ وہ ویسے ہی رہا، جس طرح تو نے چاہا۔
اور تو اپنے بندے محمد ﷺ کے اظہارِ بندگی پر خود گواہ ہے، اور تیری گواہی میرے لیے کافی ہے۔
اے محمد کو امام الانبیاء بنانے والے!
اے وہ ذاتِ پاک، جس نے اپنے محمد کو خاتم النبیین بنایا!
جس نے محمد کو اپنے بندوں کے لیے معیارِ حق مقرر فرمایا!
جس نے محمد کو شافعِ محشر بنایا!
جس نے محمد کو ساقیٔ کوثر کے لقب سے نوازا!
اے خالقِ کون و مکاں!
تو ہی وہ ذات ہے جس نے محمد کو قاسم، حاشر،نور مصطفی، مجتبیٰ، صاحبِ شریعت جیسے اوصاف سے متصف فرمایا! تو گواہ ہے کہ تیرے اس برگزیدہ بندے، محمدﷺ، نے اپنی امت کو یہی درس دیا کہ اگر تم خود کو، دوسروں کو، یا کسی سائل کو "عبد” کا مفہوم بتانا چاہو، تو "محمد” ہی بتانا، کیونکہ محمد "عبد” ہی کا نام ہے۔
اگر تم اپنے نظام، اپنی ذات، اپنے اخلاق، اپنے معاملات، اپنے افکار، اپنے عقائد، اپنی گفتار اور اپنے روزگار کو "عبد” کے مفہوم میں داخل کرنا چاہو، تو "محمد” ہی کو سمجھو، کیونکہ محمد "عبد” ہی کا نام ہے۔ محمد، اس پورے نظریۂ حیات اور نظامِ زندگی کا جامع عنوان ہے جو "عبد” کے مفہوم کے ساتھ وابستہ ہے، کیونکہ محمد کا نام ہی عبد ہے۔
اے حاضر و ناظر، عیاں و پنہاں ہستی کے مالک!
تیرے محمد نے اپنی امت کو یہی بتایا کہ اگر شرک، بدعت، گمراہی، ضلالت، دین میں غلو، شخصیت پرستی، قوم پرستی، اور گروہ بندی میں غلو کے بارے میں "بحیثیتِ عبد” جاننا چاہو، تو محمد ہی سے پوچھو، کیونکہ محمد کا نام ہی عبد ہے۔
اے مولا و والی،سمیع و خبیر ہستی!
آنکھوں اور بصارت سے اوجھل، مگر بصیرت اور دلوں میں ظاہر ہونے والے، خالقِ احساس و اقرار!
تیرے محمد نے اپنی امت کو یہی پیغام دیا ہے کہ "عبد” اور "محمد” ایک ہی مفہوم کے حامل دو نام ہیں۔
اسی عبدیت کی تکمیل اور اس پر مستقیم رہنے کے لیے خدا کے حضور یہی عرض کیے جا رہے تھے کہ مولا! تیرے دربار میں بحیثیت بندہ حاضر ہوں اور تیری ذات سے بحیثیت عبد اگر کچھ مانگوں، تو عبدیت ہی کا سوال کروں۔ خدا نے اپنے بندے کی بزبانِ حال مانگی ہوئی دعا کو قبول فرما کر، اسے اظہارِ بندگی کا بہترین وسیلہ اور ذریعہ، یعنی "نماز”، تحفے کے طور پر عنایت فرمایا۔