سیلاب، ہاؤسنگ سوسائٹیاں ، خوابوں کا قبرستان

سیلاب کے دوران ہمیں انسانی المیے دکھائی دیے لیکن اس کے ساتھ ہی ہمیں ٹوٹتی امیدیں، بکھرتی مسکراہٹیں، ڈوبتی آس، دم توڑتی سانسیں بھی نظر آئیں۔ سیلاب میں بہہ جانے والے تو معین وقت پہ اپنی زندگی گزار کر چلے گئے۔ لیکن پیچھے ایسی کہانیاں چھوڑ گئے کہ جنہیں سناتے ہوئے بھی دل دہل جاتا ہے۔ کہیں بوڑھا والد اکلوتے سہارے کو رو رہا ہے، کہیں پر زندگی بھر کا سرمایہ لٹا کر خاندان بے سروسامانی کے عالم میں ہے اور کہیں پر خود سے زیادہ اپنے بے زبان جانوروں کی فکر کھائے جا رہی ہے۔ ان تمام عوامل کے ساتھ ایک اور المیہ یہ ہوا کہ کروڑوں روپے خرچ کرنے کے بعد لوگ آسمان سے زمین پر جیسے آ گئے اور کروڑوں کی سرمایہ کاری صفر ہو گئی۔

پاکستان میں رہائشی سہولتوں کی کمی ہمیشہ سے ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ اور اس مسلے کو ہمیشہ سے کیش کیا جاتا رہا ہے۔ اور عوام کی امیدوں سے کھلواڑ کرنا وطیرہ بنا لیا گیا ہے۔ آبادی کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ شہروں کا پھیلاؤ بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اسی بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے جگہ جگہ نئی ہاؤسنگ سوسائٹیاں وجود میں آ رہی ہیں۔ آج کل کے دور میں اگر کسی کے پاس چند سو کنال زمین بھی موجود ہو تو وہ اس زمین کو کسی بھی خوبصورت نام سے موسوم کر کے ایک نئی بستی کے طور پر پیش کر دیتا ہے۔ بظاہر یہ کام مشکل نہیں لگتا۔ آپ کی خوابوں کا محل، خوابوں کی تعمیر، جنت نظیر او ر ناجانے کیسے کیسے خیال تخلیق کر کے لوگوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کا پلان بنا لیا جاتا ہے۔

اصل امتحان صرف سوسائٹی بنا لینا نہیں ہے۔ بلکہ اس بات کا ادراک ہے کہ سوسائٹی بنا لینے کے بعد اس کو چلایا کیسے جائے گا۔ انتظام و انصرام قائم رکھنا، سہولتیں فراہم کرنا، اور آنے والے عشروں کے لیے مسائل کو حل کرنا ہی اصل چیلنج ہے۔ اس ایک نکتے کو بیشر سرمایہ کار اور ڈویلپرز نا صرف نظر انداز کر دیتے ہیں بلکہ عام افراد کے کروڑوں روپے داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ وہ فوری منافع کے لالچ میں مستقبل کی ضروریات کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی لگا کر ایک گھر خریدتے ہیں، لیکن چند برسوں بعد وہی گھر اور وہی علاقہ مسائل کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔

کسی بھی ہاؤسنگ سوسائٹی کی کامیابی نہ کشادہ سڑکوں پر منحصر ہے، نہ بلند و بالا پلازوں پر اور نہ ہی شاندار گیٹ پر۔ اصل کامیابی اس کی ٹاؤن پلاننگ پر ہوتی ہے۔

کسی بھی ہاؤسنگ پراجیکٹ کی کامیابی ہی ٹاؤن پلاننگ پر سرمایہ کاری کرنا ہے۔ ایک اچھا ٹاؤن پلانر صرف زمین کے ایک قطعے پر پلاٹس ہی نہیں بناتا بلکہ اس حقیقت کو بھی مد نظر رکھتا ہے کہ اگلے پچاس سالوں میں جب اس زمین پر تعمیرات مکمل ہو جائیں گی تو پھر یہاں زندگی کی دیگر سہولیات کو کس طرح ترتیب دیا جائے گا کہ اس کی صلاحیتیں ہی اس کی پہچان بن جائیں۔ قطعہء زمین پر پلاٹ بنانا مکمل طور پر ابتدائی شکل ہے کسی بھی ہاؤسنگ پراجیکٹ کی۔ نکاسیءآب کا طریقہ کار کیا ہو گا؟ مینٹیننس ہفتہ وار، ماہانہ بنیادوں پر کیسے ممکن بنائی جائے گی؟ آبادی بڑھنے کے ساتھ سوسائٹی کے اندر یوٹیلیٹیز کی مسلسل فراہمی کا لائحہ عمل کیا ہوگا؟ کسی ہنگامی آفت جیسے آتش زدگی، سیلاب وغیرہ میں سوسائٹی کس طرح سے نمٹے گی؟ صحت، تعلیم اور خدمات عامہ کے مراحل سے کیسے سرخرو ہوا جائے گا؟ ان تمام سوالوں کے جوابات دینا ایک کامیاب ٹاؤن پلاننگ کی نشانی ہے۔

یہاں سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ کل پلاٹس کتنے ہیں اور جب ان سب پر تعمیرات مکمل ہو جائیں گی تو اس علاقے کی آبادی کس حد تک بڑھے گی۔ جب آبادی بڑھتی ہے تو ضروریات بھی بڑھتی ہیں۔ رہائشیوں کو صاف پانی، بجلی، گیس، سیوریج کا معقول نظام، تعلیمی ادارے، صحت کے مراکز اور تفریحی مقامات کی ضرورت ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ کاروبار کرنے والوں کو بھی سہولتیں درکار ہوں گی۔ اگر دکانوں، دفاتر اور کاروباری مراکز کے لیے مناسب منصوبہ بندی نہ ہو تو وہاں رہنے والوں کی زندگی بھی متاثر ہوگی اور کاروبار کرنے والوں کو بھی مشکلات پیش آئیں گی۔

حقیقت یہ ہے کہ اگر ٹاؤن پلاننگ کے مرحلے میں ایک چھوٹی سی بات بھی نظر انداز ہو جائے تو اس کے اثرات نسلوں پر پڑتے ہیں۔ ہمارے ملک میں کئی مثالیں ایسی ملتی ہیں جہاں نکاسیٔ آب کا نظام وقت کے ساتھ ناکارہ ہو گیا اور ہر سال بارش کے موسم میں لوگ اپنے گھروں سے بے گھر ہو جاتے ہیں۔ بعض علاقوں میں تو یہ حال ہے کہ چند گھنٹوں کی بارش کے بعد پوری سوسائٹی تالاب کا منظر پیش کرتی ہے۔ کہیں سیوریج کا پانی گھروں میں داخل ہو جاتا ہے، کہیں بجلی کا نظام ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ یہ وہ مسائل ہیں جن کی قیمت صرف پیسوں میں نہیں بلکہ انسانی زندگیوں میں ادا کی جاتی ہے۔ بیٹیوں کا جہیز تباہ ہو جاتا ہے، ماؤں کی کوکھ اجڑ جاتی ہے اور والدین کے بڑھاپے کے سہارے ختم ہو جاتے ہیں۔ یہ سب اس وقت ہوتا ہے جب منصوبہ ساز اور سرمایہ کار صرف منافع پر نظر رکھتے ہیں اور ٹاؤن پلاننگ کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

ملک کے بڑے شہروں میں کئی علاقے ایسے ہیں جہاں ابتدا میں زمین کو پلاٹس میں تقسیم کیا گیا، بیچا گیا، لیکن چند سال بعد وہی علاقے یا تو پانی میں ڈوب گئے یا بنیادی سہولتوں کی کمی کی وجہ سے رہنے کے قابل نہ رہے۔ ایسی جگہوں پر لوگ اپنی جمع پونجی ضائع کر بیٹھے، نہ انہیں مکان ملا، نہ سکون، اور نہ ہی انصاف۔ یہ تمام تر نقصان اس لیے ہوا کہ منصوبہ بندی کرتے وقت مستقبل کی ضروریات اور جغرافیائی حالات کو نظر انداز کیا گیا۔

اس کے برعکس اگر کہیں کامیاب مثالیں موجود ہیں تو ان کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ وہاں ٹاؤن پلاننگ درست بنیادوں پر کی گئی۔ وہاں سڑکوں کا جال ایسا بچھایا گیا جو ٹریفک کے دباؤ کو برداشت کر سکے، نکاسیٔ آب اور سیوریج کا نظام مستقبل کے حساب سے ڈیزائن کیا گیا، اسکول، اسپتال، پارک اور تجارتی مراکز متوازن انداز میں رکھے گئے۔ قدرتی آفات سے کیسے نمٹنا ہے اس بات کو بطور خاص مد نظر رکھا جاتا ہے۔ یہی وہ عناصر ہیں جو کسی سوسائٹی کو لمبے عرصے تک کامیاب اور قابلِ رہائش بناتے ہیں۔

عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی نئی سوسائٹی میں سرمایہ کاری کرنے سے پہلے اس کی حقیقت کو پرکھیں۔ خوبصورت اشتہار یا کم قیمت کے لالچ میں فیصلہ نہ کریں۔ یہ آپ کی زندگی کی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔ اس میں احتیاط لازم ہے۔ اگر عوام خود باشعور ہو جائیں اور بغیر منصوبہ بندی کے بنائی گئی سوسائٹیوں کو رد کر دیں تو سرمایہ کاروں اور منصوبہ سازوں پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ منصوبہ بندی کو اولین ترجیح دیں۔ عوام میں اگر یہ شعور بیدار ہو جائے کہ کس سوسائٹی کا انفراسٹرکچر عالمی معیار کا ہے اور کون صرف دعوؤں سے کام چلا رہا ہے تو یقینی طور پر وہ اپنی جمع پونجی بچانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

سوسائٹی بنانا آسان ہے، لیکن اسے کامیابی سے چلانا اور رہنے کے قابل بنانا ایک بڑا چیلنج ہے۔ بلند و بالا عمارتیں اور دلکش گیٹ وقتی طور پر متاثر ضرور کرتے ہیں، لیکن یہ کسی بھی علاقے کی کامیابی کی ضمانت نہیں۔ اصل کامیابی اس وقت حاصل ہوگی جب ٹاؤن پلاننگ کو مستقبل کی ضروریات کے مطابق تیار کیا جائے۔ اگر ہم اس پہلو کو سنجیدگی سے نہ لیں گے تو آنے والی نسلیں اس کی سزا بھگتیں گی۔ اور اگر ہم اس پر توجہ دیں گے تو وہی زمین جو آج محض ایک سرمایہ کاری ہے، کل آنے والی نسلوں کے لیے سکون اور خوشحالی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے