کیا عورت ہی عورت کی بدترین دشمن ہے؟

کیا ستم ظریفی ہے کہ صرف مرد ہی نہیں، عورت بھی عورت پر ظلم کر رہی ہے۔ یہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جسے ہم روز دیکھتے ہیں مگر زبان پر لانے سے گریزاں ہیں۔ ہماری سماجی ساخت میں جہاں مردوں کے تشدد پر کھل کر بات ہوتی ہے، وہیں عورتوں کے ہاتھوں عورتوں پر ہونے والے مظالم کو اکثر اوقات نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ ظلم کا یہ ارتکاب کبھی نفسیاتی ہوتا ہے تو کبھی جذباتی، کبھی ذہنی ہوتا ہے تو کبھی عملی اور یوں جا بجا عورت کا شکار ہمیشہ عورت ہی بنتی ہے۔

سخت حیرت ہوتی ہے جب یہ کہا جاتا ہے کہ اکثر بچیوں کی زندگی کا پہلا ظلم ان کی اپنی ماں کی جانب سے ہوتا ہے۔ جی ہاں یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بے شمار گھروں کے اندر چھپی ہوئی ناانصافیوں، حسد اور امتیازی سلوک کی داستانیں رقم ہوتی ہیں۔ ماں کا رویہ جو بیٹی کی صلاحیتوں کو نظرانداز کرتا ہے، اس کے خوابوں کو کچلتا ہے، یا اسے بیٹی کا وجود بوجوہ بوجھ محسوس ہونے لگتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سب وہ زخم ہیں جن سے عمر بھر خون رستا ہے۔ کبھی کبھی تو ماں اپنی ہی بیٹی سے اس قدر متنفر ہو جاتی ہے کہ اسے بگاڑنے یا خاندان میں بدنامی وغیرہ کا الزام دے کر اس کی شخصیت کو مسخ کرنے پر تُل جاتی ہے۔

قارئینِ! آج میری کہانی ملاحظہ کریں یہ میرے زندگی کے ابتدائی ماہ و سال کا ذکر ہے جن کے اندر میری شخصیت پروان چڑھ رہی تھی۔ یہ سب لکھنا میرے لیے گوں آسان نہیں لیکن میں سوچ رہی ہوں کہ جس تکلیف دہ صورتحال کا مجھے تجربہ ہوا تھا ممکن ہے ایسے احوال کا سامنا گرد و پیش دوسری بہت ساری لڑکیوں کو ہو رہا ہو، میں ان تمام والدین سے التماس کرتی ہوں کہ کبھی بھی بیٹیوں کو بیٹوں کی نسبت کم تر نہ سمجھیں۔ بیٹوں اور بیٹیوں میں فرق غیر اسلامی بھی ہے اور غیر فطری بھی۔

جب میں صرف دس سال کی تھی، تب سے ہی والد صاحب کے ساتھ کنسٹرکشن کے کاروبار میں ہاتھ بٹاتی تھی۔ ایک چھوٹی سی بچی ہونے کے باوجود، میں نے اپنے اندر وہ صلاحیتیں پیدا کر لی تھیں جو کہ عام طور پر بڑی عمر کے لوگوں میں ہوتی ہیں۔ میں نہ صرف کافی سمجھدار اور ہوشیار واقع ہوئی تھی، بلکہ طرح طرح کے خطرے مول لینے کی عادی تھی۔ حساب کتاب میں تیز، فیصلے لینے میں پختہ، اور مردوں کے ساتھ بات چیت کرتے وقت پر اعتماد انداز اختیار کرتی تھی۔ سو سے زائد مزدوروں کے کھانے پینے، اجرتوں کی ادائیگی اور کام کاج کی نگرانی میں، میں شریک ہوتی تھی۔

بڑے پیمانے پر پیسے کے لین دین کو میں دیکھتی تھی۔ جو دکانیں تیار ہو جاتے ان کو فوراً کرایوں پر لگانا، دکانوں کا کرایہ وصول کرنا، ادھار کے معاملات طے کرنا، اور یہ دیکھنا کہ کس پر اعتبار کیا جائے اور کس سے احتیاط برتنا ضروری ہے، یہ سب میں تنہا انجام دیتی تھی۔ مزدوروں کی چیکنگ کرتی، ان کے کام کا جائزہ لیتی، اور خوب تسلی کرتی کہ سب کچھ درست طریقے سے ہو رہا ہے۔

اس دوران میرے دیگر بہن بھائی اسکولوں میں زیر تعلیم تھے، جبکہ میرے ہاتھ میں کتاب کے ساتھ ساتھ کاروباری معاملات بھی ہوتے تھے۔ والد صاحب اکثر کہتے تھے کہ تمام اولاد میں صرف میں ہی تعلیم اور روزگار کے میدان میں کامیاب نظر آتی ہوں اگر چہ والد صاحب نے بچوں کی تعلیمی عمل میں کوئی کسر نہیں چھوڑا تھا لیکن اس کے باوجود کسی نے میٹرک تک پڑھا تو کسی نے صرف ایف اے پاس کیا جبکہ میں نے الحمدللہ کاروباری معاملات کی نگرانی اور ملازمت کے باوجود صحافت کے شعبے میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

اس دور میں جب کہ میری دوسری بہنیں موتیوں اور ستاروں سے مزین زرق برق کپڑوں، اور سونے کے زیورات میں دلچسپی لے رہی تھی، تب میرے پاس صرف دو چار خاکی رنگ کے سادہ جوڑے ہی ہوتے تھے اور کم و بیش جوتوں کا بھی یہی حال تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ یہ سب میری پہنچ سے دور تھا، بلکہ میں نے خود ہی ان چیزوں میں ضرورت سے زیادہ دلچسپی نہیں لی۔ ایک طرف میں فطری طور پر سادہ مزاج اور تکلفات سے بے نیاز تھی تو دوسری طرف کام کے سلسلے میں مردوں کے پاس آنا جانا لگا رہتا، اس لیے سادہ اور پروقار لباس مناسب سمجھتی تھی۔

اس کے علاوہ، میں اس عمر میں ہی ہر قسم کے ہتھیار بھی چلانے میں ماہر ہو چکی تھی۔ جب بھی کوئی تنازعہ کھڑا ہوتا، میں پستول یا کلاشنکوف لے کر والد صاحب کے ساتھ کھڑی ہو جاتی۔ ان کے کھانے پینے، آرام، کپڑوں اور جوتوں کا خیال رکھنا، ان کی گاڑی کی دیکھ بھال بھی میری ذمہ داریوں میں شامل تھا۔ وہ ہر معاملے میں میرا مشورہ لیتے اور اکثر اوقات کہتے: تمہارا دماغ "شیطانی” ہے، فوراً ہر مسئلے کا حل نکال لیتی ہو۔ یہ بات وہ آج بھی دہراتے رہتے ہیں۔

میرے ساتھ جہاں والد صاحب کا رویہ نہایت پیار اور اعتماد والا تھا، وہیں والدہ محترمہ کا سلوک بالکل مختلف تھا۔ ہر بات پر ٹوکنا، موقع بے موقع ذلیل کرنا، مار پیٹ کرنا اور بددعائیں دینا ان کا معمول تھا۔ جب میں کام سے تھک ہار کر گھر لوٹتی، تو اندر سے دروازہ بند کر دیتی، مجبوراً مجھے دیوار پھلانگ کر گھر میں داخل ہونا پڑتا، لیکن ان سب کے باوجود اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میں نے اپنی والدہ صاحبہ کے ساتھ کبھی بھی کوئی لڑائی جھگڑا نہیں کی اور میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہنسی خوشی رہ رہی تھی۔ بچپن سے اللہ نے مجھے مضبوط حوصلے سے نوازا ہے۔ کسی صورت ہار نہیں مانتی، جب بھی کسی کام کی ٹھانی وہ کر کے دم لیا۔ یہ سب میں صرف اپنے والد صاحب کے دئیے ہوئے اعتماد کی بدولت کر گزرتی۔ بہن بھائیوں میں، میں چونکہ بڑی تھی اس لیے اپنے والد صاحب کے کاموں میں ان کی معاونت کرتی، اور ان کا ہاتھ بٹانے کی مقدور بھر کوشش کرتی۔ میرے دل اور روح پر ماضی کی یادوں کے گہرے نقوش ثبت ہیں۔

ہمارے معاشرے میں ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے جن کو میں اکثر اوقات اپنے اردگرد، خاندان اور بعض دیگر گھرانوں میں دیکھ رہی ہوں کہ اگر گھر میں دادی، نانی، پھوپھیاں یا خالائیں موجود ہوں تو لڑکیوں سے امتیازی سلوک کا تجربہ مزید تکلیف دہ ہو جاتا ہے۔ لڑکوں کو لاڈ پیار کرنا جبکہ لڑکیوں کو نظرانداز کرنا، ان کی تعلیم و تربیت پر کم توجہ دینا، یا ان کی کامیابیوں کو معمولی سمجھنا یہ سب وہ غیر صحت مندانہ رویے ہیں جن میں بچیوں کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی کام کی قابل نہیں۔ اس طرح، رفتہ رفتہ عورت کمزور، غیر محفوظ اور خوداعتمادی سے محروم انسان کے طور پر زندگی گزارنا شروع ہو جاتی ہے۔

اس طرح اسکول ہو یا پھر مدرسہ، وہاں بھی عورتیں، عورتوں پر ظلم کرتی نظر آ رہی ہیں۔ ایک استانی اگر خود ذہنی طور پر پسماندہ ہو، تو وہ اپنی طالبات کو بھی اسی ذہنیت کی گود میں ڈال دیتی ہے۔ کمزور طالبات کو تحقیر کا نشانہ بنانا، ذہین لڑکیوں سے حسد کرنا، یا انہیں جان بوجھ کر کم نمبر دینا یہ سب وہ نامبارک طریقے ہیں جن سے عورت، عورت کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتی ہے۔ کلاس فیلوز کا معاملہ بھی کچھ مختلف نہیں ہوتا۔ لڑکیاں اکثر اپنی ہم جماعتوں کی کامیابیوں کو برداشت نہیں کر پاتی۔ وہ ان کی چغلیاں کھاتی پھرتی ہیں، انہیں جا بے جا تنگ کرتی ہیں، یا ان کے خلاف گروپ بنا کر الگ تھلگ کر دیتی ہیں۔ یہ رویہ صرف اسکول تک محدود نہیں رہتا، بلکہ یہ آگے چل کر پیشہ ورانہ زندگی میں بھی جاری و ساری رہتا ہے۔

جاب کرنے والی خواتین کو بھی اپنی ہی صنف کی طرف سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کولیگز اگر دیکھتی ہیں کہ فلاں کے پاس اچھے کپڑے، جوتے، ہینڈ بیگ، موبائل، گاڑی ہے یا کوئی لڑکی ترقی کر رہی ہے، تو وہ اس کے خلاف سازشیں کرنے لگتی ہیں۔ اس کی غلطیاں تلاش کرنا، اسے باس کے سامنے بدنام کرنا، یا اس کے کام میں رکاوٹیں کھڑی کرنا یہ سب وہ حربے ہیں جو عورتیں دوسری عورتوں کے خلاف مسلسل استعمال کرتی ہیں۔ اس کی وجہ صرف حسد نہیں، بلکہ وہ مریضانہ ذہنیت بھی ہے جس میں عورت کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ وہ دوسری عورتوں سے مقابلہ کرے۔ اسے یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ دوسروں کو پیچھے چھوڑ دے۔ یہی غیر صحت مندانہ سوچ ہی ہے جو کسی عورت کو دوسری عورتوں کے خلاف جانے پر اکساتی رہتی ہے۔

جب یہی مظلوم بچی بڑی ہو کر بیوی بنتی ہے، تو اس پر ساس اور نند کے ظلم کا ایک نیا دور شروع ہو جاتا ہے۔ ساس اپنے بیٹے کو بیوی پر ظلم کے لیے مجبور کرتی ہے، نندیں بھابھی کے خلاف سازشیں کرتی ہیں۔ یہاں تک کہ بعض اوقات یہ ظلم جسمانی تشدد کی شکل بھی اختیار کرتی ہے اور بعض اوقات تو نوبت طلاق یا قتل تک بات پہنچ جاتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر یہ ساس اور نندیں خود بھی تو عورتیں ہی ہیں۔ پھر وہ دوسری عورت پر اتنا ظلم کیوں کرنا گوارہ کر رہی ہیں؟ وجہ یہی ہے کہ انہیں بھی اسی طرح کی تربیت ملی ہوتی ہے۔ انہیں یہ سکھایا گیا ہے کہ عورت کو دبانا ہی اس کی سب سے بڑی فتح ہے۔

اب آتے حل کی جانب۔ عورتوں کے ہاتھوں عورتوں پر ہونے والے مظالم کا خاتمہ صرف اس وقت ممکن ہے جب ہم اس کی جڑوں کو سمجھیں اور انہیں بدلنے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔ یہ مسئلہ صرف انفرادی رویوں میں نہیں، بلکہ سماجی ڈھانچے اور تربیتی نظام میں موجود خلا کا بھی ہے۔ آئیے اس سلسلے میں اصلاح احوال کے پیشِ نظر چند تجاویز زیر غور لاتے ہیں

ماں کی ذمہ داری:

ماں کو اپنی بیٹیوں کی پرورش میں غیرجانبداری، توازن اور حمایت کا رویہ اپنانا ہوگا۔ اسے بیٹیوں کی صلاحیتوں کو تسلیم کرنا چاہیے، نہ کہ اسے محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ بن جائے۔

خاندانی روایات میں لچک لائیں:

گھر کے بزرگوں کو لڑکیوں اور لڑکوں کے ساتھ یکساں سلوک کرنے کا رویہ اپنانا چاہیے۔ امتیازی سلوک کا خاتمہ حد درجہ ضروری ہے نیز اس کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے ایسا کرنا انسانی تربیت کے سلسلے میں ایک ناسور جیسا ہے اس سے لازم بچیں۔

بہنوں کا اتحاد:

بہنوں کو یہ سکھایا جائے کہ وہ ایک دوسرے کے لیے مضبوط حامی بنیں، نہ کہ حریف۔ ان کے درمیان مقابلے کی فضا ختم کرکے تعاون اور ہمدردی کو فروغ دیا جائے۔

اساتذہ کی تربیت:

اسکولز اور کالجز میں خواتین اساتذہ کو ایسی تربیت دی جائے جو کہ طالبات کے درمیان مثبت مقابلے (Healthy Competition) کو فروغ دے، نہ کہ منفی کشمکش کو۔

مشاورتی پروگرام:

طالبات کے لیے کونسلنگ سیشنز کا اہتمام کیا جائے، جہاں انہیں خوداعتمادی اور دوسروں کی کامیابیوں کو سراہنے کی اہمیت سکھائی جائے۔

سائیکالوجیکل سپورٹ:

اگر کوئی طالبہ نفسیاتی یا جذباتی طور پر کسی مسئلے یا دباؤ کی شکار ہو، تو اس کے لیے باقاعدہ ماہرینِ نفسیات کی مدد حاصل کی جائے۔

لیڈرشپ کی ذمہ داری:

خواتین لیڈرز کو چاہیے کہ وہ اپنی ٹیم میں مثبت رویوں کو فروغ دیں۔ کسی بھی قسم کی بدتمیزی، چغلی یا امتیازی سلوک کو برداشت نہ کیا جائے۔

مینٹرشپ پروگرام:

تجربہ کار خواتین نئی ملازم خواتین کی رہنمائی کریں، تاکہ وہ خود کو تنہا یا کمزور محسوس نہ کریں۔

پالیسیوں کا اطلاق:

اداروں کو واضح ہراسمنٹ پالیسیز بنانی چاہئیں، جس میں عورتوں کے ہاتھوں عورتوں پر ہونے والے مظالم کو بھی شامل کیا جائے۔

ساس اور بہو کے تعلقات:

شوہر کو چاہیے کہ وہ اپنی ماں اور بیوی کے درمیان توازن قائم رکھے۔ ساس کو یہ باور کرایا جائے کہ بہو اس کی دشمن نہیں، بلکہ خاندان کا حصہ ہے۔

نند اور بھاوج کا اتحاد:

دونوں کو خاندان کے مشترکہ مفادات پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے، نہ کہ اختلافات پر۔ گھریلو معاملات میں ایک دوسرے کی مدد کرنا ان کے تعلقات کو بہتر بنا سکتا ہے۔

خاندانی مشاورت:

اگر گھر میں تنازعات پیدا ہوں، تو بزرگوں یا کونسلرز کی مدد لی جائے، تاکہ مسائل مزید بڑھنے سے پہلے حل ہو سکیں۔

عورتوں کی کامیابیوں کو نمایاں کرنا:

میڈیا کو چاہیے کہ وہ ایسی خواتین کی کہانیاں پیش کرے جو دوسری عورتوں کی مدد کرتی نظر آ رہی ہو، نہ کہ صرف ان کے درمیان منفی مقابلے کو ہوا دے۔

تعمیری مباحثے:

سماجی پلیٹ فارمز پر عورتوں کے مسائل پر بات کرتے وقت، ان کے درمیان مکمل ہم آہنگی کو فروغ دینے والے موضوعات اٹھائے جائیں۔

ہر عورت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ دوسری عورت کی کامیابی اس کی اپنی کمزوری نہیں، بلکہ معاشرے کی معاشرے اور خاندان کی مجموعی طاقت ہے۔ جب ایک عورت دوسری عورت کو سہارا دے گی، تو پورا نظام بدل جائے گا۔ یہ شاندار تبدیلی کسی قانون یا پالیسی سے نہیں، بلکہ ہمارے روزمرہ کے رویوں سے آئے گی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے