یہ ایک عام قاعدہ ہے کہ جو شے ہمارے کام آتی ہو، ہمارے لیے مفید ہو تو ہم کہتے ہیں کہ یہ ہمارا ہے۔ مثلاً میں کہتا ہوں کہ یہ قلم میرا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ قلم میرے کام آتا ہے۔ اس کے برعکس اگر کوئی شے ہماری جیب میں پڑی ہو مگر ہم اسے استعمال نہ کر سکیں تو ہم میں سے کوئی بھی یہ نہیں کہتا ہے کہ یہ شے میری ہے۔
مثلاً میری جیب میں کسی کے پیسے پڑے ہوئے ہیں مگر انہیں میں استعمال نہیں کر سکتا، وہ میرے کام نہیں آتے تو باوجود اس کے کہ وہ میری جیب میں پڑے ہوئے ہیں، میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ میرے ہیں۔ کیونکہ کسی شے کے "میرے” ہونے کے لیے کوئی حقیقی دلیل ہونی چاہیے اور وہ دلیل یہ ہے کہ وہ شے میرے کام آئے۔ مگر یہاں تو اسے اپنا کہنے کی دلیل مفقود ہے لہٰذا اصولی طور پر اسے اپنانا نہیں کہہ سکتا۔
اس مثال سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی شے کے اپنے ہونے کا ایک معیار ہے، اور وہ یہ کہ محض جسمانی قربت کافی نہیں ہوتی جس کی بنا پر کسی کو اپنا یا غیر کہا جائے۔
بالکل انسان بھی ایسے ہیں۔ کسی انسان کو ہم اپنا یا غیر محض جسمانی قربت یا دوری کی وجہ سے نہیں کہہ سکتے بلکہ اسے اپنا یا غیر کہنے کا ایک اصولی معیار ہے۔ وہ معیار یہ ہے کہ وہ میرے کام آئے اور میں اس کے کام آؤ، اس حیثیت سے کہ میں جس طرزِ زندگی کو درست مانتا ہوں اس کے بسر کرنے میں وہ میرا معاون ہو۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو اصولی لحاظ سے اس قسم کی باہمی معاونت تب ممکن ہے جب درمیان میں فکری و نظریاتی ہم آہنگی ہو۔
اس کے برعکس اگر ایک شخص میرے ساتھ جسمانی طور پر انتہائی قریب ہے، میری قوم، نسل، خاندان حتیٰ کہ میرا خونی بھائی بھی ہے مگر وہ اس زندگی بسر کرنے میں میرا معاون نہیں بنتا جسے میں درست سمجھتا ہوں تو گویا وہ جسمانی طور پر میرے قریب ہے لیکن میرا اپنا نہیں۔ کیونکہ وہ میرے کام نہیں آ رہا، میں جس سمت میں سوچتا ہوں وہ اس سمت میں نہیں سوچتا، میں جو کام ضروری سمجھتا ہوں اس کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں۔
لہٰذا وہ نہ سوچ میں اور نہ ہی عملی زندگی میں میری معاونت کرتا ہے۔ اس لیے جسمانی قربت کے باوجود وہ میرا اپنا نہیں ہے کیونکہ وہ "اپنا” کہنے کے معیار پر پورا نہیں اتر رہا۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ جسمانی قربت کی بنا پر مجھے اس کے جسمانی حقوق کا خیال رکھنا لازم ہوگا، لیکن یہ خیال جسمانی ضروریات کے اشتراک کی وجہ سے ہوگا نہ کہ اس وجہ سے کہ وہ میرے مقصدِ زندگی میں میرا معاون ہے۔
اس کی مثال بالکل ایسی ہے کہ فرض کرو میرے ساتھ پہاڑ میں ایک شخص ہے جو ہاتھ پاؤں سے معذور ہے، اس حال میں موجود ہے کہ مجھے گدھے پر لکڑیوں کا بوجھ لادنا ہو۔ یہ معذور شخص اگرچہ جسمانی لحاظ سے میرے پاس موجود ہے مگر اس کی موجودگی میرے اس کام یعنی گدھے پر بوجھ لادنے میں کوئی معاونت نہیں دے سکتی۔ بالکل اسی طرح وہ شخص بھی میرے لیے معذور ہے جو اس زندگی میں میرا ساتھ نہیں دیتا جسے میں حق سمجھ کر گزارنا چاہتا ہوں، اگرچہ جسمانی لحاظ سے وہ میرے قریب ہی کیوں نہ ہو۔
ہمیں قرآنِ کریم اور سیرتِ پاک سے بھی کسی کے اپنے ہونے کا یہی تصور ملتا ہے:
وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتُ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍۘ يَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡكَرِ وَيُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ وَيُطِيۡعُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗؕ اُولٰۤئِكَ سَيَرۡحَمُهُمُ اللّٰهُؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيۡزٌ حَكِيۡمٌ ۞
ترجمہ:
"مومن مرد اور مومن عورتیں، یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں، بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی رحمت نازل ہو کر رہے گی، یقیناً اللہ سب پر غالب اور حکیم و دانا ہے۔”
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ
ترجمہ:
"اے ایمان والو! تم یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ، یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی سے دوستی کرے وہ بے شک ان ہی میں سے ہے، ظالموں کو اللہ تعالیٰ ہرگز راہِ راست نہیں دکھاتا۔”
خلاصہ یہ ہے کہ انسان اپنی بقا اور نشوونما کے لیے ایسے معاشرے کا محتاج ہے جس کے افراد کے ساتھ اس کی اصولی ہم آہنگی ہو تاکہ وہ ایک دوسرے کی زندگی میں ذہنی، فکری اور عملی لحاظ سے کام آئیں۔ اگر معاشرے میں افراد کے مابین ذہنی ہم آہنگی نہ ہو تو اس پر معاشرے کی اصطلاحی تعریف صادق نہیں آتی۔ کیونکہ معاشرہ مل جل کر رہنے کا نام ہے اور مل جل کر رہنے کا مطلب ایک دوسرے کے لیے سہارا بننا ہے۔ اور انسان ایک دوسرے کا سہارا تب بن سکتے ہیں جب وہ ایک ہی سمت میں سفر کر رہے ہوں۔ اگر جسمانی طور پر قریب لوگ مختلف سمتوں میں سفر کر رہے ہوں تو ایسا ہجوم صرف "بلی ماروں کا محلہ” کہلائے گا۔ ایسے ہجوم میں انفرادیت بڑھتی ہے اور اجتماعیت ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی ہے۔ اس صورتِ حال میں ہر کسی کو اپنا آپ، اپنا مفاد اور اپنے اغراض و مقاصد ہی عزیز ہوتے ہیں۔ ایسے معاشروں میں انسان کسی کا اپنا نہیں ہوتا سوائے اپنے آپ کے۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ ایسا اپنا ہونے کی بنیاد کیا ہو سکتی ہے جس میں انسان کسی اور انسان کے لیے سہارا بننے پر آمادہ ہو سکے؟ جس کی بنا پر انسان نہ خود پرست رہے اور نہ ہی اتنا اجتماع پرست کہ اس میں اس کی ذات ہی فنا ہو جائے، کیونکہ اجتماع کے لیے ذات کا برقرار رہنا بہرحال ضروری ہے۔ جب تک انسان یہ طے نہیں کرتا کہ کسی کو اپنا کہنے اور سمجھنے کا معیار اور بنیاد کیا ہے، اس سے پہلے اگر وہ کسی معاشرے میں اپنی بقا اور نشوونما کے بارے میں سوچتا ہے تو یہ اس کی صریح اور واضح غلطی ہوگی۔
انسان اگر اس بنیاد کی کھوج لگانے لگے تو اس دوران اس کے سامنے بہت سی چیزیں آئیں گی اور آتی بھی رہی ہیں؛ جن میں نسل، قوم، معاش، زمین اور ذات وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ مگر ان تمام بنیادوں پر اگر نظر دوڑائی جائے تو ان کا تعلق صرف ضروریات سے ہے اور ضروریات کے تحت اجتماعات ضروریات پورا ہونے کی حد تک رہتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ضروریات چونکہ ابدی ہیں اس لیے انہیں انسانوں کے مابین باہمی تعاون کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔ مگر یہ بات اتنی آسان نہیں کہ ضرورت کو ابدی ہونے کی وجہ سے بنیاد قرار دیا جائے۔
کیونکہ اگر مذکورہ ضروریات پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان میں انسان مختلف ہیں؛ کسی کو زیادہ خوراک کی ضرورت ہوگی اور کسی کو کم، کسی کے لیے دو گز زمین کافی ہوگی اور کسی کے لیے کنالوں زمین کی۔ یہ کمی بیشی رقابت پیدا کرے گی اور سوال اٹھے گا کہ اس کا حل کس بنیاد پر ہو؟
مزید یہ کہ جن اشیاء یعنی نسل، خوراک، مقام وغیرہ کا ذکر کیا گیا وہ تو جانوروں میں بھی پائی جاتی ہیں۔ اگر یہ واقعی اپنائیت کی بنیاد ہوتیں تو کم از کم جانوروں میں تو ان کی بنیاد پر اپنائیت موجود ہوتی۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ جیسے کسی بلی کو اس بات پر اعتراض نہیں کہ دوسری بلی بڑی جگہ بیٹھی ہے اور وہ چھوٹی جگہ پر۔ان چیزوں میں عدم رقابت کے باوجود وہ ایک دوسرے کی زندگیوں میں اس معنی میں معاونت کرتے کہ ان کا مقصد حیات ایک ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اپنائیت کے لیے خوراک، مقام یا نسل بنیاد نہیں بن سکتے۔
انسان اپنائیت کے لیے کسی ایسے مشترکہ مقصد کا محتاج ہے جس میں حقیقتاً مقصدیت ہو۔ جو انسان کی انفرادی ضروریات بھی پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور اجتماع کے لیے بھی کارآمد ہو۔ ایسا مشترکہ مقصد جو انسانوں کو ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے سے جوڑے رکھے اور معاونت پر آمادہ کرے۔ اس مقصد کی بنیادی خصوصیت یہ ہونی چاہیے کہ معاشرے کے لوگ ایک دوسرے کو سہارا دینے والے ہوں اور سب ایک ہی طرزِ زندگی کو درست اور حق مانیں۔
اسے ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے:
فرض کرو ایک بہت وزنی گاڑی ہے جسے ایک کلو میٹر دور سو لوگوں کو ایک خاص جگہ تک دو گھنٹوں میں پہنچانا ہے۔ اگر گاڑی وقت پر نہ پہنچی تو سب کی زندگیاں ختم کر دی جائیں گی۔ مگر ساتھ یہ اعلان بھی ہے کہ ہر شخص کی لگائی گئی قوت نوٹ ہوگی اور جس نے سب سے زیادہ قوت لگائی ہوگی اسے اتنی ہی زیادہ زندگی دی جائے گی۔ لیکن یہ سب اسی شرط پر ہوگا کہ گاڑی مقررہ وقت میں ہدف تک پہنچے۔ اگر گاڑی وقت پر نہ پہنچی تو سب کی زندگیاں ختم ہوں گی۔
ایسی صورت میں ہر شخص سب سے پہلے گاڑی کو وقت پر ہدف تک پہنچانے کی کوشش کرے گا۔ اس دوران کوئی کوتاہی نہیں کرے گا کیونکہ سب کا مقصد اور منزل ایک ہے اور اس کا حصول اجتماعی کوشش ہی سے ممکن ہے۔ ساتھ ہی ہر شخص زیادہ سے زیادہ قوت لگانے کی کوشش کرے گا تاکہ اسے زیادہ زندگی ملے۔ یہ کوشش اگرچہ انفرادی ہوگی مگر اجتماعی طور پر دوسروں کے لیے بھی مفید ثابت ہوگی۔
یہی اپنائیت ہے: ایک مشترکہ مقصد جس کے لیے سب مسلسل معاونت کرتے ہیں۔
اسی مثال پر قیاس کیا جائے تو انسانوں کے مابین ایسی اپنائیت کو مستقل قائم رکھنے کا بندوبست صرف اسلام میں ہے۔ اسلام اپنے پیروکاروں کے سامنے ایک ہی ہدف رکھتا ہے: رضائے الٰہی۔ اس ہدف کا حصول انفرادی اور اجتماعی دونوں طور پر مقصود ہے۔
یہاں زندگی کی گاڑی کو کردار اور افکار کی قوت سے رضائے الٰہی کے ہدف تک پہنچانا ہے۔ ہدف ایک ہونے کی وجہ سے ہر کوئی دوسرے کا اپنا ہے کہ سب باہم اس سفر میں ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ سب کا مطلوب ایک ہی ہے، لہٰذا فطری طور پر اپنائیت پیدا ہوتی ہے۔ پھر اجرِ آخرت کے شوق میں ہر فرد بہترین کردار کی کوشش کرے گا۔ یہ کوشش اگرچہ انفرادی ہوگی مگر اجتماعی نتیجے کے لحاظ سے سب کے لیے معاون ہوگی۔
یہی اپنے اور غیر کا وہ اصل اور منفرد پیمانہ ہے جسے خالقِ کائنات نے اسلام کا نام دیا ہے۔ لہٰذا جب تک اسے اپنا اور غیر کا پیمانہ نہیں بنایا جائے گا تب تک ہم اپنے اور پرائے کی پہچان میں کنفیوژ ہی رہیں گے اور کنفیوژ لوگ کبھی اہداف کے حصول میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔