تاجدارِ کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت: رحمت، ہدایت، محبت اور مسرت کا بیش قیمت انسانی سرمایہ

نبوت خالق اور مخلوق کے درمیان وہ مقدس اور مضبوط رشتہ ہے جس کے ذریعے خالق کائنات کی منشاء اور رہنمائی اس کی مخلوق تک پہنچتی ہے۔ یہ وہ روزن ہے جس سے خالق کائنات کی رحمت، ہدایت اور محبت کی کرنیں دنیا میں جلوہ گر ہوتی ہیں۔ انسانوں کو ضرورت تھی کہ انہیں بے آمیز صورت میں خدائی ہدایت اور درست انسانی سلوک کے بارے میں پتہ چلے، اس ضرورت کے تحت سلسلہ نبوت سے ہر دور اور مقام پر آللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اپنے پیغام سے روشناس کرانے کا انتظام فرمایا۔

نبی اللہ تعالیٰ کے مطلوبہ اخلاق، کردار اور معیار کا پیکر ہوتا ہے اور دنیا میں آللہ تعالیٰ کی خالص منشاء اور پیغام کے آئینہ دار بھی کیونکہ زندگی کے سفر میں انسانوں کو ہر آن اس روشنی، خوشبو، حرارت، حلاوت، تعلیمات اور نمونے کی ضرورت پیش آرہی ہے کہ جو ان کو نیکی و پارسائی، عدل و انصاف، خیر و خوبی، نظم و ضبط، خلوص و خیر خواہی، نرمی و شیرینی اور تہذیب و شائستگی کے شاہراہ پر گامزن رکھے۔

یہ حقیقت انسانوں کو صرف نبی درست انداز میں سمجھا سکتا ہے کہ ایک حقیقی خدا پرستانہ زندگی کیسی گزرتی ہے؟ تو دوسری طرف بنی نوع انسان کے ساتھ حسن سلوک کے نقش و نگار کو بھی واضح کرتے ہیں۔ دنیا میں انسان نے وقت کے ساتھ ساتھ مختلف رشتے اور تعلقات دریافت کئے ہیں اور مخصوص وقعت یا آفادیت کی بدولت ان کو پروان چڑھایا ہے اس طویل انسانی اور تاریخی ورثے میں نبیوں کا بھی ایک بڑا، بنیادی اور اہم حصہ رہا ہے وہ خالق سے اطاعت اور انسانوں سے خیر خواہی کے رشتوں میں پوری انسانیت کو باہم منسلک فرماتے ہیں۔ آللہ تعالیٰ کی ہدایت اور انسانیت کی وسیع ترین تناظر میں فلاح و بہبود کے مقصد سے ہر انسان کو قلب و نظر کے ساتھ جوڑنا ایک نبی کی بنیادی ڈیوٹی ہوتی ہے۔ ان دو حقائق کی انسانی ذہنوں میں گہری استواری اور اعمال میں متوازن رونمائی ہمیشہ سے حاملین نبوت نے اپنی جدوجہد کا بنیادی ہدف بنایا ہے۔

انسانی نفسیات کی یہ ایک پریشان کن پیچیدگی ہے کہ اس کو اگر مسلسل یاددہانی کا انتظام نہ ہو تو وہ بھول جاتا ہے کہ خالق کی خوشنودی اور مخلوق کے حقوق کس طرح بروئے کار لانا ہے؟ اس لیے تاریخ اور حال دونوں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ جب بھی انسان کا اپنے خالق اور بنی نوع انسان سے تعلق کمزور پڑا ہے تو انسان، خود انسان کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہوا ہے اور یوں نہ صرف سچائی اور تقدس کا عنصر زندگی کے دائرے سے خارج ہوگیا ہے بلکہ انسان، اپنے مال و جان اور عزت و آبرو کی وقعت بھی بری طرح کھو بیٹھتا ہے۔ پیغمبر الہام اور احساس کے ذرائع سے کام لے کر انسان کا پھر سے اپنے خالق اور نوع انسانی سے بگڑتے تعلق کی درستگی کا اہتمام فرماتا ہے۔

انسان اگر گہرائی سے نبی کے کردار اور کنٹری بیوشن کا جائزہ لیں تو وہ خود کو نبی کا سب سے ذیادہ ممنون احسان پائے گا کیونکہ نبی انسان کو دوسرے انسانوں کے حوالے سے ذمہ دار، دیانتدار، با اخلاق اور ایماندار بناتا ہے۔ وہ بنی نوع انسان کو انصاف، اخلاص، شعور، نیکی اور نفع رسانی کے ساتھ رہنا سکھاتا ہے۔ وہ زندگی کو بامقصد، متوازن، تعمیری اور اطمینان بخش بنانے میں انسان کو سچائی پر مبنی راہنمائی فراہم کرتا ہے۔ وہ انسان کو اندھی خواہش پرستی اور بے قید اغراض کی دوڑ میں بریک لگاتا ہے۔ وہ انسان کو اعلی پیمانے پہ نظم و ضبط کا پابند بناتا ہے وہ انسان کے لیے تعمیر و اصلاح کے ساتھ زندگی بسر کرنا ایک لازمی فریضہ قرار دیتا ہے۔ وہ یقین دلاتا ہیں کہ اس عارضی زندگی کے بعد ایک اور ابدی زندگی بھی، انسان کا مقدر ہے۔ وہ نفرتوں، عداوتوں، جہالتوں اور شقاوتوں میں ڈوبی انسانیت کو محبت و شفقت، خیر خواہی و خلوص، شرافت و عدالت، خوش اخلاقی و اعلی ظرفی کے ساحل پر لے آتا ہے ہے اور خاص بات یہ ہے کہ اس عظیم الشان تبدیلی کے لیے کسی خارجی جبر پر نہیں بلکہ اندرونی آمادگی اور قبولیت پر انحصار کیا جاتا ہے۔

بلند اخلاق اور الہامی اقدار کا سب سے معیاری پیمانہ خود نبی کی زندگی میں نصب ہوتا ہے۔ نبی کا کردار ان تمام اصولوں کا کامل نمونہ نظر آتا ہے جو پوری انسانیت کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے اللہ تعالٰی کا پسندیدہ ہوتا ہے۔ دوسری طرف نبی ان تمام باتوں اور کاموں کو مٹانے کا بھی اہتمام فرماتا ہے جو لوگوں کی زندگی اور اعمال کو کسی نہ کسی صورت میں خراب کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ نبی کے دل میں انسانوں کی ہمدردی اور خیر خواہی اپنی آخری حدوں میں موجود ہوتی ہے۔

حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم (پ: 571ء م: 632ء) سلسلہ نبوت کی آخری کڑی ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانیت اور تمام پیش آمدہ ادوار کے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیار کئے ہوئے اعمال اور عطا کئے ہوئے اصول قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے خیر اور ہدایت کا ذریعہ ہے۔ آپ چونکہ آخری نبی ہے لہذا آپ کا لایا ہوا دین آفاقیت، شفافیت، آبدییت، عمومیت، جامعیت اور قبولیت کے جواہر سے خوب مالامال ہے۔ جس دور میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بطورِ بنی مبعوث ہوئے تو اس دور میں پوری انسانیت، صداقت اور حفاظت کی روح سے بہت دور چلی گئی تھی۔ انسان ظلم اور جہالت کے اندھیروں میں بھٹک رہا تھا اور یہ حقیقت تقریباً بھول گیا تھا کہ زندگی کا کوئی مقصد بھی ہے۔

ذرہ سوچئے تو سہی جہالت اور شقاوت سے بھرے ہوئے ماحول میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق و کردار کے بلند ترین درجے پر فائز نظر آتا ہے، چالیس سال تک معاشرے میں رہیں اور صادق و امین کا لقب پایا، وہ بے ضرر اور نفع رساں زندگی کا حامل ایک ذمہ دار، ایماندار، خوش اخلاق، مددگار، حساس، فعال اور صلح جو کے طور پر سرگرم عمل انسان بن کر نمایاں ہوئے۔ وہ ضرورت مندوں، مجبوروں، بے کسوں، مصیبت زدوں اور حالات کے مارے لوگوں کو اپنے دامن شفقت و محبت میں سموں لیتے۔ ایک ایسے وقت میں عفو و درگزر کا علمبردار بن کر سامنے آئیں کہ جس میں انتقام، غیرت کا بنیادی تقاضہ سمجھا جاتا تھا۔ لوگ ایسے عالم میں اپنی امانتیں ان کے پاس رکھواتے تھے جس میں خیانت ایک عمومی مزاج بنا تھا، جھوٹ اور شغل مشغلے والے ماحول میں لوگ ان کی ہر بات پر پختہ یقین کرتے تھے، تنازعات میں ان سے فیصلے کراتے تھے وغیرہ وغیرہ۔

پہلی وحی کے بعد جب آپ پریشانی کے عالم میں فاران کی پہاڑیوں سے گھر واپس تشریف لائے اور اپنی زوجہ محترمہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگے کہ "مجھے اپنی جان کا ڈر لاحق ہے” تو حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فوراً تسلی دیتے ہوئے کہا "اللہ کی قسم! ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اللہ آپ کو کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، بے سہاروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، تنگدستوں کی مدد کرتے ہیں، مہمانوں کی خدمت کرتے ہیں اور حق داروں کو ان کے حقوق دلانے میں تعاون فرماتے ہیں۔” یہ ایک بیوی کی گواہی تھی جس سے زیادہ باریک بینی سے، کسی مرد کو کوئی نہیں جان سکتا۔

نفرت، کدورت، عداوت اور غربت کے عمومی ماحول میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر سدا بہار تازگی و بشاشت رہتی تھی۔ حد درجہ سہل خو اور نرم مزاج واقع ہوئے تھے، بے مروّت اور سخت گو قطعاً نہ تھے۔ اونچی آواز میں باتیں تک نہ کرتے تھے۔ ہمیشہ دل آویز تبسم سے چہرہ مزین رہتا۔ غیض و غضب سے دور اور ہم آہنگی و لحاظ داری میں سب سے آگے تھے۔ دو کاموں میں سے جو زیادہ آسان معلوم ہوتا تھا وہ اختیار فرماتے بشرطیکہ وہ گناہ کا کام نہ ہو، اگر گناہ کا کام ہوتا تو پھر اس سے کما حقہ دور رہتے۔ زندگی میں اپنے لیے کبھی انتقام نہ لیا، البتہ اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کو پامال کرنے والوں سے حساب ضرور لیتے۔

حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی، سب سے زیادہ کریم، سب سے زیادہ بہادر، سب سے زیادہ طاقتور اور تکلیف پہنچنے پر سب سے بڑھ کر صابر انسان تھے، آپ سب سے زیادہ باوقار اور سب سے بڑھ کر دریا دل بھی تھے۔ نفیس اتنے کہ کوئی چیز ناپسند فرماتے تو چہرے پر اس کے آثار صاف دکھائی دیتے۔ حیاء داری سے اپنی نظر کسی کے چہرے پر جماتے نہ ہی ناپسندیدگی کے ساتھ گھورتے۔ آپ سب سے زیادہ عادل، پاک نفس و پاک باز، سچائی کے علم بردار اور بڑے ہی امانت دار بھی تھے۔ آپ سب سے زیادہ متواضع اور تکبر سے بیزار رہے۔ سب سے بڑھ کر عہد کے پاس دار، صلہ رحم، سب سے زیادہ شفقت و رحمت والے، سب سے عمدہ معاشرت کے آداب کو اہمیت دینے والے، سب سے زیادہ کشادہ دل، اخلاق پرور اور لعنت و ملامت سے مجتنب رہنے والے، غمی و خوشی میں پورے اہتمام سے شریک ہونے والے، فقراء و مساکین کے ساتھ اہتمام سے بیٹھتے، غلاموں کی دعوت قبول کرتے، کھانے اور لباس میں ان پر کوئی برتری اختیار نہ فرماتے، جو آپ کی خدمت کرتے آپ خود ان کی خدمت بھی فرماتے، اپنے خدام پر عتاب نہ کرتے یہاں تک کہ کبھی انہیں اف تک نہ کیا۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کاروباری دورے پر جانے کا اتفاق ہوا تو اپنی محنت، بصیرت، ایمانداری اور حسن انتظام سے نہ صرف نفع میں خاطر خواہ اضافہ کیا بلکہ اپنے شریک کار کو اپنے حسن سلوک سے بے حد متاثر کیا اور صرف یہی نہیں بلکہ ان کے کردار میں موجود کشش اور عظمت نے کاروبار کے مالک خاتون کو اتنا متاثر کیا کہ انہوں نے آپ کی طرف نکاح کا پیغام بھیجا۔ خانہ کعبہ کی تعمیر کے دوران کسی بات پر تنازع پیدا ہوا تو سب کی نظریں حل کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب اٹھنے لگیں۔ یہ سب دراصل اس اعتماد کی بدولت ممکن ہوا جو آپ نے اپنی عقل مندی، ایمان داری، اصول پسندی اور شرافت نفسی کے ذریعے پایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نہایت گندے سماج اور ماحول میں بلند ترین اور نفیس ترین کردار کے ساتھ رہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ، شراب نوشی، گالی گلوچ، لڑائی جھگڑے اور تخریب و فساد جیسی غلاظتوں کا ایک چھینٹا تک اپنے دامن حیات پر پڑنے نہیں دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حلف الفضول کے نام سے ایک ایسے سماجی معاہدے کی بنیاد ڈالنے میں شریک ہوئے جس کا بنیادی مقصد ظالم کا راستہ روکنا اور مظلوم کا ساتھ دینا، قرار پایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گہرے غور و فکر کے عادی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم طویل چلے کاٹتے تھے۔ تنہائی کے عالم میں ذکر و اذکار اور دعا و مناجات میں اپنے اوقات بسر فرماتے تھے۔

نبوت ملنے کے بعد حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے آللہ کی وحدانیت کا اعلان فرمایا اور لوگوں کو یقین دلایا کہ آللہ کے ساتھ کوئی شریک نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باور کرایا کہ کائنات کے خالق اور عبادت کا سزا وار صرف اور صرف ایک ہی ہستی ہے اور یہ زندگی اس کی جانب سے ایک امانت اور عطیہ ہے جس میں اس کی اطاعت مطلوب ہے اس کے ساتھ ہی نہ صرف ان نورانی اور آفاقی اصولوں کا خود بہترین نمونہ بنے بلکہ ان اصولوں پر ایک فعال معاشرہ بھی تشکیل دے دیا۔ وہ معاشرہ انسانی تاریخ میں ایک تابناک باب کی حیثیت رکھتا ہے جس میں انسان کو اس کے باطن سے درست کرنے کا اہتمام ہوا تھا۔ اخلاق، اخلاص، امانت، شرافت، ہمدردی، خیرخواہی، وقار و احترام، اصول پسندی اور نفع رسانی اس معاشرے کے بنیادی آقدار میں شامل تھیں۔

حجتہ الوداع کے موقع پر بڑی تعداد میں حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا! اے لوگوں! میری بات سنوں! غالباً یہ میرے لیے آپ سے ملنے کا آخری موقع ہے شاید اس کے بعد میں تم سے دوبارا نہ مل سکوں، توجہ سے میری باتیں سنوں! یاد رکھیں تمہارا خون، تمہارا مال اور تمہاری آبرو ایک دوسرے پر اس طرح حرام ہیں، جس طرح آج کا دن اور یہ موجودہ مقام۔ سن لو! آج کے دن جاہلیت کی ہر چیز میرے پاؤں تلے روند دی گئی ہے۔ جاہلیت کے خون بھی تم پر حرام ہے اور ہمارے خون میں سے پہلا خون جیسے میں ختم کر رہا ہوں وہ ربیعہ بن حارث کے بیٹے کا خون ہے اور جاہلیت کا سود بھی آج سے ختم ہے پہلا سود جیسے میں ختم کر رہا ہوں وہ عباس بن عبدالمطلب کا سود ہے۔ اب یہ سارے کا سارا سود ختم ہے۔ اور اے لوگوں! عورتوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو کیونکہ تم نے انہیں اللہ کی امان کے ساتھ لیا ہے اور اللہ کے کلمے کے ذریعے ان کی شرمگاہیں حلال کیے ہیں۔ ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے وفادار رہیں اور تم پر ان کا حق یہ ہے کہ تم انہیں معروف طریقے سے کھلاؤ اور پہناؤ” اور یاد رکھوں! میں تم میں ایسی چیز چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ اگر تم نے اسے مضبوطی سے پکڑے رکھا تو اس کے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوں گے اور وہ ہے اللہ کی کتاب اور میری سنت”۔ تم سے اگر میرے متعلق پوچھا جائے گا تو کیا کہوں گے؟“ صحابہ نے بیک آواز کہا! ہم شہادت دیں گے کہ آپ نے تبلیغ کرنے، پیغام پہنچانے اور خیر خواہی کا حق ادا فرما دیا”۔

حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تاریخ کے ان عظیم ترین انسانوں میں سے ایک تھے جنہوں نے معاشرے کو درست ٹریک پر لانے کی کامیاب مثال قائم کی۔ آپ نے زندگی، اختیار، وقت، وسائل اور باہمی سلوک کے بارے میں انسان کا رویہ، جو ظلم، خود غرضی، غفلت اور لاپرواہی پر مبنی تھا اسے حد درجہ منصفانہ اور ذمہ دارانہ بنایا۔ اس نے خدا کی بالادستی اور انسانی بہتری پر مشتمل ایک پورا ضابطہ حیات عطا کیا۔ اس نے اپنی ذات کی قبر میں دفن انسان کو پوری انسانیت کے فلاح و بہبود کا علمبردار بنا دیا۔

مجدد عصر مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ اپنی شہرہ آفاق کتاب "تجدید و احیائے دین” میں رقم طراز ہیں "فی الجملہ تمام انبیاء کے کام پر مجموعی حیثیت سے جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو اس کام کی نوعیت یہ پائی جاتی ہے کہ عام انسانوں کے اندر فکری اور ذہنی انقلاب برپا کرنا، خالص اسلامی نقطہ نظر و طرز فکر اور رویہ اخلاقی ان کے اندر اس حد تک پیوست کر دینا کہ ان کے سوچنے کا طریقہ، زندگی کا مقصد، قدر و قیمت کا معیار اور عمل کا ڈھنگ بالکل اسلام کے سانچے میں ڈھل جائیں”۔

"تاریخ کی سو متاثر کن شخصیات” عالمگیر شہرت کی حامل کتاب ہے جو معروف امریکی مورخ ڈاکٹر مائیکل ایچ ہارٹ کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب پہلی بار 1978ء میں شائع ہوئی۔ اس کتاب میں انسانی تاریخ کی سو متاثر کن ترین شخصیات کی درجہ بندی کی گئی ہے۔ اس کتاب میں محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو، انسانوں پر اثرانداز ہونے کے تناظر میں، پہلا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ عظمت و رفعت کا وہ اعتراف ہے جو کسی عقیدت مند کے جذبات کا نتیجہ نہیں بلکہ کئی صدیوں بعد، ایک ناقد کے دماغ اور قلم کا "حاصل حصول” ہے۔

یورپ کے مشہور دانشور ٹامس کارلائل حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں لکھتے ہیں۔”صحرائے عرب کی یہ عظیم شخصیت جنہیں دنیا محمد بن عبداللہ کے نام سے جانتی ہے۔ آپ پاکیزہ روح، شفاف قلب، بلند نظری اور مقدس خیالات کے حامل تھے۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے حق و صداقت کی اشاعت کے لیے پیدا کیا تھا۔ آپ کا کلام خود اللہ تعالیٰ کی اواز تھا”۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت مدینہ کے بعد، مدینہ میں تمام قبائل کے درمیان ایک معاہدہ کیا اور مستقل ایک نظم اجتماعی قائم کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے درمیان بھی مواخات کا منفرد رشتہ قائم فرمایا اور مسلمانوں کے باہمی تعلقات کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد تعمیر فرمائی اور مسجد کو اسلامی نظام زندگی کا مرکز ٹھہرایا جو صرف عبادت کا ہی مقام نہیں بلکہ باہمی مشاورت اور معاونت کے منصوبے بھی ادھر تشکیل پاتے تھے۔ ایک ایسی منڈی بھی قائم فرمائی جس میں اسلام کے سنہری کاروباری اصولوں پر عمل درامد یقینی بنایا جاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم، خود معیار، مقدار اور لین دین کی سرگرمیوں کی نگرانی فرماتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قانون کی پاسداری پر کسی مصلحت کو کبھی بھی خاطر میں نہیں لایا ایک مرتبہ ایک بااثر اور خاندانی عورت چوری کے الزام میں پکڑی گئی تو لوگوں نے معافی کی درخواست پیش کی تو یہ بات سخت ناپسند کی اور فرمایا "اگر میری بیٹی فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو سزا سے قطعاً نہ بچتی، اور زور دے کر فرمایا کہ "پہلی امتوں میں جب یہ خرابی پیدا ہوئی کہ عام لوگ اگر جرم کرتے تو سزا دیتے اور خاص و بااثر لوگ جرم کر بیٹھتے تو ان کو رعایت دیتے۔ اس طرز عمل کے سبب ان پر آللہ کا عذاب نازل ہوتا تھا”۔

آئیے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چند اجتماعی سنتوں پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں جن کے ذریعے ایک منجمد معاشرے کو انقلاب سے کامیابی کے ساتھ، سرفراز کیا گیا تھا۔

1- وقت زندگی کی اکائی ہے بلکہ زیادہ درست بات یہ ہے کہ وقت ہی زندگی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں وقت کے بہتر اور منظم استعمال کو خاص الخاص اہمیت حاصل تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے "بنی ادم کو دو نعمتیں ایسی ملی ہیں کہ جن کے برتنے میں وہ غفلت کا ارتکاب کر رہا ہے۔ ایک وقت اور دوم صحت”۔ وقت کو نعمت قرار دینا ایک نہایت گہرا اور بلند اپروچ ہے آج دنیا کی ترقی یافتہ اقوام اس حقیقت کی توثیق کر رہی ہیں کہ "وقت ہی بنیادی سرمایہ ہے”۔

2- دنیا کو بہتر بنانے یا اسے تباہ کرنے میں اقتدار اور اہل اقتدار کو سب سے زیادہ موثر محرک کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اقتدار کو لطف و مفاد کے حصول کا ذریعہ سمجھنے کے بجائے امانت قرار دیتے ہوئے باور کرایا کہ بروزِ قیامت اپنے ہر ہر فیصلے، اقدام اور احکام کے لیے اہل اقتدار خدا کے سامنے جوابدہ ہوں گے۔ فرمایا "ظالم کے لیے ظلم، بروزِ قیامت اندھیروں میں گرنے کا باعث بنے گا”۔

3- باہمی تعلقات معاشرت کی جان ہے۔ تعلقات میں جب تک خلوص، خیر خواہی اور اعتماد پیدا نہ ہوگا تب تک معاشرہ حقیقی معنوں میں خوشحال اور محفوظ نہیں بن سکتا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف باہمی تعلقات کو بہترین انداز میں استوار کرنے پر بے حد زور دیا بلکہ خود مختلف تعلقات کو نبھانے کے حوالے سے ایک بہترین نمونہ بن کر دکھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بہترین شوہر، باپ، بھائی، پڑوسی، دوست اور شراکت دار کے طور پر رہیں اور ایسے رہیں کہ ایک مکمل تباہ حال معاشرے کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا ایسا کہ تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔

4- نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہم ترین سنتوں میں سے ایک یہ بھی تھی کہ معاشرے میں نفع رساں بن کر رہیں نہ کہ ضرر رساں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ نہ صرف دوسروں کو فائدہ پہنچانے کی تاکید فرمائی بلکہ خود اپنے طرز عمل سے اس سلسلے میں ایک متاثر کن نمونہ بھی قائم فرمایا۔ فرمایا کرتے تھے کہ "تم میں سے کوئی بھی، اس وقت تک مومن نہیں بن سکتا جب تک دوسرا مسلمان آپ کے ہاتھ اور زبان سے محفوظ نہیں رہتا”۔ ایک اور حدیث میں ارشاد ہے کہ "بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کے حق میں نفع رساں ہوں”۔

5- وسائل کو ضیاع سے بچانے اور اسے درست جگہ استعمال کرنے کا اہتمام بھی ہمیں تاجدارِ کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں جا بجا نظر آتا ہے آپ نے اسراف کو سخت ناپسند کرتے ہوئے اسراف (وسائل کا بے دریغ استعمال) کرنے والے کو شیطان کا بھائی قرار دیا کرتے تھے جبکہ کنجوس (وسائل کے ضروری استعمال کو روکے رکھنے والا) کو خدا کا دشمن۔ آپ نے سرمایہ دار اور محنت کش کے درمیان موجود ابدی آویزش کو ختم کر کے ان دونوں طبقات کو ایک دوسرے کا دوست اور خیر خواہ بنایا۔ انہوں نے حقیقی معنوں میں سرمایہ دار کو غریب کا مددگار اور غریب کو مالدار کا مخلص خدمت گار بنا کر ایک صحت مند اور خیر خواہانہ تعلقات کار کی بنیاد رکھ دی ہے۔

6- آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی بھر زندگی اور ناموس کی حرمت کو اہم ترین اصول کے طور پر نہ صرف نبھایا بلکہ اس اصول کے اوپر ایک پورا نظام حیات تشکیل دے دیا۔ علماء اور فقہاء نے جو پانچ بنیادی اہداف کو مقاصد شریعت کے طور پر متعین کیے ہیں وہ سارے کے سارے انسانی زندگی اور حرمت و تقدس سے تعلق رکھتے ہیں یعنی جان کی حفاظت، مال کی حفاظت، عزت کی حفاظت، آزادی کی حفاظت اور دین و نظریے کی حفاظت۔

7- حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلیم و تربیت اور علم و ہنر کے حوالے سے بنیادی اپروچ انسانی شخصیت کی جامع نشوونما پر مرکوز تھا، جس میں علم، ہنر، اخلاق اور روحانیت کا ایک متوازن امتزاج نمایاں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علم حاصل کرنے کو مرد و عورت ہر مسلمان پر فرض قرار دے کر علم کے معیار اور پھیلاؤ کو بنیادی اہمیت دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں تجرباتی علم، مشاہدہ اور غور و فکر کو خاص مقام حاصل تھا۔ ہنر و صلاحیت کے حوالے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دستکاری، تجارت، زراعت اور دیگر مفید پیشوں کو اپنانے اور ان میں خاص مہارت حاصل کرنے کی خاص طور پر ترغیب دی، حتیٰ کہ آپ نے اپنے دست مبارک سے کام کرنے اور محنت کی عظمت کو عملی طور پر پیش کیا۔ تربیتی اقدامات کے طور پر آپ نے مسجد نبوی کو تعلیمی مرکز بنایا، اور صفہ کے نام سے باقاعدہ ایک تعلیمی حلقہ قائم کیا جہاں طلبہ کے لیے خصوصی انتظام فرمایا، مختلف نوجوانوں کو دوسری زبانیں سیکھنے کا اہتمام کیا جہاں پہ لوگ دوسری زبانیں سیکھ لیتے اس عمل میں تو بعض افراد کی دلچسپی اور کوشش اتنی زیادہ ہوتی کہ وہ صرف سترہ دنوں میں مکمل طور پر ایک زبان سیکھنے کا استعداد پیدا کرتے، مختلف قبائل کے ماہرین سے مہارتیں سیکھنے کی ترغیب دی، اور علم و ہنر کی اشاعت کے لیے عملی میدان مہیا کیا۔ غزوہِ بدر میں چند تعلیم یافتہ جنگجو گرفتار ہو کر آئیں تو انہیں پیشکش کی کہ آپ میں سے ہر فرد ہمارے دس افراد کو لکھنا پڑھنا سیکھائیں ہم آپ کو آزاد کرائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ فرد کی صلاحیتوں کو پہچاننے، انہیں بروئے کار لانے اور اسے معاشرے کا ایک مفید رکن بنانے کے لیے فطری، ہمہ گیر اور عملی نظام تربیت پر مشتمل تھا جو انسانی کمال کی راہ ہموار کرتا تھا۔

8- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعثت کے وقت ایسے معاشرے میں قدم رکھا جہاں دہشت گردی، لوٹ مار اور قبائلی جنگوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ چلتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف ان برائیوں کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے بلکہ ایک ایسے معاشرتی نظام کی بنیاد رکھی جہاں ہر فرد کو تحفظ اور عزت کا احساس ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں دہشت گردی کے خاتمے کا سب سے بڑا عملی ثبوت فتح مکہ کے موقع پر نظر آتا ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ماضی کے سخت دشمنوں کو معاف کر کے یہ ثابت کیا کہ انتقام نہیں بلکہ درگزر ہی حقیقی فتح ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "آج تم پر کوئی ملامت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو” ۔ یہ وہ تاریخی الفاظ تھے جنہوں نے نہ صرف دشمنی اور نفرت کے تمام بت توڑ دیے بلکہ امن و آشتی کی ایسی بنیاد رکھی جس پر آج بھی پوری انسانیت فخر کر سکتی ہے۔

9- انسانی تحفظ کے میدان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات نے معاشرے کے کمزور ترین طبقات کو سماجی اور معاشی تحفظ فراہم کیا۔ عورتوں، بچوں، غلاموں اور یتیموں کے حقوق کا نہ صرف ایک واضح تعین کیا بلکہ ہر آن تحفظ بھی اور یہ اہتمام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا اہم ترین حصہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں کے ساتھ نرمی اور شفقت کا برتاؤ کرتے ہوئے فرمایا: "اپنے بچوں پر رحم کرو، اور شفقت سے پیش آؤ، کیونکہ وہ خدا کی عطا ہیں” ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاشرے میں انصاف کی بالادستی قائم کی اور اس بات کو یقینی بنایا کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔
10- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ جنگ کو آخری حربہ کے طور پر اختیار کیا اور اس کے بھی ایسے اصول اور ضابطے مقرر کیے جن میں عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور مذہبی شخصیات کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ حقیقی امن وہی ہے جو انسانی وقار کے تحفظ، عدل اجتماعی کے قیام اور باہمی رواداری کے فروغ سے قائم ہو۔آج کے دور میں جب دہشت گردی، بدامنی اور عدم تحفظ کے بادل پوری انسانیت پر منڈلا رہے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل کریں تو نہ صرف دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہے بلکہ ایک پرامن اور محفوظ معاشرہ قائم کیا جا سکتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ہر پہلو ہمیں یہی درس دیتا ہے کہ امن کا قیام اور انسانی تحفظ درحقیقت انسانیت کی سب سے بڑی خدمت ہے، اور یہی وہ عظیم مقصد ہے جس کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تھے۔

ایک طرف یہ بلندی اور دوسری طرف ہماری عملی حالت حقیقت یہ ہے کہ کوئی جوڑ ہی نہیں ہے۔ آج محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیواوں کو نااہلی، خود غرضی، کم ظرفی، بد اطواری، تشدد پسندی، بے حوصلگی، شقاوت قلبی، بے فیضی اور جہالت جیسی خرابیوں نے چاروں طرف سے گھیرے میں لیے ہوئے ہیں یہ خرابیاں ہمیں بالکل زیب نہیں دیتی۔ وہ نبی جو علم و عرفان، امانت و صداقت، صبر و برداشت، حکمت و بصیرت، عفو و درگزر، رحمت و مودت، خیر خواہی و نفع رسانی، نرمی و مروت اور جود و سخا جیسی خوبیاں ان کی سیرت اور کردار میں بدرجہ اتم موجود تھیں ان کا کلمہ پڑھنے والے بالکل الٹ رویوں اور اخلاق کے ساتھ آج کے عالمی منظر نامے میں خالی دامن، موجود ہیں۔ ان کے اخلاق اور کردار سے دنیا میں اچھائی اور بھلائی پروان نہیں چڑھتی اس تناظر میں امت کو چاہیے کہ وہ اپنے اجتمائی اور عالمی کردار کا کھلے دل و دماغ سے باریک بینی کے ساتھ جائزہ لیں، یہ بے حد ضروری ہوگیا ہے۔

آج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم ولادت ہے۔ اس موقع کی مناسبت سے اظہار مسرت بالکل درست ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انسانیت کے سب سے بڑے محسن ہیں اور ان سے محبت ہمارے ایمان کا لازمی حصہ ہے، یہ ضرور ہونا چاہیے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنے گرد و پیش میں موجود خرابیوں اور اعمال و اخلاق میں شامل کوتاہیوں کو دور کرنا، اور اپنے آپ کو ایک مرتبہ پھر نفع رساں، باوقار اور بااصول بنا کر دکھانا، زیادہ اہم اور ضروری ہیں۔ کیا موجودہ پوزیشن میں رہتے ہوئے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت کا حق آدا کر رہے ہیں یا الٹا اس چشمہ خیر سے انسانوں کو بدظن کرنے میں لگے ہوئے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں ہمارا مطلوبہ کردار پوشیدہ ہے۔ ٹھوس کردار کے ذریعے، ہم اپنے دین کی حقانیت اور اپنے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو آج کی دنیا میں موثر انداز سے منوا سکتے ہیں بصورت دیگر محض ایک رسمی رواجی "ایکٹیوٹی” کے علاؤہ، کچھ بھی ظاہر نہیں ہوگا۔ آللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم کریں اور ہمیں درست طرز عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے