اسلام سے قبل عورت کو نہ صرف معاشرتی بلکہ انسانی حیثیت سے بھی محروم رکھا گیا تھا۔ بیٹی کی پیدائش ذلت سمجھی جاتی، اور بعض اوقات تو اُسے زندہ درگور کر دیا جاتا۔ عورتیں وراثت، رائے، تعلیم اور اختیار سے مکمل محروم تھیں۔ ان کی زندگی محض مرد کی خواہشات کی تسکین کا ذریعہ تھی۔ ایسے پرآشوب دور میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا۔ آپ ﷺ نے نہ صرف عورت کو زندگی کا حق دیا، بلکہ اُسے عزت، وقار، کردار اور مساوات کی نئی پہچان عطا کی۔ آپ ﷺ کی تعلیمات نے عورت کو خاندان، معاشرت اور ریاست کا ایک باوقار ستون بنایا۔ نبی کریم ﷺ نے بیٹی کو جنت کا دروازہ، ماں کو احترام کا مینار اور بیوی کو رفاقت کا سکون قرار دیا۔ آپ ﷺ کی سیرت عورتوں کے لیے ایک نئی صبح کا پیغام تھی۔ اُنہیں عبادت، تعلیم، تجارت، اور اظہارِ رائے کے مواقع عطا کیے گئے۔ خواتین کی شخصی آزادی کو اس انداز میں تحفظ دیا گیا کہ آج کی مہذب دنیا بھی اُس معیار تک نہیں پہنچ سکی۔ حقیقت یہ ہے کہ نبی ﷺ نے جس معاشرے کی بنیاد رکھی، اُس میں عورت قابلِ فخر مقام پر فائز ہوئی۔
رسول اللہ ﷺ نے بیٹی کو وبالِ جان نہیں بلکہ باعثِ رحمت قرار دیا۔ آپ ﷺ کی اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ الزہراءؓ سے محبت مثالی تھی۔ جب وہ آتی تھیں تو آپ ﷺ کھڑے ہو کر اُن کا استقبال فرماتے، پیشانی پر بوسہ دیتے، اور اپنی چادر بچھا کر بٹھاتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں، وہ اُن کی پرورش کرے، اُنہیں ادب سکھائے اور اچھے طریقے سے رخصت کرے، تو وہ جنت کا مستحق ہوگا۔ حتیٰ کہ آپ ﷺ نے ایک بیٹی کے ساتھ بھی یہی خوش خبری دی۔ آپ ﷺ نے یہ پیغام دیا کہ بیٹی محض ایک ذمہ داری نہیں، بلکہ جنت کے حصول کا ذریعہ ہے۔ زمانۂ جاہلیت کے لوگ جو بیٹیوں کو دفن کرتے تھے، اُن کی اس رسمِ ظلم کو آپ ﷺ نے وحیِ الٰہی کی روشنی میں ختم کیا۔ بیٹی کو تعلیم، تربیت، اور وراثت کا حق دینا آپ ﷺ کی سنت ٹھہری۔ آپ ﷺ نے فرمایا: بیٹیاں، ماں باپ کے لیے رحمت ہیں، آزمائش نہیں۔ اس انقلابی پیغام نے عورت کو ذلت سے نکال کر عزت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔
نبی کریم ﷺ نے ماں کے قدموں تلے جنت ہونے کی بشارت دی۔ ایک صحابی نے سوال کیا: میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاری ماں۔ صحابی نے تین مرتبہ یہی سوال دہرایا، اور آپ ﷺ نے ہر بار ماں ہی کو اولیت دی۔ ماں کا درجہ باپ سے بھی مقدم قرار دیا گیا۔ آپ ﷺ نے واضح کر دیا کہ ماں کی خدمت عبادت کے زمرے میں آتی ہے۔ حتیٰ کہ غزوہ و جہاد جیسے عظیم عمل سے بھی ماں کی خدمت کو افضل قرار دیا۔ حضرت اسماءؓ نے مشرکہ ماں سے حسن سلوک کا سوال کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ماں کا احترام مذہبی وابستگی سے ماورا ہو کر بھی لازم ہے۔ آپ ﷺ کے فرامین نے ماں کو وہ مقام عطا کیا جو دنیا کی کسی تہذیب نے نہیں دیا۔ ماں صرف بچے کی پرورش کرنے والی نہیں، بلکہ ایک مکمل تربیتی ادارہ ہے، جس کی عزت خود اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے لازمی قرار دی ہے۔
آپ ﷺ نے بیوی کو محض جسمانی خواہشات کی تسکین کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک رفیقِ حیات اور زندگی کا شریک قرار دیا۔ حضرت خدیجہؓ کے ساتھ آپ ﷺ کا تعلق محبت، اعتماد اور وفاداری کا مثالی نمونہ تھا۔ آپ ﷺ اُن کے مال، مشورے اور قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھتے۔ حضرت عائشہؓ کے ساتھ آپ ﷺ کا تعلق علم، محبت اور ہنسی خوشی کا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ بہتر سلوک کرے۔ آپ ﷺ نہ صرف خود بیویوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرتے بلکہ دوسروں کو بھی یہی تعلیم دیتے۔ آپ ﷺ نے بیویوں کو رائے، اختلاف اور پسند ناپسند کے اظہار کا مکمل حق دیا۔ آپ گھر کے کاموں میں بیویوں کا ہاتھ بٹاتے، اُن کے جذبات کا احترام کرتے، اور اُنہیں عزت سے مخاطب کرتے۔ ازدواجی تعلقات کو آپ ﷺ نے صرف حقوق کا نہیں بلکہ احساسات، محبت اور قربانی کا رشتہ قرار دیا۔
نبی کریم ﷺ نے علم کو ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض قرار دیا۔ آپ ﷺ نے عورتوں کی تعلیم کا خصوصی اہتمام کیا۔ مدینہ میں خواتین کے لیے الگ دن مخصوص کیا، تاکہ وہ دین کی باریکیاں سیکھ سکیں۔ حضرت عائشہؓ، حضرت حفصہؓ، حضرت ام سلمہؓ اور دیگر امہات المؤمنینؓ کو نہ صرف دینی علوم میں مہارت تھی بلکہ وہ دوسرے مرد و عورتوں کی معلمہ بھی تھیں۔ حضرت شفاءؓ بنت عبداللہ کو نبی ﷺ نے تحریر اور حساب سکھانے کی اجازت دی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ تعلیم صرف مردوں کا حق نہیں، عورتوں کا بھی برابر کا حق ہے۔
آپ ﷺ نے ہمیشہ خواتین کو علم کی طرف راغب کیا اور اُن کی ذہانت کو سراہا۔ عورت کی علمی ترقی کو خاندان اور معاشرے کی فلاح سے جوڑا۔ سیرتِ رسول ﷺ علم و تربیت کے حوالے سے صنفی امتیاز کے بجائے مساوات کا علمبردار ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے عورت کو نہ صرف روحانی اور اخلاقی اعتبار سے بلکہ معاشرتی و قانونی لحاظ سے بھی تحفظ عطا فرمایا۔ اُنہیں وراثت، مہر، خلع، اور جائیداد کے حقوق دیے۔ نکاح کو عورت کی مرضی سے مشروط قرار دیا۔ کسی کو زبردستی بیٹی یا بہن کی شادی کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ آپ ﷺ نے واضح فرمایا کہ بیوہ یا مطلقہ عورت کی رضامندی کے بغیر نکاح نہیں ہو سکتا۔ عورت کی گواہی کو معتبر مانا گیا، خاص طور پر اُن معاملات میں جہاں عورت براہ راست متاثر ہو۔ خواتین کو سیاسی و سماجی معاملات میں شرکت کی اجازت دی گئی۔ بیعت، مشورہ، تجارت، علاج و معالجہ اور تعلیم جیسے شعبوں میں خواتین متحرک نظر آئیں۔ نبی ﷺ کی تعلیمات کے مطابق معاشرے میں عورت کو عزت دینا ایمان کا حصہ ہے، اور اس کی حرمت کو پامال کرنا ناقابلِ معافی جرم۔
سیرتِ طیبہ کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ خواتین نے اسلام کی تبلیغ، دفاع اور استحکام میں اہم کردار ادا کیا۔ اُم عمارہؓ نے غزوۂ احد میں نبی ﷺ کی حفاظت کرتے ہوئے زخم کھائے۔ اُم سلیمؓ، حضرت رفیدہؓ اور اُم عطیہؓ رضی اللہ عنہن نے زخمیوں کی دیکھ بھال میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ ہجرت کے موقع پر حضرت اسماءؓ کی بہادری تاریخ کا سنہرا باب ہے۔ حضرت عائشہؓ نے حدیث اور فقہ میں گراں قدر علمی سرمایہ چھوڑا۔ خواتین کی ان خدمات کو نبی کریم ﷺ نے سراہا اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔ آپ ﷺ نے خواتین کو صرف گھریلو کردار تک محدود نہیں رکھا، بلکہ دین و ملت کے ہر محاذ پر اُن کی شمولیت کو اہمیت دی۔ آپ ﷺ نے یہ باور کرایا کہ عورت صرف صنفِ نازک نہیں یہ صبر، ہمت، عزم اور قربانی کی ایک زندہ مثال بھی ہے۔ خواتین نے مدنی دور میں بیعتِ عقبہ، غزوات، مسجد نبوی کی تعمیر اور تعلیمی سرگرمیوں میں جو حصہ لیا، وہ تاریخ اسلام کا روشن باب ہے۔ اُم ورقہؓ کو آپ ﷺ نے گھر میں اذان دینے کی اجازت دی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ خواتین کو دینی فریضے انجام دینے کا حق دیا گیا۔ آپ ﷺ نے عورت کو میدانِ عمل میں قدم رکھنے سے نہ روکا، بلکہ اُن کی صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع فراہم کیا۔
جنگوں کے موقع پر ان کی ذمہ داری صرف تیمارداری یا پانی پلانا نہ تھی، بلکہ بعض مواقع پر انہوں نے دشمن کے حملے روکے، اور زخم کھا کر بھی دین کی سربلندی کے لیے کھڑی رہیں۔ خواتین دعوتِ دین کا بھی مضبوط ذریعہ بنیں۔ حضرت خدیجہؓ نے ابتدائی اسلام میں رسول اللہ ﷺ کا نہ صرف ساتھ دیا، بلکہ مال و جان سے قربانی دی۔ سیرتِ طیبہ ہمیں سکھاتی ہے کہ عورت اگر کردار و ایمان میں مضبوط ہو تو وہ پورے معاشرے کو بدل سکتی ہے۔ نبی ﷺ نے خواتین کو مشنِ نبوی کا فعال رکن بنایا، نہ کہ محض تابع یا خاموش تماشائی۔
آج کے جدید دور میں جب خواتین حقوق کے نعرے لگا رہی ہیں، تب بھی نبی کریم ﷺ کی سیرت وہ کامل ضابطہ حیات پیش کرتی ہے، جس میں عورت کو وہ عزت، وقار، مساوات اور تحفظ حاصل ہے، جو کسی بھی جدید قانون یا تحریک میں ممکن نہیں۔ عورت کا حقیقی مقام صرف اسی وقت بحال ہو سکتا ہے، جب وہ نبی ﷺ کے دیے گئے راستے پر چلے۔ آج کی مسلم خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنی حیثیت کو مغربی معیار پر نہیں، بلکہ سیرتِ محمدی ﷺ کے پیمانے پر جانچیں۔ نبی کریم ﷺ کی سنت سے جُڑ کر ہی عورت ظلم، استحصال اور محرومی سے نجات پا سکتی ہے۔ اگر ایک عورت حضرت فاطمہؓ، حضرت خدیجہؓ، حضرت عائشہؓ اور حضرت اُمِ سلمہؓ کی سیرت سے سبق لے، تو وہ ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کے ہر کردار میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ سیرتِ رسول ﷺ نہ صرف عورت کو حقوق دیتی ہے، بلکہ اُس سے حسنِ سلوک کی ضمانت بھی فراہم کرتی ہے۔
معاشرے میں حقیقی انصاف تبھی ممکن ہے، جب مرد و زن نبی ﷺ کی تعلیمات کو حرزِ جان بنائیں۔ نبی کریم ﷺ نے عورت کو بوجھ نہیں، بلکہ نعمت قرار دیا، اور ان کی عزت و حرمت کو ایمان کا حصہ بتایا۔ یہی وہ روشن مثال ہے جس کی پیروی سے آج کی دنیا میں بھی عورت کو مقام، محبت، تحفظ اور پہچان حاصل ہو سکتی ہے۔