اندھیروں سے روشنی تک: نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات اور آج کا معاشرہ

صدیوں پہلے کی دنیا ظلمتوں کا گہوارہ تھی۔ یہ زمین اور یہ کائنات گویا اندھیروں کا مسکن تھی۔ انسان ایک دوسرے سے ٹکراتے تھے، ہر کوئی اپنی چھوٹی سی دنیا میں قید تھا۔ ذہن خوف سے بھرے ہوئے، دل جہالت کے طوفانوں سے مردہ ہوچکے تھے۔ سماج میں معاشرتی نابرابری عام تھی۔ مالدار طبقہ غریبوں کو اپنے قدموں تلے روندتا، اور گورا رنگ کالا ہونے پر انسانیت کا درجہ کھو بیٹھتا۔

عورت کی حالت سب سے زیادہ ابتر تھی۔ اسے جانور سے بھی بدتر سمجھا جاتا۔ بیٹی کی پیدائش کو ذلت اور عار سمجھا جاتا تھا، چہروں پر سیاہی چھا جاتی، حتیٰ کہ زندہ درگور کرنا عام بات تھی۔ عورت کی عزت گھر کے اندر بھی محفوظ نہ تھی۔ باپ، بھائی اور بیٹے اپنی ہی ماں اور بہن کے مقام کو پامال کرتے۔ بعض جگہ ایک عورت کو کئی مرد استعمال کرتے۔ وراثت تو دور کی بات، عورت کا کوئی سماجی وجود تک نہ تھا۔ محفلوں میں اس کا نام لینا بے عزتی خیال کیا جاتا۔

اسی طرح غلامی کا ادارہ بھی عروج پر تھا۔ غلاموں کو جانوروں کی طرح خریدا اور بیچا جاتا، ان پر تشدد کیا جاتا۔ ہر قبیلہ اور فرد نے اپنے اپنے معبود گھڑ رکھے تھے، جنہیں اپنے ہاتھوں سے بنا کر پھر سجدہ کیا جاتا۔ سماج میں اخلاقی زوال اور معاشرتی انتشار اپنی انتہا کو پہنچ چکے تھے۔

ایسے اندھیروں میں ایک روشنی ظاہر ہوئی۔ ایک چراغ روشن ہوا جس نے صدیوں کے اندھیروں کو مٹا دیا۔ یہ روشنی ایک بچے کی پیدائش کے ساتھ آئی جو ایک چھوٹی سی بستی، مکہ مکرمہ، میں پیدا ہوا۔ جہاں نہ بڑے ادارے تھے، نہ جامعات، نہ کوئی طاقتور سیاسی ریاست۔ مگر اس بچے کا مقصد ایسا عظیم تھا کہ نہ اسے وقت محدود کرسکتا تھا اور نہ کوئی طاقت روک سکتی تھی۔ یہ بچہ تھے ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ، جن کے مقصدِ حیات کو نہ ماپا جا سکتا ہے، نہ کسی پیمانے میں قید کیا جا سکتا ہے۔

ان کا مقصد محض گھر بسانا، حکومت حاصل کرنا، عمارتیں کھڑی کرنا یا ڈگریاں لینا نہ تھا۔ یہ سب چیزیں قابلِ پیمائش (Measurable) ہیں، اور موت کے ساتھ ختم ہو جاتی ہیں۔ لیکن نبی اکرم ﷺ کا مقصد ناقابلِ پیمائش (Non-Measurable) تھا، ایک ایسا مقصد جو موت کے بعد بھی زندہ رہتا ہے۔

نبی اکرم ﷺ نے اس اندھیروں بھرے سماج کو ایک متمدن معاشرہ میں بدلا۔ عورت کو وراثت کا حق دیا، نکاح میں رضامندی کا حق دیا، حق مہر دیا، اور ماں، بہن اور بیٹی کے طور پر اس کے وقار کو بلند فرمایا۔ فرمایا: "جس نے دو بیٹیوں کی پرورش کی اور ان کے ساتھ حسن سلوک کیا وہ جنت کا حق دار ہوگا۔” حضرت خدیجہؓ کو ایک کامیاب کاروباری عورت کے طور پر عزت دی گئی۔ حضرت عائشہؓ کو علم کی authority کے طور پر تسلیم کیا گیا، بڑے بڑے صحابہ ان سے علم دین حاصل کرتے۔ یہ سب وہ حقوق ہیں جو سماجی ڈھانچے میں عورت کے لیے ایک سماجی انقلاب تھے۔

اسلام نے غلاموں کے حقوق بحال کیے۔ ان پر ظلم بند کیا، انہیں انسان کا درجہ دیا۔ بلال حبشیؓ کو اذان دینے کا شرف عطا کیا گیا، تاکہ دنیا جانے کہ رنگ و نسل کی بنیاد پر انسان کی عظمت کم نہیں کی جا سکتی۔ نبی اکرم ﷺ نے اعلان فرمایا: "کسی عربی کو عجمی پر، کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں، سوائے تقویٰ کے۔” یہ اصول دنیا کی تاریخ میں پہلی بار سماجی مساوات کی بنیاد بنا۔

آج کی عورت مغربی فیمینزم کے پروپیگنڈے میں الجھی ہوئی ہے۔ وہ اپنے ذہن پر مغرب کے اثرات کا قفل لگائے بیٹھی ہے اور بھول گئی ہے کہ اس کے حقوق تو چودہ سو سال پہلے ہی دیے جا چکے تھے۔ عورت کی وراثت، اس کا مقام ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کی حیثیت سے، اس کی عزت و حرمت یہ سب کچھ اسلام نے دیا۔ مگر آج عورت مغربی نعروں کے پیچھے بھاگ رہی ہے، "human rights” اور "ویمن رائٹس ڈے” کے جھنڈے اٹھا رہی ہے، جیسے اسے یہ حقوق ابھی دینے باقی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر آج ظلم اور ناانصافی ہو رہی ہے تو وہ ثقافتی رویوں اور معاشرتی جبر کی وجہ سے ہے، نہ کہ اسلام کی تعلیمات کی وجہ سے۔

یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان میں بھی عورت کو جہیز کے بوجھ کے نیچے کچلا جاتا ہے، غیرت کے نام پر قتل کیا جاتا ہے، وراثت سے محروم کیا جاتا ہے، اور تعلیم کے حق سے دور رکھا جاتا ہے۔ یہی معاشرتی جبر ہے جسے مذہب کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے، حالانکہ یہ خالصتاً ثقافتی اور قبائلی رویے ہیں۔ اسی طرح ذات برادری کے چکر میں نوجوانوں کی شادیاں رُک جاتی ہیں، اور کئی خاندان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ غربت اور معاشی نابرابری بڑھتی جا رہی ہے، بڑے جاگیردار اور سرمایہ دار غریب عوام کو اپنے قدموں تلے روند رہے ہیں۔ یہ سب وہی اندھیرے ہیں جنہیں اسلام نے ختم کیا تھا مگر ہم نے اپنی کوتاہیوں سے پھر زندہ کر دیا ہے۔

نبی اکرم ﷺ کا مقصدِ حیات صرف اس دنیا کی کامیابی نہ تھا بلکہ آخرت تک پھیلا ہوا تھا۔ اسی لیے ان کی روشنی آج بھی زندہ ہے۔ ان کا مشن نہ صرف عرب بلکہ پوری دنیا کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ جو مقصد ماپا جا سکے، وہ اصل مقصد نہیں بلکہ عارضی ہدف ہے۔ ڈاکٹر بن جانا، عمارت بنانا یا ایجاد کر لینا یہ سب محدود (Finite Goals) ہیں۔ اصل مقصد وہ ہے جو ناقابلِ پیمائش ہو اور موت کے بعد بھی زندہ رہے، جیسے ہمارے نبی اکرم ﷺ کا مقصد زندہ ہے۔

اگر ہم نے اپنی زندگی کا مقصد اسی غیر پیمائش پذیر (Non-Measurable Purpose) کو بنایا تو ہماری فلاح اسی میں ہے۔ ورنہ ہم دنیا کی وقتی کامیابیوں کے پیچھے بھاگتے رہیں گے اور بار بار مایوسی میں لوٹ آئیں گے۔ اسلام نے ایک پسماندہ اور ظالمانہ معاشرے کو ایک civilized اور برابری پر مبنی سوسائٹی میں بدلا۔ عورت کو حق دیا، غلام کو آزادی دی، رنگ و نسل کے امتیاز کو مٹایا۔ یہ سب کچھ ایک چھوٹی سی بستی کے بچے کی روشنی سے ہوا جو دنیا کا سب سے بڑا رہنما بنا۔ لہٰذا آج بھی نجات اسی میں ہے کہ ہم اپنی زندگی کا مقصد اُس روشنی سے وابستہ کریں، جو نبی اکرم ﷺ نے ہمیں دکھائی۔ یہی اصل کامیابی ہے، باقی سب عارضی اور ختم ہوجانے والی چیزیں ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے