پاکستانی سیاست کا منظرنامہ کسی فلمی کہانی سے کم نہیں۔ کبھی ڈرامائی انٹری، کبھی اچانک ایگزٹ، اور اکثر ایسا لگتا ہے جیسے اسکرپٹ کہیں اور لکھا جا رہا ہو۔ برسوں پاکستان نے ’’جمہوریت‘‘ کے نام پر وہی پرانے کھلاڑیوں کو مختلف ٹیموں میں کھیلتے دیکھا۔ کبھی فوجی وردی والا کپتان، کبھی جمہوری کوچ، مگر نتیجہ وہی ہار جیت کا چکر اور عوام کا خسارہ۔
لیکن اب فضا کچھ بدل رہی ہے۔ کوئی کہتا ہے یہ ’’ہائبرڈ‘‘ کا تجربہ ہے، کوئی کہتا ہے یہ پھر پرانا کھیل ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستان آہستہ آہستہ ایک ایسے ماڈل کی طرف بڑھ رہا ہے جسے دنیا والے ’’آل اِنکلیوسو‘‘ کہتے ہیں۔ یہ نام سنتے ہی ہوٹلوں کی ’’آل اِنکلیوسو ڈیل‘‘ یاد آتی ہے جس میں سب کچھ ایک ہی پیکج میں ملتا ہے۔
فرق یہ ہے کہ یہاں ہوٹل کے کھانے نہیں، بلکہ سیاستدان، ٹیکنوکریٹس، جرنیل، سفارتکار، پروفیسر اور بزنس مین ایک ہی میز پر بیٹھ کر ملک کے لیے فیصلے کرتے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اکثر یہ کہا جاتا رہا ہے کہ ملک ایک "ہائبرڈ سسٹم” سے گزر رہا ہے، جہاں جمہوریت اور اشرافیہ کی حکمرانی کے درمیان ایک عجیب کشمکش موجود ہے۔ تاہم، اب ایک نیا بیانیہ سامنے آیا ہے۔ یہ بیانیہ ایک منظم، مربوط اور تمام اہم قومی اداروں کو شامل کرنے والے حکمرانی کے ماڈل کی نشاندہی کرتا ہے، جسے "ملٹی ڈومین آل انکلیوسو سسٹم” کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ ماڈل محض ایک اتفاقی عمل نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔
یہ بیانیہ قومی شناخت، مشترکہ اقدار اور سیکیورٹی خدشات پر مبنی ہے، جو پچھلی دہائیوں میں میڈیا اور تعلیمی حلقوں میں موجود نہیں تھا۔ مثال کے طور پر، آئی ایس پی آر کی جانب سے سکولوں اور کالجوں میں طلبہ کو دعوت دینا، ‘ہلال ٹاکس’ جیسے فورمز کا انعقاد، اور مشترکہ پریس بریفنگز (جیسے 30 اپریل 2025 کو ڈی جی آئی ایس پی آر، فارن آفس کے ترجمان اور وزیر خارجہ کی مشترکہ بریفنگ) اس نظام کی عملی مثالیں ہیں۔
یہ ماڈل یورپی نظاموں سے متاثر ہے، جہاں بحرانوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تعلیم یافتہ اور پیشہ ور کیڈرز تیار کیے جاتے ہیں۔
"ملٹی ڈومین آل انکلیوسو سسٹم” کیا ہے؟
"آل انکلیوسیو” یا "ملٹی ڈومین آل انکلیوسیو” نظام ایک ایسا حکومتی فریم ورک ہے جس میں سیاستدان، ٹیکنوکریٹس، سفارتکار، سیکیورٹی ماہرین، تعلیمی حلقے اور دیگر اسٹیک ہولڈرز فوجی اور سویلین قیادت کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ یہ نظام ایک جامع اور شامل انداز میں پالیسیاں تیار کرتا ہے، جہاں ہر ریاست کے ستون کو برابر اہمیت دی جاتی ہے۔، جہاں معلومات رکھنے والے سیاستدان، انتظامی ماہرین، ٹیکنوکریٹس، سفارتکار، سیکیورٹی ماہرین اور اکیڈیمیشنز فوجی اور سویلین قیادت کے ساتھ مل کر طویل مدتی پالیسیاں تیار کرتے ہیں، جبکہ بیوروکریٹس ان کو نافذ کرتے ہیں۔”
جس کا مقصد قومی پالیسی سازی اور فیصلہ سازی کے عمل میں تمام اہم قومی شعبوں (Domains) کو شامل کرنا ہے۔
منتخب نمائندے جو عوام کی آواز اور جمہوری مشروعیت کی نمائندگی کرتے ہیں۔
فوجی قیادت جو قومی سلامتی اور جغرافیائی استحکام کے محافظ، سول بیوروکریسی (ٹیکنوکریٹس) پالیسیوں پر عمل درآمد کرنے اور روزمرہ انتظامی معاملات چلانے والا ادارہ،
سکیورٹی ماہرین غیر معمولی چیلنجز جیسے دہشت گردی، سائبر وارفیئر سے نمٹنے کے ماہر۔
سفارتکار: خارجہ پالیسی کو مربوط طریقے سے چلانے اور بین الاقوامی تعلقات کو استوار کرنے والے۔
· تعلیمی و دانشور طبقہ: معاشرے کو فکری رہنمائی، تحقیق اور تنقیدی تجزیہ فراہم کرنے والے۔
اس ماڈل کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ قومی مفاد کے معاملات پر فیصلہ صرف ایک گروہ کے بجائے ان تمام اکائیوں کے باہمی مشاورت اور اتفاق رائے سے کیا جائے، تاکہ پالیسیاں مستحکم، پائیدار اور قومی یکجہتی کی حامل ہوں۔
اگرچہ اصطلاح نیا ہو سکتی ہے، لیکن اس طرح کا مشاورتی ماڈل دنیا کے کئی ممالک میں کامیابی سے رائج ہے۔ یہ ممالک اپنی مخصوص تاریخ اور جغرافیائی حالات کے مطابق اسے اپنائے ہوئے ہیں۔
سنگاپور معجزہ ساز ماڈل سنگاپور "آل انکلیوسو” ماڈل کی سب سے کامیاب مثال ہے۔ یہاں پیپلز ایکشن پارٹی (PAP) طویل عرصے سے برسراقتدار ہے، لیکن اس کی کامیابی کا راز محض سیاسی بالادستی نہیں، بلکہ ایک "غیر جانبدار اور انتہائی قابل بیوروکریسی”، ماہر معیشت دانوں، اور فوج کے درمیان گہرا تعاون ہے۔ یہ تمام ادارے مل کر ایک مشترکہ قومی وژن "سنگاپور انکارپوریٹڈ” پر کام کرتے ہیں، جس کا مقصد معاشی ترقی، استحکام اور عالمی مسابقت میں سبقت لینا ہے۔ اس کے نتیجے میں سنگاپور ایک غریب ملک سے ترقی یافتہ معیشت بن گیا۔
ملائیشیا: برج سے نیچے کی سیاست (Politics of the Lower Deck) ملائیشیا میں بھی ایک مستحکم اشرافیہ کا گروہ(جس میں سیاسی جماعتوں کی قیادت، سول بیوروکریسی اور فوج شامل ہیں) مل کر کام کرتا ہے۔
اگرچہ یہاں جمہوری عمل مضبوط ہے، لیکن قومی فیصلوں پر ایک وسیع تر قومی کونسل (National Development Council) جیسی تنظیموں میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جس میں مختلف سیاسی جماعتیں، ماہرین معیشت اور سماجی علوم کے ماہرین شامل ہوتے ہیں، خاص طور پر معاشی پالیسیوں کے حوالے سے۔
مشرقی یورپ کے ممالک (پولینڈ، ہنگری، چیک جمہوریہ)،مشرقی یورپ کے کچھ ممالک میں جمہوریت کے منتقلی کے دور میں ایک قسم کا "آل انکلیوسو” ماڈل دیکھنے میں آیا۔ مثال کے طور پر، پولینڈ میں 1989 کے بعد کے ابتدائی سالوں میں، سول سوسائٹی، دانشوروں، اور اصلاح پسند سیاستدانوں نے مل کر ایک نیا آئینی اور معاشی فریم ورک بنانے کے لیے کام کیا، جس نے ملک کو تیزی سے مارکیٹ کی معیشت کی جانب گامزن کیا۔ اسی طرح، ہنگری میں بھی فیکٹراؤنڈ ٹیبل (Round Table Talks) کے ذریعے پرامن انتقالِ power ہوا، جہاں تمام اہم فریق شامل تھے۔
تاہم، یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ ان ممالک میں یہ ماڈل ایک "عبوری دور” کے لیے تھا اور وقت کے ساتھ یہ زیادہ مکمل جمہوری نظاموں کی طرف بڑھے ہیں۔
ایسٹونیا مشرقی یورپ کا ایک چھوٹا ملک ہے جو کمیونسٹ دور کے بعد ایک جامع "آل انکلیوسیو” نظام اپنا کر دنیا کی سب سے ڈیجیٹل معاشرہ بن گیا ہے۔ یہاں حکومت، ٹیکنوکریٹس، اکیڈیمیشنز اور سیکیورٹی ماہرین مل کر ای-
گورننس سسٹم چلاتے ہیں، جہاں شہریوں کی شمولیت کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ یہ نظام ملٹی ڈومین ہے، جو معیشت، تعلیم اور سیکیورٹی کو ایک پلیٹ فارم پر جوڑتا ہے۔
دنیا کا سب سے کم کرپشن والا ملک (ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق ٹاپ 20 میں)معاشی ترقی کی شرح 4-5% سالانہ، جو یورپی یونین میں سب سے تیز ہے۔ای-ریذیڈنسی پروگرام کے ذریعے ہزاروں غیر ملکی کمپنیاں رجسٹرڈ، جو ملکی جی ڈی پی میں اضافہ کرتی ہے۔ نیٹو اور یورپی یونین کی رکنیت سے سیکیورٹی مضبوط ہوئی۔
پاکستان کا "ملٹی ڈومین آل انکلیوسیو” نظام ایک امید افزا قدم ہو سکتا ہے، یہ نظام نہ صرف اندرونی تقسیم کو ختم کر رہا ہے بلکہ بیرونی چیلنجز (جیسے بھارت کے ساتھ تنازعات) کا مقابلہ کرنے کے لیے قومی بیانیہ مضبوط کر رہا ہے۔ مشرقی یورپ کی مثالیں بتاتی ہیں کہ ایسے نظام سے معاشی ترقی، کم کرپشن اور علاقائی استحکام حاصل کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کو اس ماڈل کو مزید مضبوط کرنے کے لیے تعلیم اور شمولیت پر توجہ دینی چاہیے، تاکہ ایک پائیدار مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکے۔ یہ نظام صرف حکومت کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا نظام بنے، جو مشترکہ کاوشوں سے کامیاب ہوگا۔
پاکستان اگر اس ماڈل کو سنجیدگی سے اپناتا ہے تو یہ ملک کو طاقت کی روایتی کھینچا تانی سے نکال سکتا ہے۔ قومی پالیسیوں میں تسلسل آئے گا، معاشی اصلاحات پائیدار ہوں گی اور تعلیمی و تحقیقی اداروں کو وہ مقام ملے گا جو ترقی یافتہ ملکوں میں ہوتا ہے۔
یہ وقت ہے کہ پرانی کشمکش، ادارہ جاتی کھینچا تانی اور وقتی مفادات کو ٹوکری سے باہر پھینکیں اور ایک نیا اجتماعی حکومتی ماڈل اپنائیں۔ یہ راستہ شاید مشکل ہو، لیکن دنیا کے تجربات بتاتے ہیں کہ یہی واحد راستہ ہے جو پائیدار ترقی اور قومی وقار تک لے جاتا ہے۔
"ملٹی ڈومین آل انکلیوسو” ماڈل دراصل ایک قومی ایمرجنسی کے عالم میں ایک مربوط ردعمل کی حکمت عملی ہے، جہاں پاکستان کو معاشی بدحالی، سلامتی کے چیلنجز اور بیرونی دباؤ جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ اگر اسے شفافیت، جمہوری جوابدہی اور قانون کی بالادستی کے ساتھ نافذ کیا جائے تو یہ ملک کو استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے، جیسا کہ سنگاپور اور ملائیشیا سمیت دیگر کئی ممالک میں دیکھنے میں آیا۔
تاہم، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جمہوریت اور عوامی نمائندگی کو بالکل ہی پس پشت ڈال دیا جائے۔ کامیابی کا راز اس بات میں پوشیدہ ہے کہ "مشاورت اور اتفاق رائے” اور "جمہوری جوابدہی اور عوامی مینڈیٹ” کے درمیان ایک صحت مند توازن قائم کیا جائے۔ “آل اِنکلیوسو” ماڈل روایتی ہائبرڈ نظام سے مختلف ہے۔ یہ کسی ایک طاقت کو فوقیت دینے کے بجائے سب اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ بٹھانے پر یقین رکھتا ہے۔ دنیا کے وہ ممالک جنہوں نے یہ ماڈل اپنایا، وہاں پالیسی سازی میں تسلسل، معیشت میں استحکام اور سوسائٹی میں پائیداری دیکھنے کو ملی۔ پاکستان کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ ماضی کی آزمودہ غلطیوں سے نکل کر ایک نئے اجتماعی حکومتی ماڈل کی بنیاد رکھے، جو آنے والی نسلوں کو بہتر مستقبل فراہم کرے۔