موت کے بعد پچھتاوے

زندگی سفر اور دنیا مسافر خانہ ہے۔ انسان لمحوں کے قافلے میں چلتا رہتا ہے، کبھی خوشی کے لمحے اور کبھی غم کے لمحے اس کے ساتھ ہوتے ہیں۔ مگر یہ قافلہ رکتا نہیں۔ ایک دن وقت کا کارواں ہمیں اس منزل پر لے آئے گا جہاں نہ پلٹنے کی راہ ہوگی اور نہ مہلت کی ڈھیل۔ وہ دن حقیقتوں کے بے نقاب ہونے کا دن ہوگا، جب انسان کو معلوم ہوگا کہ اصل زندگی تو وہی تھی جسے اس نے دنیا کے پردوں میں بھلا دیا تھا۔ اس دن انسان کے لبوں پر ایک ہی لفظ ہوگا: "کاش”۔

قرآن مجید نے بڑے ہی دل ہلا دینے والے انداز میں وہ حسرتیں بیان کی ہیں جو انسان موت کے بعد کرے گا۔ کافر کہے گا:
﴿وَيَقُولُ الْكَافِرُ يَا لَيْتَنِي كُنتُ تُرَابًا﴾ (النبأ: 40)
ترجمہ: کافر کہے گا: کاش میں مٹی ہوتا۔
تشریح: قیامت کے دن جب جانور مٹی کر دیے جائیں گے تو کافر آرزو کرے گا کاش میں بھی مٹی ہوتا تاکہ عذاب سے بچ جاتا۔ (ابن کثیر)

اسی طرح ایک اور پکار اٹھے گی:
﴿يَقُولُ يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي﴾ (الفجر: 24)
ترجمہ: وہ کہے گا: کاش میں نے اپنی زندگی کے لیے کچھ آگے بھیجا ہوتا۔
تشریح: آخرت ہی اصل زندگی ہے، انسان اس دن سخت حسرت کرے گا کہ کاش دنیا میں نیک اعمال کر کے بھیجے ہوتے۔ (ابن کثیر)

جس کا نامۂ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، وہ چیخ کر کہے گا:
﴿وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِشِمَالِهِ فَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَابِيَهْ﴾ (الحاقة: 25)
ترجمہ: جس کو اس کا نامۂ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، وہ کہے گا: کاش مجھے میرا اعمال نامہ نہ دیا جاتا۔
تشریح: اپنے برے اعمال دیکھ کر وہ نادم ہوگا کہ یہ کتاب اس کے ہاتھ میں کیوں دی گئی۔ (طبری)

پھر ایک حسرت اور بھی ہوگی:
﴿يَا وَيْلَتَىٰ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا﴾ (الفرقان: 28)
ترجمہ: ہائے افسوس! کاش میں فلاں کو دوست نہ بناتا۔
تشریح: برے دوست دین سے گمراہ کرنے والے نکلیں گے، اسی پر سب سے بڑا افسوس ہوگا۔ (قرطبی)

جہنم کے شعلوں میں جب چہرے الٹ پلٹ کیے جائیں گے تو کہا جائے گا:
﴿يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا﴾ (الأحزاب: 66)
ترجمہ: جس دن ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کیے جائیں گے، وہ کہیں گے: کاش ہم نے اللہ اور رسول کی اطاعت کی ہوتی۔
تشریح: نافرمان جب جہنم میں ہوں گے تو سب سے بڑی حسرت یہی ہوگی کہ اللہ اور رسول کی بات کیوں نہ مانی۔ (ابن کثیر)

ظالم اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کر کہے گا:
﴿وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَىٰ يَدَيْهِ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا﴾ (الفرقان: 27)
ترجمہ: اور ظالم اپنے ہاتھ کاٹ کھائے گا اور کہے گا: کاش میں رسول کے ساتھ کوئی راستہ اختیار کرتا۔
تشریح: یہ وہ پچھتاوا ہوگا جب لوگ رسول ﷺ کے راستے کو چھوڑنے پر نادم ہوں گے۔ (طبری)

منافق کہیں گے:
﴿وَلَئِنْ أَصَابَكُمْ فَضْلٌ مِنَ اللَّهِ لَيَقُولَنَّ كَأَنْ لَمْ تَكُنْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ مَوَدَّةٌ يَا لَيْتَنِي كُنْتُ مَعَهُمْ فَأَفُوزَ فَوْزًا عَظِيمًا﴾ (النساء: 73)
ترجمہ: اگر تمہیں اللہ کی طرف سے فضل ملے تو منافق کہے گا: کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو بڑی کامیابی پاتا۔
تشریح: منافق اہل ایمان کو انعام پاتے دیکھ کر حسرت کریں گے کہ کاش ہم بھی شامل ہوتے۔ (ابن کثیر)

دنیا کے غرور میں شرک کرنے والا شخص کہے گا:
﴿وَأُحِيطَ بِثَمَرِهِ فَأَصْبَحَ يُقَلِّبُ كَفَّيْهِ عَلَىٰ مَا أَنْفَقَ فِيهَا وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي لَمْ أُشْرِكْ بِرَبِّي أَحَدًا﴾ (الكهف: 42)
ترجمہ: اور اس کا پھل گھیر لیا گیا، وہ اپنے ہاتھ ملتا رہ گیا اور کہنے لگا: کاش میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنایا ہوتا۔
تشریح: دنیاوی غرور اور شرک کی سزا دیکھ کر یہ شخص پچھتائے گا مگر فائدہ نہ ہوگا۔ (قرطبی)

اور کافر جب جہنم کے کنارے پر لائے جائیں گے تو چیخیں گے:
﴿وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ﴾ (الأنعام: 27)
ترجمہ: کاش تو دیکھتا جب وہ آگ پر کھڑے کیے جائیں گے تو کہیں گے: کاش ہمیں واپس لوٹا دیا جاتا اور ہم اپنے رب کی آیات کو نہ جھٹلاتے اور مومن بن جاتے۔
تشریح: کافر بار بار یہ آرزو کریں گے کہ انہیں دنیا میں بھیجا جائے مگر یہ آرزو کبھی پوری نہ ہوگی۔ (طبری)

یہ تمام "کاش” دراصل اُن لوگوں کی صدائیں ہوں گی جنہوں نے دنیا کو اصل سمجھ لیا اور آخرت کو فراموش کر دیا۔ مگر اُس دن کوئی کاش قبول نہ ہوگی۔ قرآن یہ تصویریں ہمارے سامنے اسی لیے رکھتا ہے کہ ہم آج ہی سنبھل جائیں۔

پس آئیے! آج ہی توبہ کریں، دلوں کو ایمان سے منور کریں، اپنے اعمال کو درست کریں اور اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کا راستہ اپنائیں تاکہ قیامت کے دن ہمیں کسی قسم کی حسرت نہ ہو۔

اے اللہ! ہمیں ان تمام حسرتوں سے محفوظ رکھ۔ اے اللہ! ہمیں ایمان پر موت دے، خاتمہ بالخیر فرما۔ اے اللہ! قیامت کے دن ہمیں کافروں، منافقوں اور مشرکوں کے ساتھ نہ اٹھا، بلکہ ہمیں ان بندوں میں شامل کر جن پر تیرا رحم ہو، جن سے تو راضی ہو، اور جنہیں جنت کی کامیابی نصیب ہو۔ آمین یا رب العالمین۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے