خواتین کسی بھی مہذب معاشرے کا آئینہ ہوتی ہیں، اور جب یہی عکس تضحیک، تحقیر اور تشدد کی دھند میں دھندلا جائے تو یہ پورے سماج کی اخلاقی پسپائی کا اعلان ہوتا ہے۔ سیاست میں خواتین کی شرکت ایک مثبت اور ضروری تبدیلی ہے، جو معاشرے کی متوازن ترقی کی علامت ہے، مگر افسوس صد افسوس کہ اس شمولیت کو اکثر کمزوری جان کر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ عورت کو محض صنفِ نازک نہیں بلکہ ایک بااختیار، باشعور اور باوقار شہری کے طور پر تسلیم کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ جب سیاسی اختلاف ذاتی حملوں میں بدل جائے اور خاتون کسی جماعت کی نمائندہ ہونے کے باوجود تضحیک کا نشانہ بنے، تو یہ لمحہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم تہذیب سے کس قدر دور جا چکے ہیں۔
حال ہی میں علیمہ خان پر انڈہ پھینکنے کا واقعہ محض ایک فرد پر حملہ نہیں، بلکہ ہمارے سیاسی و معاشرتی رویوں کا آئینہ دار ہے۔ یہ صرف ایک وقتی جذباتی ردِعمل نہیں بلکہ ایک سنگین اجتماعی مسئلہ ہے، جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہم بحیثیت قوم عدم برداشت، بدتہذیبی اور اخلاقی زوال کی گہری کھائی میں اتر چکے ہیں۔ کسی خاتون کو محض سیاسی وابستگی کی بنیاد پر عوامی سطح پر تضحیک کا نشانہ بنانا نہایت افسوسناک امر ہے اور ہماری تہذیبی بنیادوں پر شدید ضرب کی مانند ہے۔ جب اختلافِ رائے ذاتی دشمنی کا روپ دھار لے، تو یہ جمہوریت نہیں بلکہ بدنظمی کا دروازہ کھولتا ہے۔
بدقسمتی سے، سیاست جو کبھی مکالمے، دلیل اور بصیرت کی بنیاد پر پروان چڑھتی تھی، اب نفرت، تحقیر اور اشتعال انگیزی کی زبان اختیار کر چکی ہے۔ سیاسی جلسے اصلاحِ احوال کا ذریعہ ہونے کے بجائے کردارکشی، ذاتی حملوں اور جذباتی ہیجان کا مرکز بن چکے ہیں۔ اختلافِ رائے کو مٹا کر ذاتیات پر حملہ کرنا اب سیاسی برتری کی علامت سمجھا جانے لگا ہے۔ انڈے، سیاہی اور جوتے پھینکنا اب محض احتجاجی اظہار نہیں رہے، بلکہ تضحیک کے سوچی سمجھی چالوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ جب نوجوان ایسی فضا میں تربیت پائیں گے، تو ان کے لیے سیاسی شعور کے بجائے جارحانہ رویہ ہی اظہار کا مؤثر ذریعہ بنے گا۔
تشویش کی بات یہ ہے کہ یہ زہریلا مزاج صرف مخالفین تک محدود نہیں رہتا بلکہ جلد یا بدیر اپنی صفوں کو بھی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کا دہرا معیار اس بحران کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ جب اپنی قیادت پر تنقید ہو تو سخت ردعمل اور مذمت سامنے آتی ہے، مگر دوسروں کی خواتین کو نشانہ بنائے جانے پر خاموشی یا طنزیہ رویہ اختیار کیا جاتا ہے؟ یہی طرزِ عمل اس اخلاقی زوال کی جڑ ہے۔ اصول وہی مستند ہوتے ہیں جو سب پر یکساں طور پر لاگو کیے جائیں۔ اگر ہم واقعی شائستہ سیاست کے خواہاں ہیں تو ہمیں اصولوں پر غیر مشروطی عملدرآمد کو یقینی بنانا ہوگا، ورنہ یہی دوغلا پن سیاست کے دامن پر بدنما دھبہ بن کر چپک جائے گا۔
عورت کو ہمیشہ کسی مرد کی شناخت سے جوڑ کر، پھر اسی نسبت پر تذلیل کا نشانہ بنانا پدرشاہی نظام کا سب سے تاریک پہلو ہے۔ سیاست میں خواتین کی شمولیت قابلِ تحسین ہے، مگر جب اُنہیں صرف بہن، بیٹی یا بیوی جیسے رشتوں کے دائرے میں مقید کر کے ان کی تضحیک کی جائے، تو یہ نہ صرف اُن کے لیے حوصلہ شکن ہے بلکہ آئندہ نسل کی سیاسی نشوونما کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ کسی بھی سیاسی جماعت کی خاتون رہنما، چاہے وہ علیمہ خان ہوں، مریم نواز، آصفہ بھٹو یا حنا ربانی کھر، سب کو برابری کی سطح پر عزت، تحفظ اور وقار فراہم کیا جانا چاہیے۔
سوشل میڈیا نے اس زہر کو مزید وسعت دی ہے۔ ایک جانب بدتمیزی کو مزاح کے پردے میں پیش کیا جاتا ہے، تو دوسری طرف تضحیک آمیز ویڈیوز کو وائرل کر کے اس انحطاط کو معمول کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ جب لاکھوں لوگ ان مناظر کو شیئر اور پسند کرتے ہیں تو درحقیقت وہ اسی زہریلے رویے کو جواز فراہم کرتے ہیں۔ نوجوان اس ماحول میں یہ سبق سیکھ رہے ہیں کہ دلیل سے زیادہ طاقت، اور شائستگی کے مقابلے میں طنز زیادہ مؤثر ہے۔ یہ طرزِ فکر معاشرے کے فکری قحط کا مظہر ہے، جس کا خمیازہ آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑے گا۔
یہ تمام رجحانات قیادت کے طرزِ گفتگو، زبان اور رویے کا عکس ہیں۔ جب رہنما خود مخالفین پر طعنے کَسیں، خواتین کو ہدفِ تنقید بنائیں، اور اختلاف کو دشمنی میں بدل دیں، تو پھر کارکنوں سے مہذب برتاؤ کی امید رکھنا بے معنی ہو جاتا ہے۔ قیادت وہ مشعل ہوتی ہے جو اندھیروں میں روشنی دکھاتی ہے، مگر جب وہی مشعل نفرت کی آگ بھڑکانے لگے، تو پھر گھر جلنے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ اگر قیادت نے سنجیدگی نہ دکھائی اور اخلاقی تربیت کو نظرانداز کیا، تو اس کا نقصان صرف سیاست کو نہیں بلکہ پورے سماج کو بھگتنا پڑے گا۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاست کو دوبارہ وقار، برداشت اور استدلال کی راہ پر گامزن کیا جائے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اختلاف دشمنی نہیں ہوتا، اور کسی کی رائے سے اختلاف کا مطلب اس کی تذلیل ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ جب معاشرتی رویے قانون سے بالا تر ہو جائیں، اور تضحیک کو جرم کے بجائے تماشا تصور کیا جائے، تو نہ صرف ریاست کی رٹ متاثر ہوتی ہے بلکہ سماجی اخلاقیات بھی زمین بوس ہونے لگتی ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ ایسے واقعات پر فوری اور غیر جانبدار کارروائی عمل میں لائیں، تاکہ یہ پیغام واضح ہو کہ خاتون کسی بھی جماعت یا نظریے سے وابستہ ہو، اس کی تضحیک ناقابلِ برداشت ہے۔
تمام سیاسی کارکنوں کو یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ ہم صرف جماعتوں کے وفادار نہیں بلکہ اصولوں کے پاسدار ہونے چاہییں۔ اگر آج ہم خاموش رہے، تو کل یہی زہر ہماری دہلیز پر آ پہنچے گا۔ سیاست کو ایک بار پھر انسانی وقار، معاشرتی شعور اور استدلال کی روشنی سے منور کرنا ہوگا، ورنہ وہ وقت دور نہیں جب یہ میدان صرف مردوں کا کھیل اور خواتین کے لیے رسوائی کا مقام بن جائے گا۔ اب وہ پہلا قدم اٹھانا ہوگا جو تہذیب، احترام اور سیاسی شعور کی بنیاد رکھے، بصورتِ دیگر یہی خاموشی کل کا سب سے بڑا پچھتاوا ثابت ہوگی۔