یورپ کا ایک خدا پرست فلسفی سورن کیرکگارڈ

(Soren Kierkegaard): ایمان اور اطمینان کے تناظر میں آپ کا مطالعہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔

مغربی فلسفیوں میں اپنے ایمان و یقین، احساس و ادراک، رقت و نرمی، اخلاق و کردار، اضطراب و بے چینی جبکہ فلسفے میں مذہبی فکر (مذہبی وجودیت کی بانی ہونے) کی وجہ سے ڈنمارک کے سورن کیرکگارڈ (پیدائش 1813- وفات 1855) مجھے بے حد عزیز ہیں۔ آپ نے اپنی فکر سے فلسفے کا رخ خدا کی طرف موڑنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ ان کے خیال میں زندگی کا سفر تین واضح مراحل سے گزرتا ہے اور وہ مراحل مندرجہ ذیل ہیں

پہلا مرحلہ ۔ ۔ ۔ انسان کا جمالیاتی زندگی
دوسرا مرحلہ ۔ ۔ ۔ انسان کی اخلاقیاتی زندگی
تیسرا مرحلہ ۔ ۔ ۔ انسان کی مذہبی زندگی

سورن کیرکگارڈ کے مطابق ہم میں سے بعض لوگ تو انسانی حیات کے پہلے مرحلے سے گزر کر دوسرے مرحلے میں پہنچ جاتے ہیں مگر عموماً ہوتا یہ ہے کہ ہم میں اکثر لوگ دوسرے مرحلے میں داخل ہی نہیں ہو پاتے اور پہلے مرحلے میں ہی اپنی عمر عزیز ختم کر دیتے ہیں۔ کیرکگارڈ بسا اوقات دوسرے اور تیسرے مراحل کو باہم مدغم کر دیتا ہے اور اس کو اخلاقیاتی اور مذہبیاتی زندگی کے نام سے تعبیر کرتے ہیں تاہم کیرکگارڈ کے نزدیک انسانی فکر و حیات کا تیسرا مرحلہ جیسے وہ مذہبیاتی زندگی کہتا ہے ان تینوں مراحل فکر و حیات میں سے اعلی ترین طرزِ حیات ہے۔ انسانی فکر و حیات کے ان تینوں رویوں میں، مذہبیاتی زندگی، نجات کی جستجو کی انسانی کوششوں کی عکاسی نظر آتی ہے۔ ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ "یہ ایک ایسی مستحسن کوشش یا طرزِ عمل ہے جس کے دوران انسان زندگی کے اعلیٰ ترین خیر، بلند ترین مقصد اور کامل ترین آسودگی کے حصول سے بہرہ مند ہوتا ہے”۔

سورن کیرکگارڈ 19 ویں صدی کے ڈنمارک کے فلسفی، ماہر الہیات اور مصنف ہیں جو وجودیت اور جدید فلسفے کے دائروں میں ایک گہری بااثر شخصیت کے طور پر مانے جاتے ہیں۔ سورن کیرکگارڈ 5 مئی 1813 کو کوپن ہیگن، ڈنمارک میں پیدا ہوئے، ان کی زندگی کے حالات اور شخصیت نے ان کے فلسفیانہ فکر اور عمومی خیالات کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہیں۔ سورن کیرکگارڈ رقت و حساسیت، غور و فکر، شرافت و نفاست اور اعلی انسانی شرف و فضیلت پر گہرے یقین رکھنے والے انسان تھے۔

سورن کیرکگارڈ کی شخصیت ایک شدید اندرونی جدوجہد، سچائی اور صداقت کی مسلسل جستجو کے حوالے سے نمایاں تھی۔ وہ ایک گہرا خود شناس اور حساس فرد تھا، وہ انسانی زندگی کی گونا گوں پیچیدگیوں کے سبب اداسی کا شکار اور خود شناسی کی دولت سے مالا مال فرد تھا۔ ان کی تحریریں اکثر عقیدے، محبت، احساس فرض اور انسانی وجود میں موجود پیچیدگیوں پر سوچنے سمیت ان کی ذاتی زندگی میں پیش آنے والے پریشان کن حال احوال کی مظہر ہوتی تھیں۔ انسان کی خود شناس فطرت پر روشنی ان کے فکری کام "اضطراب کا تصور” میں دیکھی جا سکتی ہے، جہاں وہ انسانی زندگی کے ایک بنیادی پہلو کے طور پر اضطراب کو باقاعدہ زیر بحث لاتا ہے۔

سورن کیرکگارڈ کی ابتدائی زندگی الم ناک اور طرح طرح کی مشکلات سے دو چار تھی۔ انہوں نے چھوٹی سی عمر میں ہی اپنی ماں کو کھو دیا تھا، اس واقعے کا ان کی زندگی پر گہرا اثر پڑا۔ اس کے علاؤہ ان کے سخت طبیعت کے مالک اور جذباتی طور پر شدید برہم مزاج اور اپنے آپ میں مگن والد صاحب نے بھی زندگی کے بارے میں ان کے نقطہ نظر کو اچھا خاصا متاثر کر دیا تھا، جس نے انفرادی موضوعیت اور دنیا کو سمجھنے سمجھانے میں ذاتی تجربے کی اہمیت پر زور دیا تھا۔ ان کے والد نے ایک بار گھریلو ملازمہ سے سخت بد سلوکی کی، اس واقعے پر وہ زندگی بھر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے رہے، اور کھل کر بتاتے تھے کہ ہمارے خاندان میں بے شمار مشکلات اور پریشانیوں کا سبب وہی واقعہ ہے۔

سورن کیرکگارڈ اپنی جوانی میں اس وقت کے مروجہ ہیگلی فلسفے سے کافی متاثر تھا تاہم، بعد میں اس نے "ہیجیلین ازم” کے بہت سے پہلوؤں کو مسترد کر دیا، خاص طور پر اس کا آفاقی سچائیوں پر زور اور ایک ہمہ گیر نظام کے خیال کو۔ اس کے بجائے سورن کیرکگارڈ نے مقصدیت اور سچائی کے حقیقی ماخذ کے طور پر انفرادی وجود اور فرد کے موضوعی تجربے کی اہمیت پر زور دیا۔

سورن کیرکیگارڈ کی فلسفیانہ فکر اپنے وقت کے قائم کردہ مذہبی اور فلسفیانہ اصولوں پر پرجوش تنقید کی خصوصیت رکھتی تھی۔ اس نے اپنے دور کے روایتی عیسائی الہیات کو چیلنج کیا، یہ دلیل دی کہ حقیقی عقیدے کو محض مذہبی عقیدہ پر عمل کرنے کی بجائے "ایمان کی چھلانگ” اور "خدا کے ساتھ ذاتی وابستگی” کی ضرورت ہے۔ اس خیال کی بہترین مثال ان کی تصنیف "ڈر اور تھرمبنگ” میں ملتی ہے جہاں وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام کی کہانیوں کو انہوں نے ایمان کی جدوجہد کے سلسلے میں مثالی حیثیت کے طور پر تسلیم کیا ہیں۔

سورن کیرکگارڈ کے مرکزی فلسفیانہ خیالات میں سے ایک "عقیدے کی چھلانگ” کا تصور تھا۔ اس نے دلیل دی کہ سچے ایمان کے لیے عقلی سمجھ بوجھ اور معروضی ثبوت سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ یہ چھلانگ غیر معقول عقائد کی اندھی قبولیت نہیں بلکہ وجود کی غیر یقینی صورتحال اور تضادات کے ساتھ ایک پرجوش اور پُرعزم وابستگی تھی۔ سورن کیرکگارڈ کے لیے ایمان، محض یقین برائے یقین کا معاملہ نہیں تھا بلکہ شک اور ابہام کے مراحل سے گزر کر پرجوش عزم پانے کا سوال تھا۔

سورن کیرکگارڈ کی فکر میں ایک اور اہم تصور "وجود کا خوف” یا "آزادی کا خوف” ہے۔ اس نے انسانی وجود کو آزادی کے بوجھ اور بامعنی انتخاب کرنے کی ذمہ داری کی وجہ سے اضطراب اور خوف سے بھرا ہوا پایا۔ اس خیال کی گہرائی ان کے کام "اضطراب کا تصور” میں تلاش کیا جا سکتا ہے جہاں وہ انسانی وجود کی پیچیدگیوں، خود فریبیوں اور کام چوریوں جیسے انسانی عوارض کا جائزہ لیتے ہیں۔

سورن کیرکگارڈ کے نظریات نے بعد میں آنے والی فلسفیانہ اور مذہبی فکر پر نمایاں اثر ڈالا۔ ذاتی تجربے اور انفرادی وجود کی اہمیت پر ان کے زور نے وجودی تحریک کی بنیاد رکھی، جو بیسویں صدی میں ابھری ہے۔ وجودیت میں، فرد کی آزادی، ذمہ داری اور مستند وجود پر توجہ، سورن کیرکگارڈ جن کے علمبردار تھے، اس فکر اور خیالات کے لیے آج کی دنیا ان کا بڑا ممنون احسان ہے۔

سورن کیرکگارڈ کی فلسفیانہ خدمات کے علاوہ، ان کا طرز تحریر منفرد اور اختراعی تھا۔ انہوں نے اکثر اختصار کا طریقہ استعمال کیا اور چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں اور بے ساختگی کے انداز میں لکھا کرتے تھے اور اپنے قارئین کو تشریح اور غور و خوض کے عمل میں مشغول ہونے کی دعوت دیتے تھے۔ یہ ادبی نقطہ نظر، جسے "بالواسطہ ابلاغ” کہا جاتا ہے، کا مقصد قارئین کو چیلنج کرنا تھا کہ وہ اپنے مفروضوں اور تعصبات کا مقابلہ عقل اور ایمان سے کریں اور مختلف فلسفیانہ تحقیقات میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔

سورن کیرکگارڈ کا فلسفہ محض ذہنی ورزش نہیں بلکہ ایک زندہ اور پائندہ وجودی سفر ہے، جس کی جڑیں ان کی اپنی ذات کی گہرائیوں میں پیوست ہیں۔ انہوں نے محسوس کیا کہ جدید انسان، جمالیاتی مرحلے کی سطحی مسرتوں اور عیاشیوں میں ہی گم ہو کر رہ گیا ہے، جبکہ حقیقی معنی اور سکون کا حصول اخلاقی ضابطے کو اپنانے اور پھر اس سے بھی آگے بڑھ کر مذہبی مرحلے میں داخل ہونے میں پوشیدہ ہے۔ یہ سفر ایک ایسی چڑھائی ہے جہاں انسان اپنی نفسانی خواہشات کی زنجیریں توڑ کر اپنے آپ کو ایک اعلیٰ اخلاقی ضمیر اور پھر خدا کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والا بندہ مومن بناتا ہے۔ سورن کیرکگارڈ کے ہاں یہ ترقی محض عقلی ارتقا نہیں بلکہ ایک پرجوش اور درد ناک داخلی کشمکش کا نتیجہ ہے۔

سورن کیرکگارڈ کے فلسفے کی ریڑھ کی ہڈی "ایمان کی چھلانگ” کا وہ انقلابی تصور ہے جو عقل و استدلال کی محدود دنیا سے ماورا ہو کر ایک ایسی غیر معقولی دنیا میں داخل ہو جانے کا نام ہے، جہاں یقین کی بنیاد براہ راست خدا کے ساتھ ذاتی تعلق پر ہوتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سورن کیرکگارڈ روایتی عیسائی مذہبیت سے بھی آگے نکل جاتے ہیں۔ وہ رسمی عبادت اور اجتماعی مذہبی رسومات کے سخت ناقد تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ حقیقی ایمان ایک ایسی ذاتی جدوجہد ہے جس میں فرد تنہائی، شک اور اضطراب کے گہرے غاروں سے گزر کر ہی کسی ایسی یقینی حالت تک پہنچ پاتا ہے، جس کا اظہار الفاظ میں ممکن نہیں (اسلامی نقطہ نظر سے یہ خیال قابلِ قبول نہیں)۔ یہی اضطراب درحقیقت انسان کی آزادی اور اس کے لامحدود امکانوں کا ثبوت ہے۔

سورن کیرکگارڈ کے اس خیال سے مجھے کامل اتفاق ہے کہ ہر انسان کی فطرت میں خیر اور خدا کی تلاش کی جستجو رکھ دی گئی ہے۔ سورن کیرکگارڈ کا پورا فلسفہ اسی فطری تلاش کی کھوج ہے۔ وہ انسان کو اس کی اس گمشدہ میراث سے روشناس کرواتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ زندگی کو حل کرنے کے لیے ایک مسئلہ سمجھنے کے بجائے، اسے ایک تجربہ اور اپنے خالق سے ملاقات کا ذریعہ سمجھنا چاہیے۔ ان کی تحریریں قاری کو مجبور کرتی ہیں کہ وہ اپنی زندگی کے ہر فیصلے، ہر عمل کو اسی وجودی اور مذہبی عینک سے دیکھے اور اپنے ایمان کو ایک زندہ، متحرک اور ذاتی حقیقت میں تبدیل کر دے، نہ کہ اس کو محض وراثت میں ملے ہوئے چند رسمی عقائد اور عبادات کا مجموعہ سمجھے۔

سورن کیرکگارڈ کی شخصیت، زندگی کے حالات اور فلسفیانہ فکر باہم گہرے طور پر جڑی ہوئی چیزیں ہیں۔ ذاتی جدوجہد اور تجربات سے تشکیل پانے والے اس کی خود شناسی کے تصور اور پرجوش فطرت نے انہیں اپنے وقت کے مروجہ فلسفیانہ اور مذہبی لوگوں کے رویوں کو چیلنج کرنے پر مجبور کیا تھا۔ انفرادی وجود، موضوعی تجربے، اور "عقیدے کی چھلانگ” پر ان کے بے حد زور نے باقاعدہ وجودیت کی بنیاد رکھی اور جدید فلسفے پر دیرپا اثر چھوڑا۔ سورن کیرکگارڈ کے منفرد ادبی انداز نے ان کے کام کی گہرائی اور گیرائی کو مزید بڑھایا تھا، جس سے وہ فلسفیانہ فکر کی تاریخ میں واقعی ایک قابل ذکر، منفرد اور بااثر شخصیت بن گئے ہیں۔

میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اے کاش! سورن کیرکگارڈ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ کے زمانے، فکر اور قربت کو پاتے تو ان کا "اضطراب”، یقینی طور پر اطمینان میں بدلتا مزید برآں خدا پر ایمان کے لیے انہیں "چھلانگ” لگانے کے بجائے ایک روشن اور ہموار راستہ میسر آتا اور وہ مذہبی لوگوں سے شاکی رہنے کے بجائے مانوسیت کے رشتے میں منسلک ہوتے لیکن ہم قدرت کی گہری حکمتوں اور دیرپا مصلحتوں سے کلی طور پر قطعاً آگاہ نہیں۔ کون، کب، کہاں اور کیسے حالات میں پیدا ہوتا ہے؟ اور کن کن خیالات، احوال، تجربات اور اعمال کے ساتھ اس دنیا سے چلا جاتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ سبجیکٹ اللہ تعالیٰ کو زیبا ہے، ہم زیادہ سے زیادہ بس ایک خواہش ہی کر سکتے ہیں اور بس۔

آئیے آخر میں سورن کیرکگارڈ کے چند مشہور اقوال ملاحظہ کرتے ہیں جن سے ان کی فکر و نظر پر خاطر خواہ روشنی پڑتی ہے۔

01 "زندگی کتنی ہی مشکل یا پسماندہ کیوں نہ ہو اسے جینے کا حوصلہ بندے میں بہر صورت قائم رہنا چاہیے۔”

02 "پریشانی، آزادی کی بنیاد ہے۔”

03 "نماز کا کام خدا کو متاثر کرنا نہیں، بلکہ نماز پڑھنے والے کی فطرت کو بہتر طور پر بدلنا ہے۔” (یہ قول اسلامی روح سے بے حد قریب ہے)

04 "مایوسی اتنی نہیں بڑھنی چاہیے کہ بندہ اپنی تشخص کھو بیٹھے۔”

05 "انسان کے لیے دل کی پاکیزگی فطرت کی مرضی ہے۔”

06 "ایمان انسان کا سب سے بڑا جذبہ اور خوبی ہے۔”

07 "ایک بار جب آپ مجھ پر کوئی لیبل لگاتے ہیں تو آپ میری نفی کرتے ہیں۔”

08 "لوگ مجھے اس قدر برا سمجھتے ہیں کہ وہ مجھے اس بات کی وضاحت کا موقع تک نہیں دیتے کہ وہ انہوں نے مجھے درست نہیں سمجھا۔”

09 "زندگی ایک مسئلہ نہیں ہے جسے حل کیا جائے، بلکہ یہ ایک حقیقت ہے جس کا تجربہ کیا جانا چاہیے۔”

10 "پل بھر میں ہنستا ہوں اور پل بھر میں روتا ہوں”۔

مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ ہر انسانی دل اور روح میں اللہ نے ایمان کا جوہر شامل کیا ہے یا پھر رمق۔ اور یہ حقیقت انسان کو خدا اور خیر سے کبھی بھی ٹوٹلی بے نیاز نہیں ہونے دیتی۔ انسان غفلت کر سکتا ہے، مستی میں جا سکتا ہے، ظلم کا ارتکاب کر سکتا ہے، سچائی کے راستے سے بھٹک سکتا ہے لیکن اپنے دل اور روح سے خدا اور خیر کی طلب مٹا نہیں سکتا اس لیے اس بات کا امکان زندگی کے آخری لمحے تک باقی رہتا ہے کہ بندہ کہیں نہ کہیں یا کبھی نہ کبھی خدا اور خیر سے جڑ جائے اور یوں زندگی کا مقصد پا جائے۔ یاد رکھیں، سورن کیرکگارڈ کی تحریریں اکثر مذہبی وجودیت، ایمان و یقین اور انفرادی تشخص اور پاکیزگی کے موضوعات سے متعلق ہوتی ہیں۔ مندرجہ بالا اقوال سے ان کی فلسفیانہ فکر و نظر کی ایک جھلک ضرور نمایاں ہوتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے