کل ایک ویڈیو نظر سے گزری جس نے افسوس اور دکھ میں ڈال دیا۔ اس ویڈیو میں گلوکار چاہت فتح علی خان کے سر پر ایک انڈا پھوڑا گیا۔ سوال یہ ہے کہ یہ منظر کسی مذاق کا حصہ تھا یا ایک مسکین انسان کی تذلیل؟ یہ کس قسم کے جذبات کا اظہار تھا اور کون سی وحشیانہ تسکین تھی جو اس عمل سے حاصل کی گئی؟ ایک بات طے ہے: یہ انسانیت ہرگز نہیں تھی۔
بھلے آپ کو اس کا گانا پسند نہ ہو، بھلے وہ سریلی آواز کا مالک نہ ہو، بھلے اسے موسیقی کی باریکیوں کا ادراک نہ ہو—لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ مشہور ہے۔ اللہ نے اسے شہرت دی ہے، اور یہ وقت اللہ ہی لے کر آتا ہے۔ کسی انسان کے اختیار میں نہیں کہ وہ کسی کو عروج یا زوال دے۔ لیکن جو لوگ اس کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں، وہ دراصل حقوق العباد کے زمرے میں اپنے اعمال نامے کو گناہوں سے بوجھل کر رہے ہیں۔
چاہت فتح علی خان ایک بے ضرر آدمی ہے۔ نہ کسی کو نقصان پہنچاتا ہے، نہ کسی کے خلاف سازش کرتا ہے۔ اپنی سادہ طبیعت اور انوکھی آواز کے باعث وہ پہچانا جاتا ہے۔ لیکن یہی پہچان اور شہرت کچھ لوگوں کو کھٹکتی ہے۔ حسد اور جاہلانا سوچ ان کے دلوں میں آگ لگاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ اسے اسٹیج پر بٹھا کر، اینکر کا لبادہ اوڑھ کر، اس کی عزت اچھالتے ہیں اور تماشائیوں کی تالیاں بجوا کر اپنی انا کی تسکین کرتے ہیں۔
یہ کیسا معاشرہ ہے جس میں معصومیت مذاق بن جاتی ہے؟ یہ کیسی قوم ہے جس میں کسی کی عزت نفس کا خون کھیل سمجھا جاتا ہے؟ یوں لگتا ہے جیسے ماں باپ نے ان لوگوں کو پیدا کر کے گلی کوچوں اور نالیوں کے حوالے کر دیا ہو۔ نہ تمیز سکھائی، نہ تہذیب، نہ اخلاق۔ تربیت کا شائبہ تک نہیں۔
ایک شخص جس کے پاس نہ دولت کی نمائش ہے، نہ طاقت کا زعم، نہ کسی کو نقصان پہنچانے کا اختیار—وہ اگر اپنی آواز سے خوشی بانٹ رہا ہے تو یہ کسی پر بوجھ کیوں ہے؟ اس کی محنت اور سادہ دل مسکراہٹ کا صلہ تمسخر کیوں ہے؟ کیا ہم واقعی اس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ کسی کو نیچا دکھا کر ہی خوشی محسوس ہوتی ہے؟
چاہت فتح علی خان جیسے لوگ ہمارے سماج کا آئینہ ہیں۔ وہ ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ مقبولیت دولت یا طاقت کی محتاج نہیں ہوتی، بلکہ دلوں کی گہرائی سے نکلنے والے جذبے کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔ لیکن افسوس، ہمارے اندر وہ ظرف نہیں جو ایسے انسان کی عزت کو قائم رکھ سکے۔
یہ معاشرہ جب تک دوسروں کو گرانے میں خوشی ڈھونڈتا رہے گا، اپنی پستی سے کبھی نہیں نکل پائے گا۔