سیلاب کی تباہ کاریاں، پاکستان کا نیا بحران اور این جی اوز کے رجسٹریشن مسائل

پاکستان اس وقت ایک بار پھر قدرتی آفات کی لپیٹ میں ہے۔ حالیہ سیلاب نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، خاص کر جنوبی پنجاب جہاں ہزاروں دیہات زیر آب آ چکے ہیں اورکئی ملین افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد میں بزرگ خواتین، معصوم بچے، اور مریض شامل ہیں، جو بنیادی سہولیات سے محروم ہو کر اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ تباہی نہ صرف گھروں اور فصلوں کو تباہ کر رہی ہے بلکہ معاشی و معاشرتی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔

2005 کا زلزلہ ہو ا ، جب پاکستان نے اپنی تاریخ کا سب سے بڑا انسانی المیہ دیکھا یا بعد ازاں آنے والے سیلاب، اس وقت بہت سی بڑی اور سینکڑوں چھوٹی این جی اوز (ٹرسٹ اور فاؤنڈیشنز) میدان میں اتریں۔ انہوں نے دن رات ایک کر کے متاثرین کی مدد کی؛غذا، پناہ، اور طبی سہولیات فراہم کیں۔ ان این جی اوز کی فنڈنگ کا ایک بڑا حصہ مقامی امداد کے علاوہ اوور سیز پاکستانیوں کے تعاون اور عالمی اداروں سے آیا، جنہوں نے زلزلہ کے بعد ترقیاتی منصوبوں، جیسے عارضی ہسپتالوں اور سکولز وغیرہ، کی بنیاد رکھی۔

عوام کو روٹی ، کپڑا ، مکان مہیا کرنا اور ان کی فلاح وبہبود کے علاوہ کسی بھی آفت کے وران ان کی حفاظت کرنا دراصل ریاست و حکومت کا فرض ہوتا ہے۔سرمایہ دارانہ ریاست اس کام کو محتلف وجوہات کے سبب ایک محدود پیمانے پر کرنے کے بعد این جی اوز کے سپرد کر دیتی ہے۔این جی اوز چونکہ ریاست کا کام اپنے ذمہ لیتی ہیں ، اسی لیے این جی اوز کو مختلف سہولیات دینے کے علاوہ انہیں ٹیکس چھوٹ بھی دی جاتی ہے۔جس کے بدلے این جی اوز مشکل وقت میں حکومت کا کام سنبھال لیتی ہیں۔یہی سب کچھ 2020 تک پاکستانی این جی اوز کی صورت میں بھی دیکھنے کو ملا۔

لیکن آج صورتحال بدل چکی ہے۔ این جی اوز صرف گنی چنی ہی نظر آ رہی ہیں، جبکہ سینکڑوں لوگ ذاتی حیثیت میں اپنے ذاتی اکاؤنٹس میں چندے جمع کر کے کام کر رہے ہیں۔

اس سب کی محتلف وجوہات ہیں۔ پچھلے چند برسوں میں این جی اوز پر پابندیاں لگائی گئیں، 2020 میں ایک نیا موڑ آیا جب اسلام آباد اور تمام صوبوں میں ٹرسٹ ایکٹ 2020کے تحت این جی اوز کو بیک جنبش قلم ختم کر دیا گیا۔ انہیں چھ ماہ کے اندر دوبارہ رجسٹریشن کرانے کا حکم دیا گیا، لیکن اس کے ساتھ ہی بیرونی امداد، چاہے وہ اوور سیز پاکستانیوں سے ہو یا عالمی اداروں سے، کو ایف بی آر اور اکنامک افئیرز ڈویزن کی اجازت سے مشروط کر دیا گیا۔

اس سے پہلے، این جی اوز سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860 یا ٹرسٹ ایکٹ 1882 کے تحت آسانی سے رجسٹر ہوتی تھیں؛ ایک سادہ ٹرسٹ ڈیڈ بنانے اور رجسٹرار کے پاس پیش ہو کر رجسٹریشن ہو جاتی تھا۔ لیکن ٹرسٹ ایکٹ 2020 نے اس عمل کو ناممکن بنا دیا۔ آف دی ریکارڈ معلومات کے مطابق، ٹرسٹ ایکٹ کے تحت رجسٹریشن (کی منظوری) اب نیکٹا کے پاس ہے، جہاں مکمل پابندی عائد ہے، اور میری معلومات کے مطابق (جو غلط بھی ہو سکتی ہے) اب تک اس ایکٹ کے تحت کوئی بھی ٹرسٹ رجسٹر نہیں ہو سکا۔

اسی دوران 2018 سے 2021 کے درمیان پنجاب، دیگر صوبوں، اور اسلام آباد میں چیریٹیز رجسٹریشن ریگولیشن اینڈ فیسیلیٹیشن ایکٹ متعارف ہوا۔ جب ٹرسٹ ایکٹ میں ناکامی ہوئی، تو ہم نے اپنے کلائنٹس کے اداروں کی اس ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کروائی، جو کامیاب رہی۔

اسی طرح کمپنیز ایکٹ 2017 کے سیکشن 42 کے تحت سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) بھی رجسٹریشن کر رہی ہے۔ لیکن اب ایک ہی وقت میں تین قوانین، ٹرسٹ ایکٹ 2020، چیریٹیز ایکٹ، اور کمپنیز ایکٹ، موجود ہیں، جو خود میں عجیب صورتحال ہے۔ ٹرسٹ ایکٹ کے تحت رجسٹریشن معطل ہے، جبکہ دیگر دونوں قوانین پیچیدہ، مہنگے، اور لمبے عمل سے عبارت ہیں۔جس سبب آج دسیوں این جی اوز(ٹرسٹ اور فاؤنڈیشنز) کی رجسٹریشن فائلز ان اداروں کی اپروول کی منتظر ہیں۔

جیسا کہ اوپر لکھا ، این جی اوز چونکہ ریاست کا کام اپنے ذمہ لیتی ہیں ، اسی لیے این جی اوز کو مختلف سہولیات دینے کے علاوہ انہیں ٹیکس چھوٹ بھی دی جاتی ہے، لیکن یہاں چیریٹیز ایکٹ کے تحت (اسلام آباد) میں ایک لاکھ روپے، اور کمپنیز ایکٹ کے تحت ایک لاکھ پچاس ہزار روپے فیس مقرر کی گئی ہے، جو کہ این جی بنانے پر ریاست کی طرف سے سزا دینے کے مترادف ہے۔ اس کے علاوہ، دستاویزات تیار کرنا اور متعلقہ فورم /پورٹل پر جمع کرانا اتنا پچیدہ عمل ہے کہ ماسوائے اس فیلڈ کے ایکسپرٹ وکیل، یہ مکمل نہیں کیا جاسکتا۔جس کے لیے ماہر وکلاء کی خدمات لینا ایک عام فرد یا نئی بننے والی این جی او ، ٹرسٹ یا فاؤنڈیشن کےلیے اضافی اخراجات کا سبب ہے۔ یہ عمل ایک ایسے ادارے کے لیے رکاوٹ بنتا ہے جو ابھی وجود میں بھی نہیں آیا، اور جومحض امداد یا چندوں سے چلنا ہے۔

مزید پیچیدگی یہ ہے کہ ایس ای سی پی کےبہت سے رولز نامعقول اور غیر منطقی ہیں۔ مثال کے طور پر، این جی او کے رجسٹریشن کے لیے ضروری ہے کہ اس کے پروموٹرز میں متعلقہ شعبے کا ماہر ہو۔یعنی اگر کوئی این جی او دس شعبہ جات میں کام کرنا چاہتی ہے تو دس ایکسپرٹس اس کے پرو موٹرز ہونے چاہیں ۔۔۔۔مثلا اگر کوئی شخص میڈیکل فیلڈ کا ماہر نہیں، تو وہ ہسپتال کے لیے این جی او نہیں بنا سکتا۔۔۔! یاد رہے کہ این جی او بنانے اور چلانے میں فرق ہے۔ یقینا ہسپتال چلانے کے لیے متعلقہ فیلڈ کے ایکسپرٹس موجود ہونا ضروری ہے، جنہیں کسی بھی وقت تنخواہ پر ہائیر کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ایک پروموٹر تنخواہ نہیں لے سکتا بھلے ہی اپنے چوبیس گھنٹے این جی او کو دے۔ لہذا ایکسپرٹس کو بغیر تنخواہ کے پروموٹر بنانے کی پابندی نامعقول اور غیر منطقی ہے۔ اگر یہ پابندی پرانے وقتوں میں موجود ہوتی تو عبدالستار ایدھی جیسا پرائمری پاس شخص کبھی ایدھی فاونڈیشن نہ بنا سکتا۔

اسی طرح کوئی بھی بزنس کمپنی یا فرم تو آپ آسانی سے گھر بیٹھے آن لائن رجسٹر کروا سکتے ہیں، لیکن این جی او کے لیے ایس ای سی پی کی آن لائن کوئی آپشن نہیں۔مزید، ڈاکومنٹس فائلنگ کے بعد غیر ضروری اعتراضات، ویریفیکیشن کا لمبا عمل (3 ماہ سے ایک سال)، اور ایف بی آر سے ٹیکس Exemption اور اکنامک افئیر ڈویزن سے این او سی حاصل کرنا ایک اذیت ناک عمل بن گیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ متاثرہ افراد کی مدد کے لیے اب گنی چنی این جی اوز نظر آ رہی ہیں، جبکہ سینکڑوں لوگ ذاتی حیثیت میں اپنے اکاؤنٹس میں چندے جمع کر کے کام کر رہے ہیں۔

یقینا انفرادی حیثیت میں کام کرنے والے بھی قابل تعریف ہیں لیکن قدرتی آفات میں ہر جگہ ہر فرد تک پہنچنا انفرادی طور پر ممکن ہی نہیں ہوتا اور ایک منظم این جی او کا کام کسی فرد کے ذاتی کوششوں سے بہتر اور مؤثر ہوتا ہے۔ اسی طرح، این جی اوز کی امداد کا ریکارڈ رکھنا انفرادی چندوں کے مقابلے میں آسان ہے۔ موجودہ حالات میں، جب سیلاب نے لاکھوں کو تباہ کر دیا، تو این جی اوز کی کمی شدید محسوس ہو رہی ہے۔

پاکستان موسمیاتی تبدیلی کا شکار ہونے والے ممالک میں سرفہرست ہے۔ پچھلے بیس سالوں میں 2005 کے زلزلے کے علادہ پانچ بڑے سیلاب کا شکار ہو چکا ہے۔ جہاں مستقبل قریب میں بھی کوئی بڑی بہتری یا تبدیلی کے آثار نہیں ہیں ۔ یہ بات بھی درست ہو سکتی ہے کہ کچھ این جی اوز نے ماضی میں قوانین کا غلط فائدہ اٹھایا ہو یا غیر قانونی سرگرمیوں میں حصہ لیا ہو، لیکن اس بنیاد پر ایک ایسے پورے سسٹم کو ختم کر دینا جو مشکل وقت میں ریاست ہی کی ذمہ داری اٹھاتا ہے، معقول نہیں!

لہذاحکومت، وزیر اعظم ، آرمی چیف، اور متعلقہ وزیروں سے گزارش ہے کہ فوری طور پر اس طرف توجہ دی جائے۔ این جی اوز کی رجسٹریشن میں رکاوٹیں دور کی جائیں، فیسز ختم کی جائیں، اورعمل کو آسان بنایا جائے، تاکہ موجودہ سیلاب اور مستقبل میں کسی بھی ممکنہ قدرتی آفت کی صورت میں این جی اوز خواہ ٹرست ہوں یا فاؤنڈیشنز ، منظم انداز میں متاثرین تک بروقت امداد پہنچانے میں حکومتی بوجھ اٹھا سکیں۔ ورنہ، یہ سیلاب اور قدرتی آفات نہ صرف گھروں کو بلکہ انسانی ہمدردی کے نظام کو بھی مکمل طور پر تباہ کر دیں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے