خوشی کا راز: موجود کے "خانے” پر نظر مرکوز ہو

دنیا میں سب سے زیادہ خوشی کا احساس موجودگی کا ہے جبکہ بالکل الٹ طور پر تکلیف دہ احساس محرومی کا ہوتا ہے۔ لیکن یاد رکھیں موجودگی کی سطح صرف زمین نہیں بلکہ انسان کا ذہن بھی ہے۔ اندھے کو زمین پر بھی کچھ نظر نہیں آتا جبکہ دانا و بینا کو آسمانوں میں بھی بہت کچھ نظر آتا ہے۔ خوشی کے لیے صرف مادی اسباب کافی نہیں بلکہ اس کے لیے روحانی احساسات بھی ضروری ہیں۔

فراوانی اور محرومی کا معاملہ کچھ قدرتی، کچھ انتظامی اور کچھ اتفاقی ہوتا ہے لیکن ان بڑے پہلوؤں کے درمیان ایک قابلِ لحاظ سطح روحانیت کی بھی ہے۔ انسانوں کے درمیان تقسیم کا عمل قدرتی، انتظامی، اتفاقی اور روحانی عوامل کا ایک تہہ در تہہ باہم جڑا مجموعہ ہے۔

قدرت کا فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے، انتظام کا اختیار انسان کے ہاتھ میں، اتفاقات کے لمحات حالات کے اوپر منحصر جبکہ روحانیت کا موضوع ایمان کے جوہر سے تعلق رکھتا ہے۔

سردست ہمارا زیر غور نکتہ روحانیت کا ہے۔ روحانی تصور میں حالات و واقعات کی پشت پر خدا کے اذن کو یقین کیا جاتا ہے۔ اس عقیدے میں یہ حقیقت تسلیم کیا جاتا ہے کہ انسان کو جو کچھ یا جتنا کچھ ملتا ہے یا جو کچھ نہیں ملتا اس معاملے میں خدا کی منشاء (قدرت کا فیصلہ) کار فرما ہے۔ زیادہ ملے تو صاحب ایمان شکر کرتا ہے اور اس سے کچھ کم ملے تو صبر کرتا ہے اور اس پوری گردش کو نہ صرف اللہ کی رضا سے جوڑتا ہے بلکہ اس پر خود بھی راضی رہتا ہے اور یہ یقین رکھتا ہے کہ مجھے اللہ نے جتنا کچھ دیا وہی میرے لیے مناسب تھا۔

ایمان اطمینان کا باعث ہے۔ صاحب ایمان اپنی ذات کے معاملے کو پوری انسانیت سے جوڑ کر دیکھتا ہے اور پھر خدا کی جانب سے کار فرما حکمت اور مصلحت پر اعتماد کرتا ہے۔ انسان اگر تھوڑا بہت کیمیائی (ایمانی) فرق اپنی سوچ میں لے آئے یعنی وہ اپنی نظر نہ ملنے والے "خانے” سے اٹھا کر ملنے والے "خانے” پر جما دے تو یقین کریں ہر بندہ خود کو لاکھوں نعمتوں میں پائے گا ایسا کہ اس کا دل اپنے رب کے شکر سے جھک جائے گا۔


‎انسانی تاریخ کا ایک بہت بڑا اور شاید سب سے پرانا سوال یہ ہے کہ آخر انسان خوش کیسے رہ سکتا ہے؟ انسان ذہنی، قلبی اور جذباتی لحاظ سے، سب سے زیادہ خوشی کا متلاشی رہتا ہے وہ دکھ اور مسائل بھی خوشی کی امید سے برداشت کر رہا ہے یہ امید نہ ہو تو ایک مشکل یا ایک مسئلے سے بھی وہ بہ اطمینان آگے نہیں بڑھ سکتا۔

جدید نفسیات، مذہبی تعلیمات اور فلسفیانہ مباحث کا مرکز ہمیشہ سے یہی بنیادی سوال رہا ہے۔ ہر انسان اور قوم اپنی اپنی جگہ یہ سوچنے میں مگن ہے کہ زندگی اور سامان زندگی کا منبع کہاں ہے؟ اور اس پوری کائنات کا اصل خالق و مالک کون ہے؟ اس حوالے سے دو بنیادی نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں۔

ایک الہام کا نقطہ نظر ہے اور دوم الحاد کا نقطہ نظر۔ الہام کے عقیدے میں اصل خدا کی ذات (وجود، قدرت، حکمت اور منشاء) ہے اور الحاد کے نظریے میں اتفاقی ذرات (حوادث، واقعات، بے یقینی اور ابہام کے دبیز پردے)۔ الہام کے عقیدے میں یہ حقیقت تسلیم کیا جاتا ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ ایک بہت بڑی قدرت، منصوبہ بندی، انتظام اور حکمت کا نتیجہ ہے یہ تصور انسان کو اطمینان دیتا ہے جبکہ الحاد کے نظریے میں سب کچھ اتفاقی ہوتا ہے، حادثاتی ہوتا ہے، کسی منصوبہ بندی اور حکمت و مصلحت کے بغیر ہوتا ہے۔ یہ سوچ اور اپروچ تشویش اور بے چینی پیدا کرتا ہے۔

ایک صاحب ایمان فرد کی زندگی میں سب سے بڑا مقصد اپنے خالق و مالک کا شکر گزار بندہ بن کر رہنا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں ایک صاحب الحاد فرد سب سے زیادہ اپنی خواہشات کی تکمیل پیش نظر رکھتا ہے اور اس تسلسل میں اپنے جیسے انسانوں کو ہی مدنظر رکھتا ہے اس سے آگے کسی بڑی حقیقت تک اس کا ذہن نہیں جاتا۔ وہ اگر کامیاب ہوا تو اس کا کریڈٹ اپنے آپ کو دے گا لیکن اگر ناکام ہوا تو اس کا الزام ٹوٹلی دوسرے انسانوں پر لگائے گا۔ وہ اگر کچھ پانے لگا تو انسانوں کو اس کا سبب سمجھے گا اور اگر محروم رہا تو بھی انسان اس کے ذمہ دار خیال کریں گے۔

زندگی، مدت زندگی اور سامان زندگی کے درمیان بے شمار خوشیاں، پریشانیاں، دکھ سکھ، کامیابی و ناکامی، ٹھہراؤ اور حوادث نیز اطمینان و تشویش کی ہزاروں لاکھوں شکلوں کو انسان دیکھتا ہے۔ انسان اپنی زندگی میں پیش آنے والے واقعات اور ملنے والے اسباب کے آگے پیچھے بہت ساری چیزیں سوچ رہا ہے اور پرکھ بھی۔ اس مشاہدے میں وہ یا تو خدا تک پہنچتا ہے یا پھر الحاد تک۔ الہام ہو یا الحاد ان سے جڑی افکار انسان کے رویوں پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوتی ہیں۔

‎ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ انسان کی خوشی کا تعلق براہ راست اس کے سوچنے کے انداز سے ہے۔ ڈاکٹر مارٹن سیلگ مین، جو مثبت نفسیات کے بانی ہیں، اپنی تحقیق میں ثابت کرتے ہیں کہ شکرگزاری کی عادت انسان میں خوشی کے جذبات پیدا کرتی ہے۔ جب ہم اپنی توجہ ان چیزوں پر مرکوز کرتے ہیں جو ہمارے پاس ہیں، تو ہمارا دماغ خوشی کے کیمیائی مادے خارج کرتا ہے۔

‎یہ وہی "کیمیائی فرق” ہے جس کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ درحقیقت، جب ہم مثبت سوچ اپناتے ہیں تو ہمارا دماغ ڈوپامائن، سیروٹونن اور اینڈورفنز جیسے خوشی کے کیمیکلز خارج کرتا ہے، جو ہمیں اطمینان اور خوشی کا احساس دیتے ہیں۔

‎تاریخ ایسے افراد کے واقعات سے بھری پڑی ہے جنہوں نے محرومیوں کے باوجود شکرگزاری کو اپنا کر عظیم کام کئے ہیں۔

‎حضرت ایوب علیہ السلام کی داستان ہمارے سامنے ہے جنہوں نے شدید ترین بیماریوں اور مصیبتوں کے باوجود ہر حال میں اپنے رب کا شکر ادا کیا۔ قرآن کریم میں ان کے صبر اور شکر گزاری کو یادگار بنایا گیا ہے۔

‎ہیلن کیلر، جو کہ ایک نابینا، بہری اور گونگی عورت تھیں، نے کہا تھا: "میں نے ہمیشہ اس بات پر توجہ دی کہ میرے پاس کیا ہے، نہ کہ میں نے کیا کھویا ہے۔” انہوں نے اپنی محرومیوں پر رونے کے بجائے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے تاریخ کی عظیم شخصیت بن گئیں۔

‎ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں کے خالق علامہ محمد اقبال نے بھی اپنے کلام میں حال پر راضی رہنے اور مستقبل کی بلندیوں کے خواب دیکھنے کا فلسفہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا تھا:

"خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی،
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا”

‎ادب نے ہمیشہ سے قناعت اور شکرگزاری کے موضوع کو اہمیت دی ہے۔ مولانا رومیؒ فرماتے ہیں: "خدا کا شکر ادا کرو، تمہارے پاس جو کچھ ہے اس پر بھی اور جو کچھ تمہارے پاس نہیں ہے اس پر بھی۔ کیونکہ جو تمہارے پاس نہیں ہے وہ بھی تمہارے لیے بہتر ہے”۔

‎شیکسپیئر نے اپنے ڈرامے کنگ لیئر میں لکھا: "خوشی اس میں نہیں کہ تمہارے پاس کتنا ہے، بلکہ اس میں ہے کہ تم اس کی کس طرح قدر کرتے ہو”۔

‎آج کے دور میں جبکہ ہم سوشل میڈیا کے چکا چوند میں جی رہے ہیں، ہر وقت دوسروں کی کامیابیاں، ان کے مادی اسباب اور ان کی ظاہری خوشیاں ہمارے سامنے ہوتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں ہم میں محرومی کا احساس بڑھتا ہے۔ ہم دوسروں کے پاس موجود "خانے” تواتر سے دیکھتے ہیں اور اپنے گھر اور زندگی میں موجود "خانوں” کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

‎حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم اپنے پاس موجود نعمتوں کو شمار کرنا شروع کریں تو شاید ہماری گنتی ہی کم پڑ جائے۔ زندگی کی نعمت، صحیح سلامت وجود کی نعمت، سانس لینے کی نعمت، بینائی کی نعمت، سماعت کی نعمت، صحت کی نعمت، عافیت کی نعمت، لذت کی نعمت، عقل کی نعمت، عزت کی نعمت، کسی صلاحیت کی نعمت، محبت کی نعمت، اچھے تعلق کی نعمت وغیرہ وغیرہ انہیں بنیادی نعمتوں کا شمار کرنا شروع کریں تو ہمارا دل شکر سے بھر جائے گا۔

‎خوش رہنے کا راز ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہمیں صرف اپنے نقطہ نظر کو بدلنا ہے۔ اپنی توجہ ان چیزوں پر مرکوز کرنی ہے جو ہمارے پاس ہیں، نہ کہ ان پر جو ہمارے پاس نہیں ہیں۔ یہی وہ کیمیائی بلکہ ایمانی فرق ہے جو کہ ہماری سوچ میں تبدیلی لا سکتا ہے۔

‎قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: "اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو انہیں شمار نہیں کر سکتے”۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کریں اور ہر حال میں خوش رہنے کا فن سیکھیں۔ یہی مایوسی اور پریشانی پر فتح پانے کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے