زریاب خان: درد کے نرغے میں روشن امید

یقین، قربانی اور حوصلے کی ایسی داستان شاید ہی کبھی لکھی گئی ہو جس میں درد اتنا گہرا ہو اور امید اتنی روشن۔ یہ تصویر، یہ وقار، اور یہ ہاتھوں میں بلند وکٹری کا نشان یہ کوئی عام بچہ نہیں بلکہ زریاب خان ہے، پشتو ادب کے معروف شاعر، بلند پایہ ڈرامہ نگار اور بے مثال سٹیج ہوسٹ روخان یوسفزئی کا جگر گوشہ۔ محض چند برس کی عمر، مگر دل ایسا جیسے کئی موسموں کا تجربہ سمیٹے ہوئے ہو۔

زریاب خان پچھلے دو برس سے بلڈ کینسر جیسے جان لیوا مرض سے برسرپیکار ہے۔ مگر جو چیز اس بچے کو اور اس کے والد کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے، وہ ان کا ضبط، صبر اور وقار ہے۔ کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا، کبھی ہمت کو شکست نہ ہونے دی، اور ہمیشہ امید کا دامن تھامے رکھا۔ روخان یوسفزئی، جن کا اصل نام دیار خان ہے، پشتو ادب کی ان شخصیات میں سے ہیں جو الفاظ کو صرف لکھتے نہیں بلکہ جیتے ہیں۔ وہ ادب کے ساتھ اپنی زندگی کی نرمی اور سختی کو بھی نبھاتے رہے ہیں، اور آج وہ اپنے بیٹے کی بیماری کو بھی اسی شان سے جھیل رہے ہیں جیسے کوئی سپاہی جنگ میں وقار سے ڈٹا ہوتا ہے۔

زریاب خان کی مسکراہٹ اس کی کمزور ہڈیوں کی شکست سے بڑی ہے۔ اس کی آنکھوں میں وہ چمک ہے جو ہر کسی کو جھنجھوڑتی ہے کہ زندگی کتنی قیمتی ہے۔ وہ صرف ایک بیمار بچہ نہیں، وہ امید کی چلتی پھرتی تصویر ہے۔

اس کے جسم میں بیماری کا زہر پھیل رہا ہے، مگر اس کی روح اتنی شفاف ہے کہ ہر دیکھنے والے کا دل نرم ہو جائے۔ ایک ایسا بچہ جس کے شب و روز دوا، ڈاکٹر، اور درد کی تکلیف دہ گنتیوں میں گزر رہے ہیں، وہ پھر بھی ہر تصویر میں وکٹری کا نشان دکھاتا ہے، جیسے وہ کہنا چاہتا ہو: میں ابھی ہارا نہیں ہوں۔ ایسے میں اس کے والد کی خاموشی، ان کی شرافت، ان کا درد میں لپٹا ہوا فخر بھی انسان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ وہ گھر کا خرچ چلاتے ہیں، اخبار میں لکھتے ہیں، اور ہر پائی جوڑ کر زریاب کے علاج کے لیے صرف کرتے ہیں۔ ان کے لیے یہ صرف ایک بیٹے کی بیماری نہیں بلکہ وقار کی ایک آزمائش ہے جس میں وہ ہر دن سرخرو ہو رہے ہیں۔

بلڈ کینسر، خاص طور پر بچوں میں عام طور پر لیوکیمیا کہلاتا ہے، وہ مرض ہے جو خون کے سفید خلیوں کو اس قدر بڑھا دیتا ہے کہ جسم کا مدافعتی نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔

تھکن، بار بار بخار، چوٹ لگنے پر خون نہ رکنا، وزن میں تیزی سے کمی، ہڈیوں اور جوڑوں کا درد یہ سب اس بیماری کی عام علامات ہیں۔ زریاب خان ان تمام علامات سے گزر رہا ہے۔ یہ صرف ایک طبی کیفیت نہیں بلکہ جسم، دماغ، اور جذبات کی انتہاؤں پر آزمانے والا مرحلہ ہے۔ مگر جدید میڈیکل سائنس میں ایسے علاج موجود ہیں جیسے کیموتھراپی، بون میرو ٹرانسپلانٹ، اور امیونو تھراپی۔ یہ علاج صرف دوا کے انجیکشن نہیں، بلکہ وقت، پیسہ، ماہرین، اور دعاؤں کا ایک مکمل پیکج ہیں۔

اور بدقسمتی سے، یہ سب کچھ آسانی سے میسر نہیں آتا، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جنہوں نے ہمیشہ عزت کو مقدم رکھا ہو۔

روخان یوسفزئی وہ باپ ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کی ہر خوشی، ہر جمع پونجی، اور ہر آسائش کو اپنے بیٹے کی صحت کے لیے قربان کر دیا۔ وہ روزگار کے لیے صبح شام دوڑتے ہیں، لاہور سے پشاور تک کے اسپتالوں کے چکر کاٹتے ہیں، ڈاکٹروں سے علاج کی راہیں تلاش کرتے ہیں، اور خود کو اس طرح مصروف رکھتے ہیں جیسے کوئی مصلح قوم کے لیے کام کر رہا ہو۔ ان کے لیے یہ سب کچھ صرف ایک بیٹے کی بیماری نہیں بلکہ ایک انسان کی عزّت، ایک والد کا مان، اور ایک شاعر کی خاموش دعا ہے۔ جو شخص لفظوں سے لوگوں کو متاثر کرتا رہا ہو، وہ آج خاموشی سے اپنے بچے کی بیماری کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔ نہ کوئی فریاد، نہ کوئی شکوہ بس خاموش قربانی۔

ایسے میں نوے ژوند جیسی ادبی، ثقافتی اور فلاحی تنظیم نے ایک عملی قدم اٹھایا ہے۔ وہ نہ صرف زریاب کی کہانی کو دنیا تک پہنچا رہی ہے بلکہ عملی مدد کی راہیں بھی ہموار کر رہی ہے۔ یہ تنظیم صرف شعر و سخن کی محفلیں نہیں سجاتی، بلکہ اصل انسانیت کی فریاد پر لبیک کہتی ہے۔ نوے ژوند کے زیر اہتمام "امن ایوارڈ” کے چوتھے سالانہ 23/9/2025 پروگرام میں روخان یوسفزئی کی کتاب “سٹیج پر” کو منظر عام پر لایا جا رہا ہے۔ اس کتاب کی قیمت 500 روپے مقرر کی گئی ہے، مگر یہ رقم محض ایک کتاب کی نہیں بلکہ ایک بچے کی صحت، ایک والد کی عزت، اور ایک شاعر کی امید کی قیمت ہے۔

جب آپ یہ کتاب خریدیں گے تو آپ صرف ایک ادب پارہ نہیں، بلکہ ایک زندگی کو نئی صبح دینے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

یہ کتاب صرف نظموں، ڈائیلاگ اور سٹیج کے تجربات کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک باپ کے احساسات، قربانیوں اور بے بسی کے کرب کی سچی داستان ہے۔ وہ لمحے جن میں دوا کے قطرے زندگی کے چراغ بنے، وہ راتیں جب نیند زریاب کے درد کے سامنے شکست کھا گئی، اور وہ دن جب علاج کے اخراجات آسمان چھونے لگے یہ سب اس کتاب کی روح ہیں۔ اگر آپ یہ کتاب اپنے ہاتھ میں لیں، تو آپ صرف ایک قاری نہیں بلکہ اس کہانی کے ساتھی بن جائیں گے۔ یہ کتاب محض کاغذ کا مجموعہ نہیں بلکہ جذبات، دعا، قربانی، اور وقار کا ایک مجسمہ ہے۔

اس اقدام کا مقصد صرف رقم اکٹھا کرنا نہیں بلکہ روخان یوسفزئی جیسے والد کے وقار کی حفاظت بھی ہے۔ وہ والد جس نے کبھی بھی مانگنے کی روش نہیں اپنائی، نہ ہی کسی در پر دستک دی، مگر اپنی محنت کو بیٹے کے علاج کا ذریعہ بنایا۔ جب ایک باپ اپنے بچوں کے لیے اپنی خواہشات کو پیچھے چھوڑ دے، تو وہ صرف باپ نہیں، ایک مجاہد بن جاتا ہے۔ زریاب کے علاج کے لیے مالی معاونت جتنی اہم ہے، اتنی ہی اہم اس خاندان کی عزتِ نفس کی حفاظت بھی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ یہ تحریر صرف ایک اپیل نہیں بلکہ انسانیت کے ضمیر کی صدا ہے۔

نوے ژوند تنظیم کا یہ پروگرام اس بات کی علامت ہے کہ ابھی بھی اس معاشرے میں وہ لوگ موجود ہیں جو صرف الفاظ سے نہیں بلکہ عمل سے محبت کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ کسی بیمار کے لیے دوا خریدنا صرف علاج نہیں، بلکہ اس کے لیے ایک نئی امید بیدار کرنا ہے۔ جب ایک بچہ مسکرا کر زندگی کو گلے لگاتا ہے، تو یہ صرف اس کی جیت نہیں بلکہ پوری انسانیت کی جیت ہوتی ہے۔ امن ایوارڈ پروگرام ایک ایسا موقع ہے جہاں آپ محض تماشائی نہیں، بلکہ شریکِ سفر بن سکتے ہیں۔ آپ چاہیں تو 500 روپے سے زیادہ کی رقم عطیہ کر کے اس سفر کو مزید آسان بنا سکتے ہیں، کیونکہ ہر روپیہ ایک نئے کل کی امید ہے۔

ایزی پیسہ نمبر 03009033233 پر رقم بھیج کر آپ اس سفر کا حصہ بن سکتے ہیں۔ رقم وصول کرنے والے کا نام "دیار خان” ہوگا، جو دراصل روخان یوسفزئی کا اصل نام ہے۔ یہ نہ صرف شفافیت کا ثبوت ہے بلکہ ایک باپ کی ایمان داری کی علامت بھی۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی رقم صحیح ہاتھوں تک پہنچے، تو یہ آپ کی نیت، آپ کی محبت اور آپ کی انسانیت کا مکمل جواب ہے۔ ہر روپیہ، جو آپ بھیجیں گے، دوا بنے گا، علاج بنے گا، زندگی کا چراغ بنے گا۔

ہم سب جانتے ہیں کہ زندگی ہر روز ہمیں آزماتی ہے۔ کبھی ہمیں خود پر یقین رکھنے کا سبق دیتی ہے، تو کبھی دوسروں پر اعتماد کرنے کا۔ زریاب خان کی کہانی ہمارے لیے ایک آئینہ ہے، جس میں ہم اپنی انسانیت کو دیکھ سکتے ہیں۔ اگر ہم نے آج اس معصوم کی مدد کی، تو کل کو ہمارے اپنے زریاب کے لیے بھی کوئی ضرور کھڑا ہو گا۔ یہی فطرت کا نظام ہے، یہی انسانیت کی خوبصورتی ہے۔ آئیں، آج اپنے حصے کی روشنی جلائیں تاکہ کل کو اندھیرا کسی کا مقدر نہ بنے۔

یہ اپیل نہ صرف مالی امداد کی ہے، بلکہ ایک دل سے نکلنے والی صدا ہے کہ آئیں، زندگی کی اس جنگ میں کسی کا ہاتھ تھامیں۔ وہ ہاتھ جو کینسر سے کانپ رہا ہے، مگر ہمت سے تھاما ہوا ہے۔ وہ باپ جو خاموشی سے لڑ رہا ہے، مگر وقار سے جھکا نہیں۔ اور وہ تنظیم جو ادب سے محبت کے رستے خدمت کے سفر پر گامزن ہے، وہ ہم سب سے ایک سادہ مگر عظیم التجا کر رہی ہے آئیں، زریاب خان کی امید بنیں۔

یہ صرف ایک فنکار کے بیٹے کی جنگ نہیں، یہ ہر اُس بچے کی نمائندگی ہے جو زندگی کے ابتدائی برسوں میں ہی آزمائشوں کی صلیب پر چڑھا دیا جاتا ہے۔ یہ تحریر، یہ اپیل، محض ہمدردی کی داستان نہیں بلکہ عملی تعاون کی دعوت ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں ہماری انسانیت امتحان میں ہے کہ ہم صرف پڑھنے والے ہیں یا پڑھ کر آگے بڑھنے والے؟ کیا ہم صرف آنکھوں سے آنسو بہا سکتے ہیں یا دل سے ہاتھ بھی بڑھا سکتے ہیں؟ یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں، یہ وقت ہے ایک ماں باپ کے فخر، ایک بچے کی زندگی، اور ایک قوم کے ضمیر کو سنوارنے کا۔

نوے ژوند کی امن ایوارڈ تقریب صرف ایک تقریب نہیں، یہ اجتماعی شعور کا استعارہ ہے۔ وہاں صرف کتاب کی رونمائی نہیں ہوگی، بلکہ اس قوم کی حقیقی کہانی بیان ہوگی کہ کیسے ایک شاعر نے حرف کے ذریعے درد کو باندھا، اور کیسے اس کے بیٹے نے مسکراہٹ کے ذریعے امید کو زندہ رکھا۔ کتاب "سٹیج پر” خریدنے والا ہر شخص نہ صرف زریاب کے علاج میں معاون بنے گا، بلکہ وہ اُس معرکے کا حصہ بھی ہوگا جو وقار اور کینسر کے درمیان لڑی جا رہی ہے۔ جہاں دوا کم ہے مگر دعا بہت ہے، جہاں وسائل محدود ہیں مگر حوصلہ بے کنار ہے۔

زریاب کی لڑائی صرف اسپتال کے بستر پر نہیں ہو رہی، وہ ایک نظریاتی محاذ بھی ہے کہ ایک باپ اپنی خودی کے ساتھ زندہ رہنا چاہتا ہے، مانگے بغیر، جھکے بغیر، اپنی زمین پر کھڑا ہو کر۔ اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں ہم سب کو اُس کی پشت پر کھڑے ہونا ہے، تاکہ وہ تنہا نہ ہو، تاکہ اُس کی عزت نفس سلامت رہے، تاکہ اُس کے بیٹے کو دوا بھی ملے، دعا بھی اور دلوں کی محبت بھی۔

یہ تحریر ختم نہیں ہوتی، کیونکہ زریاب کی کہانی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی مدد سے اس میں نیا باب لکھا جا سکتا ہے شفا کا باب، خوشی کا باب، زندگی کے جشن کا باب۔ تو آئیے، دل سے، نیت سے، صدق دل سے اُس باپ کے وقار کو تھامیں، اُس بیٹے کے مستقبل کو سنواریں، اور اُس تنظیم کا ساتھ دیں جو خاموشی سے انسانیت کی مشعل جلائے بیٹھی ہے۔

03009033233 پر ایزی پیسہ کر کے اپنا حصہ ڈالیں، دل کی آواز بنیں، ایک چراغ جلائیں۔ تاکہ زریاب صرف تصویر میں وکٹری کا نشان نہ دکھائے، بلکہ ایک دن واقعی فتح کا پرچم تھامے زندگی کے اسٹیج پر کھڑا ہو کر کہہ سکے:

"میں جیت گیا!”

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے