کانپتی ٹانگوں والی کرکٹ ٹیم

میں نے امین اور سنی کو پیغام بھیجا کہ ’’چلو، یاسمین گارڈن میں بیٹھ کر چائے پیتے ہیں۔‘‘

امین کا جواب فوراً آیا: ’’نہیں، میں بالکل ہل نہیں سکتا، کیونکہ انڈیا پاکستان کا میچ ہونے والا ہے۔ میری طرف سے معذرت۔‘‘

کچھ دیر بعد جب پاکستان کا اسکور صرف 83 پر تھا اور چھ کھلاڑی پویلین لوٹ چکے تھے، تو میں نے امین کو پھر میسج کیا:
’’ اس سے بہتر تھا کہ ہم یاسمین گارڈن میں بیٹھ کر چائے ہی پی لیتے۔‘‘

سوال یہ ہے کہ ایشیا کپ میں پاکستان اپنی بین الاقوامی ٹیم بھیج رہا ہے، لیکن کارکردگی کا حال یہ ہے کہ کھلاڑیوں کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں، آنکھوں کے آگے اندھیرا چھایا ہوا ہے، اور بھارتی باؤلر انہیں ایسے لگ رہے ہیں جیسے کوئی بھوت سامنے کھڑا ہو۔

یہ ٹیم بین الاقوامی سطح پر بھیجی جا رہی ہے، لیکن کس بنیاد پر؟ کس کارکردگی کی بنیاد پر؟ کس قابلیت کی بنیاد پر؟ جگ ہنسائی کے لیئے ؟

یہ کھلاڑی اتنی ٹریننگ کے باوجود کھیل کو کھیل نہیں سمجھتے۔ دباؤ میں آ کر وہ ایسے بکھرتے ہیں جیسے ہوا کے جھونکے سے بتی بجھ جائے۔ نشیوں جیسی ان کی حالتیں ھیں۔ یہ پہلی بار نہیں ہوا۔ ذرا پرانی یادیں کھنگال لیں تو ایک لمبی فہرست ملتی ہے جنہیں دیکھ کر دل چاہتا ہے کہ ایک ایک کھلاڑی کو کان پکڑائے جائیں۔

یاد ھے نا ؟ 2019 ورلڈ کپ کا وہ میچ جب بھارت کے خلاف پاکستانی ٹیم نے وہ بزدلی دکھائی تھی کہ لوگوں نے ٹی وی توڑ دیئے تھے اخبار پھاڑ دیئے تھے۔

2021 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں آسٹریلیا کے خلاف سیمی فائنل ہاتھ میں آیا ہوا تھا، لیکن ھمارے جوانوں کے اعصاب جواب دے گئے۔ فیلڈرز نے کیچ ایسے ڈراپ کیے جیسے مرغی پکڑ رھے ھوں۔

پھر 2017 میں بھارت کے خلاف چیمپئنز ٹرافی کے پہلے میچ کو کون بھول سکتا ہے؟ وہی پرانی گھبراہٹ، وہی لاپرواہی، اور وہی شرمندگی۔ یہ اور بات ہے کہ فائنل میں قسمت مہربان ہو گئی، لیکن ٹیم کے مجموعی رویے میں تسلسل کہیں نظر نہیں آتا۔

اس کے بعد حالیہ برسوں میں نیوزی لینڈ اور افغانستان کے خلاف ہار کو لے لیجیے۔ افغانستان سے شکست نے تو ایسا زخم دیا جس پر مرہم ڈھونڈنے کے بجائے کرکٹ بورڈ نے حسبِ روایت پریس کانفرنس کا پلاسٹر چپکا دیا۔

ایسا کیوں ہے کہ یہ ٹیم ہمیشہ پریشر میچ میں کانپنے لگتی ہے؟ ان کے چہرے سے خود اعتمادی غائب، آنکھوں میں خوف، اور کھیل میں بے ترتیبی۔ جیسے کرکٹ نہیں کھیل رہے بلکہ کسی عدالت میں مجرم بن کر کھڑے ہیں۔ انہیں کسی حکیم سے سرکاری خرچ پر کشتے ھی کے کر کھلا دیا کریں میچ پر بھیجنے سے پہلے۔

ان احمق کھلاڑیوں کے ساتھ فوجی انداز میں سختی ہونی چاہیے۔ بین الاقوامی دوروں کے دوران ان کی سخت نگرانی ہو، کسی قسم کی آزادی نہ ہو، فیملی کو ساتھ لے جانے کی اجازت نہ ہو۔ ان کو پریکٹس گراؤنڈ اور ہوٹل کے کمرے کے سوا تیسری جگہ جانے پر مکمل پابندی ہو۔ اور دو آدمی خاص طور پر بھرتی کیے جائیں، جو ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے پر انہیں ھر آدھے گھنٹے بعد کمرے میں بند کرکے ’’سبق‘‘ سکھائیں۔

مایوسی کی انتہا ہے۔ یہ ٹیم میدان میں اترتی ہے تو عوام کو امید کم اور خوف زیادہ ہوتا ہے کہ آج پھر رسوائی مقدر بننے والی ہے۔

آخر اس بندے کو کیوں نہیں پکڑا جاتا جو یہ ٹیمیں بھیجتا ھے۔ اس بندے کو کیوں نہیں پوچھا جاتا جو کھلاڑیوں کا سلیکشن کرتا ہے؟ کیا سلیکشن کی بنیاد سفارش ہے؟ رشتہ داری ہے؟ یا یہ وہی پرانا فارمولا ہے کہ جو چیئرمین کو پسند ہے وہی ٹیم میں جگہ بنا لے گا؟

لال کوارٹرز کے کسی گیارہویں یا بارہویں جماعت کے لڑکے کے حوالے ٹیم کی سلیکشن کر دیں، تو یقین کیجیے موجودہ سلیکشن سے زیادہ کامیاب ثابت ہوگا۔

قوم کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔ کرکٹ اب کھیل کم اور ڈرامہ زیادہ لگنے لگی ہے۔ عوام اپنی خون پسینے کی کمائی سے ٹکٹ خریدتے ہیں، راتیں جاگ کر میچ دیکھتے ہیں، اور آخر میں ملتا ہے تو صرف ٹھینگا۔

ان مجہول کھلاڑیوں کی کارکردگی دیکھ کر تو چائے پینے کو بھی دل نہیں کرتا۔
تا دم تحریر بھارت کو 87 بالوں پر 70 رنز درکار ہیں….

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے