پاکستان میں شراکتی جمہوریت اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا کردار

جب ہم جمہوریت کا نام سنتے ہیں تو عموماً ہمارے ذہن میں ایک ایسا نظام آتا ہے جس میں عوام اپنے نمائندے منتخب کر کے تمام فیصلوں کی ذمہ داری ان پر ڈال دیتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت کا دائرہ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ ایک ایسا تصور بھی موجود ہے جس میں لوگ صرف ووٹ ڈالنے تک محدود نہیں رہتے بلکہ سماجی مسائل پر اپنی رائے دیتے ہیں اور ان کے حل میں براہِ راست شریک ہوتے ہیں۔ اس تصور کو شراکتی جمہوریت (Participatory Democracy) کہا جاتا ہے۔

شراکتی جمہوریت میں عوام کا کردار نمائندوں کے انتخاب تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ پالیسی سازی، مسائل کی نشاندہی اور ان کے ممکنہ حل پیش کرنے میں بھی براہِ راست حصہ لیتے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف عوام کو بااختیار بناتا ہے بلکہ نمائندوں کو بھی زیادہ ذمہ دار اور جواب دہ بناتا ہے۔ یوں جمہوریت محض ایک انتخابی عمل نہیں رہتی بلکہ ایک ایسا متحرک نظام بن جاتی ہے جس میں عوام اور نمائندے مل کر اجتماعی ترقی کی راہ ہموار کرتے ہیں۔

پاکستان جیسے ملک میں یہ تصور آسانی سے عملی شکل اختیار نہیں کر پاتا۔ یہاں وی وی آئی پی پروٹوکول عام ہیں، سرکاری دفاتر کے دروازوں پر چپراسی شہریوں کو روکتے ہیں اور میڈیا اکثر حکومتی اشتہارات پر انحصار کرتا ہے۔ ایسے ماحول میں یہ سوچنا مشکل ہے کہ عوامی رائے کو کس طرح سنجیدگی سے لیا جائے۔ تاہم سوشل میڈیا کے وسیع پیمانے پراستعمال اور معاشی ازادی نے صورتحال بدل دی ہے۔ سوشل میڈیا اب صرف تفریح یا سماجی رابطے کی جگہ نہیں بلکہ یہ لوگوں کے لیے اپنی آواز بلند کرنے اور رائے دینے کا ذریعہ بن گیے ہیں۔

ڈیجیٹل دور میں شراکتی جمہوریت کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اب عوام کے پاس اپنی رائے دینے کے کئی ذرائع موجود ہیں۔ مثال کے طور پر، اسلام آباد میں سنہری ہاتھوں اور سفید گیند پر مشتمل ایک یادگار نصب کی گئی۔ سوشل میڈیا پر تصاویر سامنے آتے ہی عوامی بحث چھڑ گئی، اور شدید تنقید کے بعد حکومت کو یہ یادگار پہلے ڈھانپنی پڑی اور پھر ہٹانا پڑی۔ یہی صورتِ حال لاہور کے گلشنِ اقبال پارک میں نصب علامہ اقبال کے مجسمے کے ساتھ پیش آئی، جسے عوامی رائے کے دباؤ پر ہٹا دیا گیا۔ یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ عوامی رائے فیصلوں کو کس طرح بدل سکتی ہے۔

اگرچہ پاکستان میں شراکتی جمہوریت کا زیادہ تر اظہار سوشل میڈیا پر دکھائی دیتا ہے، لیکن عالمی سطح پر کئی پلیٹ فارمز اس تصور کو براہِ راست فروغ دے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر Change.org ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں دنیا بھر کے لوگ مختلف مسائل پر پٹیشنز چلا کر اپنی آواز بلند کرتے ہیں اور پالیسی سازی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی طرح Decidim.org شہریوں کو بجٹ، منصوبہ بندی اور پالیسیوں پر اپنی رائے دینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ جبکہ Pol.is تائیوان میں عوامی رائے کو منظم کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، جہاں شہری پالیسیوں پر کھل کر بحث کرتے ہیں۔ یہ پلیٹ فارمز واضح کرتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کس طرح عوام اور حکومت کے درمیان فاصلے کم کر کے فیصلہ سازی کو زیادہ جمہوری بنا سکتی ہے۔

پاکستان میں بھی کچھ ادارے ایسے پلیٹ فارمز پر کام کر رہے ہیں جو عوام کو حکومت کے ساتھ مل کر فیصلہ سازی کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ حال ہی میں "کوڈ فار پاکستان” نے "ہم آواز” کے نام سے ایک پلیٹ فارم متعارف کرایا ہے. جہاں شہری پٹیشن جمع کر سکتے ہیں، قانون سازی پر گفتگو کر سکتے ہیں اور مختلف سماجی مسائل پر اپنی رائے دے سکتے ہیں۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے لوگ اپنی تجاویز کے حق میں حمایت حاصل کرنے کے لیے دوستوں، پڑوسیوں اور کمیونٹی گروپس کو شامل کر سکتے ہیں، اور آخر میں مقامی حکام یا نمائندوں تک اپنی تجویز پہنچا کر اس پر عمل درآمد کے لیے دباؤ ڈال سکتے ہیں۔

یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے کمیونٹی میٹنگ میں لائحہ عمل بنایا جاتا ہے اور پھر حکام تک پہنچایا جاتا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ اب یہ سب کچھ آپ گھر بیٹھے بھی کر سکتے ہیں۔ صرف "ہم آواز” پر جائیں، اپنی تجویز لکھیں اور اس کا لنک دوستوں کے ساتھ شیئر کریں تاکہ سب اپنی رائے دے سکیں۔ بدلتی دنیا کے ساتھ ہمیں بھی چاہیے کہ ٹیکنالوجی کو اپنے حق کے لیے استعمال کریں۔ آئیں، مل کر پاکستان کو ایسی جمہوریت بنائیں جہاں ہر آواز سنی جائے اور ہر فرد ترقی کا حصہ بنے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے