سوات کے پڑوس میں واقع ضلع دیر کا نام سنتے ہی بلند و بالا پہاڑوں، خوبصورت وادیوں، میٹھے پانی کے چشموں، سر سبز و شاداب کھیتوں، ہر دم رواں دواں ندیوں، خوش اخلاق، صحت مند اور مخلص لوگوں نیز پشتون اقدار کی آمیزش سے بنی ایک رنگین تصویر ذہن میں ابھرتی ہے۔ ضلع دیر میں ایک مشہور علاقہ ہے جس کا نام میدان ہے۔ سادگی، جفاکشی اور مہمان نوازی اس علاقے کی خاص پہچان ہے۔ گزشتہ آٹھ دس برس سے میدان میں ایک نیا تاریخی باب رقم ہو رہا ہے۔ سیاسی اور سماجی جہدوجہد کا یہ ایک ایسا باب ہے جس کا مرکزی کردار میدان کے اجتماعی منظر نامے پر پھلنے پھیلنے والے لیڈر عتیق الرحمن ہے۔
جماعت اسلامی کے اس نوجوان رہنما نے نہ صرف علاقائی سیاست میں ہلچل مچا رکھی ہے بلکہ اپنی علمی قابلیت، جہدوجہد کے جذبے، جرأت مندانہ موقف اور عوام کے گوناگوں مسائل، دکھوں اور تکلیفوں میں ان کے ساتھ شانہ بہ شانہ مل کر کھڑے ہونے بلکہ انہیں حل کرنے کے لیے شب و روز تگ و دو کرنے اور ہر اہم مقامی، علاقائی، قومی بلکہ بین الاقوامی ایشو پر بھی ٹھیک ٹھاک سٹینڈ لینے کی جرآت نے اسے پورے صوبے میں ایک نمایاں مقام دے کر امید کی کرن بنا دیا ہے۔ آئیے ان کی زندگی اور جہدوجہد پر مختصر سی روشنی ڈالتے ہیں۔
عتیق الرحمن آٹھ جون انیس سو چھیاسی کو محترم عزیز الرحمن کے ہاں پیدا ہوئے۔ وہ چھ بھائیوں کے گلدستے میں سے ایک ہیں۔ ان کا رہائشی تعلق میدان کے مشہور گاؤں شگئی سے ہے۔ مقامی زبان میں اس علاقے کو اطرافوں درہ کہتے ہیں۔ عتیق الرحمن کا نسبی تعلق علی خان خیل قبیلے کے ذیلی شاخ ولی خیل سے ہے۔ چند سال قبل گھر بسایا اور اب ایک بیٹی کے باپ ہیں۔ عتیق الرحمن کے چہرے، لہجے جذبے اور ولولے کو دیکھ کر باآسانی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ قدرتی طور پر قیادت کے جوہر سے خوب مالامال انسان ہیں۔ ڈاکٹرز، انجنئیرز، بزنس مین اور آئی ٹی اسپیشلسٹ وغیرہ محنت اور مہارت سے بن جاتے ہیں لیکن لیڈرز بنتے نہیں یہ باقاعدہ پیدا ہو جاتے ہیں نیز ان کی رونمائی، ذہن سازی، انسان پروری، خلوص، جذبے، خیر خواہی، وسیع سوچ، مقبولیت، محبوبیت اور بصیرت میں اللہ تعالیٰ کی خاص منشاء کو عمل دخل حاصل ہوتا ہے۔ عتیق الرحمن کا نہ ختم ہونے والا جذبہ اور جرآت، کم نہ پڑنے والی توانائی، فراوانی سے دستیاب دانشمندی، قوم سے کبھی کمزور نہ ہونے والا کمٹمنٹ ایسی چیزیں ہیں جن سے بخوبی یہ اندازہ ہوتا ہے کہ عتیق الرحمن بناوٹی نہیں، حقیقی لیڈر ہیں۔
حقیقی لیڈر اپنی بات نہیں، سب کی بات کرتا ہے، وہ ذاتی اغراض کو نہیں دیکھتا، اجتماعی مفاد کو دیکھتا ہے، وہ شور میں اضافہ نہیں کرتا بلکہ شعور میں اضافہ کرتا ہے۔ میں نے بے شمار مرتبہ عتیق الرحمن صاحب کو دیکھا ہے، سنا ہے اور طرح طرح کے ایشوز اور مسائل پر اظہار خیال کرتے ہوئے پایا ہے۔ میں علی وجہ البصیرت سمجھتا ہوں کہ عتیق الرحمن ذات، اغراض اور گروہی مفادات کو عزیز رکھنے کی علت سے ماوراء ہیں۔ عتیق الرحمن کو اللہ نے ایک پسماندہ علاقے کی پسماندگی کو اجاگر کرنے، دیرینہ مسائل کو زبان دینے، امن و سلامتی اور خوشحالی و اطمینان سے محروم ایک بڑی ابادی کے حقیقی احوال صاحبان اختیار کے سامنے لے آنے کے لیے پیدا کیا ہے۔ عتیق الرحمن کی زبان رواں، سوچ واضح، دل آگاہ اور دماغ بیدار ہے۔ ان کی تقریریں سنتے ہوئے لوگ اپنے آپ اور اپنے احوال سے بخوبی آگاہ ہوتے ہیں۔
عقیق الرحمن نے پرائمری سطح کی تعلیم گورنمنٹ پرائمری سکول شگئی، ایس ایس سی ہائی سکول مہربان بالا، ایف اے سی اور بی ایس سی گورنمنٹ سپیرئیر سائنس کالج پشاور جبکہ ایم اے سی جیوگرافی، ایم اے پاکستان سٹڈیز، ایم ایڈ، ایم فل جیوگرافی کی ڈگریاں یونیورسٹی آف پشاور سے لیے ہیں۔ عتیق الرحمن اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور ان کی اس قابلیت نے نہ صرف ان کے اعتماد میں زبردست اضافہ کیا ہے بلکہ اس خوبی کی بدولت علاقے کے نوجوانوں کے لیے ایک رول ماڈل بن گئے ہیں۔
اگر چہ ان کا تعلق ضلع دیر جیسے پسماندہ علاقے سے ہے جہاں تعلیم تک رسائی ٹھیک ٹھاک ایک چیلنج ہے، لیکن انہوں نے اس چیلنج کو قبول کیا اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے یہ ثابت کیا کہ رکاوٹیں کبھی بھی حوصلہ شکن نہیں ہونی چاہئیں۔ عتیق الرحمن کے لیے تعلیم محض ایک ڈگری کا حصول نہیں بلکہ ایک ٹھیک ٹھاک محبت ہے۔ اپنی بے تحاشا مصروفیات کے باوجود وہ علمی سرگرمیوں کے لیے وقت اور توجہ بچاتا ہے۔ آج بھی مختلف تحقیقی جرائد میں ان کے تحقیقی مقالے شائع ہو رہے ہیں۔ عتیق الرحمن نے تعلیم سے فراغت کے بعد دو سال بحثیت لیکچرر گورنمنٹ ڈگری کالج لال قلعہ میدان میں خدمات انجام دیں لیکن ایکٹیو پالیٹکس کے سبب اس جاب کو خیر باد کہا۔
تعلیمی اعتبار سے جو دو سب سے بنیادی صلاحیتیں تصور ہوتی ہیں وہ تقریر و تحریر کی ہیں اور ان صلاحیتوں کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں خوب نوازا ہیں۔ وہ بہترین مقرر بھی ہیں اور ایک اچھے مصنف بھی، کبھی کبھار میرے ساتھ اپنی تحقیقی کام کے حوالے سے تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ تعلیم و تحقیق کے حوالے سے ان کی سوچ اور اپروچ دونوں قابل رشک ہیں۔ وہ فرد کی بیداری اور کارآمدگی اور معاشرے کے فلاح و بہبود کے عمل میں تعلیم کو بنیادی پتھر کا درجہ دیتے ہیں۔ ان کی تقریریں نوجوان نسل کے دلوں میں ایک نئی روح پھونک دیتی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ تعلیم ہی وہ مضبوط ہتھیار ہے جس سے ہم نہ صرف ذاتی طور پر ایک خوشحال اور باوقار زندگی گزارنے کے قابل ہوتے بلکہ اپنے علاقائی مسائل کو بھی حل کرسکتے ہیں۔ ان کی تقریریں نہ صرف جذبات سے بھرپور ہوتی ہیں بلکہ ان میں حقائق اور منطق کا بھی گہرا احساس ہوتا ہے۔ عتیق الرحمن کی شریک حیات بھی اعلی تعلیم یافتہ اور شعبہ تعلیم سے منسلک ہیں۔
عتیق الرحمن نے دو ہزار پانچ میں اسلامی جمعیت طلبہ کی رفاقت اختیار کی، یہی وہ موقع ثابت ہوا جس نے آگے چل کر ان کی قائدانہ صلاحیتوں کو ایک خاص نہج پر ڈال دیا۔جبکہ دو ہزار دس میں وہ جمعیت کا رکن بنا۔ دو ہزار بارہ اور تیرہ کو جامعہ پشاور میں ذمہ داری رہی، اس طرح دو ہزار چودہ اور پندرہ میں جنرل سیکرٹری اسلامی جمعیت طلبہ پشاور کیمپس مقرر ہوئے جبکہ دو ہزار سولہ میں اسلامی جمعیت طلبہ پشاور کیمپس کی نظامت پر فائز ہوئے۔ دو ہزار سترہ میں اسلامی جمعیت طلبہ سے فراغت کے بعد اسی سال جماعت اسلامی کا رکن بنا۔
دو ہزار اٹھارہ میں جماعت اسلامی تحصیل میدان نے بطور تحصیل قیم ذمہ داری لگائی۔ دو ہزار بیس اور اکیس کو بطور صدر الخدمت فاؤنڈیشن تحصیل میدان رہا اور مختلف مواقع پر لوگوں کی بڑھ چڑھ کر خدمت کی۔ دو ہزار بائیس تا پچیس جماعت اسلامی ضلع دیر پائین نے جے آئی یوتھ دیر پائین کا ناظم مقرر کیا۔ اسی دوران دو ایسے جرآت مندانہ اقدامات اٹھائے جن سے پورے علاقے میں جماعت اسلامی کو اچھی خاصی پزیری ملی۔
ایک، دو ہزار بائیس کا وہ واقعہ جس میں پی ٹی آئی کے مقامی ایم پی اے ملک لیاقت کے اوپر قاتلانہ حملہ ہوا تھا۔ اس واقعے میں کئی لوگ اپنی جانوں سے گزرے جبکہ کئی ایک زخمی بھی ہوئے تھے خود ملک لیاقت بری طرح زخمی ہو گئے تھے۔ اس وقت فضاء میں ایک عمومی خوف تھا جس کی وجہ سے کوئی بھی بندہ امن و امان کی ناگفتہ بہ صورتحال پر بات کرنے کو تیار نہیں تھا لیکن عتیق الرحمن نے پوری جرات سے میدان کے مرکزی مقام لال قلعہ گراؤنڈ میں ایک فقید المثال امن مارچ کی قیادت کی۔ جس کے سبب لوگوں میں خوف و ہراس ختم اور علاقہ میدان میں امن قائم ہوا۔
دوسرا کام تیمرگرہ میڈیکل کالج بچاؤ تحریک تھا۔ عتیق الرحمن نے اس تحریک میں بھرپور جوش و جذبے سے کام کیا اور اس سلسلے میں کسی مصلحت یا دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا۔ اس دوران تمام لوگوں کو خواہ ان کا تعلق جس جماعت سے بھی ہوں، اس تحریک کے ساتھ جوڑ کر کرپشن کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کی کامیاب کوشش کی۔ عتیق الرحمن نے اس تحریک کے دوران بائیس پریس کانفرنسز اور چھبیس پُرامن احتجاجی مظاہرے منعقد کئے جس کی وجہ سے تیمرگرہ میڈیکل کالج کے اندر کرپشن میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دلوا کر ان کو کیفرِ کردار تک پہنچایا۔ اس وقت عتیق الرحمن ڈپٹی جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی و کوارڈینیٹر یوتھ افیئرز صوبہ خیبرپختونخوا شمالی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
عتیق الرحمن نے اپنی سیاسی جہدوجہد کا آغاز ہی ان مسائل کے خلاف آواز اٹھانے سے کیا جو ضلع دیر جیسے علاقوں کے عوام کے لیے روزمرہ کی زندگی میں سخت تکالیف کا باعث ہیں۔ آئیے ان کا مختصر تذکرہ کرتے ہیں!
ضلع دیر اگر چہ ایک پُرامن علاقہ تھا لیکن دو ہزار نو دس سے یہ مسلسل بدامنی کا شکار چلا آ رہا ہے۔ دو ہزار نو میں یہاں پر بڑا فوجی آپریشن لانچ ہوا تھا جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگ آئی ڈی پیز بن کر ملک اور صوبے کے مختلف علاقوں کا رخ کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔
اس کے بعد وقفے وقفے سے بدامنی کے واقعات اور فوجی کارروائیاں تواتر سے ہو رہی ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے سے دیر میں دوبارا حالات خراب ہو رہے ہیں اور لوگ خوف و ہراس کا شکار ہیں۔ اس وقت میدان میں عتیق الرحمن کی پہلی اور آخری ترجیح امن کا قیام ہے۔ گزشتہ چند روز میں بدامنی کے متعدد سنگین واقعات رونما ہوئے جن میں بچے، جوان اور نہتے لوگ بے دردی سے نشانہ بنیں وہ ہر وقت امن و امان کے قیام کے لیے سرگرم عمل رہتے ہیں، کبھی جلسہ جلوس کی قیادت، کبھی امن مارچ کا انعقاد، کبھی سرکاری افسران اور علاقائی عمائدین کے ساتھ امن بحالی کے لیے جرگوں کا اہتمام، کبھی پریس کانفرنسز، کبھی سوشل میڈیا پر عوام کی بیداری اور آگہی کے لیے مہمات وغیرہ وغیرہ۔
عتیق الرحمن اس بات کو بہ خوبی سمجھتے ہیں کہ امن کے بغیر سکون کے ساتھ جینا ممکن ہے اور نہ ہی ترقی کا کوئی منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچ سکتا ہے۔ وہ نہ صرف علاقائی تنازعات کے حل کے لیے ہر دم کوشاں رہتے ہیں بلکہ علاقے میں قانون کی حکمرانی اور امن و امان کی بحالی کو یقینی بنانے کے لیے بھی دن رات سرگرم عمل رہتے ہیں۔ چند روز قبل ایک بڑا جرگہ منعقد کر کے دو فریقوں کو دیرینہ دشمنی چھوڑ کر صلح و آشتی کے ساتھ رہنے پر آمادہ کیا۔ چند روز قبل ایک اور واقعے میں کچھ افراد قتل ہو گئے جس سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور امن و امان کی صورتحال سخت کشیدہ رہی لیکن عتیق الرحمن اور جماعت اسلامی کی دوسری قیادت کی شبانہ روز محنت اور کوششوں سے حالات معمول پر آنا شروع ہوگئے۔ پرسوں ایک اور جرگے کا انعقاد ہوا جس میں سرکاری افسران، علاقے کے عمائدین اور جماعت اسلامی کی مقامی لیڈرشپ نے میدان میں امن و امان کی بحالی کے لیے سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ اس پورے عمل میں عتیق الرحمن پیش پیش رہے۔ عتیق الرحمن اصولی طور پر بدامنی کی صورتحال میں اداروں سمیت عوام اور سیاسی لیڈر شپ کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ وہ بجا طور سمجھتے ہیں کہ کہیں نہیں کہیں "فالٹ” موجود ہے جس کی وجہ سے امن قائم نہیں ہو رہا۔ وہ کہتے ہیں کہ امن و امان کا قیام ریاست کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے جبکہ اس کو برقرار رکھنے کا فرض عوام، سیاسی لیڈر شپ اور تمام جماعتوں پر عائد ہوتی ہے۔ اس وقت جبکہ میدان میں امن و امان کی صورتحال اطمینان بخش نہیں مقامی منتخب قیادت سوشل میڈیا سے ہی دل بہلاتی ہے اور برسرِ زمین کہیں دکھائی نہیں دے رہی یہ اس کی غیر سنجیدگی کا کھلا ثبوت ہے۔
آج بھی میدان کے کئی علاقوں میں عوام کو صاف پانی میسر نہیں۔ اس طرح ضرورت کے مطابق سکولز اور کالجز کی عدم دستیابی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے اور ہاں پہلے سے موجود تعلیمی ادارے ٹھیک ٹھاک خستہ حالی کا شکار ہیں۔ اس طرح صحت کا تو سرے سے کوئی نظام ہے ہی نہیں۔ دور دراز علاقوں میں ہسپتالوں کا نہ ہونا، ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی عدم تقرری نیز ہر وقت ادویات کی کمی کا سامنا معمول ہے۔ عتیق الرحمن ان تمام مسائل کو حل کرنے کے لیے نہ صرف آواز اٹھاتے ہیں بلکہ عملی اقدامات بھی کرتے رہتے ہیں۔ وہ مقامی لوگوں کو اپنے حقوق کے لیے منظم ہو کر موثر انداز میں آواز اٹھانے کی ترغيب بھی بار بار دیتے دیتے ہیں۔ ایک بات تواتر سے زبان پر رکھتا ہے کہ "اپنا حق مانگا نہیں جاتا بلکہ چھین لیا جاتا ہے”۔
کرپشن وہ المیہ ہے جو پورے پاکستان میں پایا جاتا ہے لیکن ضلع دیر جیسے پسماندہ علاقوں میں اس کی وجہ سے ترقی کے عمل پر خاصا برا اثر پڑا ہے۔ بدقسمتی سے پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والی مقامی منتخب قیادت نے اگر کوئی پہچان بنائی ہے تو بس کرپشن، نااہلی اور اقربا پروری میں بنائی ہے۔ تیمرگرہ میڈیکل کالج میں سخت بے ضابطگیاں، بھرتیوں میں میرٹ کی کھلم کھلا خلاف ورزی اور سرکاری فنڈز میں غبن اس کی واضح مثالیں ہیں۔
اس کو عمران خان عمران خان کے ورد، سوشل میڈیا سے دل بہلانے اور جگہ جگہ تصویریں کھنچوانے سے فرصت نہیں۔ علاقے کی ترقی و خوشحالی اور عوامی مسائل حل کرنا اس کی ترجیح ہی نہیں۔ عتیق الرحمن کا کہنا ہے کہ اقربا پروری اور کرپشن نے نہ صرف اداروں کو کمزور کیا ہے بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی بری طرح مجروح کیا ہے۔ وہ اس کے خلاف اکثر و بیشتر آواز اٹھاتے ہیں اور شفافیت کے قیام پر زور دیتے ہیں۔
عتیق الرحمن کا عزم اور جہدوجہد صرف علاقائی مسائل تک محدود نہیں۔ ان کی نظر قومی مسائل پر بھی رہتی ہے اور وہ ملک کے اہم معاملات پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔
مثلاً وہ ملکی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے منصفانہ اور شفاف پالیسیوں کی پُرزور وکالت کر رہے ہیں۔ وہ کرپشن اور ناانصافی کو معاشی عدم استحکام کے طاقتور اسباب سمجھتے ہیں۔ اس طرح علاقائی سلامتی اور پاکستان کے مفادات کے تحفظ پر ان کی گہری نظر ہے۔ اس طرح گزشتہ دنوں اسرائیل نے قطر پر فضائی حملہ کر کے مذاکرات میں مصروف حماس کی سیاسی قیادت کو نشانہ بنایا۔ اس غیر سیاسی اور غیر سفارتی جسارت پر عتیق الرحمن نے زبردست احتجاج ریکارڈ کرایا اور کہا کہ یہ اقدام دنیا کے لیے ناقابلِ قبول ہے اور اسلامی دنیا سے مطالبہ کیا کہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف مل کر موثر پالیسی بنائے۔ اس طرح ان کا ماننا ہے کہ ہمارا عدالتی نظام انصاف کی راہ میں ٹھیک ٹھاک رکاوٹ ہے۔ اس کی اصلاح اور بہتری سے ہی عوام کو انصاف مل سکتا ہے۔ اس طرح ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ علاقائی ترقی قومی ترقی کے بغیر ممکن نہیں۔ اسی لیے وہ قومی مسائل پر بھی فعال طور اپنے نقطہ نظر کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔
عتیق الرحمن زمانہ طالبعلمی سے جماعت اسلامی کے ساتھ وابستہ ہیں، جو کہ ایک دینی اور نظریاتی جماعت ہے۔ جماعت اسلامی کا امیج ایک ایسی جماعت کی ہے جو کہ دیانتداری، سنجیدگی، نظم و ضبط، شفافیت، خدمت، اخلاقیات اور نظریاتی پختگی پر یقین رکھتی ہے۔ عتیق الرحمن نے جماعت اسلامی کے نظریات اور اہداف کو اپنایا اور اسی بنیاد پر عوام کی خدمت کر رہے ہیں۔ اگر چہ وہ ایک جماعت سے گہری وابستگی رکھتے ہیں لیکن ان کی خیر خواہی، ہمدردی، خلوص اور خدمت و محبت سب لوگوں کو بلا تفریق دستیاب ہیں۔ وہ ہر فرد کا مسئلہ اپنا مسئلہ، اور ہر مصیبت زدہ کی مشکل اپنی مشکل سمجھتے ہوئے حل کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے رہتے ہیں۔
روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ اپنے ذاتی یا علاقائی مسائل کے حل کے لیے ان سے رجوع کرتے ہیں اور وہ اپنی استطاعت سے بڑھ کر کوشاں رہتے ہیں۔ عتیق الرحمن کے اسی خلوص اور محبت کا نتیجہ ہے کہ وہ میدان بلکہ پورے ضلع دیر میں مرجع خلائق بن گئے ہیں۔ کیا جوان، کیا بزرگ، کیا علماء، کیا طالب علم، کیا کھیلاڑی، کیا سوشل ایکویسٹ بلکہ خواتین تک بڑی تعداد میں ان کو عزیز رکھتے ہیں۔ وہ اپنے کردار اور خدمت کے سبب عوام کے لیے تسلی اور اطمینان کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔
عتیق الرحمن کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ ہر وقت عوام کے دکھ درد میں شریک رہتے ہیں۔ چاہے بدامنی ہو یا علاقائی تنازعات، بجلی سے جڑے مسائل ہو یا سرکاری و تعلیمی اداروں میں کرپشن کا دور دورہ، صحت کے نظام میں موجود خرابیوں کی نشان دہی ہو یا سرکاری ہسپتالوں میں بے ضابطگیوں اور غفلت کا ارتکاب، وہ ہمیشہ متاثرین کی مدد کے لیے پیش پیش رہتے ہیں۔
ان کو دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ حقیقی رہنما وہی ہے جو عوام کے دکھوں کو اپنا دکھ سمجھے۔ وہ معاشرتی اصلاح کے لیے نوجوانوں کی اصلاح، صلاحیتوں اور فعال کردار کو خاص الخاص اہمیت دیتے ہیں۔ ان کو جب بھی نوجوان اپنے پروگراموں اور کھیل کود کے مقابلوں میں بطور مہمان خصوصی مدعو کرتے ہیں تو وہ پلک جھپکنے میں وہاں پہنچ جاتے ہیں اور نہ صرف دل و دماغ کی اتھاہ گہرائیوں سے ان کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں بلکہ ان کے مسائل حل اور مطالبات پورے کرنے میں بھی مقدور بھر ساتھ دیتے ہیں۔ عتیق الرحمن اے ٹو زیڈ ایک عملی انسان ہیں اور عملی انسانوں کو ہی محبوب رکھتے ہیں وہ صرف باتیں اور تنقید کرنے والوں کو سخت ناپسند کرتے ہیں اور اس حقیقت پر زور دیتے ہیں کہ زندگی عمل سے بنتی ہے خالی باتوں اور تنقید سے نہیں۔
عتیق الرحمن ہر اہم معاملے پر بروقت، جرآت مندانہ اور واضح موقف رکھتے ہیں۔ خواہ وہ علاقائی مسائل ہو یا پھر قومی، وہ کبھی بھی کمزور یا مبہم موقف اختیار نہیں کرتے۔ ان کا یہی واضح موقف اور جرآت ہی ہے جس نے انہیں عوام میں بے انتہا مقبول اور قابل اعتماد بنایا ہے۔ عتیق الرحمن نوجوانوں کے لیے ایک رول ماڈل ہیں۔ ان کی زندگی اور کردار نوجوانوں کے لیے ایک پیغام ہے کہ وہ اپنے علاقوں کی ترقی کے لیے آگے آئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نوجوان ہی ملک کا مستقبل ہیں اور انہیں آگے بڑھ کر قیادت کرنی ہوگی۔ وہ ہر موقع پر نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہیں اپنی ذمہ داریاں اور کردار ادا کرنے کے ابھارتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں صرف باتیں کبھی عمل کی جگہ نہیں سکتی۔
عتیق الرحمن میدان جیسے علاقے کے لیے ایک امید کی کرن ہیں۔ ان کی شخصیت، ان کی صلاحیتیں اور ان کا فعال کردار نہ صرف نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہے بلکہ تمام پاکستانیوں کے لیے ایک پیغام بھی کہ جو فرد بھی چاہے تو وہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لاسکتا ہے۔ عتیق الرحمن کی جرأت، محنت اور عوام کے تئیں خلوص نے انہیں محض ایک رہنما نہیں بلکہ عوام کے دلوں کی دھڑکن بنا دیا ہے۔ ہر اچھا، سچا، میٹھا اور کھرا انسان پورے معاشرے کے لیے اثاثہ ہوتا ہے اور یوں اس کے کردار اور شخصیت سے خارج ہونے والی خیر اور بھلائی ہر طرف پھیل کر اجتماعی فلاح و بہبود کے نظام کو تقویت پہنچاتی ہے۔
عتیق الرحمن جیسے نوجوان رہنما ہی پاکستان کے مستقبل کو سنوار سکتے ہیں۔ ان کی جدوجہد نہ صرف دیر میدان بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک مثال ہے۔ ہمیں امید ہے کہ آنے والا وقت عتیق الرحمن جیسے نوجوان رہنماؤں کی بدولت پاکستان کے لیے روشن ہوگا۔