ایک بزرگ سے کسی نے ولی کے تعارف کے بارے میں سوال کیا کہ کیا ولی وہ ہوتا ہے جو آپ کے لیے دعا کرے اور وہ پوری ہو جائے؟ بزرگ نے جواب دیا کہ نہیں بیٹا! ولی وہ ہوتا ہے جس کے پاس جا کر آپ کی وہ حاجت ہی باقی نہ رہے جو آپ اس کے پاس لے گئے ہوں، بلکہ آپ کو آپ کا دل یہ کہنے لگے کہ میری اصل حاجت کچھ اور ہے۔ یہ تو سرے سے میری اصل حاجت ہی نہیں جس کی خاطر میں بزرگ سے دعا کی درخواست کر رہا ہوں، بلکہ یہ تو میری اصل حاجت کے راستے کا ایک پڑاؤ ہے۔
آج میں آپ کو ایسی ہی ایک ہستی کے بارے میں بتانے کی کوشش کروں گا۔
یہ غالباً 2008 سے 2010 کا زمانہ تھا کہ میں ایم ایس سی فزکس کرنے کے بعد ہنگو میں تدریس کرنے لگا۔ اس دوران مجھے کبھی کبھی محسوس ہوتا تھا کہ میں نے کوہاٹ، پشاور کی بجائے ہنگو کا انتخاب کر کے غلطی کی ہے کیونکہ کوہاٹ اور پشاور میں ہنگو کے مقابلے میں روزگار کے مواقع زیادہ تھے۔ مگر خدا نے مجھے یہاں لا کر ایک ایسی ہستی سے ملاقات کرانی تھی اور اس ہستی کے ذریعے میری زندگی کا رخ بدلنا تھا، جس نے مجھے یہ بتانا تھا کہ تمہاری اصل حاجت کیا ہے۔ میں وہاں روزگار کی حاجت لے کر گیا تھا مگر خدا نے اپنے ایک ولی کے ذریعے مجھے یہ سمجھانا تھا کہ نہیں، جس شے کو تم اپنے دل میں لے کر ہنگو آئے ہو وہ اصل نہیں، بلکہ اس عظیم اور حقیقی مقصد کے حصول کے راستے کا ایک پڑاؤ ہے۔
یہ شخصیت تھے ہنگو کے سابق امیر جماعت اسلامی ضلع ہنگو اور جماعت اسلامی کی مرکزی شوریٰ کے مستقل رکن، جناب فدا سعدی رحمہ اللہ۔
فدا سعدی رحمہ اللہ سے میرا تعارف ہنگو کے ایک نجی کالج میں ہوا جہاں میں پڑھاتا تھا۔ ایک دن وہ کالج تشریف لائے اور پرنسپل کے آفس میں بیٹھ کر کہنے لگے: "آپ لوگوں کو قرآن آتا ہے؟” تو ہم نے کہا: "جی نہیں۔” اس پر فرمایا: "کیا میں آپ لوگوں کو عربی گرائمر نہ سکھاؤں؟” ہم سب نے ہاں کر دی۔ فدا سعدی رحمہ اللہ کے جانے کے بعد ہمارے پرنسپل ہمیں کہنے لگے کہ فدا صاحب کی انگریزی بھی بڑی پیاری ہے۔ اسے کہتے ہیں کہ ہمیں عربی کے ساتھ ساتھ انگریزی گرائمر بھی پڑھایا کریں۔ اگرچہ ہمارے اسٹاف میں وکلاء اور ایم اے انگلش بھی تھے، مگر فدا صاحب جمعہ کو آتے اور ہمیں کالج ٹائم کے بعد عربی اور انگریزی سکھانے لگے۔
ہمیں بعد میں معلوم ہوا کہ فدا صاحب کو صرف عربی اور انگریزی ہی نہیں بلکہ کئی اور زبانوں پر بھی عبور حاصل ہے۔ وہ جس زبان کو بھی پڑھاتے ایسے لگتا تھا کہ اس زبان کا ادیب پڑھا رہا ہو۔
ہر کلاس کے شروع میں چند جملے بولنا آپ رحمہ اللہ کی عادت بن گئی تھی۔ ابتداء کرتے تو فرماتے:
"ہم عربی کیوں پڑھتے ہیں؟”
پھر خود جواب بھی دیتے:
"نَدرُسُ اللُّغَةَ العَرَبِيَّةَ لِأَنَّهَا لُغَةُ نَبِيِّنَا ﷺ، وَلِأَنَّهَا لُغَةُ القُرْآنِ، وَلِأَنَّهَا لُغَةُ أَهْلِ الجَنَّةِ۔”
ترجمہ:
"ہم عربی زبان پڑھتے ہیں کیونکہ یہ ہمارے نبی ﷺ کی زبان ہے، یہ قرآن کی زبان ہے، اور یہ جنت والوں کی زبان ہے۔”
کلاس کے آخر میں اکثر آپ کے تکیہ کلام میں سے یہ الفاظ بھی ہوتے:
الله غايتنا
والرسول قدوتنا
والقرآن دستورنا
والجهاد سبيلنا
والموت في سبيل الله أسمى أمانينا
ترجمہ:
"اللہ ہمارا مقصد ہے،
رسول ﷺ ہمارے لیے نمونہ ہیں،
قرآن ہمارا دستور ہے،
جہاد ہمارا راستہ ہے،
اور اللہ کی راہ میں موت ہماری سب سے بڑی آرزو ہے۔”
شہادت کی اصطلاح بولتے تو آپ کے چہرے کا رنگ سرخ ہو جاتا اور آپ پر ایک قسم کا وجد طاری ہو جاتا۔ شہادت کا لفظ آپ اکثر اپنے لیکچر کے دوران استعمال فرماتے۔ اور آخر کار خدا نے آپ کو شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز بھی کیا، جس کا بعد میں ذکر کریں گے۔
آپ رحمہ اللہ سے زیادہ ہنس مکھ انسان میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔ آپ ہنستے تو اتنی شدت سے ہنستے کہ ہنستے ہنستے پیٹ پکڑ لیتے۔ یہ عادت آپ میں بچوں جیسی تھی۔ سنجیدگی کے ساتھ ایسی خوش مزاجی کا امتزاج قسمت والوں کو ہی ملتا ہے۔
آپ نے جب ہمیں پڑھانا شروع کیا تو ہمیں معلوم ہوا کہ فدا صاحب صرف ہمیں عربی اور قرآن نہیں پڑھاتے بلکہ آپ کے طلبہ میں ہنگو کے ججز، ڈی سی او اور ڈی پی او بھی شامل ہیں۔ ایک دن فرمانے لگے کہ جج سے ملاقات کے لیے گیا تو اس سے پوچھا کہ آپ کو عربی آتی ہے؟ تو اس نے کہا: نہیں۔ پھر پوچھا کہ جب آپ کو عربی نہیں آتی تو قرآن سمجھنے میں بھی مسئلہ ہوتا ہوگا۔ پھر تو آپ کس شے پر فیصلے کرتے ہو جبکہ اللہ نے اپنی کتاب پر فیصلے کرنے کا حکم دیا ہے۔ پھر فرمایا کہ جج نے کہا: میں پھر کیسے سیکھوں؟ تو آپ رحمہ اللہ نے بتایا کہ میں آپ کے پاس آیا کروں گا اور آپ کو عربی گرائمر اور قرآن حکیم پڑھاؤں گا۔
اسی قسم کی دعوت آپ نے ڈی سی او اور ڈی پی او وغیرہ کو بھی دی اور اس کے بعد خود ان کے پاس جاتے اور عربی پڑھاتے۔
ہمارے کالج میں ایک فنکشن تھا۔ ہم نے کمشنر کو مدعو کیا تھا اور ساتھ فدا سعدی رحمہ اللہ کو بھی اس پروگرام میں دعوت دی تھی۔ ہم نے پہلے کمشنر کو خطاب کا موقع دیا۔ شاید اس نے کالج انتظامیہ کو پہلے ہی بتایا تھا کہ میں فدا صاحب کے بعد نہیں بولوں گا، آخری اور کلیدی خطاب فدا صاحب ہی کریں گے۔
جب کمشنر صاحب خطاب کے لیے اٹھے اور ابتدائی کلمات ہی کہے تھے تو کہا کہ فدا صاحب جیسی ہستی کے سامنے میں نہیں بول سکتا۔ ہم فدا صاحب ہی سے مستفید ہونا چاہتے ہیں۔ یہ الفاظ کہہ کر اپنی بات ختم کی۔
انسانوں کے ساتھ اس دور میں جو ہمدردی فدا صاحب کو تھی شاید ہی کسی اور کو ہو۔ ایک دن جب ہمارے ساتھ کلاس لی تو دفتر میں آئے۔ پرنسپل نے آپ سے چائے پینے کی درخواست کی۔ آپ نے کہا کہ نہیں، چائے نہیں پیتا۔ پرنسپل نے پھر اصرار کیا تو فرمایا: ٹھیک ہے، پیتا ہوں مگر تم خود بناؤ گے، کلاس فور سے نہیں بنوانا کیونکہ اس کے ڈیوٹی کا وقت بچوں کی چھٹی تک ہوتا ہے، یہ اس پر اضافی بوجھ ہے۔
آپ رحمہ اللہ گناہ کے معاملے میں نہایت حساس طبیعت کے مالک تھے۔ ایک دن کلاس لینے کالج تشریف لائے اور دفتر میں بیٹھے تو لائٹس آن تھیں۔ آپ خود اٹھے، لائٹس کو آف کیا اور فرمایا کہ یہ اسراف ہے۔
جب اورکزئی ایجنسی میں فوجی آپریشن کے نتیجے میں متاثرین ہنگو آئے تو ان کے لیے الخدمت نے خیمہ بستی کے قیام میں بھرپور کردار ادا کیا۔ فدا سعدی رحمہ اللہ کے ساتھ ہم ایک سوزوکی میں جاتے، خیمے تقسیم کرتے، متاثرین کا ڈیٹا جمع کرتے اور مزید جو روزمرہ کی ضروریات تھیں ان میں الخدمت کے پلیٹ فارم سے بساط بھر حصہ لیتے۔ ہم تقریباً عصر سے پہلے روزانہ فدا سعدی رحمہ اللہ کی رہنمائی میں اس کام پر نکلتے۔
جب کئی دن مسلسل ہم گئے تو ایک دن ڈاکٹر زاہد صاحب، جو جماعت کے رکن تھے اور اب بھی زندہ ہیں، فدا سعدی رحمہ اللہ سے کہنے لگے کہ میرے گھر میں غالباً بجلی کا کوئی کام ہے۔ آج تیسرا دن ہے بندہ ٹھیک کرنے آتا ہے مگر میری غیر موجودگی کی وجہ سے واپس چلا جاتا ہے، لہٰذا آج مجھے رخصت دے دیں۔ فدا سعدی رحمہ اللہ نے ڈاکٹر صاحب کو مخاطب ہو کر فرمایا کہ یہ سعادت کا کام ہے، خدا کا کام ہے اور خدا کو کسی کی ضرورت نہیں۔ جیسے ہی میں سوزوکی میں پیچھے بیٹھا تو ڈاکٹر صاحب بھی سوزوکی میں بیٹھ گئے۔ میں نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ آپ تو گھر نہیں گئے؟ کہنے لگے کہ فدا صاحب نے ایسی بات کی کہ اگر آپ متاثرین کی خدمت کے لیے نہ جائیں تو ضمیر پر بوجھ رہے گا۔
انہی دنوں کا ایک واقعہ ہے کہ فدا صاحب ہنگو سے کوہاٹ جا رہے تھے۔ راستے میں متاثرین کو ہنگو انتظامیہ نے روک رکھا تھا، جو اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ کوہاٹ یا پشاور جا رہے تھے۔ ان متاثرین میں ہر عمر کے مرد و عورتیں تھیں اور وہ کھلے آسمان تلے روڈ پر بیٹھے تھے۔
فدا صاحب نے جب کوچ سے ان متاثرین کو دیکھا کہ انہیں چیک پوسٹ پر روکا گیا ہے تو ڈرائیور سے کہا کہ گاڑی روکو۔ فدا صاحب سیدھا پولیس کے پاس گئے اور کہا کہ انہیں کیوں نہیں چھوڑ رہے ہو؟ ہنگو کی پولیس فدا صاحب سے خوف بھی کھاتی تھی اور عزت بھی کرتی تھی۔ تو انہوں نے فدا صاحب سے معذرت کی کہ ہم انہیں نہیں چھوڑ سکتے، یہ معاملہ براہِ راست فوج دیکھ رہی ہے۔
فدا صاحب سیدھے ہنگو ہیڈکوارٹر گئے جہاں کرنل رینک کا افسر بیٹھا تھا۔ فدا صاحب جب کرنل کے دفتر جانے لگے تو چوکیدار نے انہیں روکنے کی کوشش کی مگر فدا صاحب دفتر میں چلے گئے۔ وہاں کرنل صاحب سے فوراً کہا کہ ان لوگوں کو کیوں روکا ہے؟ اس نے کہا کہ یہ ڈیو کمانڈر کا حکم ہے۔ فدا صاحب نے کہا کہ ان کے لیے یہاں ڈیو کمانڈر صاحب نے کیا بندوبست کیا ہے؟ کرنل نے کہا کہ میں کمانڈر صاحب سے بات کرتا ہوں۔ فدا صاحب نے اسے کہا کہ میں خود بات کرتا ہوں، اس کا فون ملاؤ۔ فدا صاحب کو شاید اس وقت یہ خدشہ تھا کہ جس طرح بات کرنی چاہیے کرنل صاحب نوکری کی وجہ سے شاید ویسی بات نہ کر سکیں۔
بہرحال فدا صاحب اس وقت تک کوہاٹ روانہ نہ ہوئے جب تک متاثرین کے قافلے کو فوج نے جانے نہیں دیا۔
فدا صاحب کو خدا نے ایسی بہادری سے نوازا تھا جو کہ متعدی تھی۔ جو بندہ بھی آپ کی صحبت میں رہتا اس میں اخلاص، خدمتِ خلق، پاکیزگی، شائستگی اور بہادری جیسے صفات پیدا ہو جاتے۔ جن دنوں میں ہم فدا صاحب کے قریب رہے انہی دنوں کا ایک واقعہ ہے کہ ہم ہنگو سے کوہاٹ آ رہے تھے۔ راستے میں العصر اسکول سے آگے پولیس نے تھانے کے باہر ناکہ لگایا ہوا تھا۔ ہماری گاڑی کو روکا گیا اور ایک نوجوان، جس کی داڑھی تھی، پولیس نے اس کے موبائل کے اندر کا ڈیٹا دیکھنا شروع کیا جو مجھے نہایت برا لگا۔ میں نے پولیس والے سے کہا کہ تمہیں کسی کا موبائل دیکھنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس پر ایس ایچ او مجھے دھمکیاں دینے لگا مگر پتہ نہیں ایسا کیوں ہوا کہ اس کی ہر دھمکی کے جواب میں میں اسے یہی کہتا رہا کہ جو کرنا چاہتے ہو کرو۔
جب بحث نے طول پکڑا تو سواریاں اور ڈرائیور مجھے کہنے لگے کہ بس چھوڑو۔ اس پر میں نے ڈرائیور سمیت سواریوں سے کہا کہ تم میرا ساتھ دینے کے بجائے مجھے ہی نصیحت کر رہے ہو۔ آخر کار ایک حوالدار ڈرائیور کے پاس آیا اور کہا کہ بھائی آپ چلیں، اور مجھے مخاطب کر کے کہا کہ آپ بھی جائیں، یہ معاملہ ادھر ہی ختم کریں۔
جب ڈرائیور روانہ ہوا تو شاید ایس ایچ او نے اپنی ساکھ بچانے کے لیے کہا کہ لے جاؤ اسے ورنہ معاملہ خراب ہو جائے گا۔ جیسے ہی ایس ایچ او نے یہ کہا تو میں نے ڈرائیور سے کہا کہ روکو، میں اترتا ہوں اور دیکھتا ہوں یہ میرے ساتھ کیا کرتا ہے۔ مگر اس نے گاڑی نہ روکی اور سواریوں نے بھی کچھ نصیحت آموز انداز میں مجھے منع کیا۔ اس پر میں نے سب سے کہا کہ معاملہ ہمارے ساتھ خراب ہے، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم سب گاڑی سے اترتے اور احتجاجاً روڈ پر کھڑے ہوتے مگر ہم نے ایسا نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ ہمارے اوپر بدمعاشیاں چلاتے ہیں۔
انہی دنوں میں گاؤں آیا ہوا تھا۔ یہاں ہمارے گاؤں میں ایس ایچ او نے ناجائز طور پر کسی پر ڈنڈا اٹھایا تو میں درمیان میں آیا اور کہا کہ تمہیں ایسا کرنے کی کس نے اجازت دی ہے؟ اس وقت طاقتور کے سامنے اتنی بے باکی سے بات کرنا میرے ایکسپوزر کی وجہ سے نہیں تھا، کیونکہ اس وقت میں ابھی ابھی یونیورسٹی سے فارغ ہوا تھا۔ میں کسی طلبہ تنظیم کا حصہ بھی نہیں رہا تھا کہ وہاں یہ سب کچھ سیکھتا اور نہ ہی میں کسی نامور ادارے میں پڑھ کر آیا تھا۔ بلکہ جو ادارے خستہ حال اور تعلیم و تربیت کے لحاظ سے سب سے زیادہ ویران تھے، انہی اداروں سے پڑھ کر آیا تھا۔ مگر فدا صاحب کی مختصر صحبت میں رہ کر یہ سب کچھ سیکھا۔
دراصل فدا صاحب معلم بھی تھے اور مزکی بھی۔ ان کی تربیت کا انداز ایسا تھا کہ قرآن سے پڑھاتے اور اسی قرآن پر خود بھی عمل کرتے اور اپنے زیرِ تربیت لوگوں کو اپنے عمل کے سفر میں شریک رکھتے۔ مثلاً جب کوئی شاگرد آتا تو اسے ایک خط دیتے کہ یہ خط ڈی پی او کے دفتر لے جاؤ یا کمشنر کے پاس لے جاؤ۔ اسی طرح وہ شاگردوں کو اپنے سکھائے ہوئے الفاظ پر عمل کراتے۔
ہنگو کے مین شہر میں آپ کا ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جس میں آپ بیٹھتے اور انگریزی، شارٹ ہینڈ، عربی وغیرہ لوگوں کو سکھاتے۔ اصل میں آپ کا یہ چھوٹا سا کمرہ ہنگو کے ہر غریب اور مظلوم کا آفس تھا۔ جس کے ساتھ ریاست یا بیوروکریسی کی جانب سے کوئی زیادتی ہو جاتی تو وہ آپ کے دفتر پہنچ جاتا۔ اور آپ نے کبھی کسی کو یہ نہیں کہا کہ فلاں ڈی پی او یا ڈی سی کے ساتھ میرے تعلقات نہیں، بلکہ فوراً روانہ ہو جاتے یا اسے خط لکھ کر دیتے کہ فلاں افسر کو دے دو، یا کسی شاگرد کے ذریعے متعلقہ افسروں تک مظلوم کی بات پہنچاتے۔ آپ اس وقت تک مظلوم کی خدمت میں لگے رہتے جب تک اس کا مسئلہ حل نہ ہو جاتا۔
اس پر مجھے ایک واقعہ یاد آیا۔ جس کالج میں میں پڑھاتا تھا وہاں ایک سرکاری اسکول کے استاد آیا کرتے تھے۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ ایک بندے پر میرا قرض ہے، غالباً تین لاکھ روپے بتایا۔ متعلقہ بندہ خود بھی بدمعاش ہے اور بیوروکریسی کے ساتھ تعلقات بھی اچھے ہیں۔ وہ بدمعاشی کی وجہ سے میرا قرض نہیں دیتا اور جب سرکار سے رجوع کرتا ہوں تو وہاں بھی اس کی چلتی ہے۔ میں نے فدا صاحب کے سامنے اس بندے کی بات کو ضمنی طور پر عرض کیا۔ اس دوران فدا صاحب سے ملاقاتیں ہوتی رہیں بلکہ میرا تو وہ دن ہی ادھورا ہوتا جس دن فدا صاحب کی زیارت نہ ہوتی۔ اس میل جول کے دوران فدا صاحب نے قرض کے معاملے کا ذکر بھی نہیں کیا اور نہ ہی میں نے پوچھا، کیونکہ میں نے یہ بات محض اس وجہ سے ان کے سامنے ضمنی طور پر عرض کی تھی کہ استاد جی نے بتایا تھا اور اس کا ذکر فدا صاحب کے سامنے نہ کرنا ضمیر پر بوجھ بن رہا تھا۔
بہرحال ایک دن وہ استاد کالج آئے اور ساتھ میٹھائی بھی لائے۔ کہنے لگے کہ یہ میٹھائی آپ کے لیے ہے۔ میں نے پوچھا خیر تو ہے؟ تو کہنے لگے کہ فدا صاحب نے میرا قرض واپس دلایا ہے۔ میں نے حیرت سے سوال کیا کہ کب؟ استاد جی نے دن تو نہیں گنے مگر غالباً تین یا چار دن کا بتایا۔ میں نے ان سے کہا کہ فدا صاحب سے تو میں روزانہ ملتا ہوں، انہوں نے کبھی اشارہ تک نہیں دیا کہ آپ نے جس بندے کے کام کے بارے میں بتایا تھا وہ ہو چکا۔ اس بات پر ہم دونوں یعنی میں اور استاد جی حیران ہوئے کہ فدا صاحب کو خدا نے کتنا بڑا ظرف دیا ہے۔ اتنا بڑا کام کر کے بھی احسان جتانا تو دور کی بات، اس کا ذکر تک بھی للہیت کی بنا پر گوارا نہیں کیا۔
دراصل یہ ظرف وہ سنتِ نبوی ﷺ سمجھ کر اپنا چکے تھے، کیونکہ وہ صحیح معنوں میں عاشقِ رسول ﷺ تھے۔
قارئین حیران ہوں گے کہ فدا صاحب سرکار میں کس عہدے پر تھے، یا کیا تھے کہ وہ اتنے بڑے بڑے کام بلا تکلف کیا کرتے تھے؟ قارئین کے لیے عرض ہے کہ فدا صاحب کچھ بھی نہیں تھے مگر پھر بھی سب کچھ تھے۔ ان کو خدا نے تاثیر عطا کی تھی؛ رعب، بہادری، اخلاص، مخلوقِ خدا کے لیے دل میں درد، شجاعت، ظرف، صبر، استقامت، تقویٰ، خوفِ الٰہی، سخاوت، ضمیر کی آزادی ، انہیں صفات نے انہیں سب کچھ بنا دیا تھا۔